Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

وحشتِ عشق
از واحبہ فاطمہ

Episode 26

شاہ زر بھسم کر دینے والے انداز میں ہوسپیٹل میں داخل ہوا تھا..
انٹری کاؤنٹر پر گیا…

Yes Sir how may I help you?
نرس نے پوچھا..

حبہ شاہ زر سلطان پیشنٹ کا نیم ہے میں ان کا ہزبینڈ ہوں..
Where’s she?مجھے ملنا ہے

سر سیکنڈ فلور پہ روم نمبر 25…..
شاہ زر اوپر جانے لگا پھر دھواں دھواں چہرہ لئے مڑا..
میری مسز کا آبارشن ہوچکا ہے کیا…؟

یس سر… ان کے ساتھ جو ان کی فرینڈ تھیں پتہ نہیں کیوں پر بہت جلدی مچائی انھوں نے. .
شاہ زر کادل کیا پوری دنیا کو آگ لگا دے..

دل کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دئیے تھے اس بے وفا نے.. بڑی مشکل سے سیکنڈ فلور پر پہنچا تھا..
جلدی سے کوریڈور میں داخل ہوا..
مگر سامنے کا منظر انتہائی غیر متوقع اور ناقابلِ یقین تھا

شاہ زر کا دماغ جھنجھنا اٹھا..
حبہ روم نمبر 25 کے باہر بینچ پر سر جھکائے بیٹھی سر پر ہاتھ رکھے رو رہی تھی..

شاہ زر کا دماغ جھنجھنایا.

جانی پہچانی آہٹ پا کر حبہ نے سر اوپر اٹھایا..خوف سے چہرہ لٹھے کی طرح سفید ہوا تھا.. جی جان سے لرزتی کانپتی کھڑی ہوئی تھی کیونکہ شاہ زر کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا.
اور اگر اسے حقیقت پتا چل جاتی تو وہ کیا کر بیٹھتا.

کیا کر رہی ہو یہاں تم حبہ شاہ زر سلطان…وہ دھاڑا.. اور اگر تم یہاں ہو تو وہ کونسی مسز شاہ زر سلطان ہے جو اندر ہے..

وہ دیکھنے اندر کی جانب بڑھا.. مگر اس سے پہلے ہی حبہ ہراساں سی ہو کر اس کے سامنے آئی اور اسے گریبان سے پکڑا..
شاہ زر… خدا کے لیے آپ اندر مت جائیں… پلیز آپ کو خدا کا واسطہ.. وہ اس کے سینے پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی..

شاہ زر نے بازو سے دبوچ کر اسے پیچھے ہٹایا.. دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوتے ہوئے اسے بھی ساتھ ہی گھسیٹا..

مگر اندر جو وجود نیم مردہ نیم جان سا بیڈ پر تھا.. اسے دیکھ کر شاہ زر کے سر پر ہوسپیٹل کی دیواریں گری تھیں…..

ایک قیامت تھی جو اس پر گزری تھی..
تانی…… لب کپکائے…
سامنے پڑی آکا آپی کی بیٹی نے بھی زرا سا سر گھما کر سامنے شاہ زر کو دیکھا.

آنسو روانی سے گالوں پر لڑھکے..
کیونکہ شاہ زر کے بلکل پیچھے کھڑی اپنی ماں کو دیکھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی..

اور نمرہ کی تو دنیا اندھیر ہوئی تھی اپنی سترہ سالہ غیر شادی شدہ بیٹی کو وہاں دیکھ کر….

حبہ کے آکا آپی کو دیکھ کر اوسان خطا ہوئے تھے..
پھر اتنے دنوں کی بے چینی.، بے قرای بے خوابی اور ٹینشن نے اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا لایا تھا.
وہ تیورا کر شاہ زر کے بازوؤں میں جھول گئی تھی.

حبہ… شاہ زر نے تڑپ کر اسے پکارا..
فوراً کمرے میں تانی کے چیک اپ کے لئے آتی نرس کو ڈاکٹر کو بلانے کا بولا.

ڈاکٹر آئی… اور حبہ کو ساتھ والے روم میں لانے کا اشارہ کیا. شاہ زر اسے اٹھائے ساتھ والے روم میں آیا.. بیڈ پر لٹایا
اور نم آنکھیں لئے باہر نکل گیا.
آخر یہ ہو کیا رہا تھا ان کے ساتھ..

جلدی سے تانی کے روم میں آیا.
مگر دروازے کے پیچھے رک گیا وہ چاہتا تھا کہ تانی اپنی ماں کو کھل کر ساری بات بتائے.
ابھی چار دن پہلے ہی تو وہ آئی تھی ان کے پاس.

اسے اب یاد آیا کہ حبہ تقریباً جب سے تانی آئی تھی تب سے ہی پریشان تھی.

نمرہ اس کے سرہانے بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی..

میری بچی. مجھے بتاؤ تمھارے ساتھ کیا ہوا کیونکہ مجھے اپنی بیٹی اور اپنی تربیت پر پورا بھروسہ ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے میری بیٹی کوئی غلط کام نہیں کرے گی..

مما وہ …. اور پھر تانی اپنے اوپر گزرنے والی وہ ظلم کی داستان سنانے لگی جو اس کے باپ کے ہوتے ہوئے اس پر گزر چکی تھی.

نمرہ اور ان کے شوہر فواد میں کافی عرصے سے ناراضگی چل رہی تھی اور دونوں الگ تھے اور ستم تو یہ کہ انھوں نے دوسری شادی ایک جرمن لڑکی سے کر لی تھی..
تانی کو کچھ عرصے کے لئے اپنے پاس لے کر گئے تھے
بڑی منت سماجت کے بعد.

اور اپنی بیٹی کی حفاظت بھی نہیں کر پائے.. اس جرمن بیوی کے درندے بھائی نے موقع دیکھ کر ظلم کا نشانہ بنایا تانی کو..
ااور پھر وہ ادھر اپنی ماں کے پاس آئی اپنا سب کچھ لٹا کر.

مما جس دن میں آئی.. میں خود کشی کرنے والی تھی.. کچن میں….. میں اپنا گلا کاٹنے والی تھی کہ حبہ مامی نے دیکھ لیا… اور مجھے ایسا کرنے سے روک لیا.. وہ بہت روئیں اور اگلے دن میرا میڈیکل کروایا..

مگر جب انھیں یہ پتہ چلا تو وہ بھی ہل گئیں تھیں اندر سے.. لیکن میری لائف سپوئیل نہیں ہونے دینا چاہتی تھیں.
اسی لیے انھوں نے یہ کیا.
مما میں جینا نہیں چاہتی… مر جانا چاہتی تھی.
مگر میرا کلاس فیلو وکی آیا مامی کے پاس.. جسے میں ادھر فون پہ سب کچھ بتا چکی تھی.
اس نے حبہ مامی سے کہا کہ وہ کچھ بھی ہو جائے مگر مجھ سے شادی کرے گا..

حبہ مامی نے اس سے کوئی بات نہیں چھپائی.. اس نے کہا کہ وہ مجھے ہر حال میں قبول کر لے گا… اسی لئے حبہ مامی کی سپورٹ کی وجہ سے آج میں زندہ ہوں نہیں تو میں نے تو جینے کی امید ہی چھوڑ دی تھی… مما..

تانی نے ہچکیوں کے درمیان خود پر بیتی سنائی.
میری بچی… نمرہ تڑپ ہی تو گئی تھی…
اور پھر فون کر کے فواد کو فوراً ہوسپیٹل آنے کا بولا
تہیہ کیا تھا کہ وہ اس درندے کو اب جیل پہنچا کر ہی دم لیں گی .
اور فواد کا بھی گریبان پکڑیں گی جو اپنی بیٹی کی حفاظت بھی نہ کر پائے ؛

حبہ کی کوششوں نے ایک معصوم زندگی موت کی نظر ہونے سے بچا لی تھی.

شاہ زر سلطان جو کچھ ہی لمحوں پہلے اس بے وفا سے بے وفائی کا حساب لینے اور اسے مارنے آیا تھا… اب نم آنکھیں لئے کھڑا اسی پر فخر محسوس کر رہا تھا.

مسٹر شاہ زر سلطان…. ڈاکٹر نے پکارا.. دوسرے روم میں آئیں.. وہ خاموشی سے ڈاکٹر کے ساتھ حبہ والے روم میں آیا….

اس کے قریب گیا…حبہ نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں.

مسٹر شاہ زر یہ پریگننٹ ہیں.. پر بہت ویک ہیں..آپ ان کے گھر والوں اور ہزبینڈ کو بول دینا کے ان کی بہت زیادہ کئیر کریں… میں میڈیسنز اور ڈائٹ چارٹ بنا کر دے دوں گی..
میں ابھی آتی ہوں.
یہ کہہ کر وہ باہر جا چکی تھیں..

حبہ کا چہرہ گلابی ہوا..اور آنکھوں پر بازو رکھ لیا.. شاہ زر اس کے سرہانے بیٹھا.اور نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں..

اور اگر میری شیرنی کو یہ پتہ چل جائے کہ میں پسٹل لے کر اسے مارنے آیا تو…… لاحول ولا قوۃ… میرا منہ توڑ دے..

حبہ….میری جان کیوں کیا ایسے؟ مجھ سے شئر تو کیا ہوتا.. کیوں اکیلے اپنی جان پر سہا یہ سب؟

آپ ناراض ہیں مجھ سے؟ بازو ہٹا کر پوچھا.

کوئی اپنی زندگی سے بھی بھلا ناراض ہو سکتا ہے…. لیکن میں ڈر گیا تھا.. تمھیں لے کر… کہ تمھیں کچھ ہو نہ جائے.. اور ہمارے بےبی کو لے کر…

آپ کو کیسے پتہ چلا اس سب کے بارے میں…؟بےبی کے نام پر حبہ شرم سے دوہری ہوئی..

وہ چھوڑو جان اور بات مت گھماؤ… ہمارے بےبی کے بارے میں مجھے کیوں نہیں بتایا…؟

شاہ زر مجھے بھی ابھی پتہ چلا ناں…. وہ روہانسی ہوئی. اور اس کے سینے میں لال ٹماٹر منہ چھپایا.

I’m proud of you my love…. My life
تم نے جو کچھ بھی کیا بہت اچھا کیا….
شاہ زر نے جھک کر اس کے سر پر عقیدت سے بوسہ لیا…

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

وہ سب گھر واپس آئے تھے.
نمرہ نے فواد صاحب کو حقیقت بتا کر خوب زلیل کیا تھا.
وہ بہت شرمندہ ہوئے.
فوراً کاروائی کی گئی
وہ درندہ بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا.

علیحدگی نہیں ہوئی تھی نمرہ اور فواد کی…اس حادثے نے ان دونوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا.
اور تمام گلے شکوے دھو ڈالے تھے…

وکی آ کر ان سے ملا تھا
. اچھے گھرانے کا سلجھا ہوا لڑکا تھا مگر گھر میں ایک دادی کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں تھا.
نمرہ نے ان دونوں کا نکاح کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور رخصتی تعلیم مکمل ہونے کے بعد.

حادثے کہیں بھی کسی کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں.. مگر حبہ اور وکی جیسے لوگ آس پاس ہوں تو زندگی کی نئی اور خوبصورت شروعات ممکن بن جاتی ہے.

نمرہ کو اپنے انتخاب حبہ پر فخر محسوس ہوا.. اور پھر اس کی جانب سے بھی خوشی کی خبر نے پورا گھر خوشیوں سے بھر دیا…….
کیونکہ سب کچھ ٹھیک ہو گیا تھا.. تانی آہستہ آہستہ زندگی کی جانب لوٹ رہی تھی…

حبہ آنکھیں موندے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی.. جب شاہ زر دودھ کا گلاس اور میڈیسنز لئے اندر داخل ہوا..

دودھ کا گلاس دیکھ کر حبہ نے برا سا منہ بنایا.. شاہ زر نے دانتوں تلے لب دبایا.
سوئیٹ ہارٹ… جلدی سے یہ فنش کرو…ااب میں برگر کے بیچ میں تو میڈیسن رکھ کر دینے سے رہا تمھیں…

شاہ زر نے چھیڑا… وہ تلملائی..
شاہ زر مجھے نہیں پینا.. پہلے ہی ابکائیاں لے لے کر نڈھال ہو چکی تھی اور پھر دودھ اور اوپر سے میڈیسن..
مگر شاہ زر نے زور زبردستی سے اسے میڈیسن دے ہی دی…
وہ کڑوے کڑوے منہ بنا رہی تھی جب شاہ زر کو بہت ہنسی آئی..

وہ پھر بھنا اٹھی…
میں اتنی تکلیف میں ہوں اور آپ کو ہنسی سوجھ رہی ہے.
مسٹر شاہ زر سلطان آج تو میں یہ ڈمپل بلکل نہیں چھوڑوں گی..

اس نے بول کر ایک مرتبہ پھر اس کی شرٹ کالر سے دبوچی اور ڈمپل کو دانتوں سے کاٹا.
شاہ زر نے آنکھیں بند کیں.. تو میں کونسا کہہ رہا ہوں میری جان…. بیشک بلکل بھی نا چھوڑو مجھے..

یہ کہہ کر اس نے حبہ کا دوپٹہ سائیڈ پر رکھا تھا اور اور اس کی کمر کے گرد بازو لپٹا کر مضبوطی سے اپنی گرفت میں لیا..
حبہ بوکھلائی..

شاہ………. اور آگے بولنے سے پہلے ہی وہ اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لے کر اس کی بولتی بند کر چکا تھا…
نرمی سے اسے لے کر بیڈ پر گرا تھا..
اس کے ارادے بھانپ کر حبہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی..
مگر اب اس شیرنی کا اپنے شیر کی دہکتی سلگتی گرفت میں سے نکل پانا نا ممکن تھا.
اسی لئے چپ چاپ اس کی شدتیں اور پور پور برستی محبتیں برداشت کرنے لگی..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

پری کی آنکھ کھلی تھی.. آدھی رات کا وقت تھا.. بیڈ ٹٹولا تو دوسرا حصہ سونا تھا.
وہ گھبرا کر اٹھی..

شاہ…… شاہ… جھلا کر آوازیں دیں.
ویر جو کہ سٹڈی میں لیپ ٹاپ پر ضروری فائلز چیک کر رہا تھا پری کی گھبرائی آواز سن کر تیزی سے روم کی طرف بھاگا..

واٹ ہیپنڈ… پری میری جان.. پین ہو رہا ہے.. ہوسپیٹل چلیں کیا؟وہ اس کے قریب آ کر بیٹھا.. اور ہاتھوں کے پیالے میں اس کا چہرہ بھرا

نہیں شاہ…. ابھی تو دو ماہ باقی ہیں…مجھے آپ کے بغیر ڈر لگتا ہے.. اور آپ یہی کرتے ہیں میرے ساتھ.. مجھے اکیلا چھوڑ کر سٹڈی میں چلے جاتے ہیں.. میں سمیع لالہ کو بول کر اس سٹڈی کو ہی آگ لگوا دوں گی.. وہ برا سا منہ بنا کر بولی.

ویر کا ڈمپل گہرا ہوا.. پری مبہوت سی ڈمپل کو دیکھے گئی اور پھر شہادت کی انگلی اس خوبصورت گڑھے پر رکھ کر اسے چھوا اور محسوس کیا..
ویر زور سے ہنسا…. وہ پھر جھلائی

جی بلکل… جانتی ہوں آپ اس ڈمپل کی نمائش ہی اس لئے کرتے ہیں کہ میرا غصہ کم ہو جائے اور آپ کی جان چھوٹ جائے… پر آج میں آپ کو سزا دوں گی.. کیونکہ میں نے کل بھی وارن کیا تھا کہ ایسے مجھے چھوڑ کر مت جایا کریں میں ڈر جاتی ہوں..

میری جان چھوڑ کر جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا… میں تو اس لئے سٹڈی میں جاتا ہوں کہ تم ڈسٹرب نا ہو.. اور مجھے ایک بات تو بتاؤ؟ میری جان کو نیند میں بھی کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ میں بیڈ پر نہیں ہوں.. کیا میری قربت میری جان کو نیند میں بھی محسوس ہوتی ہے اور نیند میں بھی بہت ضروری ہے .؟

وہ شرارت سے بولا تو پری بوکھلائی.

اور ایک اور بات اس گھر میں سزا دینے کا اختیار تو بس میرا ہے اس لئے خود کو بھی میں ہی سزا دوں گا.. اور میری سزا یہ ہے کہ سٹڈی میں جانے کے بدلے میں اپنی جان کو ڈھیر سارا پیار کروں…

یہ کہہ کر ویر نے اس کا بھرا بھرا وجود بانہوں میں بھرا تھا..اور اس کے چہرے کے ایک ایک نقش پر محبت کی مہر ثبت کرنے لگا..
وہ کسمسائی
شاہ… آپ چیٹنگ کر رہے ہیں.. یہ سزا تو نا ہوئی.. وہ ویر کی چالاکی پر جھنجھلائی.

یس… میری جان یہ میرے لئے جزا ہے.. اب شرافت کا مظاہرہ کرو. اور چپ چاپ بیٹھی رہو.. خود بلایا ہے مجھے اپنے قریب… وہ اس کی گردن میں منہ دئیے بولا..

کہ جاؤں واپس سٹڈی میں؟ ویر نے چھیڑا..
اونہہ جائیں تو سہی… میں………….. پری نے دانت تلے لب دبایا.

تو کیا……… کیا میں؟

میں یہ ڈمپل کھا جاؤں گی… پری اطمینان سے بولی
ویر نے قہقہہ لگایا..

کھا جاؤ… نہیں ایسا کرو پورا کا پورا کھا جاؤ مجھے. وہ شرارت سے اور قریب ہوا… اور اس کے لبوں پر جھکا..

چند لمحوں میں ہی پری کے اوسان خطا ہو چکے تھے.
ویر نے نرمی سے اسے چھوڑا.. اور پھر شرارت سے جھکنے لگا…
شاہ پلیز….. پری نے جھلا کر اسی کے سینے میں منہ چھپا لیا..
ویر نے اپنی روح تک سکون اترتا محسوس کیا…

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

حرم صبح جلدی جلدی اپنی پیکنگ کر رہی تھی..
کیونکہ آج انھیں واپس جانا تھا..

تبھی شاہ میر روم میں داخل ہوا تھا.. ڈمپل میں پھر وہی دنیا جہان کی شرارت تھی..

میر کی شرارتوں سے جب اس کی بوکھلاہٹیں عروج پر ہوتیں تو وہ کس قدر حسین لگتی تھی یہ تو شاہ میر کا دل ہی جانتا تھا.

اب بھی وہ دروازہ لاک کر چکا تھا.
حرم میری جان….. گھبمیر آواز پر حرم اچھلی..

جج… جی…. اس کے ہاتھ پیروں میں میر کے اس شرارتی لہجے سے پسینے چھوٹ جاتے تھے…

یار جانے سے پہلے میری ایک اور فرمائش پوری کر دو ناں پلیز…
کک… کیا…..
وہ یہ ڈریس پہن کر دکھاؤ مجھے.. اس نے پیکٹ آگے بڑھایا.

حرم نے پیکٹ تھاما.. شاہ میر آپ بہت برے ہیں… قہ روہانسی ہوئی.

ہاں جانتا ہوں میری جان … مگر صرف اور صرف تمھارے معاملے میں.. تم خوبصورت ہی اتنی ہو کہ مجھے برا بننے پر مجبور کرتی ہو. ڈارلنگ…

اس کے بہکتے قدم حرم کی جانب بڑھے
اس سے پہلے ہی وہ پیکٹ لئے واش روم میں گھس کر لاک لگا چکی تھی..
شاہمیر کا قہقہہ بے ساختہ تھا.

حرم کی سٹی تو اس وقت گم ہوئی جب پیکٹ کھول کر دیکھا.. کیونکہ وہ کوئی ڈریس نہیں ریڈ کلر کا نائٹ ڈریس تھا..
جو تھا تو پیروں تک مگر اوپر سے بازو سرے سے تھے ہی نہیں… بس ڈوریاں تھیں جو کندھوں پر باندھنی تھیں..
مگر اس کے اوپر اسی کپڑے کی لونگ جیکٹ بھی تھی

شاہ میر یہ کیا ہے… اس نے دروازہ کھولا اور سخت جھلائی.

میر نے دانتوں تلے لب دبایا.
پلیز حرم…… پہن کے دکھاؤ ناں…

اس نے دروازہ بند کیا.. وہ ڈریس پہنا اور اوپر لونگ ریڈ جیکٹ پہن کر مطمئن ہو گئی…
اب باہر کیسے جائے.

میر نے کافی دیر انتظار کیا.. جب وہ باہر نا آئی تو بے حد شرارت سے اچانک دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا..

وہ جو دم سادھے کھڑی تھی.. ایک دم اچھلی.. اس سے پہلے زمین بوس ہوتی.
میر اسے بازوؤں میں بھر چکا تھا…
اسے باہر لے کر آیا..

شاہ میر پلیز… اس نے ہاتھوں میں چہرہ چھپایا…

کیا؟ کچھ بھی نہیں یہ دیکھو کتنی حسین لگ رہی ہو… اس نے ڈریسنگ کے پاس اتار کر اسے اس کے ہاتھ آنکھوں سے ہٹائے.اور کمر سے اس کو تھاما

آج تو ریڈ وچ لگ رہی ہے میری جان…… میر نے چھیڑا تو وہ ہتھے سے اکھڑ گئی..
شاہ میر کتنے بدتمیز ہیں آپ ایک تو میں نے اتنی مشکل سے یہ ڈریس پہنا اوپر سے آپ مجھے ہی جادوگرنی کہہ رہیے ہیں.. میں بولوں گی ہی نہیں آپ سے.

ہان تو ٹھیک کہہ رہا ہوں ناں میں… میر نے بے خود اور مدہوش سا ہوتے اس کے بالوں میں منہ دیا.. جادو ہی تو ہے میری جان.. جو میرے سر چڑھ کر بولتا ہے..
یہ کہہ کر میر نے اس کے کندھے سے جیکٹ ہٹائی تھی.. یہ جادو ہی تو ہےکہ مجھے پھر اپنا بھی ہوش نہیں رہتا..اور دہکتے لب اس کے کندھے پر رکھے.

حرم کی جان پر بن گئ تھی..
شاہ میر… پلیز… پیکنگ….

نو…. میری جان… ابھی نہیں…
یہ کہہ کر وہ اس کے وجود میں گم ہوتا چلا گیا تھا..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

پریہا کا آپریشن ہو چکا تھا اور اگلے بارہ گھنٹے اس کے لئے قیمتی اور بے حد حساس تھے کیونکہ ان گھنٹوں میں اس کا ہوش میں آنا بہت ضروری تھا.

نہیں تو وہ کومے میں جا سکتی تھی.
مر سکتی تھی.

ایک اور جان تھی جو پل پل یہ گھنٹے اپنی جان پر جھیل رہی تھی.
ڈاکٹر جلال کے لب بس دعا کے لیے ہل رہے تھے کہ اسے ہوش آ جائے کیونکہ آپریشن تو کامیاب رہا اور اگر اسے ہوش آ جاتا ہے تو وہ ایک نارمل زندگی گزار سکتی تھی..

اگر ہوش آتا تب…

اب تو انتظار تھا جو کرنا تھا انھیں…….

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺