Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Akaab by Seema Shahid

نوشابہ جلدی جلدی میز پر ناشتے کے برتن لگا رہی تھیں ساتھ ساتھ کچن میں ابلتی چائے پر بھی ان کی پوری نگاہ تھی ۔۔۔
" گڈ مارننگ ممی !! " اسامہ نک سک سے تیار اندر داخل ہوا
" گڈ مارننگ بیٹا جی !! " انہوں نے بڑے غور سے اس کی تیاری کو دیکھا
"کالج جارہے ہو ؟؟ اتنا بن ٹھن کے ۔۔۔" وہ اس کی برانڈڈ جینز کھلے گلے کی شرٹ اور ہاتھوں میں باندھے بینڈز کو دیکھ رہی تھیں
" یس ممی !! آج کلاس کے بعد سب لڑکے شاہزیب کے گھر جمع ہونگے وہاں سے سب ملکر نائٹ کنسرٹ میں جائینگے ۔۔" وہ لاپرواہی سے جوس کا گلاس اٹھاتے ہوئے بولا
"اسامہ اپنے ڈیڈ سے پرمیشن لی ؟؟"
"ڈیڈ کو آپ بتا دینا میں چلتا ہوں ابھی دیر ہو رہی ہے ۔۔۔" وہ گلاس میز پر رکھ کر تیزی سے باہر نکلا پورچ میں اس کی اسپورٹ بائیک کھڑی تھی آنکھوں پر سن گلاسز لگا کر بیگ کمر پر کسا بائیک کو ریس دی سائلنسر وہ پہلے نکال چکا تھا گھھھم گھھھم تیز آواز گونجی اور وہ فل اسپیڈ پر بائیک دوڑاتے ہوئے وہ کالج روانہ ہو گیا
یہ بوائز کالج اس شہر کراچی کے سب سے بہترین تعلیمی اداروں میں سے ایک تھا جہاں داخلہ لینا میرٹ پر پورا اترنا بہت مشکل تھا کالج کے اندر مین آفس کے سامنے سبزہ زار پر چار لڑکے پیر پھیلائے بڑے آرام سے بیٹھے ہوئے تھے تبھی ایک نے مین گیٹ سے اندر داخل ہوتے اسامہ کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا
وہ بڑے آرام سے اپنی اسپورٹ بائیک اسٹینڈ پر لگا کر اپنے دوستوں کی جانب بڑھا
" ہائے گائز !! "
" اسامہ یار آج بھی ہیلمٹ نہیں پہنا ؟ " احمد نے ٹوکا
" کیوں آج ایسی کیا خاص بات ہے یار !! " اسامہ بیگ گھاس پر ڈالتے ہوئے بولا
" یار شام میں جم خامہ فنکشن ہے اور اگر تجھے پولیس نے بنا ہیلمٹ روک لیا تو ؟؟ " احمد نے خدشہ بیان کیا
" واٹ آ جوک !!!! کس سالے میں اتنی ہمت ہے کہ مجھے روکے وردی اتروا دونگا ایک منٹ میں ۔۔۔" وہ بڑے غرور سے بولا
" اچھا چل کر یار کول ڈاؤن !!! کلاس میں چلتے ہیں " وہ پانچوں کا ٹولہ کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھا اور کلاس کی جانب روانہ ہوا
علی ، احمد ، ارحم ،خالد اور اسامہ یہ پانچوں بچپن کے دوست تھے اسکول میں بھی ساتھ تھے اور اب کالج میں بھی ایک ساتھ تھے امیر گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود پڑھنے میں بہت تیز تھے خاص کر اسامہ کا آئی کیو لیول تو غضب کا تھا ۔۔۔
وہ میٹرک کا امتحان دیکر فارغ تھی رزلٹ کا انتظار کر رہی تھی ساتھ ہی ساتھ بیٹ مین انکل سے کھانا پکانا بھی سیکھ رہی تھی ابھی وہ کچن میں براؤنیز بیک کررہی تھی جب میجر احسن اندر داخل ہوئے کچن سے کھٹر پٹر کی آوازیں سن کر اسی سمت بڑھے سامنے ہی ان کی سولہ سالہ کی صاحبزادی فاطمہ اپنے لمبے بالوں کی پونی بنائے ایپرن پہنے کام کر رہی تھی
"آج کس ڈش کی شامت آئی ہے !! " وہ قریب جا کر بولے
" ہائے اللہ !! بابا آپ بھی ڈرا دیا مجھے !!" وہ اچھل پڑی
" ایک میجر کی بیٹی ہو کر ڈرتی ہو !! لڑکی تمہارا کیا بنیگا ۔۔۔" انہوں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا
" اچھا میرے پیارے میجر بابا !! آپ فریش ہو جائیں میں گرم گرم چائے اور براؤنیز لیکر آتی ہوں ۔۔ "
" اجمل کدھر ہے تم اکیلی کچن میں کیسے !! " انہوں نے بیٹ مین کے بارے میں پوچھا
" اجمل انکل کو میں نے سامنے شاپ تک بھیجا ہے بس آتے ہی ہونگے ۔۔۔" فاطمہ براؤنیز کی ٹرے باہر نکالتے ہوئے بولی
" اوکے سویٹ ہارٹ تم چائے تیار کرو میں آتا ہوں۔۔" وہ اندر فرش ہونے چلے گے
فاطمہ نے جلدی جلدی براؤنیز کو پلیٹ میں نکالا ساتھ ہی تھوڑے سے پکوڑے تلے اور چائے تیار کرلی اتنی دیر میں اجمل انکل بھی اس منگوایا ہوا سامان لیکر آگئے تھے اجمل انکل کو چائے میز پر لگانے کا کہہ کر وہ جلدی جلدی اجمل انکل کے لائے سامان میں چلی ملی کھٹی املی چھالیہ کے پیکٹ چیک کرنے لگی
" فاطمہ بیٹی میجر صاحب میز پر بلا رہے ہیں ۔۔"اجمل اندر آکر بولا
وہ سر ہلاتے ہوئے سارا سامان کاؤنٹر پر رکھ کر باہر آگئے جہاں میجر احسن چائے پر اس کا انتظار کر رہے تھے
"فاطمہ بیٹا ساری تیاری ہو گئی ہے نا بس ایک گھنٹے میں نکلنا ہے تاکہ شام تک کراچی پہنچ جائیں۔۔۔"
" بابا کراچی جانا ضروری ہے کیا؟؟ " وہ چائے پیتے ہوئے ٹھنک کر بولی
"دیکھو میں تمہیں پہلے بھی سمجھا چکا ہوں مجھے وزیرستان بھیجا جا رہا ہے حالات اچھے نہیں ہیں اور میں تمہیں اکیلا تو یہاں نہیں چھوڑسکتا نہ اس لئے بہتر ہے تم اپنے تایا ابو کہ گھر پر رہوں ویسے بھی دو مہینے کی تو بات ہے پھر میں واپس آ جاؤں گا اور پھر ہم دونوں باپ بیٹی دوبارہ سے ایک ساتھ مزے کریں گے۔۔۔"
"پربابا کتنے سال ہو گئے میں نے تایا ابو تائی امی کو نہیں دیکھا پتہ نہیں وہ لوگ کیسے ہونگے اور میں اپ کے بغیر کیسے رہوں گی اور پھر ابھی کالج کی ایڈمیشن بھی تو ہونے والے ہیں اس کا کیا ؟؟ "
"میرا پیارا بچہ تمہارے تایا ابو تمہیں بہت پیار کریں گے جب بھی فون کرتے ہیں تمہارا ضرور پوچھتے ہیں اور ابھی تو میٹرک کا رزلٹ آنے میں بھی دو ماہ ہیں اس لئیے فکر مت کرو ۔۔۔" وہ چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے کھڑے ہو گئے
"ٹھیک دو گھنٹے میں اپنا بیگ لے کر نیچے آ جانا فلائٹ کا ٹائم ہو رہا ہے" وہ کہتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے
میجر احسن کا تعلق پاک فوج سے تھا ان کی شریک حیات کا انتقال دس سال پہلے جب فاطمہ چھ برس کی تھی ہوگیا تھا فاطمہ کو انہوں نے بہت پیار سے پالا تھا نماز روزے کے ساتھ دین و دنیا کی تربیت بھی خود کی تھی اور آج انہیں مظفرآباد سے وزیرستان بھیجا جا رہا تھا جس کی وجہ سے وہ اپنی لاڈلی کو کراچی اپنے بڑے بھائی کمشنر پولیس محسن نقوی کے پاس چھوڑنے جا رہے تھے ۔۔۔
تھوڑی دیر میں فاطمہ اپنا سوٹ کیس لیے ان کے پاس آ گئی تھی جینز کے اوپر لمبی گھٹنوں کو چھوتی کالی ڈھیلی قمیض پہنے سر پر اسکارف لپیٹے ان کی معصوم سی فاطمہ ان کے پاس کھڑی تھی۔۔۔
" یہ بیٹیاں بھی کتنی جلدی بڑی ہوجاتی ہیں " وہ اس کے پھولے پھولے رخسار اور صبیح چہرے کو دیکھتے ہوئے سوچ رہے تھے
اجمل نے ان دونوں کو ائیرپورٹ پر اتارا اور اب چار گھنٹے کے بعد وہ کراچی ایئرپورٹ پر کھڑے تھے
" بابا آپ نے تایا ابو کو ہمارے آنے کا بتایا تھا ؟" فاطمہ چاروں جانب دیکھتے ہوئے بولی
"بیٹا انہیں سب خبر ہے میں نے انہیں ائیر پورٹ آنے سے منع کردیا تھا سیکیورٹی ریزن کی وجہ سے ۔۔۔۔"
"سیکیورٹی ریزن سب ٹھیک تو ہے بابا ؟؟ "
" سب ٹھیک ہے بس میں نہیں چاہتا میرے یا اس کے دشمنوں کی نگاہ تم پر پڑے!! ارے وہ دیکھو گاڑی میں نے بک کروائی تھی چلو اس طرف ۔۔"
وہ اسے ساتھ لیتے ہوئے سامنے کھڑی گاڑی کی جانب بڑھے باوردی ڈرائیور سے چابی لیں اور اسے جانے کا اشارہ کر کے خود بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر فاطمہ کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا
ابھی وہ تھوڑا ہی آگے گئے تھے کہ ان کا مخصوص فون بجا ۔۔۔
وہ فاطمہ کو چپ رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے کوڈورڈز میں بات کرنے لگے فون بند کرکے اب گاڑی تیزی سے سڑک پر بھاگ رہی تھی شام کا اندھیرا اپنے پر پھیلا چکا تھا انہوں نے گاڑی ایک پوش علاقے میں ایک بڑے سے کلب کی پارکنگ میں روکی
"فاطمہ تم دروازہ بند کرکے اندر ہی بیٹھنا مجھے یہاں پر ایک آدمی سے کام ہے بس ایک گھنٹے میں واپس آوں گا خبردار باہر مت نکلنا ۔۔"
" اوکے بابا پریشان کیوں ہو رہے ہیں پہلے کبھی باہر نکلی ہو ویسے بھی آپ ایک گھنٹہ کہہ کر ہمیشہ دو گھنٹے میں واپس آتے ہیں۔۔۔"
وہ پیار سے اس کے سر پر چپت لگاتے ہوئے گاڑی لاک کروا کر اندر کی طرف روانہ ہوگئے فاطمہ چاروں طرف دیکھ رہی تھی رنگ و بو کا سیلاب امنڈ رہا تھا چاروں طرف لڑکے لڑکیاں گاڑیاں ہی گاڑیاں ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی فیشن شو منعقد ہو رہا ہو ۔۔۔وہ افسوس سے ان بے پردہ لڑکے لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے آنکھیں موند کر بیٹھ گئی ابھی شاید بمشکل آدھا گھنٹہ ہی ہوا ہو گا کہ ایک زور دار دھماکا ہوا کسی نے اس کی کھڑی گاڑی کو ٹھوک دیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *