Akaab by Seema Shahid NovelR50674 Akaab (Episode 05)
Rate this Novel
Akaab (Episode 05)
Akaab by Seema Shahid
صبح ہوتے ہی نوشابہ فاطمہ کو دیکھنے آ ئیں اور اسے ہوش میں دیکھ کر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ گئی
” فاطمہ بیٹی اب طبعیت کیسی ہے ؟؟ “
“میں میں ٹھیک ہوں ۔۔۔” وہ دھیمے لہجے میں بولی
” پتا ہے پورے دو دن بیہوش رہی ہوں میں اور تمہارے انکل تو پریشان ہو گئے تھے ۔۔۔” انہوں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
” آنٹی !! مجھے کیا ہوا تھا ۔۔۔” فاطمہ نے چونک کر پوچھا
نوشابہ نے حیرت سے اسے دیکھا جسے شاید اپنے عظیم نقصان کا کوئی اندازہ نہیں تھا
” تم شاور لے لو مگر سر گیلا مت کرنا ٹانکے ابھی کچے ہیں میں جب تک تمہارے لئیے ناشتہ بھجوا تی ہوں ۔۔۔۔” وہ اسے ہدایات دے کر نیچے آگئی
ڈائننگ ٹیبل پر ملازمہ ناشتہ لگا رہی تھی محسن نقوی صاحب یونیفارم میں ملبوس اخبار دیکھ رہے تھے اسی وقت اسامہ بھی نیچے اتر کر آیا
” گڈ مارننگ ممی ڈیڈی ۔۔۔۔”
” گڈ مارننگ !! کیا آج کالج نہیں جاؤگے ۔۔۔”وہ اسے گھریلو لباس میں دیکھ کر بولے
” نہیں ڈیڈ آج مجھے بہت کام ہے آپ نے کل شادی کی بات کی تھی میں ایگری ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ آپ یہ شادی دو دن میں کروائیں ۔۔۔”
” تمہارا دماغ درست ہے دو دن ابھی حسن کو گئے بمشکل تین دن ہوئے ہیں اس کی غیر موجودگی میں یہ شادی نہیں ہو سکتی …” وہ اخبار رکھ کر غصے سے بولے
” آپ انہیں فون کرلیں لیکن شادی تو دو دن میں ہی ہونی ہے چاہے آپ اور چاچو راضی ہو یا نا ہو ۔۔۔” وہ اپنی جون میں واپس آگیا تھا ضدی اکھٹر مزاج اسامہ ۔۔۔
” اسامہ شادی کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے اور ابھی فاطمہ سے بھی تو رضامندی لینی ہوگی ۔۔۔” نوشابہ نے پیار سے سمجھایا
” فاطمہ!! اس کی رضامندی کی کسے پروا ہے ویسے بھی وہ مائنر ہے ۔۔۔
You know she is only sixteen year old …”
وہ اکھٹر انداز میں بولا
” تو بیٹا آپ کون سا بالغ ہیں ۔۔۔” محسن نقوی صاحب نے ٹوکا
“Dad I am turning 19 this month and I am way better and stronger than her …”
اسامہ نے کہا
ابھی ان باپ بیٹے کی بحث جاری تھی کہ کمشنر محسن نقوی صاحب کا پرسنل فون بجا ۔۔۔
انہوں نے فون کان سے لگایا اور دوسری طرف کی بات سن کر وہ شاک سے اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے ۔۔۔
_____________
محسن نقوی صاحب فون رکھ کر کرسی پر ڈھے سے گئے۔۔۔
” خیریت تو ہے ؟ کس کا فون تھا ؟۔۔۔۔” نوشابہ نے پوچھا
” نوشابہ پنڈی چلنے کی تیاری کرو احسن کو شدید زخمی حالت میں سی ایم ایچ پہنچایا گیا (Combined Military Hospitals) ہمیں فوراً نکلنا ہوگا ، میں پہلی فلائٹ سے ٹکٹ بک کرواتا ہوں تم فاطمہ کو تیار کرو ۔۔۔۔” وہ اپنا فون اٹھا کر بولے
” ڈیڈ میں بھی چلونگا ۔۔۔” اسامہ نے کہا
” تمہاری موجودگی سے فاطمہ مزید ڈسٹرب ہو سکتی ہے ویسے بھی تمہارے امتحان سر پر ہیں بہتر ہے تم گھر پر رک کر اپنی پڑھائی پر توجہ دو ۔۔۔۔”
” میں آپ کے ساتھ چل رہا ہوں دیٹس فائنل وہ میرے بھی چاچو ہیں اور پھر مجھے ان سے ملنا بھی ہے ۔۔۔۔” وہ سنجیدگی سے بولا
” اسامہ ! ۔۔۔” محسن نقوی صاحب نے اسے ٹوکنا چاہا
” نہیں ڈیڈ میں نہیں رکونگا ، آپ میری بھی سیٹ بک کرائیں ۔۔۔” وہ دو ٹوک لہجے میں کہتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب چلا گیا
______________________________
فاطمہ کا نازک سا دل اپنے بابا کے زخمی ہونے کی اطلاع سن کر ڈوبا چلا جا رہا تھا آنکھ سے بنا آواز آنسو بہہ رہے تھے وہ چپ چاپ نوشابہ کو دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔۔
” فاطمہ بیٹی حوصلہ رکھو ، تمہارے بابا ٹھیک ہو جائینگے ایسا کرو دو جوڑے رکھ لو ایک دو دن میں تمہارے انکل احسن کو کراچی ہاسپٹل میں شفٹ کروالینگے ۔۔۔ ” ابھی وہ بات کرہی رہی تھی کے محسن نقوی صاحب اندر داخل ہوئے
” ایک گھنٹے میں ہمیں ائیرپورٹ کیلیئے نکلنا ہے آپ سب تیار ہوجائیں ۔۔۔” وہ بولتے بولتے فاطمہ کے پاس آئے اس کے سر پر ہاتھ رکھا
” فاطمہ بیٹی حوصلہ رکھو اللہ سب ٹھیک کریگا “
ایک گھنٹے کے اندر اندر فاطمہ نوشابہ کی ہمراہی میں پورچ میں کھڑی گاڑی کے پاس آئی تو اسامہ کو دیکھ کر چونک گئی ۔۔۔
” اسامہ تم آگے بیٹھو اور نوشابہ فاطمہ جلدی کرو دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔” محسن صاحب کے کہتے ہی سب جلدی جلدی گاڑی میں بیٹھے اور سفر پر روانہ ہو گئے
______________________________
ائیر پورٹ پر پہنچتے ہی گاڑی سے اتر کر اسامہ نے اپنا اسپورٹس بیگ کندھے پر ڈالا سن گلاسز آنکھوں پر لگائے اور اپنا ٹکٹ ہاتھ میں پکڑ کر اندر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
اسامہ کو اندر جاتا دیکھ کر فاطمہ نے سکون کا سانس لیا اور نوشابہ کے ساتھ باہر نکل کر سر پر اپنا دوپٹہ دست کرنے لگی ۔۔۔
” آنٹی آپ نے مجھے اسکارف کیوں نہیں لینے دیا اب دیکھیں دوپٹہ ٹہر نہیں رہا۔۔۔۔” وہ ہوا سے اڑتے دوپٹہ کو بار بار سر پر جما رہی تھی
” بیٹا ابھی تمہارے سر پر لگے ٹانکے کچے ہیں اسکارف لینے سے زخم ہرا ہوسکتا ہے ڈاکٹر نے کہا ہے اسے کھلا رکھیں ۔۔۔” وہ پیار سے اسے سمجھاتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر محسن نقوی صاحب کے ساتھ چلنے لگیں
انہیں پہلے اسلام آباد پہنچنا تھا وہاں سے گاڑی لیکر پنڈی سی ایم ایچ روانہ ہونا تھا وہ تینوں سیکورٹی چیک کے بعد پلین میں پہنچ چکے تھے دو سیٹیں ایک ساتھ تھی اور دو بالکل الگ الگ ۔۔۔
” فاطمہ تم ادھر اپنی آنٹی کے ساتھ بیٹھو ۔۔۔” محسن نقوی صاحب نے فاطمہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔
” نہیں انکل پلیز آپ اور آنٹی ساتھ بیٹھیں ۔۔۔” وہ پرتکلف لہجے میں کہتی ہوئی ائیر ہوسٹس کے ساتھ کافی پیچھے جا کر ملی ونڈو سیٹ پر بیٹھ گئی ویسے بھی اس نے سوچ لیا تھا اب واپس نہیں آنا ہے اور وہ اس فیملی کا مزید کوئی احسان نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔
وہ سیٹ پر ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئی اس کا رواں رواں اپنے بابا کیلیئے دعا کررہا تھا کچھ ہی دیر میں ایک لگ بھگ پچیس چھبیس سال کا مرد اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا وہ کوئی توجہ دئیے بغیر آنکھیں بند کئیے اپنی دعاؤں میں مصروف رہی ۔۔۔۔
اسامہ کانوں میں ائیرفون لگائے اپنی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا وہ صرف اور صرف ضد میں ساتھ جا رہا تھا فاطمہ سے اسے ایک عجیب سی ضد ہو گئی تھی وہ ہر حال میں اسے اپنی ملکیت بنانا کر یہ جتانا چاہتا تھا کہ وہ اسامہ ہے جو چاہے کر سکتا ہے ۔۔۔۔پلین ٹیک آف ہوچکا تھا دو گھنٹے میں وہ لوگ اسلام آباد پہنچنے والے تھے وہ بڑے آرام سے ہیڈفون پر اپنے دوست علی کے بھیجے کلاس لیکچرز سن رہا تھا تبھی اس کی نظر دائیں طرف پڑی اور اسے غصہ آنا شروع ہو گیا ۔۔
ایک لڑکا فاطمہ کے ساتھ بیٹھا بڑی پرشوق نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا فاطمہ آنکھیں بند کئیے بیٹھی تھی گلابی دوپٹے سے سر ڈھکے ہوئے جس میں سے اس کی سیاہ چمکتی زلفیں صاف نظر آ رہی تھی یہ طے کرنا بہت مشکل تھا کہ دوپٹہ زیادہ گلابی تھا یا فاطمہ کا چہرہ ۔۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس لڑکے نے اپنا سیل نکالا اور فاطمہ کی پک لینے لگا ۔۔
اسامہ کو اپنا خون کھولتا ہوا محسوس ہوا یہ اس کی برداشت کی انتہا تھی وہ بیلٹ کھول کر اٹھا بنا سوچے سمجھے تیزی سے فاطمہ کی سیٹ کی جانب گیا اور اس لڑکے کو گریبان سے پکڑ کر اس کے منھ پر ایک زور دار پنچ مار کر اس کا سیل فون چھین لیا ۔۔۔
سب لوگ اس طرف متوجہ ہو گئے ائیر ہوسٹس لپک کر اس طرف بڑھی
” سر پلیز آپ انہیں چھوڑیں ۔۔۔” اس نے اسامہ سے ریکوئسٹ کی
” میں نے کیا کیا ہے ؟؟ میں تو تمہیں جانتا تک نہیں ہوں ۔۔۔” وہ شخص اپنے ہونٹوں سے رستا خون صاف کرتے ہوئے بولا
فاطمہ آنکھوں میں خوف لئیے یہ سب دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” اس کمینے نے ان کی پکس لی ہیں۔ ” وہ اس کا سیل فون اپنے پیروں سے مسلتے ہوئے فاطمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
” ہاں لی ہیں پکس پھر ؟؟ تمہیں کیا پرابلم ہے یہ میری گرل فرینڈ بھی تو ہوسکتی ہے تجھے کیا تکلیف ہے ۔۔۔۔” وہ استہزائیہ انداز میں بولا
” کتے !! ” اسامہ نے ایک زور دار گھونسا مارا
” میری بیوی پر تو نے نظر ڈالی ۔۔۔۔” وہ بپھر اٹھا
“بیوی ۔۔۔۔” سب چونک کر اس سولہ سال کی بچی اور ینگ سے اسامہ کو دیکھنے لگے فاطمہ کا شرمندگی اور خفت سے برا حال تھا
” کیا ہورہا ہے ادھر ؟؟ ” محسن نقوی صاحب کی باوقار آواز گونجی
انہوں نے اپنا سروس کارڈ دکھا کر معاملہ رفع کیا
” اسامہ تم اپنی ممی کے پاس جاؤں میں ادھر فاطمہ کے پاس ہوں ۔۔۔۔ جاؤ بھی اب ۔۔۔۔” وہ غصہ دباتے ہوئے بولے
” سوری ڈیڈ غلطی آپ کی ہے آپ کو اس مصیبت کو اکیلے چھوڑنا ہی نہیں چاہئیے تھا ، آپ اپنی سیٹ پر جائیں میں اس کے ساتھ ہوں ویسے بھی اب یہ مصیبت میری ذمہ داری ہے ۔۔۔” وہ دو ٹوک لہجے میں بولا
” اسامہ ! مجھے اب مزید کوئی شکایت نہیں ملے ۔۔۔” وہ کرخت لہجے میں کہتے ہوئے واپس پلٹ گئے دل ہی دل میں وہ بہت خوش تھے کہ اسامہ جیسا اکھڑ مزاج فاطمہ کے لئیے اتنا پوزیسیو ہو رہا تھا انہوں نے سوچ لیا تھا کہ اب جلد از جلد ان بچوں کا نکاح کروا دینا ہے شاید فاطمہ کی وجہ سے اسامہ سدھر جائے
ڈیڈ کے جاتے ہی اسامہ فاطمہ کی برابر والی سیٹ پر آرام سے ٹانگیں پسار کر بیٹھ گیا اور ائیر فون لگا کر اپنا کالج کا فزکس لیکچر سننے لگا ۔۔۔۔
______________________________
ہاسپٹل کا مخصوص ماحول تھا وہ لوگ ریسیپشن سے پتا کر کے آئی سی یو تک پہنچے احسن کی حالت نازک تھی آپریشن ہو چکا تھا جسم سے گولیاں نکالی جا چکی تھی لیکن خون بہت زیادہ بہہ گیا تھا ابھی کسی کو بھی ملنے کی اجازت نہیں تھی ۔۔
میجر احسن کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا بہت سے لوگ ملنے چلے آرہے تھے باوقار وردی میں ملبوس اور فاطمہ کو تسلی دے رہے تھے اسامہ ان سب کی پرسنیلٹی انداز لوگوں کی نظروں میں ان کیلئے محبت احترام دیکھ رہا تھا نوٹ کر رہا تھا اس وردی سے اسے عجیب سی انسیت محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
دن ڈھل چکا تھا رات کے نو بج رہے تھے میجر احسن کی حالت تشویشناک ناک تھی ۔۔۔
” اسامہ تم اپنی ممی اور فاطمہ کو لیکر ہوٹل جاؤ میں ادھر ہوں آپ سب صبح آجانا ۔۔۔” محسن صاحب ڈاکٹر سے بات کرکے پاس آکر بولے
” انکل مجھے نہیں جانا میں ادھر ہی بابا کے پاس رہونگی ۔” فاطمہ مضبوط لہجے میں بولی
” فاطمہ بیٹی ! ابھی کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے اس طرح کوریڈور میں رکنا مناسب نہیں ہے ۔۔۔۔” وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولے
” ڈیڈ ” اسامہ نے مداخلت کی
” اندر اس کے فادر ہیں یہ ٹھیک کہہ رہی ہے ، آپ اور ممی صبح آجائیگا میں اور فاطمہ ابھی ادھر رک جاتے ہیں اور آپ فکر مت کریں میں اس کا خیال رکھوں گا ۔۔۔”
محسن نقوی صاحب نے ایک نظر فاطمہ کے سرخ روئے ہوئے چہرے کو دیکھ کر دوسری نظر اسامہ کے سنجیدہ چہرے پر ڈالی زندگی میں پہلی بار وہ ذمہ داری کی بات کررہا تھا وہ اثبات میں سر لاتے ہوئے حیرت زدہ کھڑی نوشابہ کا ہاتھ تھام کر چلے گئے ۔۔۔
اسامہ نے ساکت کھڑی فاطمہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے لیکر پاس پڑی بینچ کی طرف آگیا ۔۔
” تم ادھر بیٹھوں میں ابھی آیا ۔۔۔”
وہ فاطمہ کو بٹھا کر کینٹین کی طرف چلا گیا سینڈوچز اور کافی لیکر واپس آ رہا تھا تو نوٹ کیا کہ وارڈ بوائے اور آتے جاتے افراد بڑی دلچسپی سے فاطمہ کو دیکھتے ہوئے گزر رہے تھے وہ تیزی سے قدم اٹھاتے ہوئے اس کے پاس آیا
” تمہارا اسکارف کہا ہے ؟؟ ” وہ غرایا
فاطمہ نے حیرت سے اس سرپھرے کو دیکھا
” ویسے تو ہر وقت ملانی بنی پھرتی ہو اور پبلک پلیس پر ایسے بنا پردے بیٹھی ہوئی ہوں ۔۔۔” وہ تپے تپے لہجے میں بولا
“ایسے ٹکر ٹکر کیا دیکھ رہی ہوں اپنا اسکارف پہنو اور دوپٹہ ڈھنگ سے لپیٹو ۔۔۔”
“وہ میرے پاس اسکارف نہیں ہے سر پر چوٹ کی وجہ سے آنٹی نے لینے نہیں دیا ۔۔۔” وہ جھجک کر بولی کے اس بددماغ لڑکے کا کوئی بھروسہ نہیں تھا کہیں جواب نا پاکر چلانے لگتا
اسامہ نے ہاتھ میں تھامے کافی اور سینڈوچ بینچ پر رکھے اور ہاتھ بڑھا کر فاطمہ کے سر کا زخم چیک کرنے لگا جو ابھی بھی سرخ تھا ٹانکے کچے تھے ۔۔۔
” تم ایسا کرو دوپٹہ نماز کے اسٹائل سے لو اور اپنا ماتھا اور چہرا کوور کرو مجھے اچھا نہیں لگتا جب کوئی تمہیں دیکھتا ہے ۔۔۔” وہ اس کے سامنے کھڑا ہوتے ہوئے بولا
فاطمہ نے حیرت سے اسے دیکھا جسے شاید خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کھڑی ہوئی اور اسامہ کی آڑ میں دوپٹہ سے اچھی طرح سے خود کو کوور کرنے لگی ۔۔۔
رات کے بارہ بج چکے تھے وہ دونوں بینچ پر بیٹھے ہوئے تھے جب ۔۔۔
” فاطمہ !!! ” کاریڈور میں ایک بھاری مردانہ آواز گونجی
فاطمہ نے چونک کر سر اٹھایا سامنے سے ایک پرکشش باوقار بمشکل بائیس تئیس سال کا جوان ائیر فورس یونیفارم میں ملبوس اس طرف آرہا تھا
فاطمہ کے چہرے پر اسے دیکھتے ہی ایک سکون کی لہر دوڑ گئی وہ تیزی سے اٹھی اور بھاگ کر اس کے سینے سے لگ کر رونے لگی
اسامہ نے اس منظر کو غور سے دیکھا اور مٹھیاں بھینچتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا
____________________
گھپ اندھیرا تھا لائٹ تو دور کی بات موم بتی تک نہیں جل رہی تھی پہاڑ کی طرف سے گولہ باری اور فائرنگ کی آوازیں آ رہی تھی وہ دونوں روم شیئر کر رہی تھی اور اندھیرے میں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے قرآنی آیات کا ورد کر رہی تھی بلیک آوٹ تھا فوجیوں نے سر شام ہی پورے بھمبر میں ساری لائٹیں بند کروا دی تھی حالات تھوڑے بہتری کی طرف تھے لیکن مکمل ٹھیک نہیں ہوئے تھے۔۔۔
“ثناء ہم لوگ کب تک اسی طرح ڈرتے رہیں گے ہمیں بھی چاہیے کہ جا کر ان انڈین کو جوتے بھگو بھگو کر ماریں ،میرا بس چلے تو میں بس بارڈر پر چلی جاؤں کسی طرح۔۔۔” ملیحہ نے کہا
“ایک تو تمہیں بھی پتا نہیں کیا کیا سوجھتی رہتی ہے اچھا بھلا یاسین شریف پڑھ رہے تھے محترمہ کو بارڈر پر جانا ہے ملیحہ بی بی آپ آرمی ڈاکٹر بن رہی ہیں اپنی ہی فرائض پورے کر لیجئے یہ بھی ایک طرح سے جہاد ہی ہے۔۔۔ ” ثنا نے ٹوکا
“ثنا کیا تم بچپن سے ہی اتنی بور پیدا ہوئی ہو یا مجھے دیکھ کر تم پہ بوریت کے دورے پڑتے ہیں یار کبھی تو ہنسی مذاق بھی کر لیا کرو دل کی بات بھی کر لیا کرو….” ملیحہ نے ٹاپک چینج کیا
“یا اللہ ! ملیحہ پہلے تم دعائیں مانگ رہی تھی پھر اچانک تمہارے سر پر بارڈر پہ جانے کا جنون چڑھا اور اب میرے پیچھے پڑ گئی ہوں میری پیاری بہن صبح ہم دونوں کی ڈیوٹی ہے کیوں نہ سونے کی کوشش کی جائے۔۔۔۔” ثنا نے کہا
” ثنا ! اچھا چلو چھوڑو ساری بات ، یہ بتاؤں تمہیں فوجی کیسے لگتے ہیں ؟؟ کتنے ہینڈسم پرکشش اور کتنا مضبوط ارادے والے ہوتے ہیں نا جو اپنی جان ہتھیلی پر لئیے ہم سب کی حفاظت کرتے ہیں ۔۔۔۔” ملیحہ جذب سے بولی
ثنا کی آنکھوں میں ماضی کی ایک شبیہہ سی لہرائی وہ گھورتی ہوئی آنکھیں ان میں بھرا جنون وہ ایک جھرجھری لیکر سیدھی ہوئی
” یہ میری کندھے پر بندوق رکھ کر کیوں چلائی جا رہی ہے کہیں تمہیں کوئی پسند نہیں آگیا ؟؟ میں کل ہی انکل آنٹی کو فون کر کے کہتی ہوں کہ لڑکی کا رشتہ طے کردیں کسی فوجی کے ساتھ۔۔۔” ثنا نے اسے چھیڑا
“اوئے لڑکی !! مجھے فوجیوں سے بہت محبت ہے یہ سب میرے بھائی ہیں شادی تو میں کسی وکیل سے کروں گی جو کالا کوٹ پہنے ہاتھوں میں فائل لئیے جب کورٹ میں اترے تو اپنی ذہانت سے ساری دنیا کو ہلا دے ۔۔۔” ملیحہ آنکھیں بند کئے جذب سے بولی
“ملیحہ کی بچی یہ حادثہ کب ہوا اور تو نے مجھے بتایا بھی نہیں ۔۔۔۔” ثنا نے تکیہ اٹھا کر اسے مارا
“کونسا حادثہ؟؟ کیا کہہ رہی ہو تم !” ملیحہ نے اندھیرے میں اسے گھورنا چاہا
” یہی تمہارا اور حمزہ بھائی کا چکر ۔۔۔۔” ثنا شوخی سے بولی
” کون وہ سڑیل بدمزاج حمزہ علی ؟؟ نہیں بھی اب میں اتنی بھی پاگل نہیں ہوں ” ملیحہ چونکی
” کیوں ان میں کیا برائی ہے تمہارے ناولز کے ہیروز کی طرح لمبے گڈلکنگ ہیں اور سب سے بڑھ کر وکیل ہیں ۔۔۔۔” ثنا نے سوال کیا
” مجھے نہیں پتا لیکن چلو مجھے تو وکیل پسند ہیں تم بتاؤ تمہیں کیسا ہسبنڈ چاہئیے ؟؟ تم اتنی پیاری ہو میں مان ہی نہیں سکتی کہ اب تک کسی نے تم سے اظہار محبت نہیں کیا ہو یا تمہیں پسند نہیں کیا ہو ” ملیحہ نے سنجیدگی سے پوچھا..
