Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Tere Sang Yaara) Episode 3

دو تین دن ایسے ہی گزر گئے راحیلہ بیگم بس موقعے کی تلاش میں ہی رہیں۔ مواقع تو ویسے انہیں بہت ملے تھے مگر عصمت بیگم سے کچھ کہنے کی ہمت نہیں جٹا پا رہی تھیں۔ نا سننے کا ڈر انہیں کچھ بولنے نہیں دے رہا تھا، مگر بات تو شروع کرنے ہی تھی۔ ابھی بھی دوپہر کا کھانا بنا کے دونوں خواتین لاؤنج میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ہالے یونیورسٹی، ثمامہ پولیس سٹیشن اور سیف صاحب دکان پہ تھے۔ یہ موقع راحیلہ بیگم کو بہتر لگا تو انہوں نے بات کرنے کی ٹھانی تھی۔
“بھابھی میں سوچ رہی تھی کسی رشتے والی کو ہالے کے لیے رشتہ ڈھونڈنے کا کہوں۔” باتوں ہی باتوں میں انہوں نے کہا اور ساتھ ہی کن اکھیوں سے ان کے تاثرات بھی جانچے تھے، جنہوں نے چونک کے انہیں دیکھا تھا۔
“اتنی بھی کیا جلدی ہے راحیلہ ابھی تو وہ پڑھ رہی ہے۔” انہوں نے بھی لگ بھگ سیف صاحب کی بات کو دہرایا تھا۔
“ہاں لیکن بھابھی آپ یہ بھی تو دیکھیں آج کل اچھے رشتے ملنا کتنے مشکل ہیں ابھی سے تلاشنا شروع کریں گے تو ہی تو کوئی بات بنے گی۔ اور ہالے کو بھی تو آپ جانتی ہیں نا وہ کس مزاج کی ہے۔ اس کی ماں ہونے کے ناطے اس کے مستقبل کے لیے فکرمند ہوں۔” راحیلہ بیگم کے لہجے میں فکر اور تشویش تھی۔
“اچھا چلو جیسے تمہیں بہتر لگے ویسے ہی کرو” عصمت بیگم کی بات نے راحیلہ بیگم کو مایوس کیا تھا۔ مگر جلد ہی خود کو سنبھالتے انہوں نے بات ہی بدل دی تھی۔
پھر اس کے بعد سارا دن راحیلہ بیگم بجھی بجھی ہی رہی تھیں۔ خوامخواہ ہالے کو بھی جھاڑ دیا تھا اور وہ ہکابکا بس انہیں دیکھتی ہی رہی تھی۔ ثمامہ سے پڑھنے کی وجہ سے وہ کمرہ بند کر کے بھی نہیں بیٹھ سکتی تھی، اس لیے بس صبر کے گھونٹ بھر کے رہ گئی تھی۔ رات کو سونے سے پہلے راحیلہ بیگم نے ساری بات سیف صاحب کے گوش گزار دی تھی۔ ان کے چہرے پہ بھی فکر کی پرچھائیاں لہرائی تھیں۔
“تم خوامخواہ پریشان ہو رہی ہو، شاید وہ ثمامہ سے پہلے بات کرنا چاہ رہی ہوں۔” سیف صاحب نے ان سے زیادہ خود کو تسلی تھی۔
“اب ایسی بھی بات نہیں ہے سیف اگر انہوں نے ہالے کو ثمامہ کے لیے سوچا ہوتا تو وہ کوئی اشارہ دیتیں، مگر انہوں نے جیسے تمہاری مرضی کہہ کے بات ختم کر دی۔ آپ جو کہہ رہے ہیں وہ خود کو جھوٹی تسلی دینے والی ہی بات ہے۔” راحیلہ بیگم کی بات میں دم تھا، اس لیے سیف صاحب بھی بس گہری سانس بھر کے رہ گئے تھے۔
“اچھا چلو پھر جیسے تمہیں بہتر لگے وہ کر لو۔” سیف صاحب سب کچھ ان کے ذمے کرتے کروٹ بدلتے آنکھ موند گئے تھے۔ اور راحیلہ بیگم بھی مختلف تانے بانے بننے میں مصروف ہو گئی تھیں۔


عبدالرحمن صاحب اور سیف صاحب دو ہی بھائی تھے۔ والدین حیات نہیں تھے، دونوں اپنی زندگی میں ہی دونوں کی شادی کر گئے تھے۔ عبدالرحمن صاحب کی اپنی پھوپھی زاد عصمت بیگم سے شادی ہوئی تھی۔ اور سیف صاحب کی خالہ زاد راحیلہ بیگم سے، دونوں کی شادیاں آگے پیچھے ہی ہوئی تھیں۔ سیف صاحب کی اپنی کپڑوں کی دکان تھی جبکہ عبدالرحمان صاحب فیکٹری میں مشین آپریٹر تھے۔
عصمت بیگم کو شادی کے سال بعد ہی اللّٰہ نے ثمامہ سے نواز دیا تھا۔ مگر راحیلہ بیگم اور سیف صاحب کو شادی کے چھ سال بعد اللّٰہ نے ہالے سے نوازا تھا۔ دونوں ہی گھر بھر کے لاڈلے تھے۔ ڈبل سٹوری گھر کے اوپر والے پورشن میں سف صاحب اپنی فیملی سمیت رہتے تھے۔ اور نیچے والے پورشن میں عبدالرحمن صاحب اور ان کی فیملی رہتی تھی۔
زندگی میں راوی چین ہی چین تھا، مگر عبدالرحمن صاحب کی اچانک موت نے سب کو ہلا کے رکھ دیا تھا۔ ان کی موت دل بند ہونے کی وجہ سے ہوئی تھی، ان کی ناگہانی موت نے سب کو غم کی لپیٹ میں لیا تھا۔ مگر ان کی موت کا سب سے زیادہ اثر ثمامہ پہ ہوا تھا۔ وہ ان سے حد سے زیادہ اٹیچ تھا اس لیے ان کی موت کو قبول نہیں کر پا رہا تھا۔
پہلے پہل تو کچھ عرصہ اس نے اس بات کو قبول ہی نہیں کیا کہ وہ نہیں رہے ہیں۔ پھر جیسے اس نے ان کی موت قبول کر لیا وہ بالکل خاموش ہو گیا تھا۔ نہ کسی کے ساتھ بات کرتا اور بات بات پہ غصہ کرنا اس کی عادت میں شامل ہو گیا تھا۔ زیادہ تر اسے کے غصے کا نشانہ ہالے ہی بنتی تھی، اسی بنا پہ وہ اس سے جتنا ممکن ہوتا فاصلہ رکھتی تھی۔
عبدالرحمن صاحب کی وفات کے بعد راحیلہ بیگم اور سیف صاحب نے دونوں ماں بیٹے کا ہر طرح خیال رکھنے کی کوشش کی تھی تا کہ ان دونوں کو عبدالرحمن صاحب کی کمی محسوس نہ ہو۔ اس نے بی بی اے کرنے کے بعد سی ایس ایس کا امتحان کلئیر کیا اور اب وہ پولیس میں اپنی سروسز دے رہا تھا۔
اگر سیف صاحب نے بہت کچھ کیا تھا اس کے لیے تو بدلے میں ثمامہ کے لیے بھی ان کی ہر بات حرفِ آخر ہوتی تھی۔ جیسے عبدالرحمن صاحب کہتے وہ ویسا ہی کرتا۔ مگر وہ اس کا غصہ نہ کم کر سکے وقت کے ساتھ ساتھ سنجیدگی اور غصہ اس کی ذات کا حصہ بن گئے تھے۔


ہالے کو ثمامہ سے پڑھتے ہوئے کافی دن گزر گئے تھے۔ اور اس کی جان سولی پہ ٹنگی ہوئی تھی۔ اتنی سخت تو یونی میں پروفیسر نہیں ہوتے تھے جتنا سخت ثمامہ تھا۔ آج بھی وہ معمول کے مطابق بکس سمیت نیچے آئی اسی وقت عصمت بیگم کے پاس ثمامہ کی کال آئی کہ اک کیس کی وجہ سے وہ لیٹ گھر آئے گا۔ یہ سنتے ہی ہالے کی تو گویا عید ہو گئی تھی۔
کم از کم اک دن تو اس جلاد سے جان چھوٹی تھی۔ اسی خوشی میں اس نے موی دیکھنے کا پلان بنایا تھا کھانا کھانے کے بعد وہ اپنے لیپ ٹاپ سمیت اپنے کمرے میں گھس گئی تھی۔ موی جب عین کلائمکس پہ پہنچی تو اسے چائے پینے کی طلب ہوئی تو اس نے وہی موی سٹاپ کی کہ چائے بنا کے اینڈ چائے کے ساتھ مزے لیتے دیکھے گی۔ چائے بس بن ہی چکی تھی جب اسے ثمامہ کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔ اس نے جلدی سے چائے چھان کے کپ میں انڈیلی اور کپ سمیت تیزی سے وہاں سے غائب ہونا چاہا تھا۔
“سنو،،،!” ابھی وہ سیڑھیوں کے پاس ہی پہنچی تھی کہ اس کی بھاری گھمبیر آواز سن کے وہی کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھی۔ دل ہی دل میں اپنی اس ٹائم چائے پینے کی خواہش پہ خود کو جی بھر کے کوسا تھا۔
“جی” اس کے حلق سے مری مری آواز نکلی تھی۔
“مجھے بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو دو” اسے کہہ کے خود کچن میں داخل ہوا اور فریزر کی طرف بڑھا تھا وہاں سے پانی کی بوتل نکالی اور سٹینڈ سے گلاس لے کر وہی پڑے ڈائننگ ٹیبل کی اک کرسی کھینچ کے بیٹھ گیا تھا۔
جبکہ دوسری طرف اس کی فرمائش سن کے اس کی سانس حلق میں اٹک گئی تھی اور مرے مرے قدموں سے وہ اس کے پیچھے کچن میں داخل ہوئی اور فریج سے سالن کا ڈونگا نکالا اسے اوون میں رکھتے ٹائم سیٹ کیا تھا۔
سالن تو وہ پہلے کا بنا کھا لیتا تھا مگر پھلکے اسے تازہ تازہ ہی چاہیے ہوتے تھے اور وہ اسی بات کو لے کر ہلکان ہو رہی تھی کہ اس جیسی پھوہڑ لڑکی جسے بس چائے بنانی آتی تھی وہ تازہ پھلکے کیسے بنائے؟
اس نے کن اکھیوں سے اس کھڑوس کو دیکھا جو کرسی کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا موبائل یوز کر رہا تھا۔ اسے موبائل میں مصروف دیکھ کر اس نے جلدی سے سالن پلیٹ میں نکالا تھا اس کا ارادہ اس کھڑوس کے سر اٹھانے سے پہلے کھانا اس کے سامنے رکھ کے وہاں سے کھسکنے کا تھا۔
“میں تازہ روٹی کھاؤں گا۔” اس کی آواز سن کے ہاٹ پارٹ اٹھاتی وہ اپنی جگہ سے اچھلی تھی۔ اور ڈرتے ڈرے پیچھے مڑ کے دیکھا تھا جہاں وہ سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا اور اس کے متوجہ ہونے پہ اس نے دوبارہ اپنی نگاہیں موبائل پہ جما لی تھیں۔
اس کی بات سن کے اس نے تھوک نگلتے فریج سے آٹے والا باؤل نکالا تھا اور چولہے پہ توا رکھتے گیس آن کی اس کے بعد باؤل سے آٹا لیتے الٹا سیدھا پیڑا بنا ہی لیا تھا۔
اس سے اگلا کام اسے بیلنے کا تھا آٹا فریج میں پڑا تھا۔ اس کی لیے وہ ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے سخت تھا اور اس سے روٹی بیلی ہی نہیں جا رہی تھی روٹی بیلتے وہ روہانسی ہو گئی تھی۔
“کاش ماما کی باتیں اک کان سے سن کے دوسرے کان سے نہ نکالتی آج یہ دن تو نہ دیکھنا پڑتا، اس کھڑوس نے روٹی دیکھنے بعد جن نظروں سے مجھے دیکھنا ہے بس وہ مجھے اوپر پہنچانے کے لیے کافی ہوں گی۔” روٹی بیلتے ہوئے وہ ہلکی آواز میں بڑبڑائی تھی۔
پھر جیسے تیسے کرتے وہ دو تین روٹیاں بنانے میں کامیاب ہو ہی گئی تھی۔ مگر ان کو دیکھنے کے بعد شرمندگی کے مارے اس کا دھاڑیں مار مار کے رونے کا دل کر رہا تھا روٹیاں گول ہونے کی بجائے تین کونوں والی تھیں اچھی طرح نہ بیلنے کی وجہ سے سائیز میں بلکل چھوٹیں اور کناروں اور درمیان سے بہت موٹی تھیں۔
مگر جلد ہی اپنی شرمندگی پہ دو حرف بھیجتے اس نے روٹیاں ہارٹ پارٹ میں رکھیں اور ہارٹ پارٹ بند کرتے اسے سالن سمیت ٹیبل پہ اس کے سامنے رکھتے اس نے وہاں سے بھاگنے کو تھی۔
“رکو مجھے چائے بھی بنا کر دو میں کھانے کے بعد چائے لازمی پیتا ہوں” اس کے ارادے پہ پانی پھیرتے اس نے اسے حکم سنایا تھا اک لمحے کو اس کی دھڑکن سست پڑی تھی اور گلے کی گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔
“ایسے حکم چلا رہا ہے جیسے میں اس کی ملازم ہوں یا اللّٰہ کسی طرح اس جلاد سے بچا لے۔” غصے سے شروع کی گئی بات اختتام تک پہنچنے تک بےبسی میں ڈھل گئی تھی۔
واپس مڑتے اس نے آنکھیں بند کر کے گہرا سانس بھرا اور قدم کاؤنٹر کی طرف بڑھائے تھے ارادہ اپنے لیے بنائی گئی چائے اسے دینے کا تھا اور ساتھ ہی ساتھ دل میں کاؤنٹ ڈاؤن سٹارٹ کیا تھا۔
“یہ کیا ہے؟” اس نے ابھی ٹین اور نائین ہی بولا تھا کہ اس کی غصے سے بھرپور آواز گونجی تھی اس نے مڑ کے دیکھا تو وہ روٹی ہاتھ میں پکڑے سخت غصے سے اسے ہی گھور رہا تھا۔
“روٹی ہے” اس نے معصومیت سے جواب دیا تھا۔
“اسے روٹی کہتے ہیں؟” اس کا بس نہیں چل رہا تھا سامنے کھڑی اس ڈھیٹ لڑکی کو اٹھا کے کہی پھینک دے جو اپنے بنائے گئے شاہکار کو روٹی کا نام دے رہی تھی۔
“شرم آنی چاہیے تمہیں یونیورسٹی میں پہنچ گئی ہو تم اور ابھی تک تمہیں روٹی بنانی نہیں آتی زندگی میں آگے کیا کرو گئی تم؟ کھاؤ اسے اب تم ہی۔” غصے پھنکارتا اس پہ اک سخت نظر ڈال کے وہ کچن سے نکل گیا تھا۔ کیونکہ بھوک تو اس کے شاندار شاہکار کو دیکھ کے ہی مر گئی تھی اس کے جاتے اس نے اک گہری سانس بھری تھی، اور چئیر پہ ڈھیر ہو گئی تھی آج تو وہ سستے میں ہی چھوڑ گیا تھا۔
“اگر اتنے ہی نخرے کرنے تھے تو لاٹ صاحب خود ہی بنا لیتے میرا ایویں وقت برباد کیا چائے بھی ڈھنڈی ہو گئی میری۔” کچھ دیر بعد خوف کے حصار سے نکلتے وہ بڑبڑائی تھی۔ اور سالن اٹھا کے فریج میں رکھا ہارٹ پارٹ کاوئنٹر پہ رکھا چائے دوبارہ گرم کرتے مگ میں انڈیل کے گنگناتے ہوئے کچن کی لائیٹ آف کرتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔


راحیلہ بیگم نے ہالے کو بتائے بغیر رشتے والی کو رشتہ ڈھونڈنے کا کہہ دیا تھا۔ اور کچھ ہی دنوں میں رشتے والی نے گرین سگنل دے بھی دیا تھا۔ راحیلہ بیگم نے سیف صاحب اور عصمت بیگم سے مشورہ کرنے کے بعد انہیں سنڈے کو آنے کا بول دیا تھا۔
ہالے کو عین سنڈے والے دن راحیلہ بیگم نے رشتے کا بتایا اور تیار ہونے کا کہا تھا۔ جبکہ ہالے حیران پریشان کتنی ہی دیر ان کی شکل دیکھتی رہی تھی، پھر اس نے راحیلہ بیگم کی لاکھ منتیں کی مگر انہوں نے اس کی اک نہ سنی اور اسے تیار ہونے کا آرڈر دیا تھا۔
سیف صاحب بھی صبح ہی صبح دکان پہ چلے گئے تھے ( ثمامہ گھر پہ تھا اس لیے وہ دکان پہ چلے گئے تھے) ورنہ انہیں ہی کسی نہ کسی طرح مسکا لگا کے اس رشتے کو رکوا سکتی تھی۔ کیونکہ اس کا کہنا تھا یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد اس سب کے بارے میں سوچے گی۔ مگر راحیلہ بیگم ٹھہریں ماں انہوں نے اپنی منوا کے ہی چھوڑی تھی۔
رشتے والے تقریباً دس بجے آئے تھے اور اس سے پہلے راحیلہ بیگم نے اس کا برین اچھی طرح واش کیا تھا۔ اسے اچھی طرح سمجھایا تھا کہ مہمانوں کے سامنے کیا بولنا اور کیا نہیں، ان کی ساری نصیحتوں کو اس نے منہ بناتے ہوئے سنا تھا باقی اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا یہ صرف وہی جانتی تھی۔
مہمانوں میں اک رشتہ کروانے والی عورت تھی اور باقی اس کے ساتھ لڑکے کی ماں اور دو بہنیں تھیں۔ راحیلہ بیگم اور عصمت بیگم نے ان کا اچھی طرح استقبال کیا تھا۔ ان کے کچھ دیر بیٹھنے کے بعد راحیلہ بیگم کے حکم کے مطابق شرم و حیا کی دیوی بنی ہالے چائے لے کے آئی تھی۔
“یہ ہے میری بیٹی ہالے۔” راحیلہ بیگم نے ان عورتوں کو بتایا تو انہوں نے سر سے پیر تک ہالے کا جائزہ لیا، ان کے انداز پہ ہالے نے دانت پیسے تھے مگر جلد ہی چہرے پہ زبردستی کی مسکان سجا لی تھی۔
“ویسے کرتی کیا ہو تم؟” چائے سرو کرنے کے بعد ہالے صوفے پہ بیٹھی تو ان کی طرف سے پہلا سوال داغا گیا تھا۔
“جی پڑھتی ہوں بی بی اے کر رہی ہوں۔” ہالے نے اک نظر راحیلہ بیگم کو دیکھتے جواب دیا تھا۔
“ویسے اتنا پڑھنے کا کیا فائدہ، شادی کے بعد کرنی تو گھر داری ہی ہوتی ہے۔ پھر اتنے سال اور پیسے کیوں برباد کرنے۔” لڑکے کی ماں کی بات پہ ہالے ناگواری سے کچھ کہنا چاہا مگر راحیلہ بیگم نے اس کا ہاتھ دباتے اسے چپ رہنے کا کہا تھا۔
“چلو پڑھائی تو کر ہی رہو اس کے ساتھ اور کیا کر لیتی ہو، مثلاً سلائی کڑاہی یا کوکنگ وغیرہ۔” اگلے سوال پہ ہالے کا پارہ پھر سے ہائی ہوا تھا۔
“جی پڑھائی کے علاوہ جی میں اپنی ماما کے ہاتھ کے پکے لذیذ پکوان کھا لیتی ہوں جی اور ڈرامے اور مویز دیکھ لیتی ہوں۔” ہالے نے آنکھیں پٹپٹاتے انہیں انہی کے انداز میں ڈیل کرنا شروع کیا تھا۔ اس کی اس گوہر افشانی پہ راحیلہ بیگم نے پریشانی سے اک دفعہ پھر اس کا ہاتھ دبایا تھا مگر اس نے سرے سے ہی اسے نظرانداز کر دیا تھا۔
“کیا مطلب تمہیں کھانا بنانا نہیں آتا؟” لڑکے کی ماں نے تیوری چڑھاتے سوال کیا تو ہالے نے نہایت معصومیت سے نفی میں سر ہلایا تھا۔
“اگر کچھ آتا ہی نہیں تو تمہاری ماں کو کیا پڑی ہے تمہاری شادی کروانے کی، پہلے گھرداری تو سکھا لیتی پھر رشتے والی کو کہتی، ہمارا ٹائم اتنا فالتو نہیں کہ پھوہڑ لوگوں کے گھر آ کر ضائع کریں۔” لڑکے کی ماں کے ہتک آمیز لہجے پہ ہالے سمیت راحیلہ بیگم اور عصمت بیگم کے چہروں پہ سرخی چمکی تھی۔
“آپ لوگ اپنی حد میں رہیں، آپ یہاں اپنی بہو کی تلاش میں آئی ہیں نا کہ کام والی کی۔” اس سے پہلے کے ہالے ان پہ پھٹتی ثمامہ کی سرد آواز ڈرائنگ روم میں گونجی تھی جس پہ سب کی گردنیں اس کی طرف گھومی تھیں۔ راحیلہ بیگم کی آنکھوں میں نمی دیکھ کے اس کے غصے کا گراف بڑھا تھا۔
ثمامہ کب سے لاؤنج میں بیٹھا ان کی باتیں سن رہا تھا۔ وہ چچا کی غیر موجودگی میں ان لوگوں کا جائزہ لینا چاہتا تھا کہ وہ کیسے لوگ ہیں۔ پہلے تو ان کے عجیب و غریب سوالات پہ اسے حیرانگی ہوئی تھی۔ مگر ان کی آخری بات پہ اسے شدید تپ چڑھی تھی اور خود پہ قابو نہ پاتے وہ ڈرائنگ میں آن وارد ہوا تھا۔
“تم کون ہو؟” لڑکے کی ماں نے بگڑے تیوروں سے سوال کیا تھا۔ اتنا تو وہ جانتی تھیں کہ وہ ہالے کا بھائی نہیں ہے۔ کیونکہ رشتے والی نے انہیں بتایا تھا کہ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہے اور لڑکی کے باپ کی اپنی ذاتی کپڑوں کی دکان ہے۔ اسی لالچ میں وہ یہاں آئی تھیں۔ مگر اپنے منہ سے نکل چند الفاظ کی وجہ سے وہ گیم الٹ چکی تھیں۔
“میں جو بھی ہوں آپ کو اس بات سے مطلب نہیں ہونا چاہیے۔ آپ یہاں لڑکی دیکھنے آئے ہیں تو اس کی سیرت دیکھیں اس کا چال چلنا کیسا ہے یہ دیکھیں۔ وہ آپ سے کیسے بات کرتی ہے یہ دیکھیں۔ باقی چیزیں تو ثانوی ہیں۔” ثمامہ کے سرد انداز پہ ان سب کی زبان تالو سے چپکی تھی۔
“مگر ہم ثانوی چیزوں پہ فوکس کرتے ہیں، لڑکی کی سیرت اور کردار کیسا ہے ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ ہمیں اس بات سے مطلب ہوتا ہے کہ وہ گوری ہے یا کالی ہے، اسے کیا آتا ہے کیا نہیں، اس کے کام کرنے کی کپیسٹی کتنی ہے۔ جیسے وہ کوئی لڑکی نہیں کوئی مشین یا دکان میں رکھی کوئی چیز ہے جسے آپ خرید کے لے جانا چاہ رہے ہیں۔” وہ پل بھر رکا تھا۔
“لڑکی نے ساری زندگی آپ لوگوں کی ہی خدمت کرنی ہوتی ہے آپ لوگوں کو ہی نت نئے کھانے بنا کے کھلانے ہوتے ہیں۔ تو اس میں کیا خرج ہے کہ وہ یہ سارے کام سسرال میں جا کر سیکھ لے؟ دنیا کی کس کتاب میں یہ لکھا ہے کہ لڑکی کو ہر ہنر اپنے ماں باپ کے گھر سے سیکھ کے جانا چاہیے یا وہ سسرال جا کے کچھ سیکھ نہیں سکتی؟” ثمامہ نے کچھ نکات ان کے سامنے رکھے تھے مگر ان کے چہروں سے ایسا لگ رہا تھا کہ ان پہ ان ساری باتوں کا کوئی اثر نہیں ہونے والا تھا۔
“تم جو اتنی بڑی تقریر کر رہے ہو، اگر تمہارے نزدیک ان سب کی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں تو تم ہی اس سے شادی کر لیتے نہ، کیونکہ ہمیں اتنا تو پتہ ہے لڑکی کا کوئی بھائی نہیں ہے۔” ان کی بات پہ ثمامہ کا کھولتا خون مزید کھولا تھا۔
“اگر چچا جان کہتے تو کر بھی لیتا، کم از کم آپ جیسے کم ظرف لوگ یہاں تو نہ بیٹھے ہوتے۔” راحیلہ بیگم اور عصمت بیگم نے کچھ حیرانگی سے ثمامہ کو دیکھا تھا جبکہ ہالے پورا منہ اور پوری آنکھیں کھول کے اسے دیکھا اور دل ہی دل میں استغفار کیا تھا۔
“جاؤ میاں اب بس اپنا بھرم رکھنے کے لیے لمبی لمبی مت چھوڑو۔” انہوں نے جس لہجے میں کہا وہ ثمامہ کو آگ لگا گیا تھا۔ اس نے سیکنڈز میں فون نکال اور سیف صاحب کا نمبر ملایا تھا۔ ان خواتین سمیت اس کے گھر کی خواتین نے بھی تعجب سے اسے دیکھا تھا۔
“السلام علیکم چچا جان آپ اک نکاح خواں اور اک دو گواہ کے ساتھ جلدی گھر آئیں۔” اس کی غیر متوقع بات پہ سب کی آنکھیں حیرانگی سے بڑھی ہوئی تھیں۔ جبکہ ہالے کا دل کسی انہونی کے تحت بڑے زور سے دھڑکا تھا۔
“کیا مطلب؟ کیا کہہ رہے ہو ثمامہ؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔” دوسری طرف سے سیف صاحب کی حیران پریشان سی آواز آئی تھی۔
“مطلب میں آپ کو سمجھا دوں گا بس آپ وہ کر دی‍‍ں جو میں کہا ہے۔”
“مگر ثمامہ،،،” انہوں نے کچھ کہنا چاہا۔
“آپ کو مجھ پہ بھروسہ ہے نا؟” ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے وہ بیچ میں بولا تھا۔
“ہاں۔” یک لفظی جواب آیا تھا۔
“تو بس آپ نکاح خواں سمیت جلدی گھر آئیں۔” انہیں کہہ کے مزید کچھ کہے بغیر اس نے کال کٹ دی اور وہی موجود اک کرسی کھینچ کے بیٹھ گیا تھا۔ اس کے تیور دیکھ کے ان عورتوں نے وہاں سے کھسکنا چاہا تھا۔
“جہاں بیٹھی ہیں وہی بیٹھی رہیں۔” ثمامہ کی سرد آواز پہ وہ اپنی اپنی جگہ ساکت ہو گئی تھیں۔
کچھ ہی دیر میں پریشان سے سیف صاحب نکاح خواں اور گواہوں سمیت گھر آئے تھے۔ انہیں لاؤنج میں بیٹھا کے وہ خود ڈرائینگ روم میں آئے تھے جہاں سب بیٹھے تھے۔ ان کے کچھ بھی پوچھنے سے پہلے ثمامہ کی آواز گونجی تھی جو سب کو ساکت کر گئی تھی۔
“میں ہالے سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ابھی اور اسی وقت۔” یہ وہ الفاظ تھے جو سیف صاحب اور راحیلہ بیگم کے سینے میں ٹھنڈ بن کے اترے تھے جبکہ ہالے کے سر پہ کسی بمب کی طرح پھٹے تھے اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ثمامہ کو دیکھا تھا۔
“وہ تو ٹھیک ہے مگر یہ مہمان اور یہ اچانک نکاح۔” جلد ہی خوشگوار حیرت سے نکلتے سیف صاحب نے چہرے پہ الجھن لیے سوال کیا تھا۔ جس کے جواب میں ثمامہ نے سارا قصہ ان کے گوش گزارا جس پہ سیف صاحب نے بھی ان خواتین کو اخت نظروں سے دیکھا تو وہ اپنی جگہ چور سی بن گئی تھیں۔
پھر سیف صاحب نے بنا کسی اعتراض کے ان کے نکاح پڑھوایا تھا۔ اس سارے قصے کے دوران ہالے بس سکتے کی ہی کیفیت میں بیٹھی رہی تھی۔ نکاح کے وقت سیف صاحب نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا تو اس نے نظریں اٹھا کے انہیں دیکھا۔ ان کی نگاہوں میں واضح التجا دیکھتے اس نے بمشکل تین دفعہ قبول ہے کہا اور دستخط کر دیے تھے۔ نکاح ہوتے ہی ہر طرف مبارک سلامت کا شور اٹھا تھا۔
“لیں منہ میٹھا کریں اور آئندہ اگر کہیں رشتے ڈھونڈنے جائیں تو آج کا واقعہ ذہن میں ضرور رکھیے گا۔ ورنہ یہ نہ ہو آپ یونہی دوسروں کے نکاحوں میں گواہ بنتی رہیں اور آپ کا اپنا بیٹا کنوارہ رہ جائے۔” ثمامہ کچن سے جا کر کیک لایا اور ان خواتین کے سامنے کرتے جس انداز میں کہا وہ اپنی جگہ شرمندہ ہو کے رہ گئیں۔ اور بغیر کیک کو دیکھے وہ اک سیکنڈ میں وہاں سے غائب ہوئی تھیں۔ ان کے جاتے کب سے بت بنی ہالے میں بھی حرکت ہوئی تھی۔
“میرا نکاح اس کھڑوس سے؟” وہ دھیمے سے بڑبڑائی اور اک طرف کو لڑھک گئی۔ سب پریشانی سے اس کی طرف بڑھے جبکہ ثمامہ اک نظر اسے دیکھنے کے بعد نکاح خواں اور گواہوں کو لیے وہاں سے نکل گیا تھا۔
جاری ہے__!!