Tere Sang Yaara By Arfa Ijaz Readelle50285

Tere Sang Yaara By Arfa Ijaz Readelle50285 Last updated: 5 October 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara

By Arfa Ijaz

ہالے کو جب سے ہوش آیا تھا، وہ بس روئے جا رہی تھی۔ سیف صاحب تو اسے ہوش آتے دیکھ کے موبائل لے کے وہاں سے نکل گئے تھے تا کہ وہاں موجود ورکرز کو ہدایات دے سکیں کیونکہ اب ان کا ارادہ واپس دکان جانے کا نہیں تھا۔ جبکہ راحیلہ اور عصمت بیگم اسے چپ کروانے میں مصروف تھیں۔ "ہالے اب بس بھی کرو کون سا ظلم کا پہاڑ توڑ دیا ہے ہم نے تم پہ۔" اسے چپ نہ کرتے دیکھ راحیلہ بیگم نے زرا سختی سے اسے سرزنش کی تھی۔ "آپ جیسی ظالم ماں میں نے کہیں نہیں دیکھی، پہلے مجھے بتائے بغیر رشتے والوں کو بلا لیا اور پھر آناً فاناً نکاح بھی کر دیا وہ بھی اس جلاد سے۔" ہالے نے روتے ہوئے ان کے ظلم گنوائے تو اس کی آخری بات پہ عصمت بیگم کی موجودگی کی وجہ سے راحیلہ بیگم نے اسے گھوری سے نوازا تھا۔ "تو میرا بچہ تمہیں اسے جلاد سے انسان بنا لینا نہ اب تو شوہر ہے تمہارا۔" راحیلہ بیگم کے کچھ بولنے سے پہلے عصمت بیگم نے کہا ان کے لہجے میں ہلکی سی شرارت کی بھی رمق تھی۔ جسے محسوس کرتے راحیلہ بیگم کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ چمکی تھی۔ جبکہ ثمامہ کو اپنا شوہر تصور کرتے ہالے کے آنسوؤں میں اضافہ ہوا تھا۔ "یہاں کوئی مجھ سے پیار ہی نہیں کرتا، مجھے شیر کی کچھار میں پھینک کے خود سارے سارے اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہیں۔" ہالے روتے ہوئے وہاں سے اٹھ کے بھاگتے ہوئے اپنے پورشن میں چلی گئی تھی۔ ثمامہ کے ساتھ ساری زندگی گزارنے کا سوچ کے ہی اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ اس کی گوہر افشانی پہ راحیلہ بیگم نے گھبرا کے عصمت بیگم کو دیکھا تھا۔ جو بھی تھا وہ تھیں تو ثمامہ کی ماں کہیں برا ہی نہ منا جاتیں۔ "میں نے برا نہیں منایا اور فکر مت کرو راحیلہ آہستہ آہستہ دونوں ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔" راحیلہ بیگم کی نظریں خود پہ محسوس کرتے عصمت بیگم نے انہیں تسلی دی تو وہ زبردستی مسکرائی تھیں۔ انہیں عصمت بیگم کا رویہ الجھا رہا تھا، انہوں نے کھبی ہالے کو لے کے کوئی خواہش ظاہر نہیں کی تھی۔ اس کے رشتے کا سن کے بھی انہوں نے کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا تھا، اور اب نکاح کے بعد بھی ان کا رویہ نارمل تھا۔ اور یہ سب باتیں راحیلہ بیگم کو الجھا رہی تھیں اور وہ چاہ کے بھی عصمت بیگم سے پوچھ نہیں پا رہی تھیں۔ _________________________ دوپہر کے کھانے پہ تقریباً سبھی موجود تھے سوائے ہالے کے، جو نکاح کے بعد سے کمرے میں بند تھی۔ دو تین دفعہ راحیلہ بیگم اس کے کمرے میں گئی تھیں مگر اس نے نہ تکیے میں سر نکالا اور نہ ہی ان کی کسی بات کا جواب دیا۔ اور پھر وہ اسے کھانے کے لیے بھی بلانے آئی تھیں جس پہ اس نے صاف انکار دیا تو راحیلہ بیگم نے بھی زیادہ اسرار کرنے کی بجائے اسے اس کے حال پہ چھوڑ دیا تھا۔ "ہالے نہیں آئی کھانے کے لیے؟" اس کی غیر موجودگی پہ سیف صاحب نے راحیلہ بیگم سے سوال کیا تھا۔ "میں بلانے گئی تھی وہ کہتی ہے بھوک نہیں ہے۔" راحیلہ بیگم کے جواب پہ سیف صاحب نے بس سر ہلایا، انہوں نے زیادہ کریدنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔ "وہ بھابھی میں شرمندہ ہوں، ثمامہ کے کہنے پہ نکاح کروا دیا۔ آپ سے اک بار نہیں پوچھا نہ میں نے اور نہ ثمامہ نے۔" سیف صاحب نے شرمندگی سے سر جھکاتے عصمت بیگم سے کہا تھا۔ ان کیا بات پہ پہلے تو انہوں نے چونک کے سیف صاحب کو دیکھا اور پھر ہولے سے مسکرائی تھیں۔ "سیف یہ ثمامہ کے معاملے میں تم کب سے مجھ سے کچھ پوچھنے لگے؟ بچپن سے تو اسے بیٹے کی طرح سینے سے لگا کے رکھا ہے تم نے۔" عصمت بیگم کے نرمی سے کہنے پہ سیف صاحب نے سر اٹھا کے انہیں دیکھا تھا۔ "ہاں مگر پھر بھی آپ ماں ہیں ثمامہ کی مجھے اک دفعہ تو پوچھنا ہی چاہیے تھا آپ سے۔" سم "بس کر دو سیف نہ ثمامہ تمہارے لیے بیگانہ ہے نہ ہالے میرے لیے، میں تو شروع سے ہی ہالے کو اپنی بہو بنانا چاہتی تھی۔ ہاں مگر یہ نہیں پتہ تھا کہ ایسے سب کچھ ہو گا۔" عصمت بیگم کے الفاظ پہ سیف صاحب اور راحیلہ بیگم نے حیرت و بےیقینی سے پہلے اک دوسرے کو اور پھر عصمت بیگم کو دیکھا تھا۔ جبکہ ثمامہ اس ساری گفتگو میں بس سر جھکائے کھانا کھانے میں ہی مصروف تھا۔ عصمت بیگم نے ان کی حیرانگی اور ان کے دماغوں میں گھومتا سوال اچھی طرح سمجھا تھا۔ "ہاں میری شروع سے ہی یہی خواہش تھی، جب راحیلہ نے ہالے کے لیے رشتے والی کو کہا تھا تب میں اسے منع کرنا چاہتی تھی۔ مگر اس سے پہلے میں اک دفعہ ثمامہ سے بات کرنا چاہتی تھی۔ مگر اُس سے اس موضوع پہ بات کرنے کا کوئی موقع ہی نہیں ملا اور رشتے والی نے لڑکا بھی ڈھونڈ لیا۔" عصمت بیگم نے تفصیلی بات کرتے ان دونوں کی ہر الجھن دور کی تھی۔ "اور مجھے یہ بھی تھا کہ تم ثمامہ کو ہی ہر کسی پہ فوقیت دو گے۔" عصمت بیگم نے مزید کہا تو ان دونوں کو تھوڑی شرمندگی ہوئی تھی۔ "جی بھابھی میں نے بھی ثمامہ کو ہی ہمیشہ اپنے داماد کے روپ میں دیکھا ہے۔ مگر پھر میں نے سوچا کہیں ثمامہ یہ نہ سمجھے کے چچا پالنے پوسنے کے عوض دھونس جما رہا ہے۔" اس دفعہ ثمامہ نے سر اٹھا کے انہیں دیکھا تھا۔ "چچا جان آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں ایسا کچھ کہہ سکتا ہوں۔ میرے دل میں آپ کا اور چچی کا مقام ڈیڈا اور ماما جیسا ہے۔" اس کی بات پہ سیف صاحب اور راحیلہ بیگم کے چہرے پہ پیاری سی مسکان آئی تھی۔ "جانتا ہوں۔" سیف صاحب نے شفقت بھری نظروں سے اسے دیکھتے کہا۔ "اچھا اب بس کریں یہ اداسی کی باتیں، ہم نے جو سوچنا ہوتا ہے سوچتے رہ جاتے ہیں اور ہوتا وہی ہے جو اللّٰہ چاہتا ہے۔ ہالے اور ثمامہ کا نکاح ایسے ہی ہونا تھا اور اللّٰہ کے حکم سے وہ ہو گیا۔ اب ساری باتیں چھوڑ کے بس کھانا کھائیں سب۔" عصمت بیگم کی بات پہ سب مسکراتے ہوئے کھانے کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔ راحیلہ بیگم اور سیف صاحب اللّٰہ کی اس کرم نوازی پہ دل ہی دل میں ان کا شکر ادا کر رہے تھے۔