Tere Ishq Ke Shehar Mein (Afsaana) By Ayna Baig Readelle50172 Last updated: 18 August 2025
No Download Link
Rate this Novel
Tere Ishq Ke Shehar Mein (Afsaana)
By Ayna Baig
دسمبر کی ٹھنڈک خون کو جمانے کے لئے کافی تھی۔ شبنم کے قطرے پھولوں کو تر کررہے تھے۔ وہ ان پر نظر ڈالتا گارڈن کی کرسی پر بیٹھا۔ کالے آسمان پر بادل کے ٹکڑے اس کی خوبصورتی بڑھا رہے تھے۔ وہ انہیں دیکھنے میں اس قدر محو تھا کہ اسے اس لال جوڑے والی کی موجودگی کی خبر ہی نہ ہوئی۔ چاند کی چاندی سے اس کا دل مچل رہا تھا۔ اسے یہ نظارے پسند تھے۔ وہ روز یوں رات میں آکر اسی انداز میں بیٹھا کرتا تھا۔ ہوائیں اسے خوشامد کہتیں اور وہ ہمیشہ کی طرح نہال ہوجاتا۔ "اے لڑکے ہم سے شادی کرو گے؟" وہ ہمیشہ کی طرح یوں اس کے سامنے کرسی پر آبیٹھی۔ وہ ایک دم مسکرایا جس دم بادل بھی مسکرائے۔ وہ مسکراہٹ جو اس کے آجانے سے یوں لبوں پر آجاتی۔ وہ احساس جس سے ابھی وہ خود بھی آشنا نہ تھا۔ "تو بتایئے کومل اعوان صاحبہ! دو تین لڑکیاں اور کہاں ہیں؟" وہ اسے چھیڑتا ہوا بولا۔ تیز ہوا اس لال جوڑے والی لڑکی کے بالوں کو تنگ کرنے لگی۔ اس کی زلفیں اس کی آنکھوں اور لبوں سے ٹکرانے لگی۔ "آپ کے لئے ہم ہی کافی ہیں!" وہ منہ پھلا کر بولی۔ وہ بے ساختہ ہنس دیا۔ اس لڑکی کے جوڑے کا رنگ اسے اس کے چہرے پر محسوس ہوا۔ "جبھی تو پوچھ رہا ہوں کومو! بتائیں اس "ہم" میں کتنی لڑکیاں اور ہیں!؟" اس کے لبوں کے پیچھے ایک مسکراہٹ عیاں تھی۔ وہ اسے خفا خفا سی نظروں سے تکنے لگی۔ چہرہ مرجھانے لگا۔ وہ ہر جہاں سے بےنیاز اس لال جوڑے اور کالی زلفیں والی لڑکی کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ "ہمارے سوال کا جواب تو دیجئیے" وہ ماتھے پر بل ڈالے اس سے پوچھ رہی تھی۔ ہوا تیز چلی اور پودے ہل چل کرنے لگے۔ اس نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا تو اس کے ہاتھ میں موجود چوریوں کی کھنکھناہٹ اس سنسان وادی کے مکین کو محسوس ہوئی۔ "کومل اعوان! میرا دل جس لڑکی کے لئے دھڑکے گا وہی میری زندگی میں شامل ہوگی۔ جس کے آنے سے میرے لبوں پر مسکراہٹ آئے گی اور میں اس کا اسیر ہوجاؤں گا! اس لمحے کا اسیر ہوجاؤں گا!" وہ آسمان کو تکتے ہوئے بتا رہا تھا۔ مقابل بیٹھی لڑکی کے چہرے کا رنگ بدلا اور اس نے تھکے سے انداز میں چاند کو دیکھا جو بادلوں میں چھپ رہا تھا۔ دل چاہا شکوہ کر ڈالے۔ آنکھیں جو اس نے بےدردی سے میچیں اور کھڑی ہوگئی۔ ایک شکوہ کن نظر اس نے آسمان پر موجود چاند پر ڈالی اور اندر کی جانب چلی گئی۔ اور وہ! اسے تو جیسے پتا ہی نہ چلا کہ مقابل بیٹھی وہ لڑکی اب ہر بار کی طرح دل ہی دل میں اس سے روٹھ کر چلی گئی ہے۔ اس نے سامنے کرسی پر دیکھا تو چونک اٹھا۔ وہ چلی گئی مگر اس کا دل ویران کر گئی۔ ۔۔۔★★۔۔۔ "میں نے کہا تھا کومل! وہ آپ کو نہیں چاہتا ہے مگر آپ اتنی نافرمان کیوں ہیں؟؟" وہ مٹھیاں بھینچے ہوئے کمرے میں غصے سے ٹہل رہی تھی۔ "ہم نافرمان نہیں ہیں! ہمیں تنگ نہ کرو تحریم" وہ ماتھے پر بل ڈالے پھول کو توڑتے ہوئے بولی۔ تحریم چلتے چلتے رکی۔۔۔ "ہاں نافرمان تو میں ہوں بلکہ احمق بھی میں ہی ہوں جو آپ کو سمجھانے چلی ہوں"۔ خونخوار نظروں سے اس نے کومل کو گھورا۔۔۔ بجلی چمکی اور زوردار آواز نمودار ہوئی۔ کومل نے گردن موڑ کر ٹیرس کی طرف دیکھا جہاں سے کھلا آسمان نظر آرہا تھا۔ "بجلی" اس کا رنگ فق ہوا۔ "آپ کب سے اتنا ڈرنے لگیں؟" تحریم حیران تھی۔ کومل تیزی سے بستر سے اتری۔ "کہاں جارہی ہیں آپ؟" اسے بھاگتے دیکھ کر اس نے پوچھا۔ "وہ نیچے گارڈن میں بیٹھے ہیں۔ کہیں انہیں کچھ نہ ہو جائے" وہ بھاگتے ہوئے ٹیرس پر آئی اور جھانک کر نیچے گارڈن میں دیکھنے لگی۔ بارش شروع ہوچکی تھی۔ وہ کوٹ سے سر ڈھکتا اسے لاؤنج کی طرف بھاگتا ہوا جاتے دکھا۔ "وہ اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں" تحریم دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اسے لاؤنج کی طرف بڑھتے دیکھ کر کومل سے بولی۔۔۔ " اگر تاخیر کرتے تو کچھ برا ہوسکتا تھا۔۔۔" وہ اب دھڑکتے دل سے خالی گارڈن کو دیکھ رہی تھی۔ " اور اگر آپ نے تاخیر کی تو آپ بارش کے پانی سے مکمل بھیگ جائیں گی۔ میں اندر جارہی ہوں تو آئیں آپ بھی چلیں جلدی سے" وہ اس کا ہاتھ تھامتی اسے اندر لے آئی۔ "اتنی دکھی نہ رہا کریں کومل" اسے دکھی دیکھ کر وہ بھی دکھی ہوجایا کرتی تھی۔ کومل نے نفی میں سرہلایا۔ "اب ہم بھی کیا کریں تحریم!" لہجے میں بےچارگی صاف عیاں تھی۔ "دماغ میں بٹھالیں یہ بات اپنی کہ وہ آپ کو نہیں چاہتا۔ وہ اسی سے شادی کرے گا جس سے وہ محبت کرے گا اور وہ آپ سے محبت نہیں کرتا! خدا کا واسطہ ہے اس کے لئے اپنی زندگی خراب نہ کریں! ماما نے بتایا کہ آپ کے لئے رشتہ آرہا ہے؟ اچھی بات ہے! اگر وہ آپ کو پسند آجائیں تو ہاں بول دیجئیے گا لیکن اس شخص کی وجہ سے خود کے ساتھ ظلم نہ کرے گا" وہ ہاتھ جوڑ کر اپنا غصے نکال رہی تھی۔ "ہمیں جب تک کوشش تو کرنے دیں تحریم آپ" وہ روہانسی ہوئی۔ "کیا کوشش؟ کیا کریں گی؟ ان سے کہیں گی کہ وہ آپ سے شادی کرلیں ورنہ آپ مرجائیں گی؟ عزتِ نفس بھی کوئی چیز ہوتی کومل اعوان" "میں انہیں کہوں گی" آنسو بہہ نکلے۔ "کیا کہیں گی؟" وہ دونوں ہاتھ پھر سے سینے پر باندھ کر اس سے پوچھنے لگی۔ "یہی کہ میں ان سے محبت کرتی ہوں" دائیں ہاتھوں سے گال رگڑے۔ "یہ آپ ہر ملاقات پر کہتی ہیں مگر وہ ہر بار ہنس جاتے ہیں! آپ کی نادانی پر، آپ کی بےوقوفی پر!" "مگر تحریم کبھی تو وہ سوچیں گے میرے بارے میں" وہ یقین سے بولی۔ "اور تب تک آپ کیا کریں گی؟" اسے سمجھانا ممکن نہ تھا۔ "اُس وقت کا انتظار۔۔۔!" وہ کہہ کر رکی نہیں بھاگ گئی مگر بھاگتے ہوئے یہ کہنا نہ بھولی۔ "ہم ان سے محبت کرنا کبھی نہیں چھوڑ سکتے" کمرے میں وہ اپنی گونجتی آواز چھوڑ گئی تھی۔ ۔۔۔★★۔۔۔۔
