Wehshat E Iahq By Wahiba Fatima Season 1 Readelle50087 Last updated: 16 July 2025
Rate this Novel
Wehshat E Ishq By Wahiba Fatima
خدا کے لئے آنٹی مجھے جانے دے... مجھے ایک بار.... بس ایک بار اپنے بابا سے ملنا ہے... وہ سسکتی ہاتھ جوڑے زمین پر بیٹھتی چلی گئ
شاہ ویر سلطان مجھ سے دشمنی ہے... مجھے جان سے مار ڈالو... خدا کے لئے اسے چھوڑ دو وہ معصوم اور بے قصور ہے... اس کا کوئی قصور نہیں... خدا کے لیے نواب گڑگڑاتا ہاتھ باندھے گھٹنوں کے بل اس کے سامنے جھکا
زیب اور ارجی کا بھی کوئی قصور نہیں تھا... وہ سفاکی سے بولا... یو نو واٹ.... مجھے تمھارے ان ڈراموں سے کوئی مطلب نہیں... بلکہ میں تو آج اپنے فرینڈز کو جشن کے لئے بلانا چاہتا ہوں....شراب اور شباب کے لئے .
اور یہ تو اس کا دل ہی جانتا تھا اتنی بڑی جھوٹی بات محض سامنے والے کی روح کو کچوکے لگانے کے لئے بولتے کیسے اس کا دل پتھر سے جیسے بری طرح کچلا گیا تھا ویر نے درندگی سے آنکھ ونک کی.
اور ایک باپ کے سر پر آسمان گرایا...... روح کی دھجیاں اڑائیں .. سعید بھی اس کی بات کا مطلب سمجھ کر تڑپ اٹھے.. پیچھے وہ جو کمرے سے نکل کر آ رہی تھی... بے یقینی سے اس بھیڑیے کی اگلی پلینگ سنی. وہ کیسے اس بے رحم سے رحم کی امید لگا سکتی تھی.. جس سے اس کا باپ اتنا خوفزدہ تھا تو یونہی تو نہیں خوفزدہ ہوگا.
تمھیں پتہ ہے حیدر نواب پھر میں اسے کہاں لے کر جاؤں گا... سلطان مینشن... . یاد ہے ناں سلطان مینشن.. کہ میں یاد کرواؤں... اب تم آپشن بتا دو وہاں اسے زندہ دفناؤں کے زندہ جلاؤں... وہ سفاکی سے طنزیہ سا بولا
پری، سعید اور حیدر نواب کے سر پر آسمان گرا تھا.....
بابا.... وہ تڑپ کر ان کی طرف بڑھی... ویر طوفان کی طرح کھڑا ہوا...
بابا... مجھے بچا لیں.... اس سے پہلے وہ حیدر نواب تک پہنچتی... ویر نے اسے گردن سے پکڑ کر اس کی پشت اپنے سینے سے لگائی..
چھوڑو مجھے... مجھے اپنے بابا کے پاس جانا ہے..... نہیں رہنا تمھارے ساتھ.. حیوان ہو تم... کچھ نہیں ہوں میں تمھاری... چھوڑو مجھے جانے دو... وہ گھٹی گھٹی آواز میں چلائی..اور بری طرح اس کی گرفت میں سے نکلنے ک لیے مزاحمت کی.
اس کے ہر لفظ پر شاہ ویر نے خود پر کنٹرول کیا ہوا اپنا آپا کھویا تھا..
شاہ ویر چھوڑ دو اسے.. نواب تڑپتا.. اور اس کی جانب بڑھا درمیان میں سمیع آیا تھا...
یہ لو چھوڑ دیا..... بلکل بغیر سوچے سمجھے غصے سےپاگل ہوتے اس نے پری کا سر پلر میں دے مرا تھا... تیزی سے خون زخم سے ابل کر اس کے بائیں کندھے کو بھگویا تھا.
پری.... میری گڑیا... پری میری بچی... وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا..
گارڈز... وہ چلایا... کدھر مر گئے ہو... گارڈز تیزی سے اندر آئے....
میرے گھر سے باہر نکالو انھیں... گارڈز ،سعید اور حیدر نواب کو گھسیٹتے وہاں سے لے گئے..نواب حسرت بھری بھیگی نگاہوں سے اپنی بیٹی کو خون میں لت پت زمین پر ہوش و خرد سے بیگانہ پڑے دیکھتا رہا..اور اسے اپنی پھول جیسی بیٹی کو وہیں اسی حالت میں چھوڑ کر جانا پڑا...
ویر ان کےجانے کے بعد آندھی طوفان بنا فارم ہاوس سے گاڑی لے کر نکلتا چلا گیا..اس کا بھی نا سوچا جسے ادھ مری حالت میں چھوڑ کر جا رہا تھا.
پیچھے کسی میں بھی اتنی جرات نہیں تھی کہ شاہ ویر سلطان کی بیوی کو ہاتھ لگاتا..
سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے..
