Woh Shaks Jese Ke Jaadugar Tha By Ayesha Zulfiqar Readelle50169

Woh Shaks Jese Ke Jaadugar Tha By Ayesha Zulfiqar Readelle50169 Last updated: 23 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Shaks Jese Ke Jaadugar Tha

By Ayesha Zulfiqar

"کئی ماہ پہلے انہیں ایک تیر لگا تھا... سنکھیا سے آلودہ تیر... وہ بھی شائد ارنگ کے سپاہیوں نے ہی چلایا تھا" مرحہ اسے ایک بار پھر سے زندہ کرنے کی سر توڑ کوششیں کر رہی تھی "بالکل ویسا جیسا تمہارے بیٹے کے سینے میں اترا تھا... " اس نے نیرجا کی طرف دیکھا "ہم نے وہ تیر تو نکال دیا تھا, انہیں خدا کے حکم سے ایک نئی زندگی کی امید بھی دے دی تھی لیکن... ساتھ یہ بھی بتا دیا تھا کی سنکھیا کا اثر اب ہمیشہ ان کے خون میں رہے گا" وہ ہر جتن کر رہی تھی, امبر اور نیرجا اس کے بستر کے پاس خاموش کھڑی تھیں "سنکھیا کا کوئی ذائقہ نہیں ہوتا, نہ کوئی بو, نہ کوئی رنگ... یہ کسی بھی چیز میں ڈال کر دیا جا سکتا ہے, لیکن اس کا اثر ہمیشہ خون میں موجود رہتا ہے, اور اگر انسان اسے دوبارہ نگل جاۓ تو خطرہ پہلے سے زیادہ بڑھ جاتا ہے, نہ جانے اس نے انہیں کس شے میں ملا کر دیا ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ اس کی مقدار بہت زیادہ تھی جو لمحوں میں ان کے خون میں سرائیت کر گئی, اب وہ پورے جسم میں پھیل چکا ہے... خون کے ایک یک قطرے میں... علاج وقت پر نہیں ہو سکا اسلئے جسم پر حاوی ہوتا چلا گیا ہے" مرحہ کہتی چلی گئی "یہ بچ جائیں گے ؟" امبر نے پوچھا تھا "یہ بچ گئے تو شائد اس وقت روۓ زمین کا اس سے بڑا معجزہ اور کوئی نہیں ہو گا" مرحہ نے کہا اور اگلے تین چار دنوں میں اس نے ہر حربہ آزما لیا, ہر تریاق بے اثر تھا, ہر دوا بے بس تھی, ہر ٹوٹکہ بیکار تھا, زہر اس کے خون کے ایک ایک قطرے میں رش بس گیا تھا, معاویہ ہمت نہیں کر پا رہا تھا, اس بار اس زہر سے لڑ نہیں پا رہا تھا, آنکھیں نہیں کھول پا رہا تھا, جانبر نہیں ہو پا رہا تھا دن بدن سفید سے سفید تر ہوتا جا رہا تھا, آنکھیں ہمی وقت اوپر کو چڑھی رہتی تھیں, ہونٹ نیلے ہوۓ جا رہے تھے, انگلیاں مڑتی جا رہی تھیں, جلد خشک ہوتی جا رہی تھی آخر اس دن امبر کی بس ہو گئ... وہ پھوٹ پھوٹ کر مرحہ کے آگے رو پڑی "تمہیں اس محبت کا واسطہ مرحہ جو تم اس سے کرتی ہو... اسے بچا لو, کسی بھی طرح اسے بچا لو.... " وہ ہر ضبط کھوتی چلی گئی "تم نے ایک بار ہم سے کہا تھا کہ ہم اس پر ہر اختیار رکھتے ہیں کیونکہ وہ کاغذوں میں ہمارا ہے... خدا کی قسم ہم نے اسے ہر لحاظ سے اپنا مان لیا ہے, ہم اس سے بہت محبت کرنے لگے ہیں" وہ کہتی چلی گئی, مرحہ بس سے دیکھ کر رہ گئی "کسی بھی طرح اسے زندگی کی طرف لے آؤ... ہماری ہر سانس حاضر ہے, ہماری ہر دھڑکن حاضر ہے, ہمارے خون کا ہر قطرہ اسے دے دو... بس اسے بچا لو" مرحہ نے ایک لمبی سانس بھری تھی "اب ہماری بات سنو... " اس نے امبر کے کندھے پر ہاتھ رکھا "ایک آخری طریقہ ہے تو سہی لیکن... کوئی ضمانت نہیں ہے, ہم نے وہ طریقہ علاج کبھی نہیں استعمال نہیں کیا... صرف پڑھا ہے, صرف ایک کوشش ہے, شائد معاویہ بچ جاۓ... شائد لیکن... تمہیں ہمارا ساتھ دینا ہو گا" مرحہ نے کہا "ہمیں بتاؤ کیا کرنا ہے... ہم تیار ہیں " امبر نے کہا "ہم جیسے ہی معاویہ کا علاج شروع کریں گے اسے تمہاری ضرورت پڑے گی, تم اس کی منکوحہ ہو, اپنا نکاح مکمل کرو اور پورے حق سے اس کے ساتھ رہنے کے لئے تیار ہو جاؤ, وہ برف کی ایک سل ہوتا جا رہا ہے امبر... تمہیں اس سل کو پگھلنا ہے... محبت سے, پیار سے, اس بندھن سے جو ایک شوہر اور بیوی کے درمیان ہوتا ہے, اس تعلق سے جو صرف تمہارا اور اس کا ہو گا" مرحہ کہتی چلی گئی, امبر نے دھیرے سے اپنی آنکھیں خشک کی تھیں "کیا کرو گی تم ؟" اس نے پوچھا "وہ ہمارا کام ہے... تم وہ کرو جو تمہارا کام ہے" مرحہ نے کہا "اسے اپنے وجود کی تپش سے زندہ کرنے کی کوشش کرو, اسے اپنی قربت کا لالچ دے کر زندگی کی طرف کھینچ کر لاؤ... اس دوران ہم اس کا علاج شروع کرتے ہیں" مرحہ نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کہا تھا ...................