Tere Sang Yaara By Arfa Ijaz Readelle50285 (Tere Sang Yaara) Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
(Tere Sang Yaara) Episode 2
راحیلہ بیگم کے جاری کردہ فرمان کی وجہ سے ہالے کا موڈ سارہ دن آف ہی رہا تھا۔ چھٹی کے وقت اسے سیف صاحب ہی پک کرنے آئے تھے۔ مگر پھر بھی اس کا منہ سوجا ہی رہا تھا۔ سیف صاحب کی ہر بات کا جواب اس نے صرف ہوں ہاں میں ہی دیا تھا۔ گھر آتے ہی وہ سیدھا اپنے پورشن میں گئی تھی۔
کمرے میں پہنچتے ہی پیچھے دروازہ زوردار طریقے سے بند کیا کہ اس کی آواز پورے گھر میں گونجی تھی۔ بگڑے موڈ کے ساتھ اس نے بیگ بیڈ پہ پھینکا اور خود بھی اوندھے منہ بیڈ پہ ڈھیر ہو گئی تھی۔ اسے یوں لیٹے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ راحیلہ بیگم کھانے کی ٹرے لیے اس کے کمرے میں داخل ہوئی تھیں، مگر اسے بیگ سمیت بےترتیبی سے بیڈ پہ لیٹے دیکھ کے ان کا پارہ ہائی ہوا تھا۔
“ہالے نور تم نے کب بڑے ہونا ہے؟ بائیس کی تم ہو چکی ہو اور ابھی تک تمہارا بچپنا ہی ختم نہیں ہو رہا۔” راحیلہ بیگم نے دانت پیستے ہوئے کہا اور کھانے کی ٹرے سٹڈی ٹیبل پہ رکھی تھی
عموماً تو ہالے خود نیچے کچن میں آ کر کھانا کھاتی تھی۔ مگر آج راحیلہ بیگم خود کھانا لے کے آئی تھیں اس کے لیے، ان دونوں کی آپس کے تعلقات سے وہ واقف تھیں۔ اور یہ بھی جانتی تھیں ہالے ضد میں نہیں جائے گی پڑھنے بس اسے رام کرنے آئی تھیں۔ مگر اس کی بےترتیبی دیکھ کے ان کا دماغ آؤٹ آف کنٹرول ہوا تھا۔
“اور جو آپ سگی ماں ہو کے مجھ سے سوتیلی جیسا سلوک کرتی ہیں وہ؟َ” اس نے اسی پوزیشن میں روہانسے لہجے میں سوال کیا تھا۔
“کیا بکواس کر رہی ہو؟” راحیلہ بیگم نے اسے گھوری سے نوازا تھا۔
“ہاں تو اور کیا سب جانتے بوجھتے آپ مجھے آدم خور کے چنگل میں اکیلا چھوڑ رہی ہیں؟” تڑپ کے سیدھے ہوتے وہ بولی تھی۔
“زیادہ فالتو بولنے کی ضرورت نہیں، اٹھو اور کھانا کھا لو۔ میں ماں ہوں تمہاری کوئی دشمن نہیں، جو بھی کرتی ہوں تمہاری بھلائی کے لیے کرتی ہوں۔” سٹڈی ٹیبل سے کھانے کی ٹرے اٹھا کے اس کے سامنے رکھتے انہوں نے اپنی بات مکمل کی۔
“نہیں کھانا مجھے اور نہ ہی آپ کے لارڈ صاحب سے پڑھنا ہے۔” اس کی ہٹ دھرمی پہ راحیلہ بیگم نے چند ثانیے اس کو دیکھا اور پھر اس کے سامنے سے ٹرے اٹھا لی تھی۔
“نہیں کھانا تو مرضی تمہاری، اور جہاں تک پڑھنے کی بات ہے تو وہ تم جانو اور ثمامہ میں نے بس اسے کہنا تھا۔ آگے تمہیں پڑھانا اس کی ذمہ داری ہے اور میں جانتی ہوں وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانا خوب جانتا ہے۔” راحیلہ بیگم نے اطمینان سے کہا اور ٹرے سمیت کمرے سے نکل گئی تھیں۔ پیچھے ہالے نے منہ کھول کے بند دروازے کو دیکھا تھا۔
“میری کوئی ویلیو ہی نہیں، آج تو مجھے پکا یقین ہو گیا میں ان کی سگی بیٹی ہوں ہی نہیں۔” بےبسی ہاتھ بیڈ پہ مارا اور دوبارہ تکیے پہ سر رکھتے بیڈ پہ ڈھیر ہو گئی تھی۔
اور ثمامہ کو خود کو پڑھانے سے روکنے کے لیے مختلف تانے بانے جوڑتی رہی۔ اور یونہی سوچتے سوچتے کب اس کی آنکھ لگی اسے پتہ بھی نہ چلا۔
وہ جانے کب تک سوئی رہتی کہ راحیلہ بیگم نے اسے آ کر جھنجھوڑا۔ اس نے مندھی مندھی آنکھوں سے انہیں دیکھا تھا۔
“اٹھ جائیں مہارانی صاحبہ کب تک سوتی رہیں گی؟ بس قد ہی نکالتی جا رہی ہو مگر عقل گھٹنوں میں ہی ہے۔ یہ نہیں کہ نیچے آ کر ماں اور تائی کا ہاتھ بٹاؤں کب تک وہ دونوں بڑھیاں اکیلی لگی رہیں گی۔ مگر نہیں تمہیں تو شرم چھو کے نہیں گزری۔” اسے آنکھیں کھولتے دیکھ کے راحیلہ بیگم نے اسے بےنقط سنائی تھیں۔ جس سے اس کا دماغ بہت جلد بیدار ہوا تھا۔ اس نے منہ بسورتے کچھ کہنا چاہا تھا مگر راحیلہ بیگم کے تیور دیکھتے چپ میں ہی عافیت جانی تھی۔
منہ بسورتے وہ اٹھ کے بیٹھی، جمائی لیتے اس کی نظر وال کلاک پہ پڑی اور پھر آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں کیونکہ گھڑی بتا رہی تھی کہ آٹھ بجنے میں بس پانچ منٹ رہ گئے ہیں۔ وہ بجلی کی رفتار سے بیڈ سے اٹھی اور تیزی سے کبرڈ کی طرف بڑھی تھی۔
“یار ماما بندا جگا ہی دیتا ہے، اب وہ کھڑوس مجھے چھوڑے گا نہیں۔” آخری بات اس نے سرگوشی میں کہی تھی۔
“الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے، میں تمہیں تین دفعہ جگا کے جا چکی ہوں لیکن تم تو شاید بھنگ پی کے سو رہی تھی۔ یا پھر ساری زندگی کی نیند آج ہی پوری کرنے کا ارادہ تھا تمہارا۔” راحیلہ بیگم نے بھی بغیر کسی لگی لپٹی کے کہا تھا۔ مگر فلحال اس کے پاس جوابی کارروائی کا وقت نہیں تھا اس لیے وہ بغیر کوئی جواب دیے واش روم میں گھس گئی۔
ہاتھ منہ دھو کے اس نے کپڑے چینج کیے، وہ باہر آئی تو راحیلہ بیگم جا چکی تھیں۔ اس نے واش روم سے باہر آتے بالوں میں الٹا سیدھا برش پھیرتے جلدی سے بیگ اٹھاتے وہ نیچے بھاگی تھی۔ اس دوران ٹائم آٹھ سے اوپر ہو گیا تھا۔ مگر جب وہ نیچے آئی تو چھوٹے سے لاؤنج میں بس عصمت بیگم بیٹھی تھیں جنہیں دیکھ کے اس نے شکر ادا کیا تھا۔
“ہنہہہ، خود تو کوئی ٹائم کی پابندی نہیں اور مجھے سکھا رہے تھے پابندی۔” اسے کی غیر موجودگی پہ اس نے طنزیہ مسکراہٹ لیے سوچا اور عصمت بیگم کے پاس جا کے بیٹھ گئی جو ثمامہ کے کپڑوں کے طے لگا رہی تھیں۔ راحیلہ بیگم کچن میں کھانے کی تیاری کو فائنل ٹچ دے رہی تھیں اور سیف صاحب شاید اوپر تھے۔
“تائی امی اک بات تو بتائیں؟” بیگ سامنے ٹیبل پہ رکھتے اس نے عصمت بیگم سے کہا تو ان کی سوالیہ نظریں اس کی طرف اٹھی تھیں۔
“یہ میں نے بچپن میں آپ کے بیٹے کا کوئی قرض وغیرہ تو نہیں لیا تھا؟” ہالے کا سوال ان کے پلے نہ پڑا تو انہوں نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا۔
“دیکھیں نہ مجھے دیکھ کے ان کے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ مجھے ایسے دیکھتے ہیں جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں سالم نگل جائیں گے۔ چہرے کے ایکسپریشنز ایسے دیتے جیسے کڑوا کریلا بغیر پکا ہی کھا لیا ہو۔” اس کی باتوں پہ عصمت بیگم کے چہرے پہ نرم سی مسکراہٹ آئی تھی۔
“نہیں بیٹا اس کی طبیعت کا حصہ ہے یہ، تقریباً سبھی کے ساتھ ہی وہ سنجیدہ ہی رہتا ہے۔” عصمت بیگم نے ازلی نرم لہجے میں اسے سمجھایا جس پہ اس نے بس منہ بسورا تھا۔
“اچھا جاؤ یہ کپڑے ثمامہ کے کمرے میں رکھ آؤ، میں زرا راحیلہ کو دیکھ لوں۔” عصمت بیگم کے کہنے پہ ہالے نے آنکھیں بڑی کر کے انہیں دیکھا تھا۔
“میں جاؤں؟” اس نے اپنی طرف انگلی کرتے شدید حیرانگی سے پوچھا تھا۔
“ہاں تم” مختصر سا جواب دے کے وہ اس کی سنے بغیر کچن میں چلی گئی تھیں۔ اور وہ بےبسی سے ان کی پشت دیکھتی رہ گئی تھی۔
کچھ دیر یونہی بیٹھے رہنے کے بعد ہالے جل تُو جلال تُو کا ورد کرتے وہ ثمامہ کے کپڑے اٹھا کے اس کے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔ کمرے کے دروازے پہ کھڑے ہوتے اس نے ہلکی سی دستک دی تھی مگر اندر سے کوئی جواب نہ آیا تو اس نے آہستگی سے دروازہ کھول کے پہلے سر اندر گھسایا اور پورے کمرے میں نظر دوڑائی تو وہ اسے کہیں نظر نہ آیا۔
جس پہ وہ خدا کا شکر ادا کرتے کمرے میں داخل ہوئی اور بغیر وقت ضائع کیے اس نے کبرڈ کھولی جہاں اک طرف اس کے استری شدہ کپڑے ہینگ ہوئے تھے۔ دوسری طرف اس نے طے کیے ہوئے کپڑے رکھنے تھے۔ اس نے جلدی سے اک سائیڈ پہ کپڑے رکھے تھے۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” ثمامہ کی سخت اور سپاٹ پہ اس کے الماری کے پٹ بند کرتے ہاتھ ڈھیلے پڑے تھے۔
“وہ تائی امی نے آپ کے کپڑے رکھنے کا کہا تھا بس وہی رکھنے آئی تھی۔” بغیر پلٹے ہی ہالے نے جواب دیا تھا۔
“تو تمیز بھی کسی چڑیا کا نام ہے، اتنا تو پتہ ہی ہو گا کہ کسی کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے ناک کیا جاتا ہے۔” اس بات پہ وہ غصے سے بل کھاتے اس کی طرف مڑی تھی۔
“میں نے ناک کیا تھا، اب آپ کو نہیں سنائی دیا تو میرا کیا قصور؟” اس کے لہجے میں ہلکی سی خفگی در آئی تھی۔
“اوکے تو کسی کے کبرڈ میں بغیر اجازت گھسنے کا مطلب؟ تم صوفے یا بیڈ پہ رکھ کے چلی جاتی۔” ثمامہ کی باتوں سے اس کا پارہ ہائی اور مزید ہائی ہوتا جا رہا تھا۔
اس نے غصے بھری اک نگاہ ثمامہ پہ ڈالی اور بغیر کچھ کہے وہ دروازے کی طرف بڑھی تھی۔ اور جاتے ہوئے دروازہ زوردار آواز سے بند کر کے گئی۔ ہالے کی یہ حرکت اسے کے لیے ناگواری کا باعث بنی تھی۔ جس پہ بمشکل قابو پاتے وہ بالوں میں برش کر کے لاؤنج میں آیا تھا، جہاں وہ پھولے منہ کے ساتھ بکس کھولے بیٹھے تھی۔
“میں نے آٹھ بجے کا کہا تھا پھر آٹھ سے ٹائم اوپر کیسے ہوا؟” اس کے سامنے ٹیبل کی دوسری سائیڈ نیچے بیٹھتے اس نے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں استفسار کیا تھا۔
اس کے پوچھنے پہ ہالے نے جھٹکے سے سر اٹھا کے اسے دیکھا تھا۔ غصہ اور خفگی پل بھر میں اڑن چھو ہوئے تھے۔ اور ساتھ ہی سوچ کے در کھلے کہ وہ تو لاؤنج میں تھا نہیں تو اسے پتہ کیسے چلا تھا کہ وہ لیٹ آئی تھی۔
“میں ٹائم پہ آئی تھی آپ خود یہاں موجود نہیں تھے۔” خود کو مضبوط بناتے ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔
“میں تمہارے انتظار میں دس منٹ بیٹھنے کے بعد اپنے روم میں فریش ہونے گیا تھا۔” اس کی سن کے ہالے کچھ لمحوں کے لیے چپ کی چپ رہ گئی، مگر پھر کچھ بولنا چاہا۔
“میں مزید کوئی جھوٹ سننے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ آج پہلا دن تھا اس لیے رعایت مل رہی آئندہ ایسا بلکل نہیں ہو گا۔ اب بکس نکالو اور جو جو سمجھ نہیں آتا وہ مارک کرو۔ آج بس مارک کریں گے کل باقاعدہ سمجھانا شروع کروں گا۔” اسے منہ کھولتے دیکھ کے ثمامہ نے اسے ٹوک دیا تھا۔
“کھڑوس کہیں کا۔” ہالے ہولے سے بڑبڑائی تھی۔
“کچھ کہا تم نے؟” ثمامہ نے بھنویں اچکائی تھیں۔
“ننن_ نہیں میں تو کہہ رہی تھی میں بس مارک کرنے لگی ہوں۔” جلدی جلدی بولتے وہ کتاب پہ جھک گئی اور ثمامہ اس کے جھکے سر کو دیکھنے کے بعد اس کی دوسری بکس اٹھا کے انہیں دیکھنے لگا تھا۔
“آپکو نہیں لگتا اب ہمیں ہالے کے بارے میں کچھ سوچنا چاہیے؟” کھانے اور چائے کے دور بعد سب نے کچھ دیر ٹی وی دیکھا اور پھر سب سونے کے لیے اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔ سیف صاحب آتے ہی آج کے دن کے حساب کتاب میں لگ گئے تھے جبکہ راحیلہ بیگم بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگائے ہالے کے بارے میں سوچنے میں مصروف ہو گئی تھیں۔ اور پھر اچانک ہی سیف صاحب کو مخاطب کرتے یہ سوال پوچھا تھا۔ جس پہ سیف صاحب نے رسیدوں سے نظریں ہٹا کے انہیں دیکھا تھا۔
“مطلب کیا سوچنا چاہیے؟” اک نظر انہیں دیکھنے کے بعد وہ دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گئے تھے۔
“اس کی شادی کے بارے میں اور کس بارے میں۔” سیف صاحب کی بےتوجہی پہ وہ جی بھر کے بدمزہ ہوئی تھیں۔
“اتنی جلدی بھی کیا ہے ابھی تو وہ پڑھ رہی ہے۔” رسیدوں کو الٹ پھلٹ کے دیکھتے انہوں نے بات ہوا میں اڑائی تھی۔
“ابھی سے کوششیں شروع کریں گے تو ہی اس کی پڑھائی مکمل ہونے تک کچھ ہو گا۔ اپنی بیٹی کے لچھنوں سے آپ بھی تو واقف ہیں۔”
“کیا مطلب ہے اس بات کا؟” اب کی دفعہ سیف صاحب نے ان کی طرف دیکھتے سخت لہجے میں پوچھا تو راحیلہ بیگم کو اپنے الفاظ کا احساس ہوا تھا۔
“میرا مطلب ہے آپ جانتے تو ہیں، اس کا مزاج لاابالی سا ہے۔ کسی بات کو سرے سے سنجیدہ لیتی ہی نہیں اور نہ ہی اس کا کچن کے کاموں کی طرف اس کا کوئی دھیان ہے۔ ایسے رشتے تو نہیں ملتے بس لوگ باتیں بناتے ہیں۔” راحیلہ بیگم نے ہڑبڑاتے اپنی بات کی وضاحت کی تھی۔
“تو ہمیں کیا ضرورت ہے لوگوں کی فضول باتیں سننے کی، ہمارے گھر میں لڑکا موجود تو ہے۔” راحیلہ بیگم کی وضاحت پہ انہوں نے واضح اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ جس پہ راحیلہ بیگم کو خوشی بھی ہوئی کیونکہ ان کی اپنی یہی خواہش تھی۔ مگر وہ ساتھ ہی تشویش کا شکار بھی ہوئی تھیں۔
“یہ خواہش میری بھی ہے مگر ہم اپنی بیٹی ان پہ مسلط تو نہیں کر سکتے نا، بھابھی نے کھبی اس موضوع پہ کوئی بات نہیں کی۔” انہوں نے اپنا خدشہ سیف صاحب سامنے رکھا تو وہ بھی سوچ میں پڑ گئے تھے۔
“بھابھی نے نہیں کی تو کیا ہوا، ثمامہ ماشاءاللہ بہت فرمانبردار بچہ ہے۔ میرے اک دفعہ کہنے کی دیر وہ بغیر کوئی دوسری بات کہے جھٹ سے ہاں کر دے گا۔” سیف صاحب کے لہجے میں تفاخر اور مان بول رہا تھا۔
“وہ میں بھی جانتی ہوں مگر اس طرح تو وہ یہ سمجھے گا کہ چچا اپنے کیے احسانات کا بدلہ یوں لے رہا ہے۔ آپ جانتے تو ہیں بھائی صاحب کی وفات کے بعد سے وہ کتنا حساس ہو گیا ہے۔” راحیلہ بیگم نے اک اور پہلو ان کے سامنے رکھا تو وہ سوچ میں پڑ گئے تھے۔
“اچھا چلو اک دفعہ کسی بہانے بھابھی سے بات کرنے کی کوشش کرنا اور دیکھنا وہ کیا خیالات رکھتی ہیں۔ پھر اسی کے مطابق فیصلہ کریں گے، باقی جو ہم سب کے حق میں بہتر ہو اللّٰہ وہی کرے۔” سیف صاحب کی بات راحیلہ بیگم کے دل کو بھی لگی تھی۔
وہ بیٹی والی تھیں خود کو اور اپنی بیٹی کو بےمول نہیں کر سکتی تھیں۔ اس لیے انہیں سیف صاحب کے خیالات اچھے لگے تھے۔ اور انہوں نے کچھ سوچ بھی لیا تھا۔ اور اس سوچ پہ عمل درآمد کرنے کا ارادہ ان کا کل ہی تھا۔
جاری ہے__!!
