No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
وحشتِ عشق
از واحبہ فاطمہ
Episode 23.
ماضی…..
پوری یونی میں Bsc کے تھرڈ ائیر کی سٹوڈنٹ زیب کمال کو ڈمپل کوئین کے نام سے جانا تھا.
حالانکہ وہ ڈھکی چھپی رہتی.. اور کم ہی کسی سے بات کرتی تھی مگر اس کے حسن کے چرچے تو بنا اس کے چاہے ہی پوری یونی میں پھیل چکے تھے..
پھر ایک دن ایم بی اے کے حاکم سلطان کی نظر ٹھہری تھی زیب پر جس کی خود کی ایک نظر کے لئے لڑکیاں مری جاتی..
حاکم سلطان کے ہی ایک وڈیرے دوست دلاور کو بھی وہ ڈمپل والی لڑکی اندر تک ہلا چکی تھی..
مگر دونوں اس بات سے انجان تھے کہ ایک ہی لڑکی میں انٹرسٹڈ ہیں…
دونوں میں سے پہلے دلاور نے اظہار کرنے میں پیش قدمی کی تھی.. مگر اسے بری طرح ریجیکشن کا سامنا کرنا پڑا.
یہ تو دلوں کے سودے ہوتے ہیں جو ہر کسی کے سامنے بے مول نہیں ہوتے.. زیب تو پہلے ہی حاکم سلطان کو دل ہی دل میں چاہتی تھی پھر جب حاکم نے اظہارکیا تو پاؤں زمین پر نہ ٹھہرے..
بہت جلد ہی حاکم سلطان نے زیب کو اپنی زندگی میں شامل کیا تھا… تب دلاور کے سینے پر حسد اور جلن کے سانپ لوٹ گئے تھے..
ایک وڈیرے کی انا بری طرح کچلی گئی تھی جب ایک معمولی لڑکی نے اسے ریجیکٹ کر کے اسی کے دوست کو سلیکشن کے اعزاز سے نوازا تھا..
تب وہ اس سب پر لعنت بھیج کر کینڈا چلا گیا..
ادھر حاکم اور زیب کی محبت دن با دن عروج پر پہنچتی گئی…
اسی لئیے زیب نے اپنی بہن روپ کو حاتم کے لئے پسند کیا اور اسے بھی اسی گھر میں لے آئی..
مگر وہ لندن میں ہی رہائش پذیر تھے.. ان کے ہاں ارجی ان کی پیاری بیٹی نے جنم لیا تھا.. ویر، میر اور شاہ زر انھیں کے پاس تھے.. بورڈنگ میں بہترین تعلیم حاصل کر رہے تھے.. جب جب دک کرتا زیب اور حاکم ان سے ملنے چلے آتے.. زیادہ تر تو لندن میں ہی رہائش تھی..
شادی کو اٹھارا سال گزر گئے.
دامن اور گھر خوشیوں سے بھر گیا تھا..
نمرہ، ویر، میر اور شاہ زر ان کی خوشیوں کا گہوارہ تھے..
بزنس کی دنیا میں حاکم اور حاتم کا بڑا نام تھا..
مگر کہتے ہیں کہ زیادہ خوشیوں کو نظر بھی بہت جلد لگتی ہے..
ان کی خوشیوں کو نظر لگانے دلاور ملک اٹھارہ سال بعد کینیڈا سے لوٹا تھا خالی دامن خالی ہاتھ… بیوی مر چکی تھی کوئی اولاد نہیں تھی.. تھا تو بس وہی بے پناہ دولت گھمنڈ، برسوں کی جلن اور حسد.
اس پر متضاد پاکستان میں آ کر سب سے بڑا بزنس آرائیول حاکم سلطان کو ہی سامنے پایا..
ایک دو پارٹی میں زیب سلطان کو دیکھا.. جسے زرا بھی تو وقت کی گرد چھو کر نا گزری تھی..
ڈمپل کی وہی کشش جس نے دلاور ملک کو حسد اور جلن سے پاگل بنا دیا..
اس پر متضاد دو تین ٹینڈر جو کہ دلاور ملک کو ملنے والے تھے.. عین وقت پر سلطان انڈسٹریز کے ہاتھوں میں چلے گئے..
جس سے وہ غصے اور اشتعال سے پاگل ہو گیا.
پھر شروع کیا اس نے بزدلوں کی طرح وہ خونی کھیل…. جس میں اس کا جدی پشتی وفادار غلام نواب حیدر برابر کا شریک تھا.
سب سے پہلے تو حاکم کو دھمکیوں بھری اور زیب کو بے ہودہ قسم کی کال آنا شروع ہوئیں.. جن سے ان کا سکون برباد ہو کر رہ گیا…
پھر حاکم پر ایک دو جان لیوا حملہ ہوا… جس سے زیب مرجھا کر رہ گئی تھی
انھیں دنوں حاتم روپ اور بچے بھی آئے ہوئے تھے…
قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا جیسے…
حاتم، روپ اور بچے واپس جا چکے تھے.. مگر ویر کو جانے کیا ہوا… طبیعت اچانک بگڑ گئی… اور وہ واپس نا جا پایا..
ان دنوں وہ چودہ سال کا تھا…اور اس کی وجہ سے ارجی بھی رک گئی… وہ سب سے زیادہ محبت اپنے اسی بھائی سے تو کرتی تھی..
اور پھر وہ قیامت کی رات آئی تھی ویر کی زندگی میں جس نے اس کا سب کچھ ختم کر ڈال تھا.
سب تباہ و برباد ہو کر رہ گیا.. سب ختم ہو گیا..
اس رات سلطان مینشن پر شبِ خون مارا گیا تھا..
دلاور کو نواب نے اطلاع دی کے آج گھر پر صرف زیب اور حاکم ہیں.
رات کے اندھیرے میں انھوں نے حمل کیا.. گارڈز بھی مار دئیے گئے..
جب گارڈز کو مارا گیا انیکسی میں سے نکل کر بیس سالہ وفادار سمیع اندر بھاگا تھا.
سب سے پہلا کمرہ ویر کا تھا وہ اندر گھسا تھا..
ویر جو کے جاگ رہا تھا پہلے ہی کچھ غیر معمولی لگا تو وہ باہر کی جانب بھاگا..
مگر سمیع نے اسے دبوچ لیا..
کچھ دیر میں ہی لاؤنج میں دلدوز چیخیں گونجیں تھیں..
وہ اپنا آپ چھڑاتا لاونج کی جانب بھاگا..
مگر اس سے پہلے کہ وہ لاؤنج میں داخل ہوتا.. سمیع اسے دبوچ کر لاؤنج کی کھڑکی کے سامنے دیوار گیر پردے کے پیچھے چھپا تھا..
لاؤنج کا منظر ہولناک اور دل دہلا دینے والا تھا..
کچھ درندے نو اس زیب، حاکم اور ارجی کو دبوچ رکھا تھا.
انھیں ارجی کا پتا نا چلتا مگر وہ بد قسمت خود ہی آوازیں سن کر کمرے سےنکل آئی تھی.
دلاور جانے کیا کیا بکواس کر رہا تھا.. پھر اس نے ظلم کی انتہا کی تھی جب پے در پے چھریوں کے وار سے حاکم کو لہولہان کر دیا.. وہ خون میں نہایا ایک جانب لڑھکا تھا..
وہ درندہ زیب کی جانب بڑھا..
پھر سلطان مینش کی درو دیوار نے وہ مناظر دیکھے جن کے نشانوں سے ان کی وحشت و خوف کبھی بھی نہیں مٹ سکتا تھا ..
سمیع نے سختی سے ویر کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا ہوا تھا..
زیب اور ارجی کی دلدوز دل چیرتی چیخیں کافی دیر تک گونجتی رہیں تھیں..
دلاور نے زیب اور نواب نے ارجی کے ساتھ درندگی کی تھی..
اور پھر انھیں بھی چاقؤوں کے وار سے چھلنی کر دیا گیا..
اتنی حیوانیت اور درندگی دکھا کر وہ جانور جا چکے تھے..
غیرت والے تھے حاکم جو یہ مناظر دیکھنے سے پہلے ہی کب کے ابدی نیند سو چکے تھے….
پیچھے، ماتم تھا، آہیں اور سسکیاں..، جو سلطان مینشن کے سینے پر ہمیشہ کے لئے نقش ہو چکی تھیں..
سمیع پردے کے پیچھے سے نکل کر بھاگا مگر حاکم اور ارجی مر چکے تھے..
زیب بھی موت کی ہچکیاں گن رہی تھی… جب پردے کے پیچھے سے ویر نکل کر ماں کے پاس آیا..
اور ان کا سر اپنی گود میں رکھا..
اس بیٹے کی بے بسی کی انتہا کیا ہوگی جو اپنی ماں کی حفاظت بھی نا کر پایا تھا..
اگر آج اس کے بس میں ہوتا تو وہ پوری دنیا کو آگ لگا دیتا…ان درندوں کے کلیجے نوچ کر چبا جاتا…
آج اگر اس کے بس میں ہوتا تو آنکھوں سے آنسوؤں کی بجائے لہو ٹپکاتا کہ کچھ تو درد اور تکلیف کم ہوتی..
زیب کی آنکھوں سے تواتر سے آنسو بہہ رہے تھے..
Mom…… Zaib…. Plz don’t go… Plzz.. Mom… Can’t leave without you… Plz mom.
وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا..
اور اس کے آنسو ٹوٹ کر گرتے ماں کے آنسوؤں میں شام ہو رہے تھے
ہچکیوں کے درمیان بمشکل زیب بولی تھی..
Be……. B…… Brave.. Mm.. My.. Son… T… Take… Care.. Your…….. Brothers… Promise…
ٹوٹ ٹوٹ کر لفظ بولتی وہ بے حد ازیت میں تھی.
جب خون سے بھرے ہاتھوں سے ویر کے ننھے ہاتھوں کو تھام کر بھائیوں کے خیال رکھنے کا وعدہ لیا ایک آخری بار ویر نے وہ ڈمپل دیکھا اور پھر زیب نے ویر کے ننھے بازوؤں میں دم توڑ دیا….
وہ بے یقینی سے پتھرائی آنکھوں سے ماں کا پر نور چہرہ دیکھتا رہا…
چند لمحوں بعد پولیس آ چکی تھی.. سمیع نے حاتم اور روپ کو بھی اطلاع دے دی تھی…
اگلے دن دن سلطان مینشن پر شامِ غریباں اتری تھی
جب ڈھیر سارے ماتم اور آہوں کے درمیان تین معصوموں کو ان کی آخری آرام گاہ تک پہنچا دیا گیا تھا..
ویر پتھرائی ہوئی نظروں سے سب ہوتا دیکھ رہا تھا….
زیب کے پاس رونے کے بعد اس کی آنکھ نے ایک آنسو بھی نا ٹپکایا تھا.
حاتم نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا تھا مگر وہ درندے اپنا خونی کھیل کھیل کر منظر سے غائب ہو چکے تھے..
ویر حاتم اور روپ واپس نہیں جا پائے تھے..
بیٹی کی وہ حالت دیکھ کر روپ بھی جیسے اپنے ہوش و ہواس سے کھو بیٹھی تھی….
حاتم انھیں لے کر حاتم مینشن شفٹ ہو گئے…. اور بزنس سنبھالا…
وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ گزر جاتا ہے
کچھ انسانوں کے لگے سینوں پر زخم بھر دیتا ہے..
مگر ویر جیسوں کے زخموں کو ناسور بنا دیتا ہے…. وہ چاہتا ہی نہیں تھا کہ وہ زخم بھریں وہ تو ہر روز انھیں کھرچ کر تازہ کرتا تھا..
اس واقع کے بعد سمیع اس کا بایاں ہاتھ بن چکا تھا…
روپ کے ہی اصرار پر وہ لندن ایم بی اے کرنے گیا تھا..
چوبیس سال کا گھبرو جوان ہو کر واپس لوٹا تو سب سے پہلے اس دلاور ملک اور اس کے کتے کی تلاش شروع کی
مگر مکافات عمل…….. بعض ظالموں کو جلد ہی بھگتنا پڑتا ہے.. اسے پتہ چلا کے چند سال پہلے ہی دلاور ایک کار ایکسیڈنٹ کے بعد ایڑیاں رگڑ رگڑ کر کتے کی موت مر چکا ہے…..
حیدر نواب تو اپنے مالک کا انجام دیکھ کر ہی خدا کی بے آواز لاٹھی سے روح تک کانپ اٹھا تھا..
اور پھر جب اپنی فیملی شروع کی پہلے تو ایک معزور بیٹی کی پیدائش ہی اسے اس کہ کیے گئے گناہوں کا احساس دلا چکی تھی…
احساس جرم تھا جو ہر روز روح کو کچوکے لگاتا تھا.
ہر رات سجدے میں گر کر تڑپ تڑپ کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتا تھا…
پھر پلوشہ ہوئی… تو اسے معلوم پڑا کے حاکم سلطان کے بڑے بیٹے نے وہ مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے.. تو راتوں کی نیندیں اور دن کا سکون برباد ہو چکا تھا..
صرف حاکم سلطان کے اس بیٹے کے خوف نے اسے یہاں سے روپوش ہونے اور پلوشہ کو چھپا دینے پر مجبور کر دیا تھا…
دلاور کی دردناک موت کی خبر ویر کے بھڑکتے ہوئے انتقام کے جزبوں کے لئے اچھی نہیں تھی…..
وہ تو خود اپنے ہاتھوں سے اسے ایسی موت دینا چاہتا تھا کہ ویر کو خود کو ہی خوف آ جائے.
مگر اس کا وہ کتا ابھی باقی ہے یہ سوچ کر ہی تسلی ہوئی
اسی لئے دو سال تک اس کی تلاش جاری رکھی.
وہ تو تہی دامن تھا… اس کے حصے میں درد تکلیفوں اذیتوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں آیا تھا…
آخر قصور کیا تھا اس کا…..
بارہ سال اذیت میں گزارے تھے.
اور آج پھر زخم ادھڑے تھے اور بلکل تازہ ہوئے تھے…. جب سلطان مینشن میں خوشیوں نے دستک دی تھی..
اپنے ماں باپ کو پل پل یاد کر کے کس قدر اذیت میں وقت گزارا تھا… کتنا تڑپا تھا یہ تو وہی جانتا تھا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ کارپٹ پر بیٹھا پری کی گود میں سر رکھے بے آواز آنسو بہا رہا تھا.
بارہ سال کا اکٹھا ہوا سیل رواں تھا جو رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا…
پری کے آنسو گر کر اس کے بالوں میں جزب ہو رہے تھے…
وہ نرمی سے اس کے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھی.
کس قدر نفرت محسوس ہوئی تھی اسے خود سے اپنے دنیا میں لانے والے اس شخص کے اعمال سے…
کس قدر کراہیت اور گھن محسوس ہوئی تھی یہ تو وہی جانتی تھی..
وہ چاہتی تھی کہ وہ روئے… جی بھر کر روئے اور ساری بھڑاس نکال دے…
ٹھیک کہا تھا ویر نے وہ اگر اس سے سب سے زیادہ نفرت کرتی تھی تو سب سے زیادہ محبت بھی اسی کے ساتھ کرے گی…
آج اسے احساس ہوا کہ وہ کس قدر اس کے دل کے قریب ہے.. کہ اس کا درد اسے اپنے پہلو میں اٹھتا محسوس ہو رہا تھا…
جب بہت زیادہ دیر بعد بھی ویر نے سر نا اٹھایا تو
شاہ……… اس نے نرمی سے پکارا.. اور ہاتھوں کے پیالوں میں اس کا چہرہ بھر کر نرمی سے وہ آنسو صاف کیے.
مگر آج جانے کیوں وہ آنسو تھم ہی نا رہے تھے..
چہرہ اور آنکھیں لال انگارہ ہو چکی تھیں…
پری اٹھی اور آہستگی سے اس کے پاس بلکل قریب ہو کر بیٹھی. کالر سے اس کی شرٹ تھامی اور زرا سا اونچا ہو کر وہ آنسو اپنے گداز لبوں سے چنے…..
ویر نے سکون سے آنکھیں موندیں.
پری نے چھوٹے بچوں کی طرح اسے خود میں بھینچا..
آج وہ بارہ سال پہلے والا ہی تو ویر لگ رہا تھا.. محبتوں میں گندھا..نرم مزاج.. کئیرنگ….
کچھ لمحے یونہی ایک دوسرے کی آغوش میں سکون محسوس کرتے گزرے..
آہہہہہہہ… پری کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی تھی… ویر چونکا… پری پیٹ پہ ہاتھ رکھے دوہری سی ہوئی..
واٹ ہیپینڈ پری….. ویر گھبرایا..تو پری مسکرائی….
کچھ نہیں… یہ لٹل شاہ ویر سلطان نے اپنی مما کو کک ماری ہے… کہ آپ میرے ڈیڈ کا خیال نہیں رکھتیں….
پری کے دل میں ڈمپل دیکھنے کی خواہش انگڑائی لے کر بیدار ہوئی.
لٹل فیری بھی تو ہو سکتی ہے… وہ سنجیدہ تھا مگر پری اس کا دھیان بٹانے میں کامیاب ہو ہی گئی تھی..
شاہ مجھے درد ہو رہا ہے….. پری نے اس کا دھیان بٹانے کو پھر شوشا چھوڑا…..
کہاں….. کدھر….. چلو ہوسپیٹل چلتے ہیں… وہ پھر گھبرایا..
نو….وہ میں نے میڈیسن بھی نہیں لی ناں کھانا بھی نہیں کھایا اور رات کے تین بج گئے آرام بھی نہیں کیا… میں بہت تھک گئی ہوں اسی لئے درد ہو رہا ہے…
وہ اس کی توجہ بس اب خود پر چاہتی تھی اسی لئے اسے الجھا رہی تھی..
چلو روم میں چلو.. میں کھانا اور میڈیسن لاتا ہوں..
اس نے کھڑے ہو کر ہاتھ بڑھایا مگر
شاہ مجھ سے اٹھا نہیں جا رہا… وہ مسکین سی شکل بنا کر بولی.
اوکے.. بازوؤں میں بھرا..
لا کر بیڈ پر بٹھایا….
کچن کی طرف گیا تو بھنا اٹھا…..
شاہ میر اپنے روم کی بجائے لاؤنج میں صوفے پر سویا ہوا تھا..
اسے نظر انداز کیا.. اسے تو بعد میں دیکھے گا…
کچن. میں گیا کھانا نکالا اور کمرے میں آیا..
اس کے سامنے بیٹھ کر چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر اسے کھلائے.. تب پری نے بھی نوالے بنا کر ویر کو کھلانے شروع کیے..
ویر نے چپ چاپ کھا لیے.
یہی تو وہ چاہتی تھی..پری نے اسے کھانا کھلایا..
ویر نے اسے میڈیسن دی…
پری ان کمفرٹیبل ہوگی چینج کر لو جان…
نہیں میں تھک گئی ہوں… آئی کانٹ.. اس نے برا سا منہ بنایا..اور لیٹ گئی
وہ ریلیکس ہو کر صوفے کی جانب جانے لگا تو وہ بھنا اٹھی.
شاہ مجھے ڈر لگ رہا ہے…
ویر ٹھٹھک کر رکا….. تو کیا چاہتی ہو پری… قریب آ جاؤں کیا؟ وہ آج دوسری مرتبہ اس سے پوچھ رہا تھا..
آ جائیں… آپ کون سا بندے کھاتے ہیں.. میں نہیں ڈرتی آپ سے… انداز لاپرواہ سا تھا…
آں ہاں… رئیلی… وہ بہت جلد قریب آیا…
اسے اپنی آغوش میں لیا..
پری نے اس کے سینے میں منہ دئیے سکون سے آنکھیں موند لیں…
برسوں کا غبار چھٹا تو آج وہ بھی پرسکون ہو کر سویا….
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
اگلا دن پر سکون سا تھا.
سب ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے…..
حاتم روپ اور نمرہ حاتم مینشن میں تھے..
ویر سربراہی کرسی پر بیٹھا تھا.. بلکل پاس ہی پری پر سکون سی بیٹھی تھی… بار بار نظر اپنے شاہ کی جانب اٹھ رہی تھی اس کا وہ ڈمپل دیکھنے کی خواہش میں.
مگر ابھی تک پوری نا ہو سکی تھی.
شاہ میر اور حرم سنجیدگی سے ناشتہ کر رہے تھے جبکہ شاہ زر کی حرکتوں اور معنی خیز نظروں نے حبہ کی جان پر بنائی ہوئی تھی…
شاہ زر تمھاری لندن کی ٹکٹس کروا دی ہیں میں نے.. آج تو ریسیپشن ہے……….کل کی… تم لوگ جاؤ… آکا کی طبیعت خراب ہے….. کافی عرصہ ہو گیا تانی بھی ملنے نہیں آئی انھیں.. اسی لئے ٹینس ہیں..اسی لئے ان کے ساتھ ہی جانا پڑے گا..
پر بگ بی میں آپ کا بےبی دیکھ کر واپس جانا چاہتا ہوں…اور حبہ بھی.. کیوں فیری بھابھی….
شاہ زر نے شوشا چھوڑا پری کو اچھو لگ گیا……
ویر نے پری کی جانب جوس کا گلاس بڑھایا…
ابھی بہت وقت ہے شاہ زر یار دوبارہ آ جانا….اینڈ نو آرگیو.
اور میر تم لوگ مری ہو آؤ….چاہوں تو کہیں باہر لندن یا سوئیذرڈ لینڈ بھی بھیج سکتا ہوں مگر سب سے پہلے تم حرم گڑیا کو کمفرٹیبل فیل کرواؤ…. ایک دوسرے کو سمجھو پھر کہیں دور جانا اسی لئے کچھ دنوں کے لئے فارم ہاؤس چلے جاؤ… تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزار سکو….میں نے تیاری کر دی ہے آج ریسیپشن کے بعد ہی نکل جانا…
ویر نے بات ختم کی اور ناشتے میں مصروف ہو گیا…..
مری کے نام پر میر نے بری طرح پہلو بدلا جو کہ ویر نے نوٹ کیا…….. مگر میر بولا کچھ بھی نہیں.
ناشتے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں گئے..
ویر کمرے کی بالکونی میں فون پر بزی تھا…
جب میر ہلکا سا دروازہ ناک کر کے کمرے میں داخل ہوا…
سامنے پری صوفے پر بیٹھی تھی…
پری بھابھی…. وئیر از برو…..
پری نے بالکونی کی جانب اشارہ کیا… وہ بالکونی کی جانب بڑھا… اور جا کر ویر کو شکایتی نظروں سے دیکھا….
واٹ . اب کیا ہوا؟ ویر نے فون رکھ کر اسے چھیڑا.
واٹ اس دس برو……….؟
واٹ ویر انجان بنا.
یو نو ویری ویل کہ وہ فارم ہاوس میرے لئے ایک نائٹ مئیر سے زیادہ کچھ نہیں… پھر آپ مجھے وہاں دوبارہ کیوں بھیجنا چاہتے ہیں….. وہ بھی حرم کے ساتھ… وہ سخت جھنجھلایا ہوا تھا..
وہ اس لئے میری جان کے جو بات جہاں سے بگڑتی ہے اس کو سدھارنے اور سہی کرنے کی شروعات بھی وہیں سے کرنی چاہیے.. ابھی تم نہیں سمجھ رہے مگر میں فیصلہ کر چکا ہوں اسی لئے نو آرگیو..
اب جاؤ اور جا کر ریسیپشن کی تیاری کرو… ہر ٹینشن کو دل و دماغ سے ناکل دو…
اور ایسا بھی ممکن تھا کہ میر ویر کی بات ٹال دیتا… اسی لئے چپ چاپ وہاں سے چلا آیا…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
