Anokhi Mohabbat by Jannat Shah NovelR50784 Anokhi Mohabbat by Jannat Shah Episode02
Rate this Novel
Anokhi Mohabbat by Jannat Shah Episode02
Anokhi Mohabbat by Jannat Shah Episode02
دیکھے اگر آپ نہیں بتاٸیں گی تو میں یقیناً پریشان ہو جاٶنگی بیٹا اصل میں ہ اشعر کی وجہ سے پریشان ہوں تمہارے تایا چاہتے ہیں کہ وہ بھی بزنس میں بھاٸ کا ہاتھ بٹاۓ مگر وہ اتنا غیر ذمہ دار ہے کہ…… میری کچھ سمجھ میں نیہں آرہا تم سمجھاٶ ناں اسے تمہاری اچھی دوستی ہے اس سے بس اتنی سی بات یہ تو میں منٹوں میں سولو کر دوں گی………
” Dont Worry”
تاٸ امی وہ کل سے ہی آفس جواٸن کرے گا بس آپ دیکھتے جاٸیں میں کیا کرتی ہوں اور رات کو وہ اشعر کے کمرے میں تھی
اشعر مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے
ہا کہو نہ مجھے تم سے کچھ کہنا ہے وہ بہت سنجیدہ لگ رہا تھا اعر بہت عجیب لگ رہے ہو اتنا سیریس تو آج تک نیں دیکھا بولو کیا کہنا ہے
وہ انمول تم مجھ سے شادی کروگی پلیز منع مت کرنا…..
ورنہ میں مر جاٶںگی کیا وہ بس اتنا ہی کہ سکی اور اسے دیکھے گٸ
مان لیا نا سچ “
Its joke”
تم جانتی ہو میں کبھی سیریس نہیں ہو سکتا اشعر مذاق اپنی جگہ لیکین یہ بتمیزی کے داٸرے میں آتا ہے …….
انمول نے روتے ہوے غصے سے کہا
“I Am soorryyy Anmol”
میں صرف مذاق کر رہا تھا مجھے نیہں پتا تھا تم اتنا سیریس ہو جاٶ گی سوری پلیز چپ ہو جاٶ وہ ایکدم پریشان ہو گیا۔
اور اسے چپ کروانے لگااور انمول ایکدم روتے روتے ہنسنے لگی اور کہا………..
“وہ جذبوں کی تجارت تھی یہ دل کچھ اور سمجھا تھا
سے ہنسنے کی عادت تھی یہ دل کچھ اور سمجھا تھا
کہا اسنے چلوآٶ نٸ دنیا بساتے ہیں
اسے سوجی شرارت تھی یہ دل کچھ اور سمجھا تھا”
تمہیں کیا لگا مذاق صرف تم کر سکتے ہو میں نہیں
اچھا اب جو بات میں کہنے آٸ تھی وہ سنو اور وعدہ کرو میری بات مانوگے اسنے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا (وعدہ کرو) 0kبابا مانوں گا بولو کیا بات ہے …..
اشعر نے اسکا ہاتھ اپنا ہاتھ رکھ دیا
“تم کل سے آفس جاٶ گے”
کیا (No Way)
تم نے ابھی وعدہ کیا ہے سوچ لو انمول نے کہا لیکین
لیکین ویکین کچھ نیں میں صبح تمہیں اٹھا دوں گی 0k.اینڈ by
کہ کر وہ اپنے کمرے میں آگٸ…….
اٹھو اشعر تمہیں آفس جانا ہے دیر ہو رہی ہے وہ صبح اسکے کمرے میں موجود تھی
مجھے نہیں جانا تم جاٶ یہاں سے
اشعر نے بند آنکھوں سے منہ بسورتے ہوے کہا…….
سوچ لو وعدہ بھول گۓ دس منٹ میں تیار ہوکر نیچے آجاٶ تمہارے کپڑے میں نے پریس کر دیۓ ہیں!.
وہ یہ کہ کر نیچے آگٸ
اوہ شٹ اب اتنی صبح تیار ہو پتہ نہیں خود کو کیا سجھتی ہے وہ تیار ہوتے ہوۓ مسلسل بڑ بڑا رہا تھا……!
Good Morning
وہ تیار ہو کر نیچے آیا
اشعرآج تم اتنی صبح خیر تو ہے شہریار نی پوچھا?
ارے بھاٸ آپکو نہیں پتا اشعر آفس جارہا ہے آپ کے ساتھ …..اشعر سے پہلے ہی انمول بول پڑی تو اشعر نے اسے گھورا پھر وہ ناشتہ کر کے اپنی گاڑی قی طرف بڑھا ……
اشعر اشعر سنو تو sooryدیکھو سب لوگ کتنے خوش ہیں تمہارے آفس جانے سے اب تک ناراض ہو ابوتو میں نے سوری بھی کہ دیا ہے …..ڈراٸیور گیٹ کھولو دیر ہو رہی ہے اوروپھر وہ چلا گیا لگتا ہے بہت ناراض ہے منانا تو پڑے گا(وہ اپنے آپ سے کہنے لگی)
ارے منال تم…….اسے اتنے دنو کے بعد پنے پاس دیکھ کر خشگوار حیرت ہوٸ
وہ بچپن کی سہلیاں تھی کیسی ہو تم ? انمول نے پوچھا
اے ون تم سناٶ تمہارے اس ہیرو کا کیا حال ہے
منال نے شرارت سے پوچھا کون ہیرو وہ واقع نہیں سمجھی
ارے بابا اشعر خان اور کون
ارے وہ ٹھیک ہے آفس گیا ہوا ہے
کیا وہ آفس گیا ہے اوہ گاڈ پہلے کیسا ہوتا تھا……
شرارتی نٹ کھٹ لگتا ہی نہیں تھا کہ کبھی سنجیدہ بھی ہو سکتا ہے
اور آج آفس گیا ہے وہ آج بھی ویسا ہی ہے پہلے جیسا شرارتی
آفس بھی یہ سمجھ لو زبردستی ہی گیا ھے……!انمول نے کہا تمہارے لیۓ چاۓ لاٶں یا جوس
ارے بابا میں ان چیزوں پہ ٹرخنے والی نیں ہوں کھانے کا بندوبست کرو میرے لیۓ زبردست قسم کا منال ںے کہا تو وہ اوکے کہ کر اٹھ گٸ
اشعر آفس سے کھانا کھانے کیلیے آیا تو اپنے گھر میں ایک لڑکی کو صوفے پر براجمان پایا اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُاسنے بلند آواز میں کہا
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
آپ کب آۓ وہ میں…….آپ مجھے جانٹی ہیں اشعر نے اسکی بات کاٹتے ہوۓ کہا جی میں انمول کی بچپن کی دوست ہوں بہت ذکر کرتی ہے وہ آپکا…….منال نے کہا
اچھا..آپ بیٹھے نا کھڑی کیوں ہیں جی ضرور اور جتنے انمول کھانا لےکر آٸ ان میں کافی بات چیت ہو چکی تھی ارے اشعر تم آگۓ ۔
انمول نے آتےہی کہا
کیوں تمہیں نظر نہیں آتا کیا وہ خفگی بھرے لہجے میں بولا….
اشعر پتم ان سے ملے یہ میری دوست ……..ملچکا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ تم دونوں دوست کیسے بن گٸ
کہا یہ اتنی سوبر اور کہا تم لوگو پہ خواہ مخواہ
کا رعب جھاڑنے والی
اشعر نے اسکی بات کاٹتے ہوے کہا
دیکھو اشعر میں ںے کوٸ رعب نہیں جھاڑا دوست ہونے کے ناطے یک مشورہ دیا تھا اب دیکھوں سب کتنا خوش ہیں۔
ہاں اور سب سے ذیادہ تم خوش ہو جان جو چھوٹ گٸ مجھ سے اشعر نے کہا
واٹ! اب تم مجھ سے بات مت کرنا سمجھے وہ وہاں سے واک آٶٹ کر گٸ تو منال جو کب سے ان کی وک جھوک دیکھ رہی تھی بول پڑی،،،،
آپکو اس کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھاارے آپ بے فکر رہے جتںی جلدی نارض ہو کر گٸ ہے اتنی جلدی وپس بھی آجاۓ گی ….
لیجۓ وہ آ بھی گٸ
منالس سے پوچھو کھانا لاٶں اسکے لیے ….انمول نی منال سے کہا
منل جی اسسے کہیے میں دشمنوں کے ہاتھ کا کھانا نہین کھاتا
اشعر نے کہا……
اس سے کہو مجھےے کوٸ شوق ںہیں ہے کھانا بنانے کا یا کھلانے کا مجبوری ہے میری گھر پہ کوٸ نہیں ھے اوکے…..
بس بس بس !.
ارے آپ دونوں کی لڑاٸ میں مجھے کیوں بیچ میں گھسیٹ رہے ہو اینڈ باۓ دا وے
اشعر پہلے آ پ فیصلہ کرے یہ آپ کی دوست ہے یا دشمن
اور اس طرح انکی لڑاٸ ختم ہوگٸ اور منال چلی گٸ…..
انمول نے شعر کیلے گفٹ خریدا تھا وہ لےکر بیٹھی تھی کہ اشعر آکر چلانے لگا…..
جس سی اسکا گفٹ ٹوٹ گیا
نمول میں آج بہت خوش ہوں وہ سے گول چکر دینے لگا اشعر چھوڑو مجھے چکر آجاٸیں گیں……
اشعر کیا بات ہی کوٸ خزانہ ہاتھ آگیا ہے کیا انمول پھی اسکی خوشی میں خوش ہوکر بولی
یہ ہی سمجھ لو…….!
انمول مجھے پیار ہوگیا ہے u know” Anmol I Am in Love”
وہ بہت اچھی ہے کاٸنات نام وے اسکا میرے آفس میں ہی کام کرتی ہے she is so Beautiful
وہ نمول کی حالت سے بے خبر بولا جا رہا تھا۔
میں سوچتا ہوں اگر تم مجھے آفس نہ بیجھتی تو وہ مجھے کبھی نہ ملتی اور اب تمہیں میرا ساتھ دینا ہے تم رو رہی ہو انمول کیوں رو رہی ہو……?
اسکا چہرہ دوسری طرف تھا جیسے ہی اشعر نے اپنی طرف کیا تو سے روتے ہوۓ پایا
یہ تو خوشی کہ آنسوں ہیں آج مجھے اتنی بڑی خوشی جو ملی ہے اس نے چہرہ صبف کرتے ہوے کہا
“Are U shure”
اشعر نے پوچھا خود ہی بول پڑا ارے یہ کیسے ٹوٹ گیا سنمبھال کے نہیں رکھا تو ٹوٹ گیا
یہ میری وجہ سے ٹوٹا ہے نا اور تم اسکی وجہ سے ہی رو رہی ہو ……..
میں بھی نہ آتے ہی چلانا شروع ہوگیا Sooory
Its ok
انمول ںے کہا
میں اسے جوڑ دوں گا
“I Pomiss”
اشعر نے کہا
ٹوٹی ہوٸ چیزیں جڑا نہیں کرتی وہ بڑ بڑاٸ ۔کچھ کہا تم نے?
نہیں
میں یہ کہ رھی تھی تم مجھے اس سے ںہیں ملواٶ گے
انمول نے خود کو سنمبھال کہ کہا
کیوں نہیں سب سے پہلے تمہیں ہی ملواٶں گا اورتم ہی پاپا سے بات کرو گی
0k .
ٹھیک ہے اشعر میں ابھی آ تی ہوں وہ یہ کہ کر اپنے کمرے میں آ گٸ
اور پھوٹ پھوٹ کہ رودی۔
اور پھر وہ اسے اپنی اور کاٸنات کی باتیں بتانے لگا اور وہ خوش ہوکر سںتے رہتی
“اشعر تم مجھے اس سے کب ملوارہے ہو “
وہ دونوں واک کیلے نکلے تھے
اچانک انمول نے کہا
کس سے?
اشعر سمجھ نہ سکا وی کس کی بات کر رہی ھے
ارے بابا تمواری کاٸنات سے اور کس سے
انمول نے کہا
اچھا اس سے چلو اھی چلتے ہیں
و فورا تیار ہوگیا نہین ابھی نہین
پھر کبھی چلے گیں
یہ وقت کچھ ٹھیک نہیں ہے
اس نے ٹالا……..
تو پھر ٹھیک ہے کل میرے ساتھ آفس چلناوہی مل لینا.
Ok
لیکین میں آفس جاکر کیا کروں گی بور ہو جاٶں گی
انمول نے کہا
تم مجھے دیکھنا میں آفس چیٸر پر بیٹھا حکم چلاتا ہوا کیسالکتا ہوں
اور اب تمہاری کوٸ بات نہیں چلے گی
کبھی تو میری بھی مان لیا کرو نہ …..
اور پھر اسکی ایک نہ چلی
آٶ میں تمہارا سب سے تعارف کرواٶں
وہ آفس پہنچی تو اشعر نے کہا
اشعر کاٸنات کہاں ہے
انمول نے کہا………
وہ دیکھو وہ سامنے سے آ رہی ہے
اشر نے کہا تو وہ سامنے کی طرف دیکھنے لگی وہ بلاشبہ خوبصورت تھی…
“Good MrninG Sir “
اسنے آتے ہی کہا
Goid Morning
ان سے ملیے یہ میری کزن اور میری بیسٹ فرینڈ انمول خان
اشعر نے کہا oh تو آپ ہیں انمول واقع اپنے نام کیطرح ہیں بہت کچھ بتاتے ہیں سر آپ کےبارے میں
مجھے آپ سے ملنے کا پہت شوق تھا مجھے آپ سے مل کر بہت اچھا لگا
اشعر اب میں چلتی ہوں انمول کھڑی ہوگٸ
اتنی جلدی انمول کچھ دیر بیٹھو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں تم کیلی کیسے جاٶ گی اشعر نے کہا تو اسنے کہا
Its ok
اشعر اب میں چھوٹی بچی نیہں ہوں جو کر جاٶں گی تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے تم کب تک میرے ساتھ چل سکو گے…
تم بیٹھو میں چلتی ہوں انمول دیکھ کر جانا اور گھر جاکر فون ضرور کر دینا
اسعر نے کہا تو وہ مسکرا دی
وہ ابھی بھی اسے چھوٹی بچی سمجھتا تھا جو تھوڑی سی تکلیف میں بلک اٹھتی تھی
پر وہ نیہں جانتا تھا وہ کتنا بڑا دوکھ سہ رہی ہے محبت کا درد وہ اپنی سوچوں میں الجھی چل رہی تھی
کہ سامنے سے آتی گاڑی کو نہ دیکھ سکی اور بری طرح ایکسیڈینٹ ہوگیا۔
اسے ہوش آیاتو وہ کسی ہوسپٹل کے کمرے میں تھی اور نرس اسکی ڈرپ سہی کر رہی تھی
ارے آپہکو ہوش آگیا
نرس فورا اسکیطرف بڑھی میں ابھی آپ کےکھر والو کو بیجھتی ہوں
اور کچھ دیر بعد سب لوگ اسکے ارد کرد جمع تھے اشعروسب سی آگے تھا
انمول تمہیں منع کیا تھا نا ……
اکیلے جانے کو
مگر تمکژی کی سنتی کہا ہو اپنے سامنے اب دیکھ لو
وہ تو شکر ہے فورا ہسپتال میں علاج ہوگیا ورنہ پتا نہیں کیا ہوتا
اسعر اس کے سر پر کھڑا برس رہا تھا….
اور سب ہی لوگ اسکی پریشانی دیکھ کے مسکرادیے
وہ خود بھی مسکرادی تھی ……
اب مسکرا کیوں رہی ہو
اشعر نے ناراضگی سے پوچھا……..
دیکھ رہی ہوں میرا کزن میرے لیے کتنا پریشان ہے اب اکر میں مر جا…………
انمول خدا نہ کرے تمہیں کچھ ہو
تمہیں میری بھی عمر لگ جاۓ
اشعر نے کہا تو انمول نے فورا “آمین “
کہا
اور وہ دونو ہنس دیے
نمول میرے بچی تم نے تو ہماری جان ہی نکال دی
مما بولی
مما آپ یونہی پریشان ہو رہی ہیں میں ٹھیک ہوں انمول ںے کہا
اچھا میں ڈاکڑر سے پوچھ کر آتا ہوں
کہ انمول ڈسچارج کب ہوگی
اشعر نے کہا
میں بھی تمہارے ساٹھ چلتا ہوں
بھیا بولے تھوڑی دیر بعد آۓ تو کہنے لگے
ڈاکڑر نے ایک دن رکنے کا کہا ہے …….
میں یہاں رہتا ہوں آپ سب جاٸیں
بھیا بولے
نہیں شہریار تم لوگ جاٶ میں یہاں روکوں گی
کوٸ ضرورت نہیں ہے آپ سب لوگ جاٸیں کیوں کہ مجھے لگتا ہے انمول میری کمپنی میں ذیادہ خوش رہے گی
“کیوں انمول”
اشعر نے پہلے سب سے کہاں پھر انمول کو مخاطب کیا تو اس نے فورا گردن ہلا دی ……اور اس طرح سب چلے گۓ سواۓ اشعر کے
انمول یہ سب کیا ہے وہ اسکے ایکسیڈینٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوے بولا ….
(کیا)
وہ کچھ سمجھی نہیں یہی ایکسیڈینٹ کیسے ہوا تم پریشان ہو
اشعر اسکے پاس بیٹھتے ہوۓ بولا نہیں تو ایسی تو کوٸ بات نہیں
تمہیں غلط فہمی ہوٸ ہے…
میں کیوں پریشان ہونے لگی بھلا تم خود سوچو…..
میں پریشان ہو سکتی ہوں کیا
کوٸ وجہ بھی تو ہو پریشان ہونے کی
انمول اس سے نگاہ چراتے ہوے جلدی جلدی بولی انمول تم سچ کہ رہی ہو نہ
اشعر کو یقین نہیں آ رہا تھا………اور انمول کو یقین دلانا مشکل ہو رہا تھا
ہاں اشعر بلکل سچ
تم جانتے ہو نیں جھوٹ نیں بولتی
اشعر آج تم بہت اچھے لگ رہے ہو ….
انمول نے بات بدلتے ہوے کہا۔
اچھا تمہارے لیے پریشان ہوں اس لیے اچھا لگ رہا ہوں اشعر نے ہنستے ہوے کہا
ہاں بھٸسچی بات ہے اسکے انداذ پر اشعر مسکرا دیا تو وہ بھی مطمٸین ہوکر مسکرادی
اور دوسرے دن سے ڈسچارج کر دیا گیا وہ گھر آگٸ ۔
لیکین پوری صحتیاب نہیں ہو سکی تھی وہ لیٹی ہوٸ اسٹوری پڑھ رہی تھی کہ اشعر آگیا…..ہیلو میم کیا ہو رہا ہے وہ بیٹھتے ہوے بولا
کچھ نہیں ایسے ہی اسٹوری پڑھ رہی تھی
میں تمہارے لیے کچھ لایا تھا اشعر نے کہا
کیا?.
(انمول نے پوچھا)
پہلے آنکھیں بند کرو اشعر نے کہنے کے ساتھ ہی اپنا ہاتھ اسکی آنکھوں پہ رکھ دیا
اشعر یہ کیا ہے
انمول نے ہاتھ ہٹانا چاہا…….
بس دو منٹ بند کر کے رکھو پھر دیکھنا پلیز
اشعر نے کہا
بابا جلدی کرو ok
تھوڑی دیر بعد اشعر کی آواذ ابھری
آنکھیں کھولو
اس نے جیسے ہی آنکھیں کھولی تو ساکت رہ گٸ ۔
وہ وہی گفٹ تھا جو اشعر سے ٹوٹ گیا تھا…..
کہا تھا ناجو…
آپ میری بات ماںیں گیں نہ پہلے آپ وعدہ کریں بیٹا ایسی کیا بات ہی جو آ پ کو آج وعدہ لینا پڑ رہا ہے کیا آپ کو ہم پر یقین نہیں…..نہیں تایا ابو وہ بات نہیں ھے پر آپ وعدہ کریں نہ وہ ضدی ہوٸ
اچھا ٹھیک ہے بولو…..
تایا ابواشعرآفس جاے لگاہے آپ کو نہیں لکتا اسکی شادی کر دینے چاہیے اس ںے ڈرتے ذرتے ان کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لگتا تو ہی مگر پہلے تو شہریار کی ہوگی نہ ہاں مگر ہم مگنی تو کر سکتے ہیں نہ
تایا ابو اشعر کسی کو پسند کرتا ہے وہ اسکے آفس میں کام کرتی ہے میں ملی ہوں اس سے
“She Is Very Nice Girl”
آپ مانیں گیں نہ میری بات اس نے انکی طرف امید بھری نظرو سے دیکھا
لیکین بیٹا وہ یک سرونٹ ھے
اور سکا خندان ہم تو کچھ نہیں جانتے لوگ کیا کہے گیں اور پھر ہم تو کچھ اور یہ سوچ کہ بیٹھے ہیں
ہم تمہاری اور اشعر کی شادی کرنا چاہتے ہیں
یہ ہماری دلی خواہیش ہے انکی آخری بات پہ اسنے نگاہ اٹھا کر انہیں دیکھا تھا پھر سمنبھل کر بولی
تایا ابو آ پ لوگو کے بارے میں مت سوچیں۔
لوگو کی تو عادت ہوتی ہے باتیں بناںےکی اور جہاںتک میرا سوال ہے میں اشعر کے ساتھ کبھی خوش ںہیں رہ سکتی اسکی اور میری سوچ میں زمین آسمان کا فرق ھے۔۔۔۔۔۔۔۔کاٸنات اچھی لڑکی ہے تایا بو آپ ایک بار مل تو لیں اس سے وہ اشعر کو بہت خوش رکھےگی پلیز تایا او مان جاٸیں نہ وہ رونے لگی تھی
ٹھیک ہے یہ صرف تمہاری وجہ کر رہے ہیں مل لیں گیں کہ دینا اشعر سے …….
لے چلے اسکے گھر تایا بو نے کہا ان کے لہجے نیں تھکاوٹ در آٸ تھی اور وہ جاںتی تھی ایسا کیوں
پر وہ کچھ ںہیں کر سکتی تھی
اب تم جاٶ ہم آرام کریں گیں
جی!
وہ باہر آگٸ
(I Am Sooryy Taya Jan )
وہ آنسوں صاف کر کے اشعر کے کمرے کی طرف بڑھی اسنے یہ بات شعر کو بتاٸ تو وہ خوشی سے جھوم اٹھا ….
تم!تمسچ کہ رہی ہو نو انمول?بلکل سچ کہ رہی ہوں اور کل وی کاٸنات کے گھرجاٸیں گیں
اشعر کی مگنی کا دن طے ہوگیا
اور وہ اپنی دنیا میں گم ہوگی…
