Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai by Ayesha Zulfiqar NovelR50577 Last updated: 11 March 2026
Rate this Novel
Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai (Episode 01)Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai (Episode 02)Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai (Episode 03)Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai (Episode 04)Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai (Episode 05)Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai (Episode 06)Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai (Episode 07)Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai (Episode 08)Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai (Episode 09)Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai (Episode 10)Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai (Episode 11)Remaining Episode in pdf
Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai by Ayesha Zulfiqar
مروان نے پوری طرح اپنی جسمانی خامیوں پر دنیاوی خوبیوں کا ملمع کرنا شروع کر دیا تھا
اس کا قد کسی بھی شہزادی نما لڑکی کی ڈیمانڈ سے چھوٹا تھا, رنگت بھی سانولی سی تھی, اس کی پیدائش بھی ساتویں مہینے میں ہی ہو گئی تھی سو اکثر ہی اس کے ساتھ عارضے لگے رہتے تھے
صحت بھی بس مارے باندھے ہی تھی, دیکھنے میں وہ لڑکیوں سے بھی زیادہ سمارٹ لگتا تھا, اور ڈیل ڈول ایسا تھا کہ کچھ پہنا ہوا بھی اچھا نہیں لگتا تھا
کالج جوائن کرتے ہی اس نے اکیڈمی سیکینڈ ٹائم کر لی, اس کی ذہانت پر کسی کو کوئی شبہ نہیں تھا, وہ ایم فل گولڈ میڈلسٹ تھا
بچے اس سے پڑھ کر بڑی جلدی مطمئین ہو جاتے تھے, دھیرے دھیرے اس نے اپنی اکیڈمی میں کمپیوٹر کے پرائیویٹ کورسز بھی شروع کروا دیئے , وہ چونکہ کالج لیکچرار تھا اسلیے بھی بچے دھڑا دھڑ اس سے پڑھنے کے لئے آتے تھے
محنت کوئی ایک آدھ دن کا کھیل نہیں ہوتی, لکھنے میں شاید صرف چار الفاظ ہوں کہ مروان مرزا نے اپنے بل پر ایک سائنس اکیڈمی نا صرف کھڑی کر لی بلکہ اسے انتہائی کامیاب بھی بنا دیا لیکن حقیقت میں یہ کئی سالوں کا کھیل ہوتا ہے... انتھک محنت
اس دن بھی اس کی اکیڈمی میں ایک چھوٹا سا فنکشن تھا, اس نے خود روحاء کو کال کر کے انوائیٹ کیا تھا
"آپ میری سب سے سینئر بی ایس سٹوڈنٹ ہیں, آئیں گی تو اچھا لگے گا" وہ بولا
"میں ضرور آ جاؤں گی سر... مجھے تو ویسے بھی فنکشنز اٹینڈ کرنا بہت پسند ہے"وہ بولی, مروان بس مسکرا کر رہ گیا
اور وہ واقعی آ گئی تھی
مروان نے پہلی بار اسے اتنی تیاری کے ساتھ دیکھا تھا
وہ بلا شبہ بے حد حسین تھی, اس کی سیاہ ریشمی زلفیں اس نے آج دیکھی تھیں اور دعا کی تھی کہ ان کی چھاؤں ہمیشہ اسی کا مقدر رہے, اس کی جان لیوا مسکراہٹ سے سو بار مر جانے کی خواہش کی تھی
افسوس کہ اس کے پاس صرف دو ہی آنکھیں تھیں
روحاء... آپ پلیز ذرا میرے آفس آئیں گی ؟؟؟ اس نے کچھ دیر بعد روحاء کو ٹیکسٹ کیا تھا, وہ اپنا دوپٹہ سنبھالتی ہوئی اس کے آفس چلی آئی
"جی سر.... ؟؟؟" وہ کھڑی تھی
"روحاء بیٹھ جائیں... "
"آج کے بعد آپ مجھے مروان کہہ سکتی ہیں... آفٹر آل اب میں آپ کا ماسٹر جی نہیں ہوں" وہ بولا
"سر آپ ہمیشہ میرے ماسٹر جی رہیں گے" وہ ہنستے ہوئے بولی تھی
"روحاء مجھے آپ سے ایک پرسنل سی بات کرنی ہے, میں جانتا ہوں کہ مجھے یہ بات آپ کی بجاۓ آپ کے والدین سے کرنی چاہئے اور میں ان سے بھی لازمی کروں گا, بس مجھے آپ کی مرضی جاننی ہے روحاء... " وہ کہنا شروع ہوا, روحاء ذرا سا ٹھنکی تھی
"میں اگلے مہینے پورے چھبیس سال کا ہو جاؤں گا... میں مانتا ہوں کہ مجھ میں بہت ساری خامیاں ہیں لیکن... ان تمام ظاہری خامیوں سے قطع نظر... " وہ کہتے ہوئے رکا
"میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں" وہ کہہ گیا تھا, روحاء فوراً سے کچھ بول نہیں سکی تھی
"میرے پاس ایک اچھی جاب ہے روحاء, شہرت ہے, دولت بھی ہے... فیملی بیک گراؤنڈ بھی اچھا ہے... اگر آپ کو کوئی اعتراض نا ہو تو میں اپنے گھر والوں کو آپ کی طرف بھیج دوں گا" وہ بولا
"دیکھیں سر.... میں کسی بھی بارے میں اتنی جلدی کوئی راۓ قائم نہیں کر سکتی, میری راۓ, میرے امی ابو کی راۓ کے ساتھ ہی مکمل ہو گی" وہ دھیرے سے بولی تھی
