Anokhi Mohabbat by Jannat Shah NovelR50784 Anokhi Mohabbat by Jannat Shah Last Episode
Rate this Novel
Anokhi Mohabbat by Jannat Shah Last Episode
Anokhi Mohabbat by Jannat Shah Last Episode
انمول تم دوست بھی کہتی ہو اور مجھ سے اپںی پرابلم شیٸر بھی نہیں کرتی ارے بابا ایسی کوٸ بات ہی نہیں اچھا تم یہ بتاٶ مگنی کی انگھوٹھی خرید لی…….
انمول نے بات بدلٹے ہوے کہاں ہاں مما نے یہ کام بھی اجھ پہ ہی چھوڑ دیا
کہ تمہاری دلہن ھے خود ہی لو اب بتاٶ بھلا جھے کوٸ اںگھٹھی لینی آ ۓ گی
انمول تم چلو میرے ساتھ ہم آج ہی جاکر لیں آآٸیں گیں
اوکے پانچ منٹ روکو میں آتی ہوں
اشعر اب لے بھی لو تم سے ایک انگھوٹھی نہیں لی جا رہی میں اتنی دیر میں ساری شاپنگ کر لیتی ہوں
وہ تھک ہار کے بولی….
ہاں تو تم اپنی منگنی کی تھوڑی کرتی ہو اور منگنی کونسی بار بار ہوتی ہے
اب انسان ایک بار تو ڈھنگ سے خریدے
اچھا دیکھو ان میں ے کون سی اچھی لگ رہی ہے …
I Think
یہ والی انمول نے ایک انگھو ٹھی کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا
0k
ہاتھ دو ناپ چیک کروں اشعر ںے کہا
میں کیوں?.
ناپ کیلیے تو اسے ہی لانا پڑے گا
ارے بھٸ اسکا اور تمہارا ناپ ایک ہی ہے
لاٶ ہاتھ آگے بڑھاٶ
مگر اشعر………….
لاٶ نہ اس ںی خود ہی ہاھ تھام لیا اور انگھوٹھی پہنا دی یہ تو بلکل پر فیکٹ لگ رہی ہے ایسا لگ رہا ہے تمہارے لیے ہی بنی ھے وہ اسکی طرف دیکھتے ہوے بولا
اشعر یہ تم بھول رہے ہو یہ انگھوٹھی کاٸنات کیلئے ہے…….وہ انگھو ٹھی تارنے لگی مگر انگھوٹھی تھی کہ انگلی میں جاکر پنھس گٸ تھی
اور نکلنے کا نام نہیں لے رہی تھی رہنے دو میری طرف سے گفٹ سمجھ کے رکھلو
کاٸنات کو میں دوسرے دے دوں گا …..
انمول مجھے لگ رہا ہے مجھے کوٸ خوشی نہیں ہو رہی اس مگنی سے مجھے لگ رہا ہے میں تمہیں کھو دوں گا اور مجھے لگتا ہے ……….
میں اسے چھوڑ سکتا ہوں پر تمہیں کھونے کی ہمت مجھ میں نہیں
اشعر نے بے بسی سے کہا
اشعر کاٸنات کیا تمہیں مجھ سے دور کر سکتی ہے?
کیا ہماری دوستی تنی کمزور ہے اور تم میرے بارے مت سوچوجب میرے شادی ہو جاےگی تبوبھی تو ہم الگ ہوگیں
انفیکٹ ہم ساری ذندگی ساتھ نیں رہ سکتے ……..
تم سمجھ رہے ہو ںہ میں کیا کہ رہی ہوں
(ہاں سمجھ گیا)
اشعر نے کہا
اوہ اتںے کام کرنے ہیں میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کیا کروں کیا نہ کروں
بڑی امی نے پریشانی سے کہا
بڑی امی پریشانی کی کیا بات ھے جب میں ساتھ ہوں لاٸیے مجھے بتاٸیے میں دو منٹ میں سارا کام کر دوں گی….
انمول ںے کہا
شہریار اور اشعر کی منگنی ایک ہی دن تھی اس لٸے کام زیادہ تھا ….
ہیلو میڈم کیا حال ہے کوٸ اس کے کان کے پاس آکر چیخا
وہ مڑی تو سامںے منال کھڑی تھی
ارے منال تم.
کیسی ہو کب آٸ لندن سے
سارے سوال ایک ساتھ کرو گی بیٹھنے کو نہں کہو گی
کیوں نہیں بیٹھو وہ اسے لے کر ڈراٸنگ روم لے کر آگٸ۔اور سناٶ کیا کوٸ پارٹی شارٹی ہو رہے ھے کیا
منال نے پوچھا
ہاں اشعر اور شہریار بھاٸ کی منگنی ہے آج …
انمول نے کہا
اچھا!
تو ۶ہ ہو میری منگنی ہے اشعر اور تم الگ تھوڑی ہو
میری نہیں بابا فرف اشعر کی مگنی ہے
انمول نے پھر کہا
کیا مطلب منال سمجھ نہ سکی
مطلب کی مطلب
اشعر کی منگنی اسکی پسند سے کاٸنات سےہو رہی ہے
انمول بولی
لیکین میں تو سمجھی تم
اور اشعر…………..انمولنےبات کاٹ دی
ایسی کوٸ بات نہیں تمہیں غلط فہمی ہوٸ ہے
تم چاۓ پیو گی تم بیٹھو میں لاتی ہوں
ایکچوٸلی امی اوربڑی امی سب ہی بازار گۓ ہیں
میں آ تی ہوں ابھی وہ کہتے کہ ساتھ ہی اٹھ گٸ
انمول مجھےلگا تمایک دوسرے سے پار کرتے ہو ……..پر آج جو میں دیکھ رہی وہ مجھے ٹھیک نہں لگ رہا میں جانتی ہوں تم اشعر سے پیار کرتی ہو ….
اور یہ بات اپنے آپ سے چھپا لینا چاہتی ہو
مں تمہیں بجپن سے جاںتی ہوں
اور مجھے پتاہے تمہارے ہونٹوں پر مسکراہٹ ضرو۔
پر آنکھیں کتنی اداس ہیں انمول تم اشعر کو بتا کیوں نہیں دیتی
منال نےاسکا روخ اپنی طرف کرتے ہوۓ کہا
وہ رو رہی تھی
میں نہیں بتا سکتی
یہ جانتے ہوۓ کہ وہ کسی اور سے پیار کرتا ہے
میں اسکی خوشیاں برباد نیہں کرسکتی
وہ اپنی دنیا میں خوش ہے …….
مجھے اور کچھ نہیں چاہیے
پر آج میں ہار گٸ ۔
منال تھک گٸ ہوں جھوٹی مسکراہٹ سجاتے جاتے
وہ کہ کر سکے سینے سے لگ گٸ
اور پھوٹ پھوٹ کے رودی
اشعرجو وہاں چاۓ کا کہنے آ یا تھا
واپس پلٹ گیا………
کاٸنات میں تم سے منگنی نہیں کر سکتا
اشعر نے کاٸنات سے کہا
یہ تم کیا کہ رہے ہو اشعر …….
ہاں کاٸنات میں کسی اور سے پیار کرتا ہوں مجھے لگا وہمجھے پیار نہیں کرتی
اسلیے مں تمہاری طرف بڑھا تھا……
پر آج پتا چلا
وہ مجھیسے بہت پیار کرتی ہے مجھے مجھ سے بھی ذیادہ چاہتی ہے
تم سمجھ رہی ہو نہ
ہاں میں سمجھ گٸ پیاربھی انسان سے نجانے کیا کیا کرواتا ہے
=But Best Of Luck”
(Thank you Kainat)
آپ بہت چھی ہیں
آ پ مجھے مکھن نہ لگاٸیں ورنہمیں مکر جاٶں گی
کاٸنات نے کہا تو وہ دونو ہنس دیے
اشعر نےسارے گھروالوں کو سارے صورت حال بتا دی…
بس انمہل سے چھپاٸ گٸ ۔
وہ اپںے کمرے میں اندھیرا کر کے بیٹھی تھی
ان سب یادوں کو جلانے کیلے
جو وہ آج تک سیمیٹتی آٸ تھی ….
اشعرکی وہ ساری تصویرں جو وہ آج تک ڈاٸری میں رکھتی آٸ تھی
اشعر اب میرا تمہارے ساتھ کوٸ رشتہ نہیں ہے
تم کاٸنات کے ہو جاٶ گے
مجھے کوٸ حق نہیں تمہاری تصویریں اپنے پاس رکھنے کا
وہ ایک ایک کر کے اسکی تصویریں پھاڑنے لگی …….تم ہمیشہ سے ایسے ہی کرتی ہو
جب آخری تصویر رہ گٸ تو کسی نے اسکے ہاتھ سے وہ تصویر لے لی
کیوں پھاڑ رہی ہو ان تصویرو کو تصویریں پھاڑنے سے حقیقت نہیں بدل جاتی……
حقیقت یہی ہے تم مجھ سے پیار کرتی ہو اشعر اسکے سامنے کھڑا تھا …….
اشعر تم ………وہ
وہ آںکھیں پھاڑ کے اسے دیکھ رہی تھی
جانتی ہو کتنا انتیظار کیا ہے شرف یہ جاننے کیلیے ک تم مجھے سے پیار کرتی ہو…..
کیسی محبت ہے انمول تمہاری کہ تم آجہبھی اپنے پیار کی قربانی دے رہی ہو
کیا تم میرے بغیر رہ سکتی ہو?
جانتی ہو نیں بھی تم سے اتنا ہی پیار کرتا ہو جتنا تم…..
اشعر یہ تم……..آگے وہ کچھ نہ بول سکی ہاں یہی سچ ہے میں کاٸنات سے نہیں تم سے پیار کرتا ہوں اور یہ آج کی نہیں بچپن کی محبت ہے
اور تم مجھے کسی اور کو سونپ رہی تھی…….
آج تک چھوٹی چھوٹی چیزوں کیلیے لڑتی آٸ ہو آج ایک جیتا جاگتا انسان کسی اور کو سونپ رہی تھی
کیوں جواب دو کیوں???
تم نی میرا دل دکھایا وہ اسکا بازو پکڑے بول رہا تھا
“I Am Sorry Ashar”
میں تو بس تمہیں خوش دیکھنا چاہتی تھی …..
اچھا تواب میں بہت خوش ہوں اب یہ آنسوں صاف کرو
اور میری تصویر کیوں پھاڑ رہی تھی ???
وہ میں نے سوچا اب تمہارا مجھ پہ کوٸ حق نہیں…..
تو
اوہوں!اوہوں
کوٸ اندر آکر خاصا
سوری آپ دونو کو ڈسڑپ کرنے کیلیے
ویسے اشعر میں نے تمہیں دیکھتے ہی کہ دیا تھا تم میری پیاری دوست سے بہت پیارکرتے ہو
منال نے اندر آتے ہوے کہا
اشعر تمہیں پتا ہےمیں نے تمہاری وجہ سے تایا ابو کو بھی ناراض کیا………
واٹ…………میں نے کہا تھا اور پھر انکی لڑاٸ شروع ہوگٸ ۔
“یہ تھی انمول کی انوکھی محبت”
ختم شد
