Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode 2

تیرے عشق کے سحر میں از قلم عینا بیگ
باب دوم (آخری)
اگلے دن اسے جلدی اٹھادیا گیا تھا۔ بوجھل دل کے ساتھ وہ کام کرکے نہا دھو آئی تھی۔
“ناشتہ کرلیں کومل۔۔۔ پھر حاتم آپ کو لے جائے گا”۔ ماما کمرے تک اسے بلانے آئی تھیں۔ کمرے کی کھڑکی پر بیٹھی وہ دھوپ لے رہی تھی۔
“کہاں؟”۔ اس نے گردن موڑ کر انہیں دیکھا۔
“ظاہر ہے پارلر۔۔۔”۔ اس کی حیرت پر انہیں حیرانی ہوئی۔ ایک سانس خارج کر کے کومل اٹھی اور نیچے چلی آئی۔ گھر بابا نے بہت خوبصورتی سے سجوایا تھا۔ پورا خاندان مدعو تھا۔
“لگتا ہے وہ ابھی تک اٹھا نہیں۔۔۔”۔ گھر میں کام بہت سے کرنے والے رہ گئے۔ ناشتہ کرتی کومل کے کان کھڑے ہوئے۔
“کون؟”۔ اس نے کرسی گھما کر ماما کو دیکھا۔
“حاتم”۔ وہ شاید کسی کپڑے پر کڑھائی کررہی تھیں۔ کومل ادھورا ناشتہ چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
“ہماری بھوک مٹ گئی اور ہاں۔۔۔ بہت دیر ہورہی ہے اماں ہم اٹھا آتے ہیں انہیں”۔ وہ بتا کر رکی نہیں تھی، بھاگ گئی تھی۔
“ارے جوان جہاں لڑکے کے کمرے میں جائیں گی کومل آپ۔۔۔؟ ٹہھریئے میں ملازم سے اٹھاوادیتی ہوں اسے”۔ وہ اسے روکتی رہ گئیں مگر وہ بھاگ گئی تھی۔ اوپر والی منزل کی سیڑھیاں تیزی سے چڑھ کر اب وہ اس کے کمرے کے دروازے پر کھڑی تھی۔ زور سے کھٹکا دیا مگر کوئی آواز نہ آئی۔ ڈوپٹے سے اچھی طرح سر ڈھانپا ہوا تھا۔ اس نے دوبارہ کمرہ بجایا مگر وہ پھر بھی نہ باہر آیا۔ وہ سوچنے لگی اب اسے کیا کرنا چاہیے۔ دروازے کا ہینڈل گھمایا تو وہ آسانی سے گھوم گیا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ غلط کرنے جارہی ہے مگر نجانے دل کیوں بغاوت کررہا تھا۔ اس نے ایک بار پھر کھٹکا دیا۔ اس بار آواز نہ آنے پر اس نے وہ دروازہ پورا کھول دیا۔ کمرے میں دھواں بھرا ہوا تھا۔ کھڑکیاں بند تھیں اس لیے کمرے میں اندھیرہ تھا۔ سیگریٹ کے دھؤویں نے اسے کھانسنے پر مجبور کیا۔ وہ ہاتھ سے دھواں اپنے سامنے سے ہٹاتی اندر داخل ہوئی۔ حاتم بستر پر اوندھا لیٹا گہری نیند سورہا تھا۔ سر تکیے کے نیچے دبا کر وہ ارد گرد کے ماحول سے غافل تھا۔ وہ بستر کے قریب آئی تو اسے نظر آیا کہ وہ شرٹ نہیں پہنا ہوا۔ نیلی جینز پر وہ صرف اوپر تک ہلکی چادر میں خود کو چھپایا ہوا تھا۔ اس نے سہم کر اسے پھر آواز لگائی۔ سائیڈ میز پر ایش ٹرے رکھی تھی۔ کومل حیران تھی۔ اسے علم نہیں تھا کہ حاتم سیگریٹ پیتا ہے۔ سیگریٹ کی بدبو سے اس کا سانس لینا مشکل ہونے لگا۔ اس نے بڑھ کر کھڑکی سے پردے کھسکائے۔ اندھیرے کمرا یکدم روشن ہوا۔ اس نے جلدی سے کھڑکی کھولی اور دھؤویں کے باہر جانے کی جگہ بنانے لگی۔ جانے کتنی سیگریٹ پھونکیں تھی اس نے۔۔۔ کمرے میں روشنی کا داخلہ ہوا تو وہ اچانک اٹھ بیٹھا۔ نگاہیں حیران تھیں کیونکہ اس کے کمرے میں کوئی بھی نہیں آیا کرتا تھا۔ جس کو بھی اس سے کام ہوتا وہ دروازہ کھٹکا کر اس کے اٹھنے کا انتظار کرتا۔ مڑ کر دیکھا تو کومل کھڑی نظر آئی۔ اس کے جسم پر سے چادر ہٹ چکی تھی۔ کومل نے اسے دیکھ کر آنکھیں نیچے کرلیں۔ وہ حیرانی سے بستر سے اٹھ کر کھڑا ہوا۔ بنھویں آپس میں ملا کر اب وہ اسے سر تا پیر تک رہا تھا۔ بال آگے کو جھکے ہوئے تھے اور آنکھیں کچی نیند کی وجہ سے سرخ ہورہی تھیں۔ اس نے بڑھ کر اپنی ٹی شرٹ اٹھائی اور جلدی سے پہنی۔
“کیا ہوا؟”۔ اس کے لہجے کی سختی کومل کے لیے حیران کن تھی۔ وہ کچھ بول نہ سکی۔ یہ رویہ کومل کے لیے بلکل نیا تھا۔ قدم دھیرے دھیرے پیچھے کو ہٹے۔
“وہ۔۔۔ مجھے۔۔ پارلر”۔ لفظ گویا حلق میں پھنسنے لگے۔ وہ بولتے بولتے رک گئی تھی کیونکہ حاتم کے چہرے کے تاثرات خوفناک حد تک بگڑ چکے تھے۔
“کیا مطلب اس بات کا؟۔ صرف اس بات پر آپ میرے کمرے میں مجھے اٹھانے آگئیں؟”۔ وہ دھاڑا۔ یہ روپ کتنا نیا تھا کومل کے لیے۔۔۔ اس کی آنکھوں سے خوف کے مارے آنسو نکلنے لگے۔
“کس نے اجازت دی آپ کو یوں میرے کمرے میں آنے کی؟۔ کسی کے کمرے کا دروازہ بند ہو اس کا مطلب کیا ہوتا ہے؟۔ دروازہ کھٹکا نہیں سکتی تھیں؟”۔ وہ بات نہیں کررہا تھا بلکہ چیخ رہا تھا۔ کومل کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
“میں نے کھٹکایا تھا”۔ وہ روتے ہوئے بولی۔
“تو مر تو نہیں گیا تھا نا میں! اٹھ جاتا۔۔۔ کس نے بھیجا یے آپ کو؟”۔
وہ دیوار سے لگ چکی تھی۔
“خود آئی تھی اٹھانے”۔ اس نے اپنے آنسو پونچھنے چاہے مگر چہرہ پھر تر ہوگیا۔
“کمرے سے جائیں”۔ اس نے ہاتھ اشارے سے اسے نکلنے کو کہا۔ کومل جھینپ گئی۔
“ایک کال کر دیتیں تو اوپر آنے کی ضرورت نہیں پڑتی”۔ وہ دانت پیس کر بولا۔ وہ اس کی بات پوری سنے بغیر روتے ہوئے بھاگ گئی۔ حاتم پیچھے ایک گہری سانس خارج کرتا ہوا غصہ سے دروازہ کی طرف دیکھنے لگا۔ کومل بھاگتے ہوئے اپنے کمرے تک آئی تھی۔ آنکھیں تھیں کہ بس روئی ہی جارہی تھیں۔ آج زندگی میں پہلی بار اسے وہ شخص برا لگا تھا۔ ایک کمرے میں آنے پر وہ اسے بری طرح جھڑک گیا تھا۔
“کیا ہوا وہ اٹھا؟”۔ اماں کی آواز ان کے کمرے میں آنے پہلے نمودار ہوئی۔ وہ جھٹ سے اپنا چہرہ سنگھار میز کی جانب موڑ گئی۔
“نہیں وہ نہیں اٹھے۔۔۔ آپ ڈرائیور سے کہہ دیں کہ وہ ہمیں پارلر چھوڑ آئیں”۔ کومل نے کوشش کی کہ وہ اپنی آواز کا گیلا پن چھپا سکے۔
“اچھا؟۔ حیرت ہے۔ چلیں میں ڈرائیور سے کہہ آتی ہوں۔ آپ کے بابا کو نہیں پسند کہ لڑکیاں ڈرائیور کے ساتھ اکیلے جائیں۔ لیکن اب تو حاتم بھی نہیں اٹھا۔ آپ تیار ہو کر نیچے آئیں میں ڈرائیور سے کہہ دیتی ہوں”۔ ماما پریشان ہوگئیں تھیں۔ اس نے اثبات میں سرہلایا مگر گردن نہ موڑی۔ وہ چلی گئیں تو اس نے اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا۔ کتنا خوفناک لمحہ تھا وہ؟۔ اس کی پلکیں لرز اٹھیں۔ آنکھوں سے آنسو پھر سے بہنے لگے۔ اماں کی آواز اس کے کانوں تک پہنچی تو اس نے پانی سے چہرہ دھویا اور چادر اوڑھ کر نیچے آگئی۔
“ڈرائیور نے گاڑی نکال لی ہے۔ چلیں جائیں تاکہ گھر بھی ذرا جلدی پہنچ سکیں”۔ اماں نے اسے زبردستی باہر بجھوادیا۔ وہ لب کاٹتی گاڑی تک پہنچی۔ ڈرائیور نے بڑھ کر دروازہ کھولا۔ وہ بیٹھنے لگی تھی کہ کسی نے ہاتھ رکھ کر دروازہ بند کیا۔ وہ دشمنِ جاں اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کا دل رک سا گیا۔ اس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر حاتم نے دروازے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔ وہ لمبے چوڑے اس شخص کے سائے میں کھڑی تھی۔
“ڈرائیور کے ساتھ کیوں جارہی ہیں؟”۔ عام سا لہجہ۔ کومل نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ حاتم نے اپنے کپڑے بدلے نہیں تھے۔ وہی نیلی جینز ہر سفید ٹی شرٹ۔ اس نے نگاہیں پھیریں۔
“ہمیں دیر ہورہی یے۔ دروازے سے ہاتھ ہٹائیں”۔
وہ اسے گھور کر رہ گیا۔
“ڈرائیور! چابی دو”۔ اس نے بڑھ ڈرائیور کو حکم دیا تو ڈرائیور نے اسے قریب آکر چابی پکڑائی۔ حاتم نے دروازے پر سے اپنا ہاتھ ہٹایا۔
“آگے بیٹھ جائیں۔ پیچھیں بیٹھیں گی تو مجھے لگے گا کہ میں ڈرائیور ہوں”۔ آنکھیں چھوٹی کرکے وہ اسے بغور دیکھ رہا تھا۔ کومل اسے نظرانداز کرتی ہوئی آگے والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ اس نے مڑ کر کومل کو دیکھا اور چابی اچھالتا ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا۔ اسے دیکھ کر بلکل محسوس نہیں ہورہا تھا کہ وہ ابھی کچھ دیر پہلے غصے میں تھا۔ کومل نے اسے مکمل نظرانداز کیا۔ نجانے دل سے وہ کیوں اترتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ نہ اسے دیکھ کر مسکراہٹ لبوں پر پھیلی اور نہ دل مچلا۔ گاڑی سڑک پر رواں دواں تھی۔
“کتنے بجے تک لینا ہوگا آپ کو؟”۔ اس نے ٹہھرے ہوئے میں پوچھا۔ وہ خاموش رہی۔ اس کا غم کم نہیں ہوا تھا۔
“کومل اعوان صاحبہ! میں آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ آپ کو کب تک لینا ہوگا”۔ اس کی ناراضگی وہ بھانپ گیا تھا۔ کومل نے اپنی مخروطی انگلیاں مڑوڑی۔
“کچھ اندازہ نہیں۔ ہم ماما کو کال کرکے بتادیں گے پھر وہ آپ کو لینے بھیج دیں گی”۔ اس سب میں ایک بار بھی اس نے حاتم کو نہیں دیکھا تھا۔ دل کا حال تو صرف خدا ہی جانتا تھا۔
“میں گھر نہیں جاؤں گا۔ مجھے ذرا کچھ کام ہے۔ آپ مجھے ہی کال کرکے آگاہ کردے گا تاکہ میں آپ کو چھوڑ کر پھر سے چلا جاؤں”۔ وہ ڈرائیونگ آہستہ کررہا تھا۔ اس کی بات پر کومل نے جھٹکے سے اسے دیکھا۔
“نکاح پر آپ نہیں ہوں گے؟”۔ آنکھیں حیرت سے پھٹی تھیں۔ وہ چاہتی تھی کہ جب وہ کسی اور کے نام پر “قبول ہے” بولے تو وہ لرز اٹھے۔ اسے احساس ہو کہ اس نے ایک کومل نامی لڑکی کو گنوادیا۔
“نہیں”۔ اس نے مختصراً جواب دیا۔ کومل کا دل کٹ سا گیا۔
“کیوں؟”۔ نگاہوں میں تڑپ تھی۔ اس نے گردن پھر کر کومل کو دیکھا۔ جواب شاید اس کے پاس بھی نہیں تھا۔
“آپ کیوں نہیں آئیں گے حاتم؟”۔ سوال پھر دہرایا گیا۔
“میں کوشش کروں گا”۔ وہ اسے ٹال گیا۔
“اگر آپ نہیں آئے تو میں نکاح نامے پر دستخط نہیں کروں گی”۔ سب غم بھلا کر وہ اٹل لہجے میں بولی۔ گاڑی کو بریک لگے۔ وہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگا۔
“کیا مطلب اس بات کا؟”۔ وہ جنجھلا گیا تھا۔
“بات اتنی مشکل نہیں تھی”۔ وہ رخ موڑ کر بولی۔ حاتم کو جیسے اپنے کانوں ہر یقین نہ آیا۔ وہ کچھ نہ بولتے ہوئے پھر سے گاڑی چلانے لگا۔ پارلر کے گیٹ پر روک کر اس نے کومل کو اتارا اور بغیر کچھ کہے گاڑی کو آگے بڑھالیا۔ کومل بھی کچھ نہ بولی۔ اب ایسا تھا تو ایسا ہی سہی۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
دو گھنٹے لگا کر اسے نکاح کی دلہن کے طور پر تیار کردیا گیا تھا۔ اب وہ حاتم کے انتظار میں بیٹھی تھی۔ گاڑی کے ہارن بجنے پر وہ اپنا سامان ہاتھ میں پکڑتی باہر آئی۔ وہ پارلر کے دروازے ہر ہی کھڑا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ تیار ہونے کے بعد وہ خود سے نہیں آسکے گی۔ اس کا لہنگا زمین پر نہ لگے اس لیے اس کی مدد کرتا اس کی گاڑی میں بٹھانے لگا۔ وہ اس کی سب حرکات نوٹ کررہی تھی۔ گاڑی گیٹ کے سامنے جب رکی تھی تو اس نے دروازے پر پہنچ کر پلٹ کر ضرور دیکھا تھا۔ اس کے تاثرات جانچ کر وہ جاننا چاہتی تھی کہ یہ فنکشن میں شریک ہوگا یا نہیں۔۔۔ اس کا چہرہ ہر تاثرات سے خالی تھا۔ ایک نظر اسے سر تا پیر دیکھ وہ گاڑی آگے بڑھا کر لے گیا تھا۔ کومل کا دل بوجھل ہوا۔ وہ مرے مرے قدموں سے گھر میں داخل ہوئی۔ ان کی طرف مہمان آچکے تھے۔ اسے کمرے میں لے جایا گیا۔
“دلہن آگئی ہے” کا شور اٹھا مگر دل میں وہ جذبات بیدار نہیں ہوئے جو اس خوبصورت دن میں ہونے چاہیے تھے۔ ابا آئے اور ماتھے پر پیار کرکے اس لڑکے کی خصوصیات گنوانے لگے۔ اس بات پر کومل نے خود نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا جب انہوں نے یہ کہا کہ وہ تمہیں عزت سے رکھے گا۔ اس شخص کا لفظ عزت سے کیا واسطہ؟۔ وہ کچھ نہ بولی کہ ابا نے اپنی ہی ٹھانی ہوئی ہے۔ لڑکے والے آگئے تھے مگر وہ نہ آیا جس کا انتظار کومل کو تھا۔ نگاہیں اسے تلاش کررہی تھیں۔ آدھا گھنٹہ اور بیت گیا۔ ابا پریشان کمرے میں داخل ہوئے۔
“لڑکا نہیں آیا ابھی تک”۔ خبر سن کر پریشانی اماں کو بھی ہونے لگی۔ وہ خاموش تھی۔ اب بھی نہ بولی۔
“اپنے دوست سے پوچھیں”۔ ماما نے انگلیاں مڑوڑتے ہوئے مشورہ دیا۔
“پوچھا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں ابیر کال نہیں اٹھا رہا۔ خود گیٹ پر کھڑے اس کے آنے کا انتظار کررہے ہیں”۔ ماما ابا کی بات سن کر بستر پر گر سی گئیں۔
“ہائے یہ کیا ہورہا ہے۔ کچھ کریں آپ میری بچی دلہن بنی بیٹھی ہے”۔ سر پر مصیبت آکھڑی تھی۔ اتنے میں ابیر کی ماما بھی کمرے میں داخل ہوئیں۔
“آپ پریشان مت ہوں اس نے کال اٹھا لی ہے۔ طیب ابھی اس سے بات کرکے بتاتے ہیں کہ وہ کب آرہا ہے”۔ چہرے پر خوشی واضح تھی۔ ان کے خیال میں ان کی عزت جاتے جاتے بچی تھی۔ اتنے میں طیب صاحب اندر داخل ہوئے۔ کومل نے رخ پھیر کر اپنا چہرہ سنگھار میز کی جانب موڑ لیا۔
“وہ نہیں آرہا۔ اس نے صاف منع کردیا ہے روبینہ شادی سے۔۔۔ تمہارے بیٹے نے ہماری ناک کٹوانے کی کوئی کثر نہیں چھوڑی”۔ وہ غم سے بولے۔ کومل کا دل ڈوب کر ابھرا۔ جو بھی تھا مگر اس کے ماں باپ کی عزت تھی جسے وہ چاہ کر بھی رسوا نہیں کرسکتی تھی۔
“یہ کیا بات ہوئی طیب؟۔ تمہارے بیٹے نے یہ کیوں کیا؟”۔ بابا چیخ ہی تو پڑے تھے۔ ابیر کی ماما حیرت سے دونوں کو تکنے لگیں۔
“بھائی صاحب ہمیں نہیں معلوم تھا کہ وہ۔۔۔”۔ وہ بات مکمل کرلیتیں اگر بابا ان کی بات نہ کاٹتے۔
“اگر وہ راضی ہی نہیں تھا تو ہمیں بتایا کیوں نہیں؟”۔
“میں نے کہا تھا طیب صاحب کہ وہ اپنی من چاہی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا یے۔ اسے کرنے دیں مگر آپ کو تو دوستی آگے بڑھانی تھیں۔ کٹوالی ناک؟”۔ انہوں نے اپنا غصہ شوہر پر نکالا۔
“مجھے علم نہیں تھا کہ وہ اتنی بڑی نافرمانی کرجائے گا روبینہ”۔ ان کی تیوریاں چڑھیں۔
“یہ بحث بعد میں کیجیے گا آپ دونوں۔ ہماری بہن کی کیا غلطی تھی جو اسے اتنی بڑی سزا دی گئی”۔ تجریم کو طیش آیا۔ “چلے جائیں اپنے مہمان لے کر جتنی بےعزتی کروانی تھی آپ لوگوں نے کروادی۔۔۔ اب چلے جائیں خدا کا واسطہ یے آپ کو”۔ اس نے باقاعدہ ہاتھ جوڑ لیے۔ بابا سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
“یا خدایا اب کیا ہوگا”۔ ان کا چہرہ آنسؤوں سے تر تھا۔ طیب اور روبینہ افسوس کرتے ہوئے باہر نکل گئے۔ مولوی صاحب کو آئے آدھا گھنٹہ ہوچکا تھا۔ مہمان باہر حیران بیٹھے تھے۔
“بابا دیکھیں آپ کی دوستی نے یہ کیا کیا”۔ تحریم چیخی نہیں تھی مگر بولتے بولتے اس کی آواز رندھ گئی تھی۔ کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک شخصیت اندر داخل ہوا۔
“کیا نکاح ہوگیا؟”۔ اس کا چہرہ بے تاثر تھا۔ “لیکن آپ لوگ کیوں روریے ہیں؟۔ ارے بھئی لڑکے والے اتنی جلدی چلے گئے کیا؟۔ کوئی مجھے کچھ بتائے گا؟”۔ وہ بےدھڑک سوال کرنے لگا۔ جو جیسا تھا وہ ویسے ہی بیٹھے رہا۔ البتہ کومل سنگھار میز میں اس کا عکس دیکھ رہی تھی۔ کسی نے اسے جواب نہیں دیا۔
“چلیں کوئی نہیں۔ میں اوپر چلا جاتا ہوں”۔ وہ پیشانی کجھاتا شرمندگی کے مارے مڑنے لگا۔
“وہ چلے گئے ہیں بغیر نکاح کیے۔۔۔ ابیر نے کال پر منع کردیا”۔ بابا اب تک غم میں تھے۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹیں۔
“کیا؟؟؟”۔ اسے حیرانی ہوئی تھی۔۔۔ دکھ نہیں تھا۔
“میں کیا کروں حاتم میری بچی معاشرے میں منہ دکھانے کے لائق نہیں رہی”۔ وہ روپڑے۔ حاتم نے سنگھار میز کی جانب بیٹھی کومل کو دیکھا۔ وہ رو نہیں رہی تھی بلکہ اس کے چہرے پر تو غم کے آثار بھی نہیں تھے۔ اس نے ایک نظر باہر کھڑے مہمانوں کو دیکھا جو میزبانوں کا باہر آنے کا انتظار کررہے تھے۔
“تو اب کک۔کیا ہوگا۔ وہ شخص مجھے حرکتوں سے ہی اچھا نہیں لگا تھا”۔ وہ ہکلایا۔ تحریم نے ایک نظر کومل کو دیکھا اور پھر حاتم کو۔۔۔
“کیا آپ بہنوئی بنیں گے ہمارے”۔ اس نے جھٹ اس سے پوچھا۔ وہ حیران رہ گیا۔ بابا اور ماما نے سر اٹھا کر دونوں کو دیکھا۔ وہ خاموش اس کے جواب انتظار کرنے لگے۔ کومل نے آنکھیں پھاڑ کر آئینے میں تحریم کا عکس دیکھا۔ مگر وہ پرسکون ہوگئی۔ وہ جانتی تھی حاتم خود انکار کردے گا۔ وہ حیران ہوا مگر پھر سنبھل گیا۔
“ٹھیک ہے میں راضی ہوں مگر۔۔۔”۔ جواب تیس سیکنڈ میں آیا تھا مگر ادھورا۔ ابا کی باچھیں کھل اٹھیں۔ کومل کا دل دھک سا رہ گیا۔
“مگر کیا؟”۔ اس نے بنھویں اچکائیں۔
“مگر رخصتی بھی ابھی ہوگی”۔ اس نے اپنے دل کی بات زبان سے ادا کی۔ کومل کا دل رک سا گیا۔
“تمہارا بہت شکریہ بیٹے”۔ انہوں نے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا تھا۔
“مگر ہم راضی نہیں”۔ وہ جھٹکے سے اس کی جانب مڑی۔ تحریم کو بےجا حیرانی ہوئی۔
“کیوں؟”۔ وہ پوچھے بنا نہیں رہ سکی۔
“ہمیں خود غرض لوگوں کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کرنا”۔ لہجے میں غصہ تھا۔ وہ ہنس پڑا۔۔۔
“آپ لوگ مولوی صاحب کا حوصلہ بڑھائیں اور مہمانوں کو دیکھیں۔ دلہن کو راضی کرکے لانا میری اور تحریم کی ذمہ داری”۔ نیچلا لب دانتوں سے کاٹتے ہوئے وہ شرارتاً بولا۔ ابا نے ماما کا ہاتھ پکڑا اور باہر نکل گئے۔ تحریم نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔
“اب آہی گیا ہے آپ کی فیری ٹیل کہانیوں کا شہزادہ تو اب ظالم شہزادی بننے کی ضرورت نہیں آپ کو! چلیں باہر چلیں”۔ اس نے کومل کا لہنگا سنبھالا اور باہر لے جانے لگی۔ وہ چوکھٹ پر کھڑا ہنسی دباتا رہا۔ کومل اس کا صبح والا رویہ بھولی نہیں تھی۔
“آپ جب تک نکاح کریں مجھ سے۔۔۔ میں آپ سے کمرے میں ملوں گا”۔ وہ اس کے ساتھ باہر چلتے ہوئے جارہا تھا۔ کومل کو غصہ چڑھا۔ مولوی صاحب نکاح پڑھانے لگے تھے تو اس نے بد دلی سے “قبول ہے” کے لفظ دہرائے تھے۔۔۔ نکاح کے بعد اسے کمرے میں لے جایا گیا۔ پھولوں کے بکے جو مہمان ساتھ لائے تھے اسے کمرے میں رکھ دیا تھا۔ صبح کا بےحال کمرا منٹوں میں صاف کروایا تھا۔ سفید چادر پر وہ سمٹی بیٹھی تھی۔ ایک گھنٹے بعد مہمانوں سے فارغ ہو کر وہ کمرے میں آیا تھا۔ وہی نیلی جینز اور سفید ٹی شرٹ۔۔۔ اس کی آنے پر کومل نے خود سے اپنا گھونگھٹ اٹھالیا۔ وہ اس کے قریب آکر بستر پر دھم سے گرا۔ کومل اسے مکمل نظر انداز کرتے ہوئے اپنی چوڑیاں اتارنے لگی۔ وہ اس کی حرکت نوٹ کررہا تھا۔ ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھ کر وہ کروٹ لے کر اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ باری باری اپنی چوڑیاں اتار کر رکھ رہی تھی۔
“میرے پاس منہ دکھائی نہیں ہے”۔ وہ اسے آگاہ کرنے لگا۔
“یہ منہ آپ کو دکھانے کے لیے گھونگھٹ نہیں اٹھایا ہم نے اور نہیں چاہیے ہمیں آپ کی دی ہوئی کوئی چیز”۔ اس نے بغیر اسے دیکھے اپنی بات مکمل کی۔
“میرے کمرے میں بیٹھی ہوئی ہیں”۔ اس نے جیسے اسے باور کروایا۔ کومل نے “ہونہہ” کیا۔
“میں نے کہا تھا ایک دفعہ کہ میرا دل جس لڑکی کے لئے دھڑکے گا وہی میری زندگی میں شامل ہوگی۔ جس کے آنے سے میرے لبوں پر مسکراہٹ آئے گی اور میں اس کا اسیر ہوجاؤں گا”۔ وہ اسے کیا بتانا چاہتا تھا۔ وہ سوچ کر رہ گئی۔
“مگر افسوس کے ساتھ مجھ سے شادی ہوگئی آپ کی۔۔۔ سوکن لے آئے گا اب کیا کہہ سکتے ہیں”۔ وہ نظریں پھیر کر بولی۔
“آپ جیسی کیا ایک اور ملے گی؟”۔ اس نے آنکھیں چھوٹی کرکے اس سے پوچھا۔ وہ لاجواب ہوئی۔
“وہ حسینہ بےچاری تو رورہی ہوگی؟”۔ اس نے سوال کیا۔
“نہیں ناراض ضرور ہے”۔ حاتم نے اسے غور سے دیکھا۔ کومل کا دل رک سا گیا۔
“محبت نہیں مل سکی آپ کو۔۔۔ افسوس ہے ہمیں”۔ اسے ذرہ برابر افسوس نہیں تھا۔
“مگر مجھے تو مل گئی”۔ اس کے انکشاف پر چوڑیاں اتارتی کومل نے نگاہ اٹھائی۔
“آپ نے شادی کرکے رکھی ہوئی ہے؟”۔ اسے صدمہ لگا۔
“لو۔۔۔ اس کے منہ سے قبول ہے میں نے خود سنا ہے”۔ وہ ہاتھ پر ہاتھ مارتا ہو بولا۔۔۔
“کب شادی کی تھی آپ نے؟”۔ اس نے صدمے سے چور پوچھا۔
“ہفتے کے روز شام چار بجے”۔ حاتم نے دیوار پر گھڑی دیکھی۔ کومل اس کو گھڑی دیکھتے ہوئے نہ پکڑ سکی۔ اس کی آنسو آنکھوں سے بہنے لگے۔
“پہلے کیوں نہیں بتایا؟”۔ وہ بہتے آنسو کے ساتھ بولی۔
“لو جی! مجھے خود آج مولوی صاحب کے جانے کے بعد پتا چلا تھا کہ میرا نکاح ہوئے آدھا گھنٹہ ہوگیا ہے”۔ وہ بات اب سیدھے طریقے سے بولا تھا۔ کومل ششدر رہ گئی۔ تو کیا وہ؟؟؟۔
“لگتا ہے محترمہ آپ “قبول ہے” بولنے کے ساتھ ساتھ دستخط کرکے بھی بھول گئی ہیں۔۔۔”۔ وہ اچھل کر اس کے قریب آکر بیٹھا۔ ہاتھ دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
“میری بات کررہے ہیں؟”. وہ اب تک بےیقین تھی۔
“نہیں جی پڑوسیوں کی کررہا ہوں”۔ وہ چڑ گیا۔
“مگر۔۔۔ آپ تو مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے تھے”۔ کومل نے ماتھے پر بل ڈال کر پوچھا۔
“اگر شادی نہیں کرنا چاہتا تو یہاں نہ ہوتیں آپ”۔ اس کی ناک دباتا ہوا دھیرے سے بولا۔ کومل نے لب بھینچے۔ یہ کون سا سحر تھا بھلا؟۔
“یہ محبت تو نہیں ہے”۔ اس نے جھٹ نفی میں سر ہلایا۔ حاتم نے ہنس کر چہرہ اس کے کان کے قریب کیا۔
“نہیں یہ آپ کے عشق کا سحر ہے جو آپ نے چلا کر محبوب کو اپنے قدموں میں ڈال دیا”۔ اس نے سرگوشی کی۔ ایک کرنٹ سا کومل کے بدن میں دوڑا۔ اس نے آنکھیں جھپکیں جیسے خواب سے بیدار ہونا چاہتی ہو۔
“آپ کو۔۔۔”۔ وہ کہنے لگی تھے کہ حاتم نے اس کی بات کاٹی۔۔
“ہاں میں غصے میں تھا۔۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کیوں خفا ہیں مگر یوں کمرے میں آجانا وہ بھی ایک نامحرم کے کمرے میں ٹھیک نہیں ہوتا کومل۔۔۔ سوچیے گا ضرور”۔ اس نے اس کے ہاتھ دھیرے سے دبائے۔ ہاں وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ اس نے سرخ ہوتے رخساروں کے ساتھ نگاہیں جھکائیں۔
“اب تو یہ کمرا آپ کا ہے”۔ حاتم نے اس کے جھکے سر کو اونچا کیا۔ “اور یہ بندہ ناچیز بھی”۔ اس کی باتیں اپنا الگ سحر چلا رہی تھیں۔ گلابوں کی بھینی بھینی خوشبو اپنا اسیر کررہی تھیں۔
“اے لڑکی ہمارے ساتھ محبت کے اس سفر میں شامل ہوگی؟”۔ وہ اسی کے انداز میں بولا تھا۔ پہلی بار وہ ہنس پڑی تھی۔ حاتم کے پھیلے ہاتھوں پر اس نے اپنے دونوں ہاتھ رکھ دیے تھے۔ اس شخص کو کومل نے دل سے چاہا تھا۔۔۔ وہ شخص اس کے عشق کے سحر میں آچکا تھا۔ کیا یہ کافی نہیں تھا؟۔