Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Mohabbat by Jannat Shah Episode01

Anokhi Mohabbat by Jannat Shah Episode01

ایکسکیوزمی سنیے…….انمول نے ایک گروپ کے آگے آکر کہا جن میں دو لڑکیاں اور چار لڑکے بھی تھے
جی فرماٸیں …ان میں سے ایک لڑکے نے کہا
وہ نیو ایڈمیشن فارم کہا جمع ہو رہے ہیں
ایکچوٸلی آج لاسٹ Date ہے لاٸیے مجھے دیجیے میں آپکا فارم جمع کروادونگاان میں سے ایک لڑکے نے کہا
واٹ تم…..
تم کسی کی مدد کر رہے ہو حیرت انگیز طور پہ ان ک گروپ کے سبھی لوگ چیخ پڑے
کیوں میں کسی کی مدد نہیں کر سکتا کیا اور ویس بھی یہ لڑکی مجھے اپنی اپنی لگ رہی ہے ….اس لڑکے نے کہا تو انمول ے اسے فوراً گھورا جس کا اس نے کوٸ خاص نوٹس نہیں لیا…”لاٸیے فارم دیجے”اسنے فارم مانگے تو انمول نے دے دیۓکیوں کے اب اسکے پاس کوٸ چارہ بھی نہیں تھاوہ تو اکیلی یہاہ آکر پچھتارہی تھیفارم دے کر وہ گیٹ کی طرف بڑھی عجیب لڑکے ہے شکریہ کہنا بھی مناسب نہیں سمجھا،وہ گیٹ سے باہر آٸ تو کوٸ بھی آٹو نظر نہیں آرہا تھاصبح تو ڈراٸیور کے ساتھ آگٸ تھی اب جانے کا مسٸلہ تھاوہ وہی کھڑے ہوکر آٹو کا انتیظار کرنے لگی جبھی ایک کار اسکے قریب آکر رکی آٸیے میں آپکو چھڑ دیتا ہوں وہی لڑکا جس نی فارم جمع کرواے تھے نہیں Thank youمیں چلی جاٶں گی انمول نے غصے سے کہا دیکھیۓ میں آپکو بھگا کے نہیں لے جاٶں کا آٸیے پلیز…
انمول کہ بھوک بھی لگ رہی تھی ابھی اگر وہ منع کر دیتی تو وہ چلا جاتا تو اس لٸیے چپ چاپ بیٹھ گٸ …
ویسے ماننا پڑ ے گا آپ واقع بہت بہادور ہیں آپ نی چیلنج جیت ہی لیا …..
اشعر خان خاموشی سے گاڑی چلاٶ ورنہ میں تمہارا وہ حشر کروںگی ساری ذدگی یاد رکھو گے مجھے بھی آج کے دن کو بھی (وہ ایک ایک لفظ پہ ذور دی کر بولی).
سوری کزن ناراض کیوں ہوتی ہو مجھے پتہ ہوتا اتنا غصہ کروگی تو ٹیپ لے کر آتا …..منہ پہ چپکانے کیلۓ !
اسکی بات پہ انمول نے گھورا اور پھر وہ سارا راستہ چپ ہی رہا مبادا شکل ہی نہ بگاڑ دے ….
گھر پہنچ کے وہ سیدھی اپنے کمرے مہں گھسی تو شام کو نکلی انمول کیا ہوگیا ہے اتنی لمبی نیند سوتے ہیں بیٹا دوپہر میں کچھ کھایا بھی نہیں بس بڑی امی دل نہیں چاہ رہا تھا.بڑے بھیا آگۓ….?
ہاں وہ ڈراٸینگ روم میں ہیں باقی سب بھی وہی ہیں وہ اندر دخل ہوٸ تو سب سے پہلے اشعر نظر آیا…..
ویسی بھاٸ ماننا پڑے گا انمول بہت بہادور ہے جبھی تو اتنے پیارسے آکر بولی
“ایکسکیوزمی سنیۓ”…..اشعر ……..
اسے سے پہلے کہ آگے وہ کچھ بولتا وہ چیخ پڑی اور کشن سکی طرف اچھالاجیسے اسنے کیچ کر لیا…
اور تم اپنی بتاٶیہ مجھے اپنی اپنی لگتی ہے سیدھے نہیں کہ سکتے تھے کزن ہے میری…..
انمول نے اسکی نقل اتارتے ہوۓ کہا!
لیکن تم نے ہی منع کیا تھا میں کسی کو نہ بتاٶں .اشعر نے کہا
ہاں تم تو میرے فرمانبردار ہو نہ میں نے کہا تم نے مان لیا “انمول نے کہا”
اچھا سوری معاف کردو دیکھو کان پکڑتا ہوں اور اس نے واقع کان پکڑ لیۓ….ٹھیک ہے جاٶ معاف کیا انمول نے فورًا معاف کردیا کیوں کہ وہ بھی اس سے ذیادہ دیر تک ناراض نہں رہ سکتی تھی
اشعراور انمول دونوں کزن تھے انمول اشعر کے چچا ی بیٹی تھی اور وہ لگ شروع سے ہی ایک گھر میں رہتے تھے اسلیۓ انکی دوستی بھی بہت تھی
اور لڑاٸ بھی ہوجاتی تھی لیکین جلدی مان جاتے تھے … ..
اور چیلینجز بھی بہت کرتے تھے اور ہوا بھی یہی تھا انمول کو یونیورسٹی کے فارم جمع کروانے تھے اور اشعر کا کہنا تھا کے یہ کام وہ اکیلی نیہں کر سکتی کیوں کہ وہ بہت ڈرپوک ہے اور یہ سچ بھی تھا وہ واقع بہت ڈرپوک تھی پر انمول نے بھی یہ چیلنج ایکسپٹ کر لیا کہ وہ اکیلی جاکر یہ فارم جمع کروا کے آۓ گی
اور اسکی مدد بلکل نہیں لے گی!
اشعر خان اور شہریار خان دو بھاٸ تھے جبکہ انمول خان اکلوتی اور سب کی لاڈلی تھی………….!
اشعر تمہیں پتا ہے کل کیا ہے?انمول نے پوچھا
کیاہے ?اشعر نے پوچھا
اشعر تم واقع ھول گۓ ،انمول نے رونی صورت بنا کر کر کہا
کل دس دسمبر ہے اشعر نے کہا
ہاں وہ تو ہے
لیکین کل کا دن کچھ خاص ہوتا ہے یاد کرو نہ اشعر
اچھا! خاص لیکین مجھے یاد نہیں آرہا چھوڑو تم یہ بتاٶ تمہیں یونیورسٹی کیسی لگی ?
“ٹھیک ہے بس”انمول نے بے دلی سے کہا
کیا بس ٹھیک ہے یعنی تمہیں پسند نہیں آٸ?اشعر نے پوچھا پر اسنے کوٸ جواب نہیں دیا……
اچھا چلو آٸسکریم کھانے چلتے ہیں
مجھے نہں جانا مجھے نیند آ رہی ہے تم بھی جاکر سو جاٶ۔
وہ یہ کہ کر اپنے کمرے میں آگٸ اور خوب روٸ کل اسکا برتھ ڈے تھا اور اسکے اتنے اچھے دوست اور کزن کو یاد ہی نیں تھا نیند تو کیا آنی تھی رونا آرہا تھا روتے روتے اتنی بے خبر سوٸ کے کی کی آہٹ کا احساس ہی نہ ہوا صبح آنکھ کھلی تو گلاب کی مہک محسوس ہوٸ …..
جیسے ہی آنکھ کھلی ہر طرف دیوار پہ گلاب کے پھول اور کارڈذ لگے ہوے تھے اس نے اٹھ کے بڑا والا بوکے اٹھایا اور اس میں سے کارڈذ نکال کے پڑھا
“Haap Birth Day”
(دوست ہوتے نہیں بھول جانے کیلۓ
ذندگی ملی ہے دوست بنانے کیلۓ
ہم سی دوستی رکھو گے تو اتنی خوشی دیں گیں
وقت ملے گا نہیں آنسو بہانے کے لیۓ)
“Always Be Happy”
تم ہمشہ آنسو بہاتی رہیتی ہو
کبھی عقل سے بھی کام لیا کرو کچھ ںہں بگڑے گا
وہ پڑھ کے مسکرادی ہمیشہ ہی وہ اسی طرح کوٸ نہ کوٸ سرپراٸیز دیتا تھا کیسا لگا میرا سرپراٸیز?
ایکدم ہی وہ کمرے میں داخل ہوا بہت برا اتنے آ…
انمول کیا کر رہی ہو وہ کچن میں کام کرہرہی تھی جب اشعر اندر آیا کچھ نہں وہ…………..ابھی وہ بول بھی نہیں پاٸ تھی کے وہ چلا اٹھا
تم رو رہی ہو
انمول کیا ہوا انمولکسی ںےکچھ کہہ دیا کیا یا کوٸ پرابلم ہے?
تمکبھی مجھ سے کوٸ بات شیٸر نہیں کرتی ہمیشہ میری سنتی ہو مجھ پہ حکم چلاتی ہو حلانکہ مہیں تم سے دو سال بڑا ہوں اور………….مسٹر اشعر خان مویں رو نہیں رہی بلکہ پیاز کاٹ رہی ہوں سمجھ آٸ بات اور میرے پاس فالتو باتیں نیہں ہوتی شیٸر کرنےکیلۓ ……!
وہ جب بھی غصے ہوتی اسکا پورا نام پکارتی تھی
لاٶ مجھے دو پیاز مہیں کاٹ دوںاشعر نے کہا
تم پیاز کاٹو گے ?
دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا مجھ سے کٹ نہیں رہی تم سے کٹ جاۓ گی
انمول نے کہا….
تم دو نہ ارے تمہیں کیا پتا مہیں کتنی اچھی پیاز کاٹتا ہو
ں لاٶ دو “
As u Wish”
یہ لو انمول نے پلیٹ فورا اسکی طرف بڑھا دی پھر وہ پیاز کاٹتا رہا انمول اسسے باتیں کرتی رہی جب پیاز کٹ گٸ تو انمول ے کہا
“اشعر تم رو رہے ہو ” اس نے شرارت سے کہا
اور ہنس دی اشعر نے اسکی ہنسی میں اسکا بھرپور ساتھ دیا
وہ کافی دیر سے تاٸ امی کے قریب بیٹھی غور کر رہی تھی کہ وہ کچھ پریشان ہیں
اور پھر اسنے پوچھ ہی لیا
تاٸ امی کیا بات ہے آ پ پریشان ہیں?
نہیں بیٹا ایسی کوٸ بات نہیں تم پریشان نہ ہو….🍁🍁
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *