Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai by Ayesha Zulfiqar NovelR50577 Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai (Episode 05)
Rate this Novel
Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai (Episode 05)
Wo Larki Jo Sab Se Alag Hai by Ayesha Zulfiqar
اس دن پھر مروان کے والدین آۓ تھے, کاشف مرزا اس کے بار بار اصرار پر ایک آخری بار روحاء کے گھر جانے کے لیے مان گئے تھے, ساتھ میں ان کا بڑا بیٹا فرحان اور اس کی بیوی بھی تھے
ساجد مغل ان کی التجاؤں اور منتوں کے آگے بے بس سے ہو گئے, وہ بار بار اپنے بیٹے کی خامیوں کو نظرانداز کرنے کا کہہ رہے تھے, ساجد مغل نے کال کر کے سعد کو بھی بلوا لیا
“جیسے آپ لوگ کہیں گے ہم ویسے کرنے کو تیار ہیں ساجد صاحب… مروان نے اپنا کمرہ بھی سیٹ کروا لیا ہے, روحاء بیٹی جیسے چاہے گی ویسا ہی ہو گا” کاشف مرزا کہتے چلے گئے
ساجد مغل نے ایک بار پھر ان سے وقت مانگا تھا
“ابو… اتنا غرور کبھی کبھار بہت مہنگا بھی پڑ جاتا ہے… اسے قدر ہے تو وہ بار بار اپنے گھر والوں کا بھیج رہا ہے نا… ” سعد نے کہا
“روحاء ہی نہیں مانتی تو میں کیا کروں ؟؟؟” ساجد مغل نے ایک لمبی سانس بھری تھی
روحاء بس خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی
رات کو سعد اس کے کمرے میں آیا تھا
“تمہیں کال نہیں کی اس نے ؟؟؟”
“کی تھی… ” وہ بولی
“کیا کہتا ؟؟؟” وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گیا
“یہ ہی جو اس کے گھر والے کہتے ہیں” وہ بولی
“روحاء… اچھی صورتیں دنیا میں ہزاروں, لاکھوں ہوتی ہیں لیکن اچھی سیرت کروڑوں میں ایک ملتی ہے… وہ بہت اچھا ہے روحاء, پرسنیلٹی کا کیا ہے…؟؟ تو نے کونسا اسے لائم لائیٹ میں لیکر جانا ہے” سعد کہتا چلا گیا
“اپنی دوست سے مشورہ کر لو… ” وہ اسے خاموش دیکھ کر بولا
“وہ بھی اسی کی سائیڈ لیتی ہے” روحاء نے کہا
“اچھی شکل… ایک اچھی زندگی کی ضمانت نہیں ہوتی بیٹے… کیا پتہ وہ عام سی شکل والا تمہیں سچ میں رانی بنا کر رکھے… اور کیا پتہ کہ کوئی خوبصورت شکل والا تمہیں مٹی میں رول دے” وہ اس کے قریب ہوتے ہوئے بولا
“ٹھیک ہے لیکن… میں اپنی شادی پر پنسل ہیل ضرور پہنوں گی… مجھے نہیں پتہ” وہ خفت سے کہتی ہوئی سعد کے گلے سے لگی تھی
…………………………
اسے ایک پرائیوٹ کالج نے آنلائن ای کامرس کے حوالے سے بچوں کو آگاہ کرنے کے لئے لیکچر دینے کے لئے بلایا تھا, وہ ایک, دو بار سعد سے بھی بات کر چکے تھے
اس دن تقریباً دس بجے کے قریب وہ وہاں چلی آئی, وہ کالج ابھی نیا ہی ایسٹیبلش ہوا تھا, لیکچر سے فارغ ہو کر اسے پرنسپل آفس میں ہی بلا لیا گیا
پرنسپل بڑی ینگ سی لڑکی تھی… کافی دیر وہ دونوں آپس میں باتیں کرتی رہیں
دفعتاً آفس کا دروازہ کھلا اور آنیوالے شخص کی آواز سن کر مبرہ کے ہوش اڑے تھے
“آئیں ولید… “
“مجھے لگا تھا تم فری ہو گی ؟؟؟” وہ آگے کو آیا اور ٹھٹھک گیا
“میڈم مبرہ… کیسی ہیں آپ… ؟؟؟” وہ آج بھی ہمیشہ کی طرح ہی تھا… دل کے آر پار ہوتا ہوا
“جی میں ٹھیک ہوں… ” وہ بمشکل بولی تھی
“اقراء… مبرہ اور میں نے کچھ عرصہ ایک پرائیویٹ اکیڈمی میں پڑھایا ہے… مبرہ یہ اقراء واحدی ہیں… میری فیانسی” ولید سائیڈ والی کرسی پر بیٹھ گیا تھا
مبرہ نے جبری سا مسکراتے ہوئے اقراء کی طرف دیکھا
وہ بے مثال تھی… ہر لحاظ سے
اور وہ پوری طرح ولید کے جوڑ کی تھی, اسی کے جیسی خوبصورت, دلکش… اور سحر انگیز
“اوکے میڈم اقراء… میں چلتی ہوں اب” وہ اٹھ کھڑی ہوئی
“تھینک یو مس مبرہ… For your time” اقراء کے کہنے پر وہ مسکراتے ہوئے دروازے کی طرف آ گئی
“تم یہاں کیا کرنے آۓ ہو ؟؟؟” اسے اپنے پیچھے اقراء کی آواز آئی تھی
“سچ بتاؤں… کہ جھوٹ بولوں ؟؟؟” اف ولید کی مسکراتی سی آواز
“بالکل سچ… “
“تمہیں دیکھنے کو دل کر رہا تھا” یہ آخری آواز تھی جو اس نے آفس سے باہر نکلتے ہوئے سنی تھی
آنکھیں پانیوں سے بھر چکی تھیں
………………………….
“Thank you Roha… “
اسے مروان کا بس اتنا سا ٹیکسٹ آیا تھا, ساجد مغل نے اس کے گھر والوں کو ہاں کر دی تھی, سعد منگنی کرنے کے حق میں نہیں تھا, سو تین ماہ بعد اس کی شادی کی تاریخ طے کر دی گئی تھی
دونوں گھروں میں شادی کے ہنگامے جاگ اٹھے تھے
روحاء بھی بڑی خوشی خوشی اپنے کپڑے بنانے لگی تھی
مبرہ کے ایم ایس کا دوسرا سال شروع ہو گیا تھا سو وہ ذرا زیادہ مصروف ہو گئی تھی
تین ماہ کب گزرے پتہ ہی نہیں چلا… اور ہوا یوں کہ روحاء کی شادی اور مبرہ کے تھرڈ سمیسٹر کے پیپرز آگے پیچھے ہی آ گئے, اسے گالیاں دے دے کر روحاء کا کوئی حال نہیں تھا
“میں کیا کروں…. ؟؟؟؟میں نے کونسا جان بوجھ کر پیپرز رکھواۓ ہیں” وہ اس کی شادی سے دو دن پہلے اس کا گفٹ لیکر آئی تھی
“تو پیپر نا دے تو…. ایکسٹرا سمیسٹر لگا لیں” روحاء مہندی لگوا رہی تھی
“فیس تو بھر دینا… ” مبرہ نے کہا
“قسم سے میں بھر دوں گی… میری ساری سلامیاں تیری ہوں گی” روحاء نے ہنستے ہوئے کہا
“ہاں ہاں… تو ایک بار مروان مرزا کی ہو گئی تو میں دیکھوں گی کہ تجھے میں یاد بھی کیسے رہوں گی” مبرہ نے کہا
“دفع… میں بھی تیری شادی میں نہیں آؤں گی” روحاء نے اسے دھپ لگائی تھی, مبرہ بس مسکرا کر رہ گئی
……………………………
وہ اس دن پیپر دے کر نکلی تھی جب اس کا سیل بجا, اس کا ہاسٹل قریب ہی تھا, پیدل چلتے ہوئے اس نے سیل کان سے لگا لیا, تقریباً دو بجے کا وقت تھا
سعد کی کال تھی
“جی سر… ؟؟”
“مبرہ حسیب خان کہاں ہیں آپ ؟؟؟” اس نے پوچھا
“میں لاہور…. “
“لاہور مطلب ؟؟؟
“مطلب میرا سیکینڈ پیپر ہے آج… ” وہ بولی
“کیا… مجھے تو بتایا ہی نہیں ” وہ انتہائی حیران تھا
“آپ شادی میں مصروف تھے… موقع ہی نہیں ملا… ” وہ بولی
“اف مبرہ… آپ نے میرے سارے پلان کا ستیاناس کر دیا” وہ سچ میں بہت دکھی تھا
“کیسا پلان ؟؟؟”
“یار میں نے سوچا تھا کہ چلو روحاء کی شادی کے بہانے میں بھی مبرہ خان کو ذرا رنگوں میں ڈھلا ہوا دیکھ لوں گا, ورنہ تو ہمیشہ اسے گرے اینڈ بلیک شیڈ میں ہی دیکھا ہے, کوئی ہرا پیلا غرارہ ہو گا, ریشمی آنچل ہو گا, لہراتی زلفیں ہوں گی, لبوں پر لالی…. “
“سعد مغل…. ناؤ شٹ اپ… ” مبرہ نے اسے بریک لگوائی تھی
“سچ میں مبرہ… میں نے تو پتہ نہیں کیا کیا سوچ رکھا تھا” وہ بولا
“اف اللہ… کیا کیا سوچ رکھا تھا ؟؟؟” اسے ہنسی آ گئی
“ابھی بھی میرے ہاتھوں میں پھول ہے مبرہ…. اب اس کا کیا کروں ؟؟” وہ کہہ ہی گیا, مبرہ یکلخت خاموش ہوئی تھی
“آپ ایسا کریں…. جو لڑکی سب سے اچھی لگ رہی ہے اسے دے دیں” وہ بولی
“اور کوئی بھی اچھی نا لگے تو ؟؟؟”
“تو مسل کر پھینک دیں” وہ بولی تھی
“ساتھ میرا دل بھی مسلا جاۓ گا مبرہ خان… ” سعد نے کہا, وہ ایک بار پھر بول نہ سکی
“I wanted to say three magical words to you…
وہ کچھ دیر بعد بولا لیکن مبرہ کال کاٹ چکی تھی
…………………………
رات کے نو بج رہے تھے جب وہ کمرے میں داخل ہوا, روحاء کراؤن سے ٹیک لگاۓ اپنے موبائل سے لگی ہوئی تھی, اسے دیکھ کر موبائل ایک طرف رکھ دیا
مروان نے گلے سے پھولوں کا ہار اتارتے ہوئے صوفے پر ڈالا اور خود اس کے سامنے بیٹھ گیا, روحاء نے نظر بھر کر اسے دیکھا
وہ کہتے ہیں نا کہ دل کا موسم بدل جاۓ تو آنکھوں کے نظارے بھی بدل جاتے ہیں
نیوی بلو شیروانی کے ساتھ سفید کاٹن کی شلوار پہنے, ہلکی ہلکی ڈاڑھی, آنکھوں پر چشمہ لگاۓ… وہ شکل و صورت کا اگر شہزادہ نا سہی تو فقیر بھی نہیں تھا
“یہ تمہاری منہ دکھائی ہے روحاء ؟؟؟” وہ دھیرے سے بولا اور ڈبیہ کھول دی
وہ سونے کا نفیس سا بریسلیٹ تھا
روحاء نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے کر دیا, مروان نے فوراً اس کی طرف دیکھا… وہ گلبدن اسی کو دیکھ رہی تھی, مروان نے مسکراتے ہوئے اس کی کلائی میں بریسلیٹ پہنایا اور پھر اس کا حنائی ہاتھ تھام لیا
روحاء کی دھڑکنوں میں ارتعاش ہوا تھا
مروان نے اس کا وہ مرمریں ہاتھ دھیرے سے اپنے لبوں سے لگا لیا, یکے بعد دیگرے وہ اس کی ہر ہر انگلی کو چومتا جا رہا تھا, پھر جب تھک گیا تو اس کا ہاتھ اپنے دل پر رکھ لیا
“میرا تم سے وعدہ ہے روحاء… میں تمہیں ہمیشہ یہاں رکھوں گا” اس نے دھیرے سے روحاء کے ہاتھ کو جھٹکا دیا تھا, وہ چھن چھن کرتی اس کے سینے سے آن لگی, مروان نے اس کی پلکوں پر حیا اترتے دیکھی تھی, بہت محبت سے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتے ہوئے وہ بس اسے اپنے دونوں بازوؤں میں سموتا چلا گیا تھا
………………………..
اسے سعد کا کوچنگ سینٹر جوائن کیے ایک سال ہو چلا تھا, اور اس کے آنے سے سعد کے کوچنگ سینٹر کو بے پناہ فائدہ ہوا تھا, اس نے آنلائن بزنس کے لئے بھی کلاسز شروع کر دی تھیں, ایم ایس کا تیسرا سمیسٹر شروع ہوتے ہی اس نے لیکچر شپ کے لئے بھی ٹیسٹ دے دیا, سعد نے بھی دوسری بار قسمت آزمائی تھی
وہ بھی ایسی ہی ایک شام تھی… وہ اپنی ساری کلاسز لیکر فارغ ہو گئی تھی, مین گیٹ کی طرف جاتے ہوئے اچانک ہی وہ ٹھٹھک گئی
وہ ولید احمد ہی تھا… وہ اور سعد نہ جانے کیا باتیں کر رہے تھے… وہ وہیں رک گئی
دل اسے سامنے دیکھ کر بہک اٹھا تھا, مہینوں کی پیاسی نظریں بس اسے تکنا شروع ہو گئی تھیں, کچھ دیر بعد سعد اسے ساتھ لئے اپنے آفس میں چلا گیا
وہ گھر تو آ گئی لیکن اسے رات گزارنی دوبھر ہو رہی تھی, نقچار اس نے سعد کا نمبر ملا لیا
“جی مس مبرہ خان… ؟؟” سعد کی وہی ہشاش بشاش سی آواز
“ولید احمد کس سلسلے میں آۓ تھے آج… ؟؟؟” اس نے پوچھ ہی لیا
“آپ کے سلسلے میں نہیں آۓ تھے” سعد کے کہتے ہی وہ ششدر رہ گئی, اس سے اسقدر کورے جواب کی امید نہیں تھی اسے, کافی دیر تک وہ بول نہ سکی, آنکھیں تضحیک کے مارے پانیوں سے بھر گئیں تھیں
“ہیلو… مبرہ, کہاں گئیں؟؟” اس نے سعد کی ایک بھی سنے بغیر کال کاٹ دی تھی
رات نیند بھی ٹھیک سے نہیں آئی
اگلے دن بھی اس نے سعد کو جہاں دیکھا, وہیں ان دیکھا کر دیا, کئی بار سعد نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود… اس کی خفت اب غصے میں بدل گئی تھی
وہ اس کی کوئی بھی بات سنے بغیر گھر واپس آ گئی, بڑی ہی مشکلوں سے اگلے دن سعد نے اسے اپنے آفس بلایا تھا
“مبرہ ایم سوری, رئیلی ویری سوری, مجھے نہیں اندازہ تھا کہ آپ کو میری بات اچھی نہیں لگے گی” وہ کہتا چلا گیا
“دراصل سعد غلطی میری ہی ہے… میں نے آپ کو اپنا شریک راز بنا لیا, میری غلطی کہ میں نے آپ کو اپنا حال دل بتا دیا… اور اب آپ کی مرضی کہ آپ جیسے چاہے مجھے ذلیل کریں” کہتے ساتھ ہی اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں
“میں آپ کو ذلیل نہیں کرتا مبرہ… خدا کی قسم میرے دل میں آپ کا وہی مقام ہے جو آپ کے دل میں ولید احمد کا ہے” وہ کہہ ہی گیا, مبرہ ذرا سی ٹھٹھکی تھی
“حالانکہ مجھے کوئی حق نہیں ہے آپ کی محبت پر انگلی اٹھانے کا لیکن پھر بھی… میں یہ ضرور کہوں گا کہ وہ آپ کے قابل نہیں ہے مبرہ… وہ بس ایک خوشنما سراب ہے اور بس… آپ اس کی چوائس کبھی بھی نہیں ہوں گی” وہ کہتا چلا گیا, مبرہ بس چپ چاپ دروازے کی طرف پلٹ گئی تھی
“اس کی منگنی ٹوٹ گئی ہے… ” سعد کی آواز نے اس کے قدموں کو روک دیا تھا
………………………..
اسے چار دنوں میں ہی مروان کے گھر والوں کی فطرت کا اندازہ ہو گیا, اس کے امی اور ابو دونوں اچھے تھے, فرحت کا رویہ اس کے ساتھ مخلصانہ ہی تھا لیکن جو اصل مصیبت تھی وہ باقیوں کی تھی
فرحان مرزا اور نعمان مرزا فوج میں بھرتے تھے, ان کا رینک کوئی خاص زیادہ نہیں تھا سو وہ اپنے بیوی بچے ساتھ لیکر نہیں جاتے تھے , ان کی فیملیز سسرال میں ہی رہتی تھیں
فرحان کی بیوی اور تین بچے…. آفت کے پرکالہ تین بچے… جن میں سے دو سکول جاتے تھے, اور نعمان کی بیوی اور دو بچے… ان دونوں سے چھوٹی رابعہ تھی جو اس دنیا میں جلاد کا دوسرا روپ تھی
اس کی منگنی نعمان کی منگنی کے ساتھ ہوئی تھی اور بیچاری کا منگیتر تب کا باہر گیا ابھی تک نہیں لوٹا تھا, نعمان کے بعد مروان کی بھی شادی ہو گئی اور وہ بیچاری کنواری کی کنواری… اس کا سارا ڈپریشن ان پانچ بچوں پر اترتا تھا
فرحان کی فیملی چونکہ بڑی تھی سو ان کے دو کمرے نیچے تھے, کاشف مرزا اور فرحت کا کمرہ بھی نیچے ہی تھا, ایک عدد مشترکہ کچن, لانڈری, برآمدہ, ڈرائینگ روم…. سب کچھ نیچے تھا
نعمان کی فیملی اور رابعہ کا کمرہ اوپر تھا, مروان اور روحاء کو بھی اوہر ہی کمرہ ملا تھا, اوپر کچن نہیں تھا
اور سب سے اوپر سٹور تھا
چار دن بعد ہی روحاء کی بس ہو گئی, اسے بھلا کہاں اسقدر شور شرابے کی عادت تھی, وہ گنتی کے چار افراد تھے گھر کے… ساجد مغل شاپ پر چلے جاتے تھے, سعد جاب پر… پیچھے رہ گئیں وہ اور کوکب… اور یہاں… ؟؟؟ ہر وقت کی دھما چوکڑی, تین ٹائم کھانے کے وقت قیامت آئی رہتی, کچن تو کسی وقت خالی ہوتا ہی نہیں تھا
“مروان… میرا قصور کیا ہے یہ بتا دیں بس ” وہ اس رات پھٹ ہی تو پڑی
“کیا ہوا اب ؟؟؟” مروان صبح کا گیا اب گھر واپس آیا تھا
“خود تو آپ صبح نو بجے نکل جاتے ہیں اور رات گئے گھر آتے ہیں… اور میں پیچھے سے اس مچھلی بازار میں پاگل ہونے والی ہو جاتی ہوں” وہ بولی
“میں چھبیس سالوں سے اس مچھلی بازار میں رہ رہا ہوں… میں تو ابھی تک پاگل نہیں ہوا” وہ مسکراتے ہوئے بولا اور اس کا ٹھنڈا سا خوشبو جیسا وجود اپنی آغوش میں بھر لیا
“لیکن میں ہو جاؤں گی کیونکہ میں نے بائیس سال جہاں گزارے ہیں وہ جگہ کسی جنت کی طرح تھی” وہ روہانسی ہو گئی
“نا بندہ فجر کے بعد سو سکتا ہے… نا دوپہر میں ریسٹ کر سکتا ہے, ہر دم بچوں کا شور شرابہ, رونا دھونا… اور خدا کی پناہ جب رابعہ ان پر برستی ہے تو سمجھو ملک الموت ہی آ گیا ہو… ” مروان کو اس کے انداز پر ہنسی آ گئی
“آپ ہنس رہے ہیں.. میری جان عذاب ہوئی پڑی ہے” وہ تنک کر اس سے دور ہو گئی
“روحاء یار اب وہ سب جیتے جاگتے انسان ہیں… بالکل ہی تو گونگے بہرے نہیں بن سکتے نا… پانچ بچوں کے ہونے کا پتہ تو چلے گا نا.. ” مروان نے دوبارہ اس کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے اس نے ایک جھٹکے میں جھٹک دیا
“سب سے پہلے مجھے یہ بتائیں کہ کالج سے کتنے بجے فری ہوتے ہیں ؟؟؟” توپ کا رخ بالکل ہی اس کی طرف ہو گیا تھا
مروان نے فدا ہوتی نظروں سے اسے دیکھا, بنا دوپٹے کے, بالوں کی اونچی سی پونی باندھے, گلابی رنگ کے فٹنگ والے سوٹ میں وہ ایک ہاتھ کمر پر ٹکاۓ اس سے پوچھ رہی تھی
“تقریباً ساڑھے بارہ… ” مروان نے دھیرے سے اس کے ماتھے پر آئی لٹوں کو چھیڑنا چاہا لیکن وہ غصے میں بھنا کر پیچھے کو ہو گئی
“اور اکیڈمی کتنے بجے سٹارٹ ہوتی ہے ؟؟” دوسرا سوال
“تین بجے… ” اس نے مسکراتے ہوئے شرٹ کے بٹن کھولے اور کاٹن کی کلف لگی قمیض اتار دی, اپنے جسم کے حساب کتاب کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ زیادہ تر شلوار قمیض ہی پہنتا تھا
“تو بیچ کے ڈھائی گھنٹے کہاں ہوتے ہیں آپ ؟؟؟” اس نے پوچھا
“سو کام نکل آتے ہیں روحاء… ” وہ ایک بار پھر اس کے قریب ہوا تھا, بہت محبت سے اس کا چہرہ اپنی ہتھیلیوں میں بھرا تھا لیکن روحاء مغل کو فی الحال شدید غصہ آیا ہوا تھا جو وہ صرف اور صرف اپنے شوہر پر ہی اتار سکتی تھی, وہ ایک بار پھر اس کے ہاتھ جھٹک گئی
“میری ایک بات کان کھول کر سن لیں مروان… مجھے آپ ایک بجے گھر نظر آیا کریں, اور دو گھنٹے بعد گھر سے اکیڈمی جایا کریں, شام کو سات بجے گھر واپس آیا کریں” وہ بولی
“منظور… اور کوئی حکم ؟؟؟” وہ بولا
“اور ذرا اپنی بھابھیوں کو اپنی زبان میں سمجھا لیں کہ اپنے بچوں کو میرے کمرے تک کم سے کم آنے دیا کریں… میں اب کہاں تک روکوں ؟؟؟” وہ بولی
“اوکے… اور… ؟؟؟” مروان مسکراتے ہوئے اس کے قریب آیا تھا, روحاء اس کی نظروں کی تپش سے گھبراتی ہوئی پیچھے کو ہوتی گئی
“اور…. مجھے کل شاپنگ پر لیکر چلیں, سارے فینسی کپڑے ہیں, عام پہننے کا کوئی بھی نہیں ہے” مروان کو اس کے لبوں کی لرزش نظر آ گئی تھی, اس کے گالوں کی سرخیاں بھی پوشیدہ نہیں رہی تھیں
“جو حکم جناب کا…. اور… ” وہ بڑھتا جا رہا تھا
“اور… پیچھے ہٹیں, دور ہو جائیں مجھ سے” وہ لڑکھڑا سی گئی
“تمہاری یہ فرمائش تو میں مر کر بھی پوری نا کروں” مروان نے اسے اپنے حصار میں لے لیا تھا اور بہت محبت سے اس کی خوبصورت آنکھوں کو گیلا کرتا چلا گیا تھا
………………………..
وہ سونے کے لئے لیٹی تو ہاتھ بڑھا کر سیل چارجنگ سے اتار لیا, سعد کی پندرہ مسڈ کالز آئی ہوئی تھیں, وہ ساکت سکرین دیکھتی رہ گئی, کال پھر آنا شروع ہو گئی, وہ ہنوز سکرین دیکھتی رہی, پھر ایک ٹیکسٹ آیا تھا
“اب کال اٹینڈ نہیں کی تو میں آپ کے گھر آ جاؤں گا”
چند سیکینڈ بعد پھر سے کال آنے لگی, اس بار اس نے ریسیو کر ہی لی
“میں کتنی بار سوری کہوں مبرہ…؟؟؟” وہ چھٹتے ہی بولا
“ایک بار بھی نہیں…. “
“مبرہ میری بات سنیں… میں بالکل سچ کہوں گا چاہے آپ کو برا ہی کیوں نا لگے, مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا جب آپ اس کے بارے میں کوئی بھی بات کرتی ہیں… میں اسے اس قابل بھی نہیں سمجھتا کہ مبرہ خان اس کے بارے میں بات بھی کرے” وہ بولا
“لیکن مبرہ خان نے اسے اپنا دل دیا ہے سعد مغل… میری ہر بات اسے شروع ہو کر اس پر ختم ہو جاتی ہے” وہ بولی
“میرا خیال ہے وہ آپ کو انکار کر چکا ہے” سعد نے کہا
“میری لئے اس کا انکار کوئی معنی نہیں رکھتا… وہ ایک بار پھر سنگل ہے اور… میری پاس ایک بار پھر موقع ہے” وہ بولی
“مبرہ… بے قدرے لوگوں میں بے مول ہو جائیں گی آپ ” وہ بولا تھا, مبرہ خاموش رہی
“مبرہ… میں کل امی ابو کو بھیج دوں ؟؟؟” وہ پوچھ رہا تھا, مبرہ خاموشی سے کال کاٹ گئی
کچھ دیر بعد اس نے ولید کا نمبر ڈائل کیا تھا
“کیا حال ہے میڈم ؟؟؟” وہ پہچان گیا تھا
“جی میں ٹھیک ہوں… آپ کیسے ہیں سر ؟؟؟” اس نے پوچھا
“شکر الحمد للہ ” وہ بولا
“ہو گئی شادی آپ کی ؟؟؟” اس نے کچھ دیر بعد پوچھا
“مجھے لگتا ہے آپ نے کوئی تعویذ کروا دیا ہے مجھ پر… دوسری منگنی بھی ٹوٹ گئی ہے”وہ ہنستے ہوئے بولا تھا, مبرہ بس اسے سنتی رہ گئی
“ولید…. ؟؟؟”
“جی… ؟؟”
“آپ مجھے تھوڑا سا وقت دے دیں پلیز…. ” وہ بولی تھی, ولید بس ہنستا چلا گیا تھا
“میڈم مبرہ… مجھے آپ کو بار بار انکار کرنا اچھا نہیں لگتا… ” کچھ دیر بعد اس نے کال کاٹ دی, مبرہ کا دل مسوس گیا تھا
“مبرہ… ہاں یا ناں…. ؟؟؟” سعد کا ٹیکسٹ آیا ہوا تھا, وہ بس دیکھتی رہ گئی
تبھی اسے ایک اور ٹیکسٹ آیا
اس کا ٹیسٹ پاس ہو گیا تھا
خوشی سے دمکتے ہوۓ چہرے کے ساتھ اس نے سعد کے میسیجز ڈیلیٹ کئے تھے اور اسے بس ایک میسیج کیا تھا
“No… “
