Anokhi Mohabbat by Jannat Shah

ایکسکیوزمی سنیے.......انمول نے ایک گروپ کے آگے آکر کہا جن میں دو لڑکیاں اور چار لڑکے بھی تھے
جی فرماٸیں ...ان میں سے ایک لڑکے نے کہا
وہ نیو ایڈمیشن فارم کہا جمع ہو رہے ہیں
ایکچوٸلی آج لاسٹ Date ہے لاٸیے مجھے دیجیے میں آپکا فارم جمع کروادونگاان میں سے ایک لڑکے نے کہا
واٹ تم.....
تم کسی کی مدد کر رہے ہو حیرت انگیز طور پہ ان ک گروپ کے سبھی لوگ چیخ پڑے
کیوں میں کسی کی مدد نہیں کر سکتا کیا اور ویس بھی یہ لڑکی مجھے اپنی اپنی لگ رہی ہے ....اس لڑکے نے کہا تو انمول ے اسے فوراً گھورا جس کا اس نے کوٸ خاص نوٹس نہیں لیا..."لاٸیے فارم دیجے"اسنے فارم مانگے تو انمول نے دے دیۓکیوں کے اب اسکے پاس کوٸ چارہ بھی نہیں تھاوہ تو اکیلی یہاہ آکر پچھتارہی تھیفارم دے کر وہ گیٹ کی طرف بڑھی عجیب لڑکے ہے شکریہ کہنا بھی مناسب نہیں سمجھا،وہ گیٹ سے باہر آٸ تو کوٸ بھی آٹو نظر نہیں آرہا تھاصبح تو ڈراٸیور کے ساتھ آگٸ تھی اب جانے کا مسٸلہ تھاوہ وہی کھڑے ہوکر آٹو کا انتیظار کرنے لگی جبھی ایک کار اسکے قریب آکر رکی آٸیے میں آپکو چھڑ دیتا ہوں وہی لڑکا جس نی فارم جمع کرواے تھے نہیں Thank youمیں چلی جاٶں گی انمول نے غصے سے کہا دیکھیۓ میں آپکو بھگا کے نہیں لے جاٶں کا آٸیے پلیز...
انمول کہ بھوک بھی لگ رہی تھی ابھی اگر وہ منع کر دیتی تو وہ چلا جاتا تو اس لٸیے چپ چاپ بیٹھ گٸ ...
ویسے ماننا پڑ ے گا آپ واقع بہت بہادور ہیں آپ نی چیلنج جیت ہی لیا .....
اشعر خان خاموشی سے گاڑی چلاٶ ورنہ میں تمہارا وہ حشر کروںگی ساری ذدگی یاد رکھو گے مجھے بھی آج کے دن کو بھی (وہ ایک ایک لفظ پہ ذور دی کر بولی).
سوری کزن ناراض کیوں ہوتی ہو مجھے پتہ ہوتا اتنا غصہ کروگی تو ٹیپ لے کر آتا .....منہ پہ چپکانے کیلۓ !
اسکی بات پہ انمول نے گھورا اور پھر وہ سارا راستہ چپ ہی رہا مبادا شکل ہی نہ بگاڑ دے ....
گھر پہنچ کے وہ سیدھی اپنے کمرے مہں گھسی تو شام کو نکلی انمول کیا ہوگیا ہے اتنی لمبی نیند سوتے ہیں بیٹا دوپہر میں کچھ کھایا بھی نہیں بس بڑی امی دل نہیں چاہ رہا تھا.بڑے بھیا آگۓ....?
ہاں وہ ڈراٸینگ روم میں ہیں باقی سب بھی وہی ہیں وہ اندر دخل ہوٸ تو سب سے پہلے اشعر نظر آیا.....
ویسی بھاٸ ماننا پڑے گا انمول بہت بہادور ہے جبھی تو اتنے پیارسے آکر بولی
"ایکسکیوزمی سنیۓ".....اشعر ........
اسے سے پہلے کہ آگے وہ کچھ بولتا وہ چیخ پڑی اور کشن سکی طرف اچھالاجیسے اسنے کیچ کر لیا...
اور تم اپنی بتاٶیہ مجھے اپنی اپنی لگتی ہے سیدھے نہیں کہ سکتے تھے کزن ہے میری.....
انمول نے اسکی نقل اتارتے ہوۓ کہا!
لیکن تم نے ہی منع کیا تھا میں کسی کو نہ بتاٶں .اشعر نے کہا
ہاں تم تو میرے فرمانبردار ہو نہ میں نے کہا تم نے مان لیا "انمول نے کہا"
اچھا سوری معاف کردو دیکھو کان پکڑتا ہوں اور اس نے واقع کان پکڑ لیۓ....ٹھیک ہے جاٶ معاف کیا انمول نے فورًا معاف کردیا کیوں کہ وہ بھی اس سے ذیادہ دیر تک ناراض نہں رہ سکتی تھی
اشعراور انمول دونوں کزن تھے انمول اشعر کے چچا ی بیٹی تھی اور وہ لگ شروع سے ہی ایک گھر میں رہتے تھے اسلیۓ انکی دوستی بھی بہت تھی
اور لڑاٸ بھی ہوجاتی تھی لیکین جلدی مان جاتے تھے ... ..
اور چیلینجز بھی بہت کرتے تھے اور ہوا بھی یہی تھا انمول کو یونیورسٹی کے فارم جمع کروانے تھے اور اشعر کا کہنا تھا کے یہ کام وہ اکیلی نیہں کر سکتی کیوں کہ وہ بہت ڈرپوک ہے اور یہ سچ بھی تھا وہ واقع بہت ڈرپوک تھی پر انمول نے بھی یہ چیلنج ایکسپٹ کر لیا کہ وہ اکیلی جاکر یہ فارم جمع کروا کے آۓ گی
اور اسکی مدد بلکل نہیں لے گی!
اشعر خان اور شہریار خان دو بھاٸ تھے جبکہ انمول خان اکلوتی اور سب کی لاڈلی تھی.............!
اشعر تمہیں پتا ہے کل کیا ہے?انمول نے پوچھا
کیاہے ?اشعر نے پوچھا
اشعر تم واقع ھول گۓ ،انمول نے رونی صورت بنا کر کر کہا
کل دس دسمبر ہے اشعر نے کہا
ہاں وہ تو ہے
لیکین کل کا دن کچھ خاص ہوتا ہے یاد کرو نہ اشعر
اچھا! خاص لیکین مجھے یاد نہیں آرہا چھوڑو تم یہ بتاٶ تمہیں یونیورسٹی کیسی لگی ?
"ٹھیک ہے بس"انمول نے بے دلی سے کہا
کیا بس ٹھیک ہے یعنی تمہیں پسند نہیں آٸ?اشعر نے پوچھا پر اسنے کوٸ جواب نہیں دیا......
اچھا چلو آٸسکریم کھانے چلتے ہیں
مجھے نہں جانا مجھے نیند آ رہی ہے تم بھی جاکر سو جاٶ۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *