Akaab by Seema Shahid NovelR50674 Akaab (Last Episode)
Rate this Novel
Akaab (Last Episode)
Akaab by Seema Shahid
وہ چپ چاپ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
” ویسے تو میرا حق بنتا ہے کہ میں تم سے گزرے چار سالوں کا کڑا حساب لوں لیکن ۔۔۔۔” اس نے اگنیشن میں چابی لگائی اور اپنے سن گلاسز آنکھوں پر لگا کر ڈرائیونگ اسٹارٹ کی
فاطمہ گھبرائی ہوئی چپ چاپ اس کے غصہ اور خفگی کا سوچ رہی تھی وہ ہرگز بھی اس سے اس طرح سے نہیں ملنا چاہتی تھی اس نے کن اکھیوں سے اسامہ کی طرف دیکھا ۔۔۔
موسم کے تیور بھی بدلنے لگے تھے بارش شروع ہو گئی تھی وہ لب بھینچے جیپ چلا رہا تھا کافی دیر بعد جیپ ایک مشہور ہوٹل کے سامنے رکی وہ اسے اترنے کا اشارہ کرتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
وہ کچھ دیر ہونقوں کی طرح اسے آگے جاتا دیکھتی رہی یہ علاقہ اس کے لئیے نیا تھا وہ اپنی طرف کا دروازہ کھول کر مرے مرے قدم اٹھاتی آگے بڑھی بارش کی بوچھاڑ نے اسے بھگو دیا تھا جہاں ریسیپشن سے اسامہ کمرے کی چابی لے رہا تھا ۔۔۔
چابی لیکر وہ پلٹا اور فاطمہ کا ہاتھ تھام کر کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔
کمرے میں داخل ہو کر اس نے ایک جھٹکے سے فاطمہ کا ہاتھ چھوڑا وہ سردی سے ہلکے ہلکے کانپ رہی تھی اسے ایک نظر دیکھتے ہوئے اس نے اپنی گیلی جیکٹ اتار کر میز پر رکھی اور آتشدان کی جانب بڑھا ۔۔۔
کمرے میں ہیٹر آن کرنے کے بعد اس نے انٹرکام اٹھا کر کافی کا آرڈر دیا فاطمہ کو اس نے بالکل نظر انداز کیا ہوا تھا ۔۔
تھوڑی ہی دیر میں ویٹر کافی سرو کر کے چلا گیا تھا اب وہ بڑے اطمینان سے کافی کی چسکیاں لے رہا تھا کافی ختم کر کے اس نے کپ میں میز پر رکھا اور چلتا ہوا کھڑکی کے پاس کھڑی فاطمہ کے پاس آگیا ۔۔۔
” کیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ؟؟ ” وہ سرد ترین لہجے میں بولا
” میں کچھ پوچھ رہا ہوں میرے خیال سے آپ میرے نکاح میں ہوتے ہوئے مجھے جواب دینے کی پابند ہیں ۔۔” وہ سارا حساب بےباق کرنے پر تلا تھا اس کے اجنبی انداز فاطمہ کے ہاتھ پیر پھلا رہے تھے ۔۔۔
” جواب دو ؟؟ ” وہ غرایا
” مم مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔” وہ ہاتھ مسلتے ہوئے بولی
یہ پہلا جملہ تھا جو اس تمام عرصے میں اس کے منھ سے ادا ہوا تھا اسامہ کو اتنے عرصے بعد اس کی آواز سن کر ایک سکون سا اپنے اندر پھیلتا محسوس ہوا ۔۔۔
فاطمہ نے جھکی ہوئی نظریں اٹھائیں تو اس کی نم آنکھیں بھیگیں پلکیں دیکھ کر اسامہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی ۔۔۔
” کیا ہوا ہے ؟؟ رو کیوں رہی ہو ۔۔” وہ دھیمے لہجے میں مخاطب ہوا
” آپ پھر سے مجھے ڈرا رہے ہیں مجھے پتا ہے میں نے آپ کو تھپڑ مارا تھا اب آپ مجھے مار دینگے بدلہ لینگے ۔۔۔۔” وہ ہچکچاتے ہوئے بولی
اسامہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا یعنی اس سارے معاملے کے پیچھے بس ایک ڈر پوشیدہ تھا ایک واہمہ ایک ڈر کے پیچھے اس چھٹانک بھر کی لڑکی نے اسے ناکوں چنے چبوا دیئے تھے ۔وہ ایک دم سے پیچھے ہوا
” چلو !! تمہیں اسفند بھائی کے پاس چھوڑ دوں ” وہ سنجیدگی سے اپنی جیکٹ پہن کر چابی اٹھاتے ہوئے بولا
فاطمہ نے پہلی بار حیرت سے اسے دیکھا وہ گڈ لکنگ تو پہلے بھی تھا لیکن اب اس میں ایک گریس بھی چھلک رہا تھا اس کی شخصیت چھا جانے والی تھی فاطمہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا وہ آہستگی سے اس کے ساتھ باہر نکل گئی ۔۔۔
_________________________
ایک سال بعد ۔۔۔
ہاسپٹل کا سرد ماحول تھا فائنل ائیر مکمل ہو چکا تھا اب ہاؤس جاب چل رہی تھی آج اس کی اور ملیحہ دونوں کی آخری نائٹ شفٹ تھی پھر ایک ماہ کی چھٹیاں تھی رات اب اپنے اختتام کی طرف تھی صبح کا اجالا پھیل چکا تھا جب وارڈ بوائے اسٹاف روم میں داخل ہوا ۔۔۔
” ڈاکٹر ملیحہ آپ کی ملاقات آئی ہے ۔۔۔” وہ دانت نکالتے ہوئے بولا
اس کے پیچھے ہی جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے خوبرو سا حمزہ علی کھڑا تھا ۔۔۔
” حمزہ بھائی آپ !!” فاطمہ نے مسکراتے ہوئے اسے سلام کیا
“جی بھابھی !! کل محسن انکل نے بتایا کہ آپ دونوں کی ایک ماہ کی چھٹی منظور ہو گئی ہے تو میں اپنی پٹاخہ منگیتر کو لینے آگیا سوچا اب کیا انکل کو تکلیف دونگا ۔۔۔” وہ کن اکھیوں سے ملیحہ کے غصہ سے سرخ چہرے کو دیکھتا ہوا بولا
ملیحہ نے اپنا بیگ اٹھا کر اسے مارنے کے لیے پھینکا جسے اس نے بڑی آسانی سے کیچ کر لیا وہ اسے خونخوار نظروں سے گھورتی ہوئی فاطمہ کو گلے ملکر خدا حافظ کہتی باہر نکل گئی ۔۔
فاطمہ نے صوفہ کی بیک سے سر ٹکایا اور آرام سے بیٹھ کر پرانا وقت یاد کرنے لگی جب !!!!
اسامہ اسے اسفند بھائی کے پاس ہاسپٹل چھوڑ کر چلا گیا تھا کچھ دن وہ اسفند بھائی کے رکی پھر نوشابہ اور محسن تایا اسے لینے آئے تو وہ ستمگر بس کھڑے کھڑے وردی میں ملبوس ان سے ملنے آیا تھا ۔۔
اونچا لمبا خوبرو بالکل اس کے بابا کے جیسا وہ اسے دیکھ رہی تھی لیکن اس نے آنکھ اٹھا کر اسے نہیں دیکھا چند دن کراچی رہ کر محسن تایا اسے پنڈی کیمپس میں چھوڑ گئے تھے وہ بریک میں کراچی کا چکر لگا لیتی تھی لیکن اسامہ اس کی موجودگی میں ادھر کبھی نہیں آیا پھر جب حمزہ علی نے بڑے دھوم دھام سے ملیحہ سے منگنی کی تو وہ آیا بھی تو اس سے لاتعلق رہا وہ یادوں میں کھوئی ہوئی تھی جب اسے محسن نقوی صاحب کے آنے کی اطلاع ملی وہ اپنا بیگ اٹھا کر ان کے ساتھ کراچی چلی آئی ۔۔۔
نوشابہ نے بڑے تپاک سے اس کا استقبال کیا !!
” میری رونق میری بیٹی واپس آگئی ہے اب مل کر شادی کی تیاریاں کرینگے ۔۔۔” وہ خوشی سے بولیں
” کس کی شادی ؟؟ ” وہ حیران ہوئی
” لو تمہاری اور اسامہ کی اور بھلا کس کی ۔۔۔” انہوں نے کہا
” وہ مان گئے !! یہ کیسے ہوا ؟؟ ” وہ بڑبڑاتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب بڑھی
___________________________
اسامہ کو محسن صاحب نے زبردستی ایک ماہ کی چھٹیوں پر گھر بلوایا تھا اور اب رخصتی کا سن کر وہ راضی نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔
” اسامہ !! بس اب بہت ہوگیا اگر تمہیں اس رشتہ کو نہیں نبھانا تو ابھی اور اسی وقت فاطمہ کا فیصلہ کردو ۔۔۔۔” انہوں نے سختی سے کہا
فاطمہ کو چھوڑنے کا تو وہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا لیکن وہ اپنے دل کا کیا کرتا جس پر فاطمہ نے چوٹ پہنچائی تھی وہ بیدلی سے ہامی بھرتا لمبے لمبے قدم اٹھاتا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔
شام ڈھلنے کو تھی جب علی اسامہ سے ملنے آیا تھا محسن صاحب نے اسے ساری تفصیلات بتا دی تھی وہ اسامہ کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوا تو سگریٹ کے دھوئیں نے اس کا استقبال کیا ۔۔۔
سامنے ہی اسامہ آرام کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اس کی آنکھیں سرخ تھی اور چہرے پر افسردگی چھائی ہوئی تھی پاس پڑی ایش ٹرے میں سگریٹ کے ٹوٹے بھرے پڑے تھے ۔۔۔
” علی تو !! کب آیا یار ۔۔۔” وہ سیدھا ہوتے ہوئے بولا
” مجھے چھوڑ یہ بتا تو نے اپنا یہ کیا حال بنا رکھا ہے ؟؟ ایک ہفتے بعد تیری شادی ہے اور تو مجنوں بنا بیٹھا جب کے اب تو تیری لیلی بھی مل گئی ہے ۔۔۔”وہ کھڑکی سے پردے ہٹاتے ہوئے بولا
” نہیں بس ایسے ہی !! ” اسامہ نے بات ٹالنے کی کوشش کی
” اسامہ مان لو !! تمہیں فاطمہ بھابھی سے عشق ہے اور ان کی لاتعلقی اور بے نیازی نے تمہارا دل دکھایا ہے ۔۔”
” بس دل دکھایا ہے یہ کہنا کتنا آسان ہے نا !! ” وہ پھٹ پڑا ۔۔
” دیکھو بھائی وہ اس وقت بہت چھوٹی اور نادان تھیں اور تو اتنا ہی کمینہ تھا مان لے کے تو نے انہیں ڈرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اب اتنا ری ایکشن دکھائے گا تو پھر اس بار تو انہیں ہمیشہ کے لئیے کھو دیگا ۔۔۔۔” علی نے رسان سے سمجھایا
” وہ میرے نکاح میں ہے اسے مجھ سے کوئی بھی الگ نہیں کرسکتا !!! سمجھے ” اسامہ غرایا
” تو پھر یہ سب کیا ہے ؟؟ بولو کیا تم اس رخصتی سے خوش نہیں ہو ؟؟ جبکہ بھابھی اب شرمندہ بھی ہیں اب کیا جان لو گے ان کی ۔۔؟؟ “علی نے اس کی ٹھیک ٹھاک کلاس لی
اچھے دوست بلاشبہ خدا کی ایک نعمت ہوتے ہیں علی کی باتوں سے اس کی یاسیت کم ہونے لگی تھی ۔۔۔
_______________________________________
شادی کے دن قریب آرہے تھے اسامہ اپنی جگہ بہت مصروف تھا سب دوستوں نے الگ محفل جمائی ہوئی تھی ملیحہ بھی شادی میں شرکت کرنے کے لیے تین روز پہلے ہی تشریف لے آئی تھی
فاطمہ کھل کر اپنی شادی کی تقریبات انجوائے نہیں کر پارہی تھی اسامہ اسے مکمل اگنور کر رہا تھا ۔۔۔۔وہ اس سے مل کر معافی مانگنا چاہتی تھی لیکن وہ اسے ایسا کوئی موقع نہیں دے رہا تھا
انہیں دنوں میں رخصتی کا دن آگیا سرخ عروسی جوڑے میں اس کا ہوشربا حسن قیامت ڈھا رہا تھا لیکن اس کا دل اسامہ کا سامنا کرنے کا سوچ کر بیٹھا جا رہا تھا ۔۔۔۔
___________________________________
ساری رسموں سے فارغ ہو کر اسے اسامہ کے سادگی سے سجے کمرے میں بٹھا دیا گیا تھا گلاب کے پھولوں کی مہک نے پورے ماحول کو خوابیدہ بنا دیا تھا ۔۔۔
وہ اپنے دھڑکتے ہوئے دل کو سنبھالتے ہوئے اسامہ کا انتظار کررہی تھی وہ جانتی تھی کہ اسامہ اس سے سخت بدظن ہے کافی گھنٹوں کے انتظار کے بعد جب اس کی امیدیں دم توڑنے لگی تھی دروازے کے کھلنے کی آواز سنائی دی
دروازہ کھلا اور اسامہ اندر داخل ہوا ۔۔
اس نے ایک اچٹتی سی نظر بیڈ پر اپنے انتظار میں بڑی سعادتمندی سے سر جھکائے بیٹھی فاطمہ پر ڈالی ۔۔
زندگی میں پہلی بار وہ اس طرح اس کے نام پر سجی اس قدر دلکش محسوس ہو رہی تھی کہ اس کا دل ہمکنے لگا تھا وہ اس کے خوابیدہ جذبات کو جگا رہی تھی اس نے بڑی تیزی سے اپنے بہکتے دل کی لگامیں کھینچیں اور ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا
شاور لیکر آرام دہ لباس تبدیل کر کے وہ باہر نکلا تو وہ اپنی رونمائی کے انتظار میں بڑی تابعداری سے بیٹھی ہوئی تھی وہ دھیرے سے چلتا ہوا بیڈ کے پاس آیا اور اس کے سامنے نیم دراز ہو گیا ۔۔۔
“کوئی بھی مرد چاہے وہ خود جیسا بھی ہو جب شادی کے لیے کوئی لڑکی پسند کرتا ہے تو اس کے ذہن میں دل و دماغ میں بس ایک ہی بات ہوتی ہے کہ اسے ایک باکردار مضبوط لڑکی ملے جس پر کسی غیر مرد کی پرچھائی تک نا پڑی ہو جس کا کردار ہلکا نا ہو وہ خود بھلے سے لاکھوں افئیر چلا چکا ہو پر بیوی باحیا چاہتا ہے ۔۔۔”وہ کہتے کہتے رکا
” میں جب پہلی دفعہ تم سے ملا تو ایک بگڑا ہوا رئیس زادہ تھا لیکن جب تمہیں جانا سوچا تو احساس ہوا کہ تم تو میرے حلقہ احباب کی تمام لڑکیوں سے بہت مختلف ہو !! میں تمہیں مزید جاننا چاہتا تھا بات کرنا چاہتا تھا لیکن تم !!! تم مجھے ضد دلاتی چلی گئی اور وہ دن جب تم۔ بھاگ کر اسفند کے گلے لگی سوچ کر آج بھی میرے خون میں ابال آ جاتا ہے ۔۔۔” وہ مٹھیاں بھینچتے ہوئے بولا
فاطمہ نے بڑی مشکل سے دوپٹے کی آڑ سے اس کا شدت ضبط سے سرخ پڑتا چہرہ دیکھا وہ اس کی باتیں کر حیران ہو رہی تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سلجھا ہوا آدمی واقعی اسامہ ہے
” اسف اسفند میرے بھائی ہیں ۔۔۔” بڑی مشکل اس کی لرزتی ہوئی آواز نکلی
” اب مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا میں نے جب سے چاچو سے متاثر ہو کر فورس جوائن کی ہے اب میری زندگی کا واحد مقصد اس وطن عزیز کی حفاظت اور شہادت کا رتبہ پانے کی ہے اور
میں صرف تمہاری غلط فہمیاں دور کرنا چاہتا ہوں تاکہ تم مزید میرے بارے میں غلط مت سوچو میری وجہ سے دربدر مت بھٹکو یہ گھر تمہارا ہے تم آرام سے اپنے گھر میں رہو میں اب تمہاری راہوں میں کبھی بھی نہیں آؤنگا ۔۔۔” وہ اٹھ کھڑا ہوا
فاطمہ نے ساری شرم و حیا کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنا گھونگھٹ اٹھایا تو دیکھا اسامہ رخ پھیرے کھڑا تھا ۔۔۔وہ تیزی سے اٹھ کر اس کے سامنے آئی
لباس کی سرسراہٹ کھنکتی چوڑیوں اور پائل کی جھنکار نے اسامہ کو متوجہ کیا !!!
فاطمہ کا جگمگاتا ہوا حسین چہرہ اس کے سامنے تھا وہ دلہن کے روپ میں اس کے ہوش اڑانے کو تھی بڑی مشکل سے اس نے خود پر ضبط کرتے ہوئے اس کے تابناک چہرے سے اپنی نظریں ہٹائیں
“آپ آپ مجھ سے خفا ہیں !!! ” فاطمہ نے نم لہجے میں پوچھا
” نہیں میں نہیں سمجھتا کہ مجھے تم سے خفا ہونے کا کوئی حق حاصل ہے ۔۔۔” وہ ترش لہجے میں بولا دل میں کتنے عہد کئیے تھے کہ اس کو اگنور کریگا لیکن اب دل بغاوت کر رہا تھا
” کیا آپ مجھے معاف نہیں کرسکتے ؟؟ ” وہ بڑی امید سے اسے دیکھ رہی تھی
وہ دھیرے سے اس دلربا کی جانب بڑھا جو اس کے ضبط کے لئیے امتحان بنی کھڑی تھی اور اپنے ہاتھ اس کے شانوں پر رکھ کر اس کی خوبصورت رنگوں سے سجی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا
” میری آنکھوں میں ہمارے لئیے بہت سے خواب ہیں میں جاگتی آنکھوں سے ان کی تعبیر پانا چاہتا ہوں لیکن پہلے تم مجھے یقین دلاؤ کے محبتوں کے اس سفر میں تم میرے ہمراہ ہو !!! مجھے یقین دلاؤ کہ تم مجبوری میں ایسا نہیں کررہی ۔۔۔۔۔”
فاطمہ کی پلکیں لرز اٹھیں اس نے شرم و حیا سے لبریز آنکھیں بند کرتے ہوئے اپنا سر اس کے سینے پر رکھ دیا ۔۔۔
اسامہ نے ایک نظر اپنے سینے سے لگی فاطمہ کو آسودگی سے دیکھا جو آج اپنی مرضی سے اس کی پناہوں میں آئی تھی اور اسے اپنے مضبوط حصار میں لیکر پرسکون ہو کر آنکھیں موند گیا ۔۔۔۔
زندگی کا ایک نیا سفر اپنی شروعات پر تھا ایک روشن چمکیلی صبح ان کی منتظر تھی ۔۔۔۔
ختم شد
