Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Akaab (Episode 04)

Akaab by Seema Shahid

اسامہ کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا بڑی مشکل سے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوئے اٹھا تو کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا اس نے ٹٹولتے ہوئے سوئچ آن کیا تورات کے دو بج رہے تھے وہ پورا دن سوتا رہا تھا۔۔۔

وہ دروازہ کھول کر نیچے کچن کی جانب بڑھا ارادہ کچھ کھانے کا تھا جیسے ہی نیچے اترا سامنے ہی ممی اور ڈیڈی بیٹھے ہوئے تھے۔۔

“آپ دونوں اتنی رات تک جاگ رہے ہیں خیریت تو ہے کسی پارٹی سے آئے ہیں کیا؟؟ ” وہ انہیں دیکھ کر حیرانگی سے بولا

محسن صاحب صوفے سے اٹھ کر اس کے قریب آئے اور ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر مارا

” ڈیڈ !! ” پر چہرے پر ہاتھ رکھے پیچھے ہوا

” میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا میرا بیٹا کمشنر آف پولیس کا بیٹا جس کو میں نے دنیا کی ہر چیز بنا کہے میسر کی اتنا گر جائے گا کہ میری ہی بھائی کی بیٹی کا ریپ !!! ” وہ بات مکمل نہیں کرسکے

” یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ڈیڈ؟؟ کیسی لڑکی ! میں نے کیا کر دیا میں تو شام صبح سے گھر پر ہوں ۔۔۔” وہ حیرانگی سے بولا

نشہ اتر چکا تھا اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا

” ممی آپ ہی بتائیں ڈیڈ کو !! دیکھیں یہ کتنا گندا الزام مجھ پر لگا رہے ہیں ۔۔۔” وہ نوشابہ سے مخاطب ہوا

نوشابہ نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا اور پھر ساری تفصیلات اسے بتائیں وہ شاک کے عالم میں سن رہا تھا۔

” چلو میرے ساتھ !! ” وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اوپر فاطمہ کے کمرے میں لے گئی

” یہ دیکھو یہ فاطمہ تمہارے احسن چاچو کی اکلوتی بیٹی غور سے دیکھو کیا حال کیا ہے تم نے اس کا صبح سے بیہوش پڑی ہے ڈاکٹر کہتا ہے کل تک ہوش میں نہیں آئی تو نروس بریک ڈاؤن ہوسکتا ہے ۔۔ “

وہ شاک کی عالم میں فاطمہ کو دیکھ رہا تھا یہ وہی لڑکی تھی جس نے پارکنگ میں اسے تھپڑ مارا تھا لیکن اس کا یہ حال کیسے ہوا اسے کچھ یاد نہیں آ رہا تھا بس اتنا یاد تھا کہ شاید اس نے فاطمہ کو خواب میں تھپڑ مارا تھا

” ممی میں سچ کہہ رہا ہوں مجھے نہیں پتہ اس کا یہ حال کیسے ہوا میں تو نیند کی گولی لیکر لیٹ گیا تھا شاید ۔۔۔”

” شاید ؟؟ واہ بیٹا واہ ایک معصوم کی زندگی برباد کردی اور کہتے ہو شاید !! نشہ بھی کرنے لگے ہو اور ظاہر ہے ایک شرابی نشئی کو ہوش کہا ہوتا ہے ۔۔۔” وہ تاسف سے کہتی ہوئی باہر نکل گئی

اسامہ الجھا الجھا اپنے کمرے میں آیا …

اب کے اس نے غور کیا تو زمین پر لیڈیز سینڈل پڑے تھے فرش پر کچھ کانچ کی چوڑیاں ٹوٹی پڑی تھی اور دروازے کے نزدیک قالین پر سونے کی چین ٹوٹی پڑی تھی

” او میرے خدا کیا واقعی میں نے ؟؟ ” وہ لرز اٹھا اور تیزی سے کمرے سے نکل کر باہر آیا

ممی ڈیڈی شاید اپنے کمرے میں جاچکے تھے وہ سیدھا ان کے کمرے میں گیا

” ڈیڈ ممی ۔۔ائی ایم سوری !! مجھے کچھ بھی یاد نہیں ہے لیکن مجھ سے غلطی ہو گئی ہے پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔۔”

” اسامہ ابھی یہاں سے چلے جاؤ اور معافی اس بچی سے مانگنا اگر وہ معاف کردیگی تو ہم بھی معاف کردیں گے ۔۔۔جاو یہاں سے ۔۔۔” وہ سخت لہجے میں بولے

اسامہ خاموشی سے باہر نکل گیا بھوک پیاس سب مر چکی تھی اسے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ اس نے ایسا گھناؤنا فعل سرانجام دیا ہے وہ بجھے بجھے قدموں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھا پھر کچھ سوچ کر فاطمہ کے کمرے میں داخل ہوگیا

سامنے ہی تیکھے نقوش والی وہ تھپڑ والی لڑکی بیہوش پڑی تھی اس کی گھنی سیاہ پلکیں نم تھی جیسے روتے روتے سو گئی ہو چہرے پر اس کی انگلیوں کے نشان چھپے ہوئے تھے تکیہ پر سیاہ سلکی بال پھیلے ہوئے تھے

” آئی ایم سوری کزن بٹ کچھ غلطی تمہاری بھی ہے ۔۔۔” وہ اس کے چہرے سے لٹیں ہٹاتے ہوئے بڑبڑایا

___________________

بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دشمن کے حملے روکنے کیلئے فارورڈ آپریٹنگ بیس کا قیام پہلے دن سے ہی عمل میں آچکا تھا ان بیسز پر ہوا بازوں، ائیر ڈیفنس، انجینئرنگ اور سکیورٹی پر مامور عملہ پوری طرح چوکس تھا ۔۔۔۔پاک افواج کی حکمت عملی اور پرجوش جوابی کارروائی کی وجہ سے حالات کنٹرول میں آرہے تھے لیکن دشمن ابھی بھی سرحدوں پر پوری طرح نظریں جمائے ہوئے تھا

مشکل وقت ابھی ختم نہیں ہوا ہے دشمن کی جانب سے کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کیلئے چوکس رہنا ضروری ہے ۔

ایل او سی پر گزشتہ رات 24 گھنٹے میں بھارتی فورسز نے نیزہ، پیر، پانڈو، خنجر منور، پٹل اور باکسر سیکٹرز پر مسلسل وقفہ وقفہ سے فائرنگ کی جا رہی پاک فوج کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی فائرنگ سے جانی نقصان نہیں ہوا۔ پاکستان کی مسلح افواج مستعد اور تیار ہیں۔۔۔۔

یہ جنگ اب صرف سرحد پہ محیط نہ رہی تھی فورسز کے جوان ہر لمحہ چوکس تھے

کہا جاتا ہے اللہ بزدل دشمن سے بچائے لیکن کیا کیا جائے کہ اس ملک خداداد کا دشمن بزدل ہی نہیں بے غیرت بھی تھا

جو رات کی تاریکی مین وار کرنے کا عادی تھا۔۔۔

اسامہ بیس پر لینڈ کرچکا تھا آج اس کو چند گھنٹے کا ریلیکس تھا وہ ابھی آکر بیٹھا ہی تھا کہ اسکا فون بجنے لگا ۔۔۔۔

اسکرین پر علی کا نام جگمگا رہا تھا ۔۔۔۔

” کدھر ہے یار !! سوچا تھا تو بھمبر میں ہے تو ایک آدھ ملاقات تو ہو ہی جائیگی میں لندن سے آتے ہی صرف تجھ سے ملنے بھمبر آیا لیکن افسوس کتنے میسجز کئیے پر تو تو لگتا ہے ملنا ہی نہیں چاہتا ۔۔۔” علی فون کے اٹھتے ہی شروع ہوگیا

“یار میں بزی تھا ۔۔۔۔” وہ دھیمے لہجے میں بولا

” میں آنٹی سے ملکر ادھر آیا ہوں تو اب تک ایک جگہ پر ٹہرا ہوا ہے بھول جا یار آنٹی کہہ رہی تھی چار سال سے تو گھر نہیں گیا جتنی بھی چھٹیاں ملی سب اسے ڈھونڈنے میں لگا دیں وہ ماں ہیں ترس رہی ہیں تجھے دیکھنے کیلئے ۔۔۔”

” علی !!! تجھے حالات کا پتہ تو ہے چل کول ہوجا آج ملتے ہیں ، ایسا کر تو میر پور چوک پر آجا وہی ملتے ہیں ۔۔۔۔” وقت اور جگہ طے کر کے اسامہ اٹھا یونیفارم تبدیل کر کے یونٹ میں بتا کر وہ باہر نکل آیا ۔۔۔

میرپور چوک بھمبر کا مشہور چوک ہے اس چوک کا اصل نام لیفٹیننٹ خلیل شہید چوک ہے یہ شہر کے بالکل درمیان میں ہے اس میں ایک بڑا خوبصورت چوراہا ہے جس کے ایک سائیڈ پر دکانیں ہیں اور تین اطراف کی طرف روڈ نکلتی ہیں ایک میرپور ایک گجرات اور ایک سماہنی جاتی ہے اسامہ چوک پر پہنچ چکا تھا اور ایک چائے کے مشہور کھوکے پر کھڑا علی کا انتظار کر رہا تھا جینز پر سفید شرٹ پہنے آنکھوں پر سن گلاسز لگائے وہ چاروں اطراف دیکھ رہا تھا ۔۔۔

_____________________________

اسامہ کا شرمندگی سے برا حال تھا پورے چوبیس گھنٹے گزر چکے تھے مگر وہ لڑکی ہوش میں نہیں آئی تھی اس کی دو دفعہ ڈرپ بدلی جا چکی تھی ۔۔۔

ممی اور ڈیڈ بھی اس سے بات نہیں کررہے تھے شام کا وقت تھا ڈاکٹر صاحب اس لڑکی کا چیک اپ کر کے گئے تھے وہ اب خطرے سے باہر تھی ڈاکٹر صاحب کے مطابق اسے صبح تک ہوش آجانا چاہیے تھا یہ مائنر کنکشن ( دماغ کی چوٹ ) کا کیس تھا زمین پر گرنے کی وجہ سے اس کے سر پر کمپیوٹر ٹیبل کا کنارہ لگنے سے شدید چوٹ آئی تھی تین ٹاکے بھی لگے تھے ۔۔۔

رات کے دس بج رہے تھے وہ بجھے بجھے قدموں سے ممی ڈیڈی کے روم میں آیا

” ڈیڈ ۔۔۔ آپ پلیز مجھ سے بات کریں ۔۔۔” وہ ہائپر ہو رہا تھا

محسن نقوی صاحب نے نظر کا چشمہ اتار کر کتاب ایک طرف رکھی

” کیا بات کروں ؟ تم نے مجھے کوئی بات کرنے کے قابل کہاں چھوڑا ہے ۔۔۔۔” وہ سنجیدگی سے بولے

“ڈیڈ سچی مجھے واقعی نہیں پتہ میں نے کیا کیا ہے آپ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں پتہ نہیں میں ایسا کیسے ۔۔۔۔” وہ ڈپریشن کی انتہا پر تھا

محسن صاحب اس کی حالت سمجھ رہے تھے وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا پڑھائی میں آگے ، ایک بہترین آئی کیو کا مالک پرکشش پرسنالٹی بلیک بیلٹ مگر اس وقت ایک ہارا ہوا انسان لگ رہا تھا

” اسامہ میری ایک بات مانو گے ؟؟ ” وہ پرسوچ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولے

” جی ڈیڈ جو آپ کہیں !! بس آپ اور ممی ناراضگی ختم کر دیں میں وعدہ کرتا ہوں آج کے بعد الکوحل کو ہاتھ بھی نہیں لگاؤنگا ۔۔۔” وہ ان کے پیروں کے پاس بیٹھ گیا

“اسامہ میں چاہتا ہوں تم فاطمہ سے شادی کرلو اس بچی کے سر پر اپنے نام کی چادر ڈال دو ۔۔۔”

” شادی ؟؟” وہ اچھل پڑا

” نو وے ڈیڈ ابھی تو میں صرف اٹھارا سال کا ہوں پڑھ رہا ہوں آپ ایسا کیسے سوچ سکتے ہیں ۔۔۔” وہ بھڑک اٹھا

” عمر سے کچھ نہیں ہوتا اور پڑھائی تو شادی کے بعد بھی ہو سکتی ہے ہم یہ شادی دنیا کو دکھانے کے لئیے کرینگے اور آفیشیل رخصتی تمہارے کیرئیر کے بعد ہی کی جائیگی ۔۔۔” انہوں نے سمجھایا

اسامہ نے مدد طلب نظروں سے نوشابہ کی جانب دیکھا ۔

” دیکھو اسامہ ایک نا ایک دن شادی تو تمہیں کرنی ہی ہے اور فاطمہ سے زیادہ اچھی لڑکی تمہیں کہیں نہیں ملے گی وہ بہت ہی معصوم اور عمر ہے تم جس رنگ میں ڈھالو گئے ڈھل جائیگی ۔۔۔۔” نوشابہ نے سمجھایا

” بیگم آپ بھی کس کے ساتھ سر پھوڑ رہی ہیں ، اسامہ جاؤ آرام کرو اور سوچ سمجھ کر مجھے جواب دینا تاکہ میں تمہارے چاچو سے رشتے کی بات کروں ۔۔۔” محسن نقوی صاحب نے سنجیدگی سے بات مکمل کرکے اسے جانے کا اشارہ کیا

____________________________

وہ اپنے کمرے میں جانے سے پہلے فاطمہ کے کمرے میں آیا اس کے ہاتھوں میں ڈرپ لگی ہوئی تھی پھول سا چہرہ مرجھایا ہوا تھا اسامہ بیڈ پر اس کے نزدیک بیٹھ گیا اور اس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے اس کی مانگ سے ماتھے پر جھلکتے زخم کو دیکھنے لگا جس پر ٹانکے لگے ہوئے تھے اس نے اس کے زخم پر انگلی پھیری اور کھڑا ہو کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔

وہ اپنے کمرے میں کروٹیں بدل رہا تھا نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی صبح ڈیڈ کو جواب دینا تھا کافی دیر بعد وہ اٹھ کر بیٹھ گیا تبھی اسے کاریڈور کا دروازہ کھلنے کی ہلکی سی چرچراہٹ سنائی دی ۔۔۔

_________________________

اس کا سر بری طرح چکرا رہا تھا حلق سوکھ رہا تھا اس نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں چند لمحے وہ خالی خالی نگاہوں سے چھت کو گھورتی رہی کمرے میں نیلی مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی پھر جیسے ہی وہ بستر سے اٹھنے لگی ایک کراہ سی اس کے منھ سے نکلی اس کے ہاتھ میں لگی ڈرپ کا تار کھنچ گیا تھا ۔۔۔۔

اس نے حیرت سے اپنے ہاتھ میں لگی ڈرپ کو دیکھا پھر بڑی مشکل سے ڈرپ کی سوئی نکال کر چکراتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اس نے دیوار کے پاس پہنچ کر مین سوئچ سے لائٹ جلائی اور دیوار پر نصب گھڑی میں وقت دیکھا تو تین بج رہے تھے اسے اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ یہ دن کا وقت ہے یا رات کا وہ اپنا دوپٹہ اچھی طرح سے اپنے گرد لپیٹتے ہوئے کمرے سے باہر نکلی پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔

” میں اتنی دیر تک سوتی رہی ؟؟ ” وہ شیشے سے جھلکتی رات کی سیاہی کو دیکھ رہی تھی

” صبح ہوتے ہی بابا کو فون کرونگی مجھے یہاں نہیں رہنا ۔۔۔” وہ اپنی سوچوں میں الجھی ہوئی واپس کمرے میں جانے کیلئے مڑی اور سامنے کھڑے اسامہ کو دیکھ کر چونک کر ٹھٹک کر رک گئی اس کے چہرے پر خوف کے تاثرات امنڈ آئے تھے ۔۔۔

“شکر خدا کا تم ہوش میں آ ئیں ۔۔۔” اسامہ بولتا ہوا اس کے نزدیک آیا ہی تھا کہ وہ سہم کر پیچھے ہوئی

” ڈرو مت!!میں تمہیں کچھ نہیں کہونگا ۔۔۔

میں تمہارا کزن اسامہ ہوں چلو آؤ تمہیں کمرے میں چھوڑ دوں !! ” اس نے افسوس سے فاطمہ کے سہمے ہوئے چہرے کو دیکھا اور اس کا ہاتھ پکڑا

“ہاؤ ڈئیر یو ٹچ مائے ہینڈ ۔۔۔” فاطمہ نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑالیا

” میں خود چلی جاؤنگی مجھے تم جیسے غنڈے بدمعاش کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔”وہ دبے دبے لہجے میں چیخ کر بولی

” بس یہی ! یہی تمہارا ایٹیٹیوڈ اس سارے قصے کی جڑ ہے ۔۔۔۔” اس نے سختی سے فاطمہ کا ہاتھ تھاما اور اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے میں لے جاکر بیڈ پر پٹخا

“تم !! تم خود کو سمجھتے کیا ہو ” وہ مٹھیاں بھینچ کر بولی

” میں !! میں خود کو بہت ہی عقلمند سمجھدار اور مضبوط ارادہ رکھنے والا سمجھتا ہوں۔۔۔”اس نے مسکرا کر کہا

” تم انتہائی ذلیل ، غنڈے اور بدمعاش ہو تمہیں کیا پتا انسانیت کس چڑیا کا نام ہے اخلاق کیا ہوتا ہے شرافت کسے کہتے ہیں ، میں تم جیسے لوگوں سے بات کرنا بھی اپنی توہین سمجھتی ہو ۔۔۔” وہ تپ کر بولی

” اس غنڈے بدمعاش کے سہارے کی عادت ڈال لو تھینکس ٹو یو ہماری بہت جلدی شادی ہونے والی ہے ۔۔۔” وہ نخوت سے بولا

” شادی اور تم سے ؟؟ کبھی اپنے آپ کو دیکھا ہے ۔۔۔” وہ استہزائیہ انداز میں بولی

” کیوں کیا کمی ہے مجھ میں ؟؟ ” اسامہ جسے آج تک لڑکیاں تو لڑکیاں لڑکے بھی سراہتے آئے تھے نے اچھنبے سے پوچھا

” میں ایک آرمی میجر کی بیٹی ہوں میری شادی کسی ایرے غیرے عام انسان سے نہیں ہوگی ۔۔۔” وہ سر اٹھا کر بولی

” رسی جل گئی مگر بل نہیں گیا !! ارے تم ہو کس گمان میں اس سب کے بعد تمہیں پوچھے گا کون ؟؟ ” اسامہ نے مذاق اڑایا

” میں تم جیسے سڑک چھاپ سے ہرگز شادی نہیں کرونگی تم دیکھنا میرے بابا میری شادی بہت دھوم دھام سے کسی پائیلٹ آفیسر سے کرینگے ۔۔۔” وہ فخر سے بولی

اسامہ کا دماغ گھوم گیا یہ لڑکی جب سے ملی تھی اس کی ذات کی دھجیاں اڑائے چلی جا رہی تھی ۔۔۔اس نے ایک جھٹکے سے اس کو گردن سے پکڑا

“تم نے ایک بار پھر مجھے للکارا ہے !! تیار رہو دو دن !! بس دو دن میں ہماری شادی ہو گی ۔۔۔”وہ پھنکارا اور اسے بیڈ پر گرا کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *