No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
افسانہ “تیرے عشق کے سحر میں” از قلم عینا بیگ۔
باب اول
دسمبر کی ٹھنڈک خون کو جمانے کے لئے کافی تھی۔ شبنم کے قطرے پھولوں کو تر کررہے تھے۔ وہ ان پر نظر ڈالتا گارڈن کی کرسی پر بیٹھا۔ کالے آسمان پر بادل کے ٹکڑے اس کی خوبصورتی بڑھا رہے تھے۔ وہ انہیں دیکھنے میں اس قدر محو تھا کہ اسے اس لال جوڑے والی کی موجودگی کی خبر ہی نہ ہوئی۔ چاند کی چاندی سے اس کا دل مچل رہا تھا۔ اسے یہ نظارے پسند تھے۔ وہ روز یوں رات میں آکر اسی انداز میں بیٹھا کرتا تھا۔ ہوائیں اسے خوشامد کہتیں اور وہ ہمیشہ کی طرح نہال ہوجاتا۔
“اے لڑکے ہم سے شادی کرو گے؟” وہ ہمیشہ کی طرح یوں اس کے سامنے کرسی پر آبیٹھی۔ وہ ایک دم مسکرایا جس دم بادل بھی مسکرائے۔ وہ مسکراہٹ جو اس کے آجانے سے یوں لبوں پر آجاتی۔ وہ احساس جس سے ابھی وہ خود بھی آشنا نہ تھا۔
“تو بتایئے کومل اعوان صاحبہ! دو تین لڑکیاں اور کہاں ہیں؟” وہ اسے چھیڑتا ہوا بولا۔ تیز ہوا اس لال جوڑے والی لڑکی کے بالوں کو تنگ کرنے لگی۔ اس کی زلفیں اس کی آنکھوں اور لبوں سے ٹکرانے لگی۔
“آپ کے لئے ہم ہی کافی ہیں!” وہ منہ پھلا کر بولی۔
وہ بے ساختہ ہنس دیا۔ اس لڑکی کے جوڑے کا رنگ اسے اس کے چہرے پر محسوس ہوا۔
“جبھی تو پوچھ رہا ہوں کومو! بتائیں اس “ہم” میں کتنی لڑکیاں اور ہیں!؟” اس کے لبوں کے پیچھے ایک مسکراہٹ عیاں تھی۔ وہ اسے خفا خفا سی نظروں سے تکنے لگی۔ چہرہ مرجھانے لگا۔ وہ ہر جہاں سے بےنیاز اس لال جوڑے اور کالی زلفیں والی لڑکی کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
“ہمارے سوال کا جواب تو دیجئیے” وہ ماتھے پر بل ڈالے اس سے پوچھ رہی تھی۔ ہوا تیز چلی اور پودے ہل چل کرنے لگے۔ اس نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا تو اس کے ہاتھ میں موجود چوریوں کی کھنکھناہٹ اس سنسان وادی کے مکین کو محسوس ہوئی۔
“کومل اعوان! میرا دل جس لڑکی کے لئے دھڑکے گا وہی میری زندگی میں شامل ہوگی۔ جس کے آنے سے میرے لبوں پر مسکراہٹ آئے گی اور میں اس کا اسیر ہوجاؤں گا! اس لمحے کا اسیر ہوجاؤں گا!” وہ آسمان کو تکتے ہوئے بتا رہا تھا۔ مقابل بیٹھی لڑکی کے چہرے کا رنگ بدلا اور اس نے تھکے سے انداز میں چاند کو دیکھا جو بادلوں میں چھپ رہا تھا۔ دل چاہا شکوہ کر ڈالے۔ آنکھیں جو اس نے بےدردی سے میچیں اور کھڑی ہوگئی۔ ایک شکوہ کن نظر اس نے آسمان پر موجود چاند پر ڈالی اور اندر کی جانب چلی گئی۔ اور وہ! اسے تو جیسے پتا ہی نہ چلا کہ مقابل بیٹھی وہ لڑکی اب ہر بار کی طرح دل ہی دل میں اس سے روٹھ کر چلی گئی ہے۔ اس نے سامنے کرسی پر دیکھا تو چونک اٹھا۔ وہ چلی گئی مگر اس کا دل ویران کر گئی۔
۔۔۔★★۔۔۔
“میں نے کہا تھا کومل! وہ آپ کو نہیں چاہتا ہے مگر آپ اتنی نافرمان کیوں ہیں؟؟” وہ مٹھیاں بھینچے ہوئے کمرے میں غصے سے ٹہل رہی تھی۔
“ہم نافرمان نہیں ہیں! ہمیں تنگ نہ کرو تحریم” وہ ماتھے پر بل ڈالے پھول کو توڑتے ہوئے بولی۔ تحریم چلتے چلتے رکی۔۔۔
“ہاں نافرمان تو میں ہوں بلکہ احمق بھی میں ہی ہوں جو آپ کو سمجھانے چلی ہوں”۔ خونخوار نظروں سے اس نے کومل کو گھورا۔۔۔ بجلی چمکی اور زوردار آواز نمودار ہوئی۔ کومل نے گردن موڑ کر ٹیرس کی طرف دیکھا جہاں سے کھلا آسمان نظر آرہا تھا۔
“بجلی” اس کا رنگ فق ہوا۔
“آپ کب سے اتنا ڈرنے لگیں؟” تحریم حیران تھی۔
کومل تیزی سے بستر سے اتری۔
“کہاں جارہی ہیں آپ؟” اسے بھاگتے دیکھ کر اس نے پوچھا۔
“وہ نیچے گارڈن میں بیٹھے ہیں۔ کہیں انہیں کچھ نہ ہو جائے” وہ بھاگتے ہوئے ٹیرس پر آئی اور جھانک کر نیچے گارڈن میں دیکھنے لگی۔ بارش شروع ہوچکی تھی۔ وہ کوٹ سے سر ڈھکتا اسے لاؤنج کی طرف بھاگتا ہوا جاتے دکھا۔
“وہ اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں” تحریم دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اسے لاؤنج کی طرف بڑھتے دیکھ کر کومل سے بولی۔۔۔
” اگر تاخیر کرتے تو کچھ برا ہوسکتا تھا۔۔۔” وہ اب دھڑکتے دل سے خالی گارڈن کو دیکھ رہی تھی۔
” اور اگر آپ نے تاخیر کی تو آپ بارش کے پانی سے مکمل بھیگ جائیں گی۔ میں اندر جارہی ہوں تو آئیں آپ بھی چلیں جلدی سے” وہ اس کا ہاتھ تھامتی اسے اندر لے آئی۔
“اتنی دکھی نہ رہا کریں کومل” اسے دکھی دیکھ کر وہ بھی دکھی ہوجایا کرتی تھی۔ کومل نے نفی میں سرہلایا۔
“اب ہم بھی کیا کریں تحریم!” لہجے میں بےچارگی صاف عیاں تھی۔
“دماغ میں بٹھالیں یہ بات اپنی کہ وہ آپ کو نہیں چاہتا۔ وہ اسی سے شادی کرے گا جس سے وہ محبت کرے گا اور وہ آپ سے محبت نہیں کرتا! خدا کا واسطہ ہے اس کے لئے اپنی زندگی خراب نہ کریں! ماما نے بتایا کہ آپ کے لئے رشتہ آرہا ہے؟ اچھی بات ہے! اگر وہ آپ کو پسند آجائیں تو ہاں بول دیجئیے گا لیکن اس شخص کی وجہ سے خود کے ساتھ ظلم نہ کرے گا” وہ ہاتھ جوڑ کر اپنا غصے نکال رہی تھی۔
“ہمیں جب تک کوشش تو کرنے دیں تحریم آپ” وہ روہانسی ہوئی۔
“کیا کوشش؟ کیا کریں گی؟ ان سے کہیں گی کہ وہ آپ سے شادی کرلیں ورنہ آپ مرجائیں گی؟ عزتِ نفس بھی کوئی چیز ہوتی کومل اعوان”
“میں انہیں کہوں گی” آنسو بہہ نکلے۔
“کیا کہیں گی؟” وہ دونوں ہاتھ پھر سے سینے پر باندھ کر اس سے پوچھنے لگی۔
“یہی کہ میں ان سے محبت کرتی ہوں” دائیں ہاتھوں سے گال رگڑے۔
“یہ آپ ہر ملاقات پر کہتی ہیں مگر وہ ہر بار ہنس جاتے ہیں! آپ کی نادانی پر، آپ کی بےوقوفی پر!”
“مگر تحریم کبھی تو وہ سوچیں گے میرے بارے میں” وہ یقین سے بولی۔
“اور تب تک آپ کیا کریں گی؟” اسے سمجھانا ممکن نہ تھا۔
“اُس وقت کا انتظار۔۔۔!” وہ کہہ کر رکی نہیں بھاگ گئی مگر بھاگتے ہوئے یہ کہنا نہ بھولی۔
“ہم ان سے محبت کرنا کبھی نہیں چھوڑ سکتے” کمرے میں وہ اپنی گونجتی آواز چھوڑ گئی تھی۔
۔۔۔★★۔۔۔
“اچھے سے تیار ہوجائیے گا کومل آپ” ماما نے کومل کے ہاتھ سے چائے کا کپ تھامتے ہوئے اسے ہدایت دی۔
“کیوں ماما؟” وہ حیرانی سے پوچھتے ہوئے صوفے پر بیٹھی۔
“تمہیں دیکھنے تمہارے بابا کی دوست کی فیملی آرہی ہے! انہیں تم اپنے بیٹے کے لیے پسند ہو اور کومل میں نہیں چاہتی کہ آپ کوئی بدمزگی پیدا کریں”۔ چائے کا گھونٹ پیتے ہوئے وہ اسے سمجھا رہی تھیں۔
“مگر ہم نے کہا تھا کہ ہم شادی نہیں کرنا چاہتے” وہ انگلیاں مڑوڑتے ہوئے بولی۔
“کیا کہہ رہی ہیں آپ اور کب تک کہتی رہیں گی یہ آپ؟۔ کیا آپ کو کوئی پسند ہے؟” اس بار لہجہ میں بلا کی سختی تھی۔
“نہیں ماما”
“اگر پسند ہے تو آپ ہمیں بتاسکتی ہیں کوئی روک ٹوک نہیں” اب کی بار لہجہ نرم تھا۔
“نہیں ماما” وہ کہنا تو بہت کچھ چاہتی تھی مگر لفظ ساتھ ہی نہیں دے رہے تھے۔ وہ کہے تو کیوں کہے؟ وہ ان فیری ٹیلز کی شہزادی نہیں تھی جن کی دلی مراد زبان سے ادا کرنے پر ہی پوری کردی جاتی تھی۔ وہ ایک عام لڑکی تھی مگر خوبصورت۔ وہ فیری ٹیلز کی دیوانی رہی تھی۔ بچپن سے پڑھتی آئی تھی۔ جب اسے اس شرارتی لڑکے سے محبت ہوئی تھی تب اس نے جانا تھا کہ محبت ہونا آسان کام ہے! محبت ملنا مشکل ترین! وہ اس کا آخری دن تھا جب اس نے وہ فیری ٹیلز کی کہانیاں پڑھیں۔ اس کے بعد کہانیوں کی کتابیں اٹھا کر اسٹور میں رکھوادیں۔ کیونکہ وہ جان گئی تھی کہ ان کہانیوں کا اصلی زندگیوں سے کوئی واسطہ نہیں۔ ایسا نہیں تھا کہ اس نے پڑھنا چھوڑ دیا تھا! اس نے پڑھنا نہیں چھوڑا تھا مگر پڑھنے کا انداز تبدیل کردیا تھا۔ وہ اب کتابیں نہیں بلکہ اس کی آنکھیں پڑھا کرتی تھی جو کہ بہت مشکل تھا! مگر محبت کے لئے تو کچھ بھی۔۔۔!
“تو آپ تیار ہوجائیے جاکر شاباش۔ میں کوئی بدمزگی نہیں چاہتی! مجھے اچھا نہیں لگتا آپ کے لئے بار بار آئے رشتوں کو انکار کروں! سمجھ رہی ہیں آپ؟ اب اگر وہ آپ کو پسند کرجاتے ہیں تو آپ سے رائے لے کر ہم ہاں کردیں گے! جائیے کمرے میں تیار ہونے!” وہ غصہ نہیں تھیں مگر لہجہ کافی حد تک سخت اختیار کیا ہوا تھا۔
“جی” وہ کہتی وہاں سے پلٹی ہی تھی کہ پیچھے تحریم کھڑی نظر آئی۔ ایک اداس نگاہ اس پر ڈال کر کومل آگے بڑھ گئی۔ آج تو لگتا تھا کہ موسم بھی سب سے ناراض تھا۔ شاید دکھی بھی تھا! بلکل اس کی طرح! وہ رونا چاہتی تھی مگر یہ دیکھ کر بہل گئی کہ اس کے حصے کے آنسو بادل بہا رہا ہے! یقیناً وہ اس کے لئے ہی رورہے تھے۔ وہ گارڈن میں چہرہ آسمان کی طرف رکھے کھڑی تھی۔
“چلو کوئی تو ہمارے غم میں شریک ہے” پھیکی مسکراہٹ لبوں پر لاتے ہوئے وہ خالی جذبات سے بولی تھی۔ نگاہیں بے اختیار دوسری منزل کی کھڑکی کی جانب اٹھی تھی۔ کھڑکی بند تھی اور پردے بھی لگے ہوئے تھے۔ وہ سورہا تھا اور وہ تڑپ رہی تھی۔
“شاید انہیں علم نہیں ورنہ اس کے چہرے پر بھی اداسی پھیل جائے”۔ کہیں نہ کہیں امید تھی یا پھر خوش فہمی۔
“انہیں علم ہو یا نہ ہو فرق نہیں پڑتا! وہ تمہیں چاہتے ہی نہیں” دماغ اور دل آپس میں لڑنے لگے۔
“کہیں نہ کہیں جذبات تو ہوں گے۔۔۔ کیا پتا وہ اظہار کرنے میں جھجکتے ہوں! ہوسکتا وہ بھی محبت کرتے ہوں۔۔۔”
“محبت کا لفظ تو استعمال مت کرو! وہ یہ لفظ سے آشنا نہیں”۔ اور دماغ اس بحث میں جیت گیا۔ کرب سے کومل نے آنکھیں میچیں۔ کل رات سے ہی بادل برس رہے تھے۔ مگر اب بارش میں بہت حد تک کمی آچکی تھی۔ ہلکی ہلکی بارش دوسرے لوگوں کے لئے موسم کو خوبصورت بنا رہی تھی اور اس کے دل کو اداس!۔
کیا کریں گے اب جب محبت ہو ہی گئی؟ ایسا نہ ہو یہ شخص ہمارا ہو ہی نہ سکے اور بہت بعد میں ہم سے کبھی کوئی پوچھے گا تو کیا؟ ہماری داستان سن کر لبوں پر آئے گا صرف ایک واحد سوال! پریشان کن! اہم ترین!
“تو دل کا کیا ہوا؟”
اور جواب!
ہم خاموش! لب سل جائیں گے اور زبانوں پر مہر لگ جائے گی۔
“اور دل کی روح مر گئی”
بس ایسا وقت خدا کبھی نہ لائے۔
“آپ تیار ہوگئیں کومل” ماما کی آواز اسے اصلی دنیا میں واپس لے آئی۔ وہ جو ہلکی ہلکی سی بارش میں بھیگ چکی تھی۔ اندر کی طرف بڑھ گئی۔
۔۔۔★★۔۔۔
“اچھی لگ رہی ہیں آپ کومل۔ بے حد خوبصورت!” اپنے سے دو سالہ بڑی بہن کو دیکھتے ہوئے تحریم کے لبوں سے الفاظ آذاد ہوئے۔
“کیا فرق پڑتا ہے”۔ کانوں میں بےدلی سے ٹاپس پہنتے ہوئے آہ بھری۔
“ہم نے اس لڑکے کی تصویر دیکھی تھی۔ وہ واقعی اچھا ہے”
“ہمیں فرق نہیں پڑتا وہ کیسا ہے”۔
“کیا اب بھی نہیں پڑے گا؟”۔
“دعا کریں یہ رشتہ ختم ہوجائے تحریم”۔ وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بےبسی سے بولی۔
“ہم آپ کے لئے برا سوچ بھی نہیں سکتے آپ اس دعا کی بات کرتی ہیں؟”
“کیا وہ اٹھ گئے؟”
“کون؟”
“حاتم سعید” وجود بےجان ہورہا تھا۔
“نہیں وہ سورہے ہیں”
کومل کا دل چاہا کہ اسے جاکر جنجھوڑ کر اٹھائے اور کہے کہ اب تو اٹھ جاؤ۔ اب تو دیکھ لو!
تحریم نے اسے بےچارگی سے دیکھا۔
“اگر وہ آپ سے محبت کرتے تو آج کے دن سو نہیں رہے ہوتے کومل” اس کے ہاتھوں کو تھام کر وہ بےحد جذب سے بول رہی تھی۔ کومل مرجھا سی گئی۔
نیچے سے شور کی آوازیں اٹھیں تو وہ جان گئی کہ وہ آگئے ہیں۔
“لگتا ہے وہ آگئے! ہم نیچے جارہے ہیں۔ اب آپ بھی آجائے گا” وہ مڑ گئی۔
کومل کو بےاختیار رونا آیا۔
اس کا دل چاہا اس شخص کا گریبان پکڑ لے۔
کچھ وقت گزرا تھا جب کومل کو ماما نے آواز دی۔
وہ بے دلی سے سر پر ڈوپٹہ رکھ کر نیچے اتری۔ ماما نے اس کو چائے کی ٹرے تھمائی اور اس کے ساتھ ڈرائینگ روم میں داخل ہوئیں۔
کومل نے سلام کیا اور سب کو چائے دینے لگی۔ لڑکا ساتھ آیا تھا اور اب اسے سر تا پیر دیکھ رہا تھا۔
“ابیر کو بھی چائے دو کومل” ماما نے تاکید کی اور مہمانوں سے گفتگو کرنے لگیں۔ بابا بھی اپنے دوست سے بات کرنے میں مصروف تھے۔ وہ لڑکا دوسرے صوفوں سے کچھ دور بیٹھا تھا۔
“چینی کتنی لیتے ہیں؟” مدھم آواز میں پوچھا۔
“جتنی آپ ڈال دیں!” اس کے اس طرح کہنے پر کومل نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا جو اوپر سے نیچے تک اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔ کومل کو وہ پہلی نظر میں ہی برا لگا۔ اس نے چار چمچ بھر بھر کر چینی اس کے کپ میں ڈال دی اور اب چمچ سے ہلانے لگی۔ وہ اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ گومل کو کوفت محسوس ہوئی۔ اس نے چائے کا کپ آگے کیا تو اس نے تھامنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا۔ تھام وہ کپ کو رہا تھا مگر نظریں کومل کے وجود کا طواف کررہی تھی۔ اسی اثناء میں اس سے چائے کا کپ چھلکا اور چھینٹے اس کے ہاتھ پر جا گریں۔ جلن کے مارے وہ بلبلا ہی اٹھا تھا۔ کومل نہ تو گھبرائی اور نہ گڑبڑائی بلکہ سکون سے اس کو تڑپتا ہوا دیکھنے گی۔
“کیا ہوا ابیر؟” ابیر کی ماں نے پریشانی سے پوچھا۔
“وہ چائے چھلک لگ گئی ہاتھوں پر”۔ وہ تڑپتا ہوا بولا۔
“اسے واش روم کا راستہ دکھا دو کومل”۔ بابا کی آواز پر وہ پیچھے مڑ کر بابا کو دیکھنے لگی۔ بابا نے اس کے تاثرات بخوبی دیکھے تھے۔ وہ بےدلی سے اٹھی۔ آگے آگے کومل چل رہی تھی جبکہ پیچھے اس کا جائزہ لیتے ہوئے وہ اس کے ساتھ چل رہا تھا۔
“یہ رہا آپ جاسکتے ہیں”۔ کہہ کر وہ رکی نہیں پلٹ گئی۔
“سنیں” اسے جاتے دیکھ کر وہ جلدی سے بولا۔
“جی؟” سرد لہجے میں پوچھا
“تولیہ؟” کچھ نہ سوجا تھا تو یہی بول دیا۔
“اندر ہی ہے!” ناگواری سے کہہ کر کر مڑ گئی۔
۔۔۔★★۔۔۔
دو دن یونہی گزر گئے۔ سوگ میں! دکھ میں! وہ روز یوں اندھیری رات میں گارڈن میں بیٹھی رہتی۔ آسمان سے باتیں کرتی۔ شبنم کے قطرے پتوں کو نم کررہے ہوتے۔ تنہا بیٹھی اپنے آپ کو ہی دکھ سنا رہی تھی، مگر آج کچھ خاص تھا۔
اندھیرے میں ڈوبی رات کو گارڈن میں وہ بیٹھی تارے گن رہی تھی۔
“کیا بات ہے؟ آپ یہاں بیٹھی ہیں محترمہ؟” وہ گھر میں داخل ہوا تھا تو گارڈن میں اس کو بیٹھا دیکھ کر ادھر ہی آگیا تھا۔ ہاتھوں میں جیکٹ لٹکی ہوئی تھی۔ کومل کی نگاہیں بےاختیار اس پر اٹھیں۔ وہ مسکرارہا تھا۔ اس کی نگاہیں حاتم پر ساکت ہوئیں۔ یہ محبت بھی کبھی جان لینے پر آجاتی ہے۔
“آپ کہاں سے آرہے ہیں؟” اس نے حیرانی سے پوچھا۔ رات کے دو بجے وہ باہر کیا کررہا تھا۔
“اپنی حسینہ سے مل کر آرہا ہوں” وہ ہنس کر بولا اور اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔
اس کا چہرے پل بھر میں مرجھایا۔ یہ شخص اسے اپنے الفاظوں سے اذیت کیوں دیتا تھا؟۔ وہ سوچ کر رہ گئی۔
“سنا ہے آپ کا رشتہ آیا تھا آج؟”
زرد جوڑا پہنے اس کا چہرہ بھی زرد ہوا تھا۔ وہ نڈھال نظروں سے زمین کو تکنے لگی۔
“ہمیں اس بارے میں کوئی گفتگو نہیں کرنی ہے حاتم”۔ لہجہ بیزار۔
“کیوں بھئی؟ کیا آپ ناخوش ہیں؟”۔۔حاتن حیران ہوا۔
“ہمیں شادی ہی نہیں کرنی ہے”۔ اس کا دل ہی اچاٹ ہوگیا۔
“اچھا ہے پھر جب میری شادی میری حسینہ سے ہوجائے گی تو ہم دونوں کے بچے آپ پال لے گا”۔ وہ شرارتاً بولا مگر یہ دیکھے بغیر کہ وہ سنجیدہ ہوگئی تھی۔ وہ غصے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“آپ کو ہر بات، ہر چیز مذاق لگتی یے کیا؟ کسی کے جذبات کی کوئی حیثیت نہیں آپ کی نظر میں؟۔ یہ دیکھے بغیر کے سامنے والا کتنا اداس ہے مگر آپ تو اپنی کہے جارہے ہیں اور کیوں پالیں گے ہم آپ کے بچے؟ ہم آپ کے بچوں کی آیا ہیں کیا؟ کیا ہماری زندگی نہیں؟ ہمارے احساسات نہیں اور اگر ایسی باتیں کرنی ہوتی ہیں تو اْسی حسینہ سے کیا کریں!”۔ وہ غصے میں اول فول بکتی رہی اور وہ اسے حیران اور پریشان نگاہوں سے دیکھتا رہا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ وہ ہمیشہ اس سے دھیمی آواز میں بات کیا کرتی تھی۔ اسے خبر نہ ہوئی اور کومل کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ آنکھیں بےدردی سے رگڑتی وہ اندر چلی گئی۔ باہر بیٹھے حاتم نے نگاہیں اوپر کرکے فلک کو دیکھا تھا۔ یقیناً بارش ہونے والی تھی۔ پہلے بھی اس نے کومل کا دل دکھایا تھا اس وقت بھی بارش ہوئی تھی اور اسے بگھو گئی تھی۔ وہ جب بھی اس کا دل دکھاتا اس کے ساتھ یونہی ہوتا۔
“کیا منسلک ہے اس سے؟” وہ بادل کو گھورنے لگا۔ وہ جانتا تھا اب سزا کے طور پر بارش برسے گی اور اسے بگھو دے گی۔ اس سے پہلے بارش ہوتی وہ بھاگتا ہوا اندر بڑھا۔ یہ بادل اس لڑکی کے مزاج کے مطابق چلتے تھے۔ کمرے میں جا کر کومل کھڑکی کے پاس کھڑی ہوگئی تھی۔ اب وہ گارڈن میں نہیں تھا۔
تیز ہوا کا جھونکا کومل کے چہرے کو چھو کر گزرا۔ اس نے ڈھیلی ہوتی پونی کو کھینچ کر اتارا اور بالوں لپیٹ کر جوڑا بنالیا۔ آگے کے بال پونی سے اپنے آپ کو چھڑاتے لہرانے لگے۔ جب رو رو کر دل ہلکا ہوا تو سکون بھی حاصل ہوا۔ اس نے گھڑی دیکھی تو تین بج رہے تھے۔ کچھ گھنٹوں بعد تو اس سے یہ چاند بھی چھپ جائے گا پھر وہ کس سے بات کرے گی؟۔ وہ آہستگی سے چلتی ہوئی بستر پر آکر لیٹ گئی۔ چادر منہ تک اوڑھ کر وہ آنکھیں کھولے لیٹی رہی۔ وہ کسی کو سوچنا چاہتی تھی۔ سمجھنا چاہتی تھی۔ ایک ایسے شخص کو سوچنا چاہتی تھی جسے وہ جانتی تھی کہ وہ اس کا نہیں ہو پائے گا۔
۔۔۔★★۔۔۔
کمرے کی کھڑکی سے آتی دھوپ نے اسے جگایا تھا۔ یہ صبح معمول کے مطابق نہیں تھی۔ آج وہ اتنا زیادہ سوگئی تھی کہ دن نکل آیا تھا اور خبر بھی نہ ہوسکی تھی۔
“ابیر کی ماما کا فون آیا تھا۔ ہائے اللہ مجھے تو یقین ہی نہ آیا کہ انہوں نے ہاں کردی، مگر ان کی گئی خواہش حیران کن ہے”۔ ماما چائے کے گھونٹ بھر رہی تھیں اور یہاں کومل کے ہاتھ کانپنے سے چائے چھلک رہی تھی۔
“کونسی شرط؟”۔ تحریم کو قدرے حیرانی ہوئی تھی۔
“وہ نکاح اگلے ہفتے رکھنا چاہتے ہیں”۔ گویا ایک دھماکا کیا گیا تھا۔
“کیا مطلب ماما؟۔ اگلے ہفتے ہمارا نکاح؟”۔ وہ حیران بھی نہ ہوسکی۔
“لڑکا باہر جارہا ہے پگلی۔ وہ چاہتا ہے نکاح کرکے ہی باہر بزنس کے سلسلے میں جائے۔ اچھا ہے کومل آپ شادی کے بعد باہر ملک جا کر رہیں گی”۔ باہر کھلے پھولوں کی مہک کو کومل نے اپنے اندر اتارا تھا۔
“پردیس پردیس ہی ہوتا ہے۔ ملک اپنا ہی اچھا لگتا ہے اماں۔ ہمیں نہیں رہنا کہیں باہر کیونکہ ہمیں شوق نہیں”۔ وہ جیسے روٹھنے لگی تھی۔ تحریم کو بہن کے لیے افسوس ہوا تھا۔
“کیا آپ نے بابا سے بات کی؟”۔ تحریم ماما کی جانب متوجہ ہوئی۔
“وہ بھی راضی ہی ہوں گے۔ آخر کو ان کے جگری دوست کا بیٹا ہے۔ ہم کل ہی خریداری کو جائیں گے اور کومل بھی ہمارے ساتھ ہی جائے گی”۔
“ماما ہمیں نہیں جانا ہے۔ جو کرنا ہو آپ خود کیجیئے گا”۔ وہ اٹھنے لگی یہ سوچ کر کہ ابا کو اپنی بیٹیوں سے زیادہ اپنے دوست کی خوشیاں عزیز ہیں۔
“مجھے تو سمجھ ہی نہیں آتا کہ کومل کو اس رشتے میں خامی کیا نظر آتی ہے؟”۔ وہ جنجھلا کر تحریم سے پوچھنے لگیں۔ تحریم نے زینے چڑھتی کومل کی پشت کو دیکھا اور پھر ماما کو۔۔۔
“اب تو مجھے بھی خامیاں ہی نظر آرہی ہیں ماما۔ آپ لوگ زیادہ بہتر جانتے ہوں گے”۔ وہ زبردستی مسکراتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
“ہیلو۔۔ لگتا ہے یہاں محفل جمی تھی کچھ وقت پہلے”۔ وہی شخص داخل ہوا تھا جو اس کی بہن کی راتوں کی نیند چرالینے میں ماہر تھا۔ اس نے ایک گھوری سے اسے نوازا اور لمبی چوٹی لہراتی اوپر کو چلی گئی۔ حاتم ٹھٹھکا تھا یوں تحریم کے گھورنے پر۔۔۔
“کیا کوئی پریشانی ہے؟”۔ اس نے سارا بیگم سے پوچھا تھا مگر وہ نفی میں سرہلاتی سامنے سے ہٹ گئیں۔ شام آئی اور گزر گئی۔ رات کا دور دوڑا اور پھر وہ بھی بیت گئی۔ ابا نے نکاح کے لیے حامی بھر لی تھی۔ کہنے لگے کہ دہلیز پر کھڑے رشتے کو کیسے انکار کردوں۔ کومل بظاہر خاموش ہوگئی تھی مگر دل چیخ چیخ کر آوازیں اٹھا رہا تھا۔ جہاں دل کی وحشتیں اور بڑھ گئی تھیں وہیں وہ دشمنِ جاں اسے نکاح کے حوالے سے چھیڑنے لگا۔
“اچھا ہے نا؟ پھر آپ کے نام کے آگے کومل ابیر لگ جائے گا”۔ یہ کہتے ہوئے اس کا دل کانپا نہیں تھا۔ وہ یہ صرف سوچ ہی سکتی تھی۔ منہ مشرق کی طرف پھیر لیا۔
“کبھی نہیں سوچا تھا ہم نے کہ یہ وقت بھی ہم پر آئے گا۔ کتنے سنگ دل ہیں آپ؟”۔ اسے عجیب نظروں سے دیکھتی وہ وہاں سے اٹھ گئی۔ وہ حیران ہوا تھا مگر پھر مسکرا دیا۔ پھر ایک رات اس کا موبائل بجا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی۔ کسی کا میسج آیا تھا۔
“ہیلو ڈارلنگ۔ ابیر نام سے محفوظ کرلو یہ نمبر”۔ کومل کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔
“کیا تم اپنی تصویر بھیج سکتی ہو؟”۔ یہ اس کا دوسرا موصول ہوا میسج تھا جسے وہ پڑھ کر تپ گئی تھی۔ اس نے موبائل اٹھایا اور گارڈن میں چلی آئی۔ حاتم ارد گرد سے بےنیاز اپنے موبائل پر مصروف تھا۔
“حاتم”۔ اس کی آواز پر حاتم سے اٹھایا۔
“جی”۔ وہ حیران ہوا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی اتنے دنوں بعد کومل خود سے چل کر آئی تھی اس کے پاس۔۔۔ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا موبائل حاتم کی طرف بڑھایا۔ وہ حیران و پریشان اس کا موبائل تھام کر روشن اسکرین دیکھنے لگا۔ وہ کچھ بولے بغیر کرسی پر بیٹھ گئی۔
“یہ کس طرح کی باتیں کررہا یے؟”۔ حاتم کا پارا ہائی ہوا۔ “اس کو جواب دینے کی قطعی ضرورت نہیں”۔ اس نے موبائل اس کی جانب بڑھایا۔ کومل نے اسے تھام کر اسکرین کالی کردی۔
“کل ہفتہ ہے”۔ وہ جیسے اسے اطلاع دے رہا تھا۔ کومل نے تھوک نگل کر نگاہیں پھیر لیں۔ ہوا اس کے بالوں کو بکھرنے پر مجبور کرنے لگیں۔ وہ آج کی رات سو بھی نہیں سکتی تھی۔
“آپ کو پارلر لے جانے کی ذمہ داری مجھے دی گئی ہے”۔ وہ موبائل پر پھر متوجہ ہوگیا۔
“جانتے ہیں ہم”۔ وہ بنا کوئی تاثر دیے بولی۔ اس کے جواب پر حاتم نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ جانے کیوں اسے وہ پہلی والی کومل نہیں محسوس ہوئی۔ آج اس نے حاتم سے شادی کی خواہش نہیں کی تھی۔ یہ کمی حاتم صاف محسوس کر گیا تھا۔ نجانے کیوں دل کچھ الگ انداز میں دھڑکا تھا۔ وہ اس پر نظر ٹکائے بیٹھا تھا اور وہ گردن پھیر کر لہراتے پھول پودوں کو دیکھ رہی تھی۔ وہ زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکا تھا۔ اب کی بار اپنی نسشت چھوڑ کر جانے والی کومل نہیں تھی۔۔۔ بلکہ حاتم سعید تھا۔۔۔
