Roshan Sitara By Umme Hania Readelle50348

Roshan Sitara By Umme Hania Readelle50348 Roshan Sitara (Episode 118) Last Episode (Last Part)

410.7K
118

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Roshan Sitara (Episode 118) Last Episode (Last Part)

Roshan Sitara By Umme Hania

ماہرہ اپارٹمنٹ کے لاوئنج میں بیٹھی چائے پی رہی تھی جبکہ مائز نیچے کارپٹ پر بیٹھا اپنے سوفٹ ٹوائز سے کھیل رہا تھا۔۔۔ سامنے دیوار گیر ایل سی ڈی چل رہی تھی جہاں فائز مرتسم اور وہاج کیساتھ ساتھ انکا روبو بوائے بھی ایک مارنینگ شو میں بیٹھے تھے جہاں سے انکی لائیو ٹرانسمیشن وہ اس وقت پورے انہماک سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ ان تینوں نے ماہرہ کو بھی ساتھ چلنے کو کہا تھا کے جو بھی تھا اس مقصد کی دوبارہ بنیاد اسی نے رکھوائی تھی۔۔۔ لیکن وہ سہولت سے انکار کر گئ جب اسکے پاس ہر چیز کی بھاگ ڈور کرنے کے لئے اسکا سائبان موجود تھا تو وہ پھر کیوں ادھر ادھر بھٹکتی پھرتی۔۔۔ بہت مشقت کاٹی تھی اسنے اب وہ سب عزیز از جان شوہر کے سپرد کرتی خود پرسکون رہنا چاہتی تھی۔۔۔ شوہر اولاد اور گھر کا سکون دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ ویسے بھی یہ سب کام فائز کے تھے۔۔۔ وہ جانتا اور اسکے کام ۔۔۔ ابھی بھی مارنینگ شو میں جانے سے پہلے اسنے خود اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بنا کر اسے کروایا تھا۔۔۔ اور ابھی کچن کاونٹر ٹاپ پر لنچ کی تیاری کے لئے چیزیں پڑی تھیں۔۔۔ وہ خود چائے پی کر دوبارہ سے کچن کا رخ کرنے والی تھی۔۔۔ بہت تیزی سے اسنے خود کو واپس ورکنگ وومن سے ہاوس وائف میں ڈھالا تھا۔۔۔ اب اسکے گھر کا کونا کونا گھر میں اسکی موجودگی کاگواہ تھا۔۔۔ بزنس اور باقی ہر چیز سے توجہ ہٹاتی وہ اپنی چھوٹی سی جنت اپنے شوہر بچے اور اپنے گھر کی جانب مبذول کر چکی تھی۔۔۔

مارنینگ شو میں سب سے پہلے آیڈینس سیگمنٹ میں روبو بوائے سے سوال جواب جاری تھے جسکے وہ مشینی انداز میں جواب دے رہا تھا۔۔۔

ہمیں پتہ چلا ہے کے آپ ایک انتہائی خطرناک چیز ہیں۔۔۔ اے آئی کے انٹروڈیوس ہونے کی بدولت بے روزگاری بڑھنے والی ہے اور بہت سے لوگوں کی نوکریاں جانے والی ہیں۔۔۔ آڈینس میں سے ایک چلبلے سے لڑکے نے اس سے تندہی سے سوال کیا۔۔۔

وہ تینوں روبو بوائے کیساتھ پرسکون سے بیٹھے تھے۔۔۔

ایسا ہرگز نہیں ہے۔۔۔ آپکو غلط معلومات فراہم کی گئ ہے۔۔۔ اے آئی کا آغاز انسانی خدمت کے لئے کیا گیا ہے۔۔۔ میں لوگوں کا دوست ہوں اور انکی آسانی کے لئے کام کرتا ہوں۔۔۔ اے آئی کی بدولت کسی کی نوکریاں خطرے میں نہیں پڑی۔۔۔

جب سب کی مدد ہی تم کردو گئے تو پیشہ ورانہ افراد کی جاب تو خودباخود گئ۔۔۔ انکے پاس کون جائے گا۔۔۔ وہ لڑکا سرعت سے اسکی بات کاٹتا گویا ہوا۔۔۔

تبدیلی کائنات کا معمور ہے۔۔۔ بدلتے ہوئے حالات و واقعات کے ساتھ یہاں سروائیو وہی کرے گا جو وقت کے تقاضوں کیساتھ ساتھ خود کو تیزی سے اپڈیٹ کرتے ماحول کے مطابق خود کو ڈھالے گا۔۔۔ جیسے مختلف ایپس کے نئے ورزن آنے کے بعد پرانے اپنی اہمیت کھو جاتے ہیں۔۔ اسی طرح جو لوگ اپنا ورزن وقت کے ساتھ ساتھ اپڈیٹ کرتے جائیں گے اور اے آئی کا بہتریں استعمال کریں گے انکا بول ہمیشہ بالا رہے گا۔۔۔

مسٹر فائز علوی۔۔۔ آپکے خیال میں اے آئی کا بہتریں استعمال کیا ہے۔۔۔ ایک لڑکی نے کھڑے ہوتے روبو بوائے کی بجائے فائز سے سوال داغا۔۔۔

وہ گلہ کنگارتا اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔

دیکھیے محترمہ ٹیکنالوجی کے سہی استعمال سے پہلے ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کے اسکا غلط استعمال کیا ہے۔۔۔ آپکا سوال بہت ویلیڈ ہے اور اس پر میں کئ گھںٹے بول سکتا ہوںیکن پھر شاید آپ بور ہو جائیں۔۔ وہ ہلکا سا مسکراہا۔۔۔ اسکی روشن مسکراہت پر میلوں دور بہٹھی ماہرہ نے وہیں سے اسکی نظر اتاری۔۔۔

جہاں پچھلے کچھ عرصے میں ہماری ویب سائٹ اور ایپ نے دنیا بھر میں بہت مقبولیت حاصل کی۔۔۔ اسکے یوزرز لاکھوں بلکہ عربوں میں چلے گئے ہیں۔۔۔ پوری دنیا میں مختلف ممالک سے لوگ اس سے استفادا حاصل کر رہے ہیں وہیں کچھ لمحہ فکریہ اور قابل غور باتیں بھی سامنے آئیں ۔۔۔ جیسے یہ ایجادات کی گئ ہیں زیادہ تر یوتھ کے لئے تا کے وہ اس سے مستفید ہو سکیں اور اس بھاگتی دوڑتی دنیا میں تیزی سے ترقی کی منازل طے کر سکیں۔۔۔ لیکن ہماری یوتھ نے یہاں ہمیں کچھ مایوس کیا۔۔۔

بجائے اس ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے کے چند انتہائی فضول اور بے مقصد سوالات جنکا کوئی وجود نہیں انکی زیادہ بھاری تعداد ہمارے ڈیٹے سے حاصل ہوئی۔۔۔

جیسے زیادہ تر روبو بوائے سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کے تم شادی کب کرو گئے۔۔۔ تمہارا مذہب کیا ہے۔۔۔ بتاو میری شادی کب ہوگئ۔۔۔ تمہارے بال کتنے عرصے بعد لمبے ہوتے ہیں۔۔۔ اور اس جیسے بہت سے بے مقصد سوالات۔۔۔۔

آج میں اس پلیٹ فارم کے ذریعے سے اپنی یوتھ کو مخاطب کر کے کچھ کہنا چاہتا ہوں کے آپکے پاس اتنی طاقت ہے اتنی طاقت ہے کہ اگر آپ اسکا درست اور بامقصد استعمال کرتے ہیں تو آپ ستاروں پر کمنڈ ڈال سکتے ہیں۔۔۔ پروکیسٹینیشن اور فضولیات کو چھوڑیں۔۔۔ کمر کس کر میدان میں آئین۔۔۔ اپنے وقت کا بہترین استعمال کریں۔۔۔ جہاں ہر چیز کے کچھ فوائد اور کچھ نقصانات ہوتے ہیں وہیں اے آئی کے بھی جہاں بہت سے فوائد ہے وہیں اسکے چند نقصانات بھی ہیں۔۔۔ اگر ہم نے تیزی سے خود کو نا بدلہ تو یہ واقعی ہمیں زندگی کی ڈور میں بہت پیچھے چھوڑ جائے گا۔۔۔ جیسے ڈراوں کیمراز آئے تو موسٹلی دوسرے کیمرا مینز کی جاب خطرے میں پڑ گئ۔۔۔ حالانکہ اگر وہ خود کو اپڈیٹ کرتے سادہ کیمرے سے ڈراون پر شفٹ ہوتے وہ سیکھتے تو کون تھا جو انکی نوکریوں کو خطرے میں ڈال دیتا۔۔۔

اے آئی تیزی سے پھیل رہا ہے اور اگلے چند سالوں میں کچھ ایسا ایکسٹریم لیول پر ہونے والا ہے جو انسان نے کبھی گمان بھی نا کیا ہوگا۔۔۔ اس لئے اس بدلتی دنیا میں ہمیں تیزی سے خود کو اپڈیٹ کرنا ہے تاکے ہم بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔۔۔ بہت سے اے آئی ٹول اور اے آئی ویب سائٹس ہیں جنہیں مختلف جگہ سے استعمال کر کے ہم اپنی عقل کی بیس پر کچھ بہت ایکسٹرا ارڈنری کر سکتے ہیں۔۔۔ صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم لوگ اپنے کیرئر کو لے کر سنجیدہ ہو جائیں۔۔۔ کنویں کے مینڈک نا بنیں۔۔ جو سب کر رہے ہیں اسکی تقلید میں نا بھاگیں پھر چاہے وہ کوئی بھی فیلڈ ہو۔۔ رائیٹنگ کی ہو انڈسٹری کی ہو۔۔۔ ملبوسات کی فیشن کی یا پھر چاہے فود کی ہی کیوں نا ہو۔۔۔ کرنے کو اب بہت کچھ ہے۔۔۔ لیکن ابھی لوگ ایڈمائر نہیں کر رہے۔۔۔

ان سب کی نظروں میں وہ جو کر رہے ہیں وہ درست ہیں۔۔۔ جب تک بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق وہ اس حقیقت کو ایڈمائر کریں گے تب تک کرنے والے بہت کچھ کر چکے ہونگے۔۔۔ اس لئے آپکو خود پر اپنے کیرئر پر زرا ہٹ کر الگ انداز سے اے آئی کی مدد سے کام ابھی سے شروع کرنا ہے۔۔۔ تاکے آنے والے چند سال آپکو آپکی آج کی محنت کی بنیاد پر بہت آگے تک لیجا سکیں۔۔۔ اب لڑائیں دماغ۔۔۔ کے آپ سب۔۔۔ اسنے پہلے آڈینس اور پھر کیمرے کی آنکھ میں فوکس کرتے سبھی ناظرین کی جانب اشارہ کیا۔۔۔ اپنی اپنی فیلڈ میں کیا کمال کر سکتے ہیں۔۔۔ اللہ پر توکل رکھتے آج سے ہی کام شروع کریں اس کام میں برکت ڈالنے والی اللہ کی ذات ہے۔۔۔ اللہ نے کوئی انسان بھی اس دنیا میں بے مقصد نہیں بھیجا۔۔۔ یہ زندگی بہت مختصر ہے۔۔۔ ہماری سوچ سے بھی زیادہ۔۔۔ اس لیے اپنے اس دنیا میں بھیجے جانے کے مقصد کو پہچانیں۔۔۔ اپنے ٹیلنٹ کو پہچانیں اس پر کام کر کے اسے تراشیں اور پھر اس دنیا میں اپنے آنے کا کردار ادا کریں۔۔۔ آپکے وجود سے لوگوں کی زندگی میں کچھ ویلیو تو ایڈ ہونی چاہیے۔۔۔ ٹرسٹ می یہ زندگی ہمیں سونے کھانے انجوائے کرنے بے مقصد کی ہانکنے وقت ضائع کرنے اور فضول کے کاموں کے لئے نہیں ملی۔۔۔ اس لئے ابھی سے جاگیں۔۔۔ اس غفلت کی نیند سے جو کسی بھی انسان کو سوائے احساس کمتری میں مبتلا کرنے کے کچھ نہیں دیتی۔۔۔ اٹھیں اور خود پر کام کرتے اپنا ورزن اپڈیٹ کریں اور اس دنیا میں اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔۔۔

اسکے مسکرا کر کہنے پر ہال تالیوں سے گھونج اٹھا۔۔۔

******

نوٹ۔۔۔ یہ ناول چیٹ جی پی ٹی ۔۔۔ پیکٹوری ڈاٹ اے آئی اور ایسی ہی بہت سی اے آئی کی ایجادات سے انسپائر ہو کر لکھا گیا ہے۔۔۔ یہ سب اپنی اپنی فیلڈ میں یعنی کے کچھ ریٹن کچھ ویڈیو اور کچھ وائس کے لئے ایکسپرٹ اے آئی ایجادات ہیں جنہیں مرکب کر کے ہمارے روبو بوائے کا کردار تشکیل دیا کیا ہے۔۔۔ امید ہے کے آپکو ہماری یہ کاوش پسند آئی ہوگی۔۔۔

*****

فائز علوی اس وقت نیوی بلو ڈنر سوٹ میں ملبوس نک سک سے تیار اپارٹمنٹ میں داخل ہوا گود میں سیم ڈریسنگ کئے ننھا مائز تھا۔۔۔۔۔ اپارٹمنٹ میں داخل ہوتے ہی مائز اسکی گود سے اترتا سیدھا لیب میں گیا جہاں روبو بوائے سب کچھ آپریٹ کر رہا تھا۔۔۔ فائز کے چہرے پر ہلکی بیرڈ تھی جو اسنے ماہرہ کی خاص تنبہ پر رکھی تھی کے عجلت میں وہ روبو بوائے اور فائز میں فرق نہیں کر پاتی تھی۔۔۔ کئ بار تو وہ اپنے پیچھے فائز کی موجودگی محسوس کر کے اسے ساری بات سنا جاتی جب روبو بوائے کی معذرتی آواز سن کر اسکا دل چاہتا یا اپنا سر پھاڑ ڈالے یا اس روبو بوائے کا۔۔۔ اس لئے روبو بوائے پر الگ سے حکم نافذ ہوا تھا کے فائز کی موجودگی میں وہ لیب سے نہیں نکلے گا۔۔۔ اور فائز کو بیئرد رکھنے کا حکم ملا تھا جس پر وہ ناجانے کتنی ہی دیر ہستا رہا۔۔۔ انکا نیا بنگلہ ابھی زیر تعمیر تھا جہاں خاص ماہرہ کی ہدایت پر لیب بیسمنٹ میں بنائی جا رہی تھی تا کے اسکا روبو بوائے سے ٹاکرا کم سے کم ہو۔۔۔۔

فائز سیدھا اپنے کمرے میں ہی آیا جہاں سلور اور سی گرین کلر کی پاوں کو چھوتی دیدہ زیب میکسی میں دلہن کے روپ میں جھنجھلائی سی ماہرہ شیشے کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔ اسکا یوں سجا سنورا روپ دیکھ فائز اپنی جگہ مسمرائز سا رہ گیا وہ لگ بھی تو آسمان سے اتری کوئی حور ہی رہی تھی۔۔۔

اوہ تھینک گاڈ فائز تم آگے۔۔۔ آئینے میں ابھرتا اسکا عکس دیکھ وہ بعجلت اسکی جانب پلٹی۔۔۔ ساتھ ہی فائز کو اپنا دل سینے میں ڈگمگاتا محسوس ہوا۔۔۔

اتنی دیر کہاں لگا دی تم نے اور مائز کہاں ہے۔۔۔

روبو بوائے کے پاس۔۔۔ وہ اسے دیکھتا کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں گویا ہوا جسکے چہرے پر موجود جھنجھلاہٹ بھی اسے بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔

وہ بے چینی سے واپس شیشے کی جانب مڑی۔۔۔ الجھی نگاہوں سے خود کا سر تا پیر جائزہ لیا۔۔۔ ویسے تم بھی نا دنیا سے انوکھے ہو فائز علوی۔۔۔ جب دلہن بنانے کا دنیا سے انٹروڈیوس کروانے کا وقت تھا تب پوری دنیا سے چھپاتے پھر رہے تھے مجھے بھی اور ہمارے رشتے کو بھی۔۔۔ اب ایک سال کے بچے کے ساتھ ریشپشن پارٹی دیتے ہم اچھے لگیں گے۔۔۔ کتنا آکورڈ فیل ہو رہا ہے مجھے۔۔۔ وہ روہانسی ہوتی پھر سے اسکی جانب پلٹی۔۔۔ جب اسنے ہاتھ بڑھاتے اسے بازو سے تھام کر کھینچا اور نرمی سے اپنے حصار میں لیا۔۔۔

کیا کر رہے ہو فائز۔۔۔ وہ یکدم بوکھلا اٹھی۔۔۔ میں پہلے ہی اسقدر گھبرائی ہوئی ہوں فائز ۔۔۔ اوپر سے تم۔۔۔

ششش۔۔۔۔ اسنے ماہرہ کے لپ سٹک سے سجے ہونٹوں پر انگلی رکھی تو وہ تھوک نگلتی اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔

ریلیکس ہو جاو۔۔۔ یہ کوئی اتنا بڑا اشو نہیں۔۔۔ اور یوں سراپا قیامت بن کر گھومو کی تو کون کمبخت نہیں بہکے گا۔۔ اسنے خمار آلود نگاہوں سے اسے تکتے اسکی گال سہلائی۔۔

رہ گئ بات اب ریسیپشن کی۔۔۔ تو جب شادی ہوئی تھی تب نا تمہیں نا ہی ہمارے رشتے کو بہت سی وجوہات کی بنیاد پر ڈکلئیر نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ اسکے بعد حالات نے قسمت میں ہجر لکھ ڈالا۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔ ماہرہ یک ٹک اسکے خوبرو چہرے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

اب جب قسمت نے دوبارہ ملایا ہے تو میں کیوں نا اپنی بیوی اور بیٹے کو اپنے نام سے دنیا سے متعارف کرواں۔۔۔۔

ہاں بہت اچھا لگے گا نا ایک سال کا بچہ گود میں اٹھا کر سٹیج پر بیٹھنا۔۔۔ ہم دنیا کے انوکھے کپل ہونگے جو بیٹے کے ساتھ ولیمہ کر رہے ہونگے۔۔۔ اسکے جھنجھلانے پر وہ قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔

باز آجاو اپنی حرکتوں سے ورنہ جس طرح کی سویٹ سی کینڈی تم اس وقت لگ رہی ہونا ریپر سمیٹ ہی کھا جاوں گا تمہیں۔۔۔ اسنے گہرا مسکراتے ماہرہ کی ناک دبائی۔۔۔ ہاں یہ ہی کرنا تم ۔۔ بنا وقت یا موقع دیکھے۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکراتے اسکے ہاتھ پر چیت رسید کرتی اسکے حصار سے نکلی۔۔۔ جب ہاتھ میں بسکٹ تھامے ہستے کھکھلاتے مائز کو اندر آتے دیکھ اسکی جانب لپکی۔۔۔

ماشااللہ میلا بے بی۔۔۔ میلا شونا کاکا۔۔۔ کتنا پالا لگ رہا ہے۔۔ اللہ نظر بد سے بچائے۔۔۔

اسنے شدت سے مائز کو خود میں بھینچتے اسکی معصوم سی گال کا بوسہ لیا۔۔۔

ہاں جی بس اپنے بےبی کی ہی تعریف کرنا اسکے باپ کی مت کرنا۔۔۔ میرے بے بی کا پاپا ورلڈ کا بیسٹ ہزبینڈ ہے۔۔۔ اسکی ماں کی آتی جاتی سانسوں کی وجہ ہے۔۔۔ وہ ہے ہی قابل تعریف۔۔ جتنی تعریف کی جائے اتنی کم ہے۔۔۔۔۔ وہ مائز کو اٹھا کر مسکراتی ہوئی اسکی جانب بڑھی۔۔۔ ماہرہ فائز علوی اظہار کے معاملے میں کبھی بھی کنجوس نا تھی۔۔۔ فائز گہرا مسکرا دیا۔۔۔۔

اٹھاو اسے اور اس شیشے کے سامنے آو مجھے ہماری پیاری سی فیملی کی سیلفی لینی ہے۔۔ ماہرہ نے گود میں اٹھایا مائز فائز کی جانب بڑھایا اور خود ڈریسنگ سے موبائل اٹھا کر انکے پاس آ کر کھڑی ہوئی یوں کے فائز نے مائز کو اٹھانے کے ساتھ دوسرا ہاتھ ماہرہ کے شانے پر رکھا ۔۔ ماہرہ نے نظر آئینے میں نظر آتے اس خوبصورت عکس کو دیکھا اور دوسری نظر اپنے بے حد قریب کھڑے فائز کو۔۔۔ پھر فائز کے کندھے پر سر رکھتے کیمرا آن کرتے شیشے سے اپنی تصویر کھینچی۔۔۔

آ پرفیکٹ فیملی فوٹو۔۔۔ اپنی ہی کھینچی فوٹو کو دیکھتے وہ بے ساختہ مسکرا دی۔۔۔۔۔۔

*****

گاڑی ہال کی اینٹرس پر جا کر رکی تو ہال میں موجود سبھی لوگ اس جانب متوجہ ہوئے جہاں سے ڈرائیونگ ڈور کھول کر فائز علوی نیوی بلو ڈنر سوٹ میں ملبوس اپنی پوری آن بان شان سمیٹ باہر نکلا اور کوٹ کا بٹن بند کرتا پیسنجر سیٹ کے دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔۔ اسنے دروازہ کھول کر ماہرہ کی گود میں موجود اپنے ننھے شہزادے کو اٹھایا اور ہاتھ ماہرہ کی جانب بڑھایا ۔۔۔ جسے تھامتی وہ گاڑی سے باہر نکلی تو ہر جانب سے ہوٹنگ کا شور بلند ہونے لگا۔۔۔

ایک ساتھ کھڑے وہ دونوں پرفیکٹ کپل لگ رہے تھے۔۔۔ چند قدم آگے بڑھے جب مرتسم نے انہیں ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کیا ساتھ ہی انکے سامنے قطار میں خوبصورتی سے آتش بازی ہونے لگی۔۔۔ یہ سارا منظر دیکھتا مائز تالیاں بجاتا کھلکھلانے لگا تھا۔۔۔ فائز یونہی ماہرہ کا ہاتھ تھامے سٹیج کی جانب بڑھا جہاں باری باری ماں بابا اور مظہر آکر اس سے مل کر گئے۔۔۔ کچھ ہی دہر بعد فوٹو شوٹ شروع ہوا تو وہاج علایہ مرتسم اور فاہا کیساتھ ساتھ میجر اریز اور سونم بھی اپنی ننھی گڑیا کے ساتھ سٹیج پر آگے۔۔۔ سونم اور ماہرہ دونوں بہت خوشدلی سے ایک دوسرے سے ملیں۔۔۔ ان سب کا اکٹھا فوٹو شوٹ ہوا اسکے بعد وہیں سٹیج پر ہی محفل جم گئ۔۔۔

آگے کیا پلان ہیں تم دونوں کے۔۔۔ مائز سے کھیلتے وہاج مستفسر ہوا۔۔۔

پلان تو بہت بڑے بڑے ہیں۔۔۔ اس سے پہلے کے فائز کچھ کہتا ماہرہ بول اٹھی۔۔۔

جیسے۔۔۔

جیسے یہ کے ابھی مجھے فائز کیساتھ آپ سب کی طرف دعوتیں کھانی ہے۔۔۔ اسکے بے ساختہ انداز میں کہنے پر وہاں مشترکہ قہقہ پھوٹا ۔۔

اور۔۔۔ مرتسم مسکراہٹ دابتا مزید گویا ہوا۔۔۔ پھر ہمیں عمرے پر جانا ہے۔۔۔ اسکے بعد ہمیں ورڈ ٹور پر جانا ہے۔۔۔ ایک کے بعد دوسرا دوسرے کے بعد تیسرا پھر چوتھا۔۔۔ اور یونہی بہت سے ملکوں میں گھوم کر ہمیں بہتتتتتت سا اکھٹا وقت گزار کر پھر واپس آنا ہے۔۔۔

یہ سارے کے سارے پلان شاید اسنے ابھی ترتیب دیئے تھے یا پہلے ہی ترتیب دے چکی تھی لیکن فائز کے علم میں ابھی آئے تھے۔۔۔ وہ سادگی سے مسکرا دیا۔۔۔۔

ہے نا فائز۔۔۔ آخر میں وہ اٹھلا کر فائز سے مستفسر ہوئی تو وہ سینے پر ہاتھ رکھتا سر خم کر گیا۔۔۔

وہ یونہی خوش گپیوں میں مشغول تھے جب اچانک وہاں سناٹا چھا گیا ۔۔۔ ماہرہ نے چونک کر سر اوپر اٹھایا جہاں بلیک پینٹ اور سفید ڈریس شرٹ میں الجھا بکھڑا سا زاویار کھڑا تھا۔۔۔ اسے یوں یہاں دیکھ ماہرہ لب بھینچ گئ۔۔۔ اسنے کن اکھیوں سے فائز کو دیکھتے اسکا ردعمل جانچنا چاہا۔۔۔ پر صد شکر کے وہ پرسکون سا بیٹھا تھا۔۔۔

دغا دینا تمہاری شروع سے عادت تھی ماہرہ۔۔۔ پھر کیسے ممکن تھا یہاں نا دیتی تم۔۔۔۔یہاں بھی عین موقع پر دے گئ۔۔۔ وہ تلخی سے ہسا۔۔۔

کافی دن لگے مجھے تم سے سامنا کرنے کی ہمت پیدا کرنے میں۔۔۔ لیکن میں تمہارے لئے خوش ہوں۔۔۔ بے حد خوش۔۔۔ خدا تمہیں یونہی صدا ہستا مسکراتا رکھے۔۔۔ یہ مت سوچنا کے میں تمہارا اتنا اہم فنگشن خراب کرنے آیا ہوں۔۔۔ وہ ماہرہ کے سنجیدہ انداز دیکھتا ہلکا سا مسکرایا۔۔۔ جا رہا تھا تو سوچا جاتا جاتا مل کر جاوں۔۔۔ اور دیکھوں تو سہی تم واقعی میں خوش ہو کے نہیں۔۔۔ لیکن اب تمہیں یوں ہستا مسکراتا دیکھ کر دل سمبھل گیا۔۔۔ مجھے تمہاری خوشی ہی مقصود ہے۔۔۔۔ شاید تم اتنا خوش میرے ساتھ کبھی نا رہ پاتی۔۔۔۔وہ انگلی کی پور سے نم آنکھ کا کونا صاف کرتا الٹے قدموں پیچھے ہٹنے لگا۔۔۔ اسکے جاتے ہی ماہرہ نے گہرا سانس خارج کیا۔۔۔

شکر ہے فائز ۔۔۔ عین وقت پر تم نے فلم کے بلاک باسٹر سین کی مانند اینٹری دے دی۔۔۔ ورنہ میرا کیا بنتا ماہرہ نے ہاتھ سے چہرا تھپتھپاتے اپنے چہرے کی تپش کم کرنی چاہی۔۔۔ فائز کے ساتھ ساتھ وہ سب بھی مسکرا دئیے۔۔۔

*****

سب انجوائے کر رہے ہیں فائز ۔۔۔ ہم تنہا یہاں سٹیج پر کیا کر رہے ہیں۔۔۔ ہمیں تھوڑی نا کسی نے ایلفی سے چپکا دیا ہے چلو نیچے اتر کر انجوائے کرتے ہیں۔۔۔ سبھی کپلز کچھ دیر کے بعد سٹیج سے اتر گئے حتکہ مائز بھی انہی کے ساتھ تھا۔۔۔ میجر اریز کو کوئی ضروری کام تھا تبھی وہ اور سونم کچھ وقت پہلے جا چکے تھے۔۔۔ جبکہ ماہرہ تنہا سٹیج پر بیٹھے ہونے کے باعث بور ہوتی گویا ہوئی۔۔۔

چلو۔۔۔ فائز مسکرا کر کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ سارا انتظام اوپن ایریا میں کیا گیا تھا رات کے وقت سبک روی سے چلتی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ماحول کو مزید پرفسوں بنا رہی تھی۔۔۔ وہ فائز کی بازو تھامتی اسے لئے ایک پرسکون گوشے میں آگئ۔۔۔ میری ساری پلانینگ تمہیں منظور ہے نا۔۔۔ اب ماشااللہ سے تم اتنا تو کما ہی رہے ہو کے میری سبھی خواہشات پوری کر سکو۔۔۔ وہ مسکرائی۔۔۔

الحمدللہ۔۔۔ لیکن اس سے پہلے تمہیں تمہارے فیورٹ مال سے شاپنگ کروانی ہے۔۔ وہ ایک منظر دل پر نقش ہوگیا تھا ماہرہ فائز علوی جب تم نے اپنے شوہر کی جیب کا احساس کرتے اپنا سٹینڈر گھٹایا تھا اور اپنے فیورٹ مال پر لوکل ایریا سے شاپنگ کرنے کو ترجیح دی تھی۔۔۔ فائز کے بتانے پر اسے بے ساختہ وہ منظر یاد آیا جب وہ شادی کے بعد پہلی دفعہ اسکے سنگ شاپنگ کرنے گئ تھی۔۔۔ بڑی خوبصورت مسکراہٹ اسکے چہرے پر رینگی۔۔۔

تمہیں ہاد ہے وہ بات۔۔۔

افکورس۔۔ جو شخص آپکے مشکل وقت اور تنگی کا ساتھی ہو وہ اچھے وقت میں کبھی نہیں بھولتا۔۔۔ میری کمائی پر سب پہلا اور سب سے زیادہ حق تمہارا ہے۔۔۔ یہاں سے فری ہو کر چلیں گے شاپنگ پر۔۔ فائز کے کہنے پر وہ کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔

فائز علوی۔۔۔

دفعتاً پیچھے سے ایک جانی پہچانی آواز ابھرنے پر وہ چونک کر پلٹا۔۔۔ جبکہ اپنے سامنے کھڑی اس لڑکی کو دیکھ ساکت رہ گیا۔۔۔

جبکہ الجھ تو ماہرہ بھی گئ براون جینز پر شارٹ شرٹ زیب تن کئے گلے میں مفلر ڈالے کھڑی اس لڑکی کو دیکھ کر۔۔۔ جسکی آنکھوں میں حسرت تھی اور وہ حسرت زدہ نگاہوں سے فائز کو دیکھ رہی تھی۔۔

تم یہاں۔۔۔ فائز نے لبوں پر زبان پھیری۔۔

ماہرہ فائز علوی رائٹ۔۔۔ اسنے ماہرہ کی جانب اشارہ کرتے فائز سے تصدیق چاہی۔۔۔ فائز کے سر ہاں میں ہلانے پر وہ دلکشی سے مسکراتی ماہرہ سے ملی۔۔۔

بہت قسمت والوں کو ملتے ہیں ایسے ہمسفر ماہرہ جو پارٹنر کی غیر موجودگی میں بھی محض اسی کا ہو۔۔۔ جو کسی دوسری لڑکی کی جانب دیکھنا تو دور سوچنا بھی گناہ تصور کرتا ہو۔۔۔ جو پارٹنر سے اس حد تک مخلص اور با وفا ہو۔۔

اور تم خوش قسمت ہو۔ جسے اسقدر باوفا اور قدردان شوہر ملا۔۔۔

اسکے مسکرا کر کہنے پر ماہرہ نے الجھتے ہوئے فائز کو دیکھا۔۔۔

تم پاکستان کب اور کیسے آئی شائنہ۔۔۔

فائز کو ریسکیو کروانے کے بعد شائنہ نے اپنے باپ اور میر کو ایکسپوز کروانے کے لئے انکی بہت مدد کی تھی۔۔۔ اسی کی مدد اور پروفیسر صاحب کے قتل والی فوٹیج کے باعث ہی میجر اریز افغانستان کی پولیس کی مدد سے میر اور دلاور خان پر کئ ایک کیس ثابت کرتا انہیں اریسٹ کر پانے میں کامیاب ہو پایا تھا۔۔۔

نو ڈاوٹ کے میرے بابا غدار ہیں برے ہیں اور بلا بلا۔۔۔ لیکن ہیں تو میرے بابا ہی نا۔۔۔ وہ کرب سے مسکرائی۔۔۔ پچھلے کچھ دنوں سے دل بہت بے چین تھا تبھی پاکستان ان سے ملنے آئی تھی۔۔۔ میں نے بابا کے پاس موجود سبھی ریکارڈ انکے سوفٹ وئیرز غرض سب کچھ یہاں کی فورس کے ہینڈ آوور کرتے ان سے بابا کی سزا میں کمی اور ان سے نرمی کا رویہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے کے بحرحال قتل کیس میں تو میر ملوث تھا۔۔۔ اور اپنا ہر مشن وہ اپنے طریقے سے مکمل کرتا تھا۔۔۔ یہاں کی فورس نے مجھے تسلی دی ہے قوی امکان ہے کے بابا کی سزا کم ہو جائے ۔۔۔ اسنے لاپرواہی سے شانے اچکائے۔۔۔ لیکن آنکھوں میں ہلکورے لیتا دکھ گواہ تھا کے وہ مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہے۔۔۔

تم ایک بہت بہادر لڑکی ہو شائنہ۔۔۔ انفیکٹ میں خود تم سے ملنا چاہتا تھا تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا لیکن اس وقت بے بسی نے اجازت نا دی۔۔۔ بلاشبہ آج اگر میں یہاں اپنوں کے بیچ موجود ہوں تو یہ اللہ کی رحمت اور میری بیوی کی دعاوں کے بعد بلاشبہ تمہاری کوشیشوں سے ہی ممکن ہو سکا ہے۔۔۔ فائز کہہ رہا تھا جبکہ وہ جوتے سے فرش مسلتی سر جھکائے مسلسل مسکرا رہی تھی۔

اب ہمارے پاس کچھ وقت رکیں آپ۔۔۔ ہمیں بھی مہمان نوازی کا موقع دیں۔۔۔ ماہرہ خوشدلی سے گویا ہوئی۔۔

ارے نہیں۔۔۔ کچھ وقت بعد کی فلائٹ ہے میری۔۔۔ پیچھے مام تنہا ہے۔۔۔ زیادہ لمبا سٹے نہیں کر سکتی۔۔۔ بس جاتے جاتے فائز سے ملنا چاہتی تھی۔۔ اور یقین جانو دو سال کا عرصہ ساتھ گزارنے کے باوجود میں نے آج پہلی مرتبہ تمہارے فائز کو مسکراتے دیکھا ہے۔۔۔ شاید یہ من پسند شخص کی قربت کا اعجاز ہے۔۔۔ وہ مسکرائی تو بے ساختہ فائز جھینپ گیا۔۔۔

اب اجازت دو۔۔۔۔ زندگی رہی تو پھر ملاقات ہو گی۔۔۔ وہ ہوا کے جھونکے کی مانند جیسے آئی تھی ویسے ہی واپس چلی گئ۔۔۔

مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے فائز علوی کے یہ لڑکی تم میں انٹرسٹڈ ہے۔۔۔ ماہرہ جانچتی نگاہوں سے شائنہ کو جاتا دیکھ فائز سے مستفسر ہوئی۔۔۔

بالکل اسی طرح جس طرح زاویار تم میں دلچسپی رکھتا ہے۔۔۔ فائز کے دوبدو کہنے پر یکدم ماہرہ کی رنگت فق ہوئی۔۔۔

اس سے کچھ نہیں ہوتا سویٹ ہارٹ۔۔۔ بے ساختہ اسنے ماہرہ کو اپنے حصار میں لیتے اسکا شانہ سہلایا۔۔۔ کون کس میں انٹرسٹڈ ہے یہ ہمارا کنسرن نہیں۔۔۔ اہمیت یہ رکھتا ہے کے اپنے پارٹنر سے باوفا اور مخلص رہا جائے۔۔۔ اور میں جانتا ہوں کے میری بیوی ایک باوفا ا ور مخلص بندی ہے۔۔۔ فائز کے نرمی سے کہنے ہر وہ ہلکی پھلکی ہوتی آنکھیں موند کر سر اسکے شانے پر رکھ گئ ۔۔ باقی سب کو انکے حال پر چھوڑ دو۔۔۔ ہم ہر کسی کے بارے میں نہیں سوچ سکتے۔۔۔ اس دنیا میں اللہ نے ہر کسی کے لئے جوڑ بنا رکھا ہے۔۔۔ اور وہ بہتر لے کر بہترین سے نوازنے والا ہے۔۔۔۔ اس لیے سب کو انکے حال پر چھوڑ کر اپنے معاملات فکس کرنے کی کوشیش کرو۔۔

۔فائز کے کہنے پر وہ بند آنکھوں سمیٹ آسودگی سے مسکرا دی۔۔۔

*****

کچھ دیر پہلے جس ہال میں لوگوں کا کافی رش تھا وہ جگہ اب بڑھتی رات کیساتھ ساتھ خالی ہو چکی تھی۔۔۔ کھانا کھا کر تقریباً سبھی لوگ واپس جا چکے تھے محض وہ تین جوڑیاں ہی وہاں موجود تھیں۔۔۔ ہوا سبک روی سے چل رہی تھی جبکہ وہ سب کھلے آسمان تلے ایک گول میز کے گرد بیٹھے تھے۔۔۔ انکا ارادا ابھی یہاں رک کر بہت سا وقت ایک دوسرے کے سنگ گزارنے کا تھا۔۔۔

ماہرہ کرسی پر ریلیکس سے انداز میں بیٹھی تھی جبکہ مائز باپ کی گود میں سکون سے سو رہا تھا۔۔۔ سامنے میز پر چائے کے خالی کپ پڑے تھے جیسے ابھی ابھی وہاں چائے کا دور چلا ہو۔۔۔

چلو محفل کے اختتام سے پہلے سب اپنی اپنی لائف کا ایک بہترین سبق شیئر کریں۔۔۔ خالی کب کے کنارے پر انگلی پھیرتے مرتسم گویا ہوا۔۔۔

آغاز مجھ سے کرتے ہیں۔۔۔علایہ اٹھلائی۔۔۔

جی جی ضرور۔۔۔ وہاج اسکا چہکتا روپ دیکھ مسکرایا۔۔۔۔

میں نے اپنی زندگی سے سیکھا کے کبھی بھی فرسٹ امپریشن کی بنیاد پر کسی کے بارے میں رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔۔۔ اسے جج نہیں کرنا چاہیے۔۔۔ بعض دفعہ حقیقت بہت منفرد اور خوبصورت ہوتی ہے۔۔۔ وہ وہاج کی خوبرو صورت آنکھوں میں بسائے جذب کے عالم میں گہری معنی خیزی سے گویا ہوئی تو وہ مسکرا کر سر خم کر گیا۔۔۔

اور میں نے زندگی سے سیکھا کے کبھی انا کو رشتوں میں نہیں لانا چاہیے۔۔۔ اپنی انا کے زعم میں کسی کی نادانیوں کی سزا اسے دینے کی بجائے خدا کے فیصلوں پر سر خم کرتے ماضی بھلا کر ایک پرسکون زندگی بسر کرنی چاہیے۔۔۔ زندگی کا بڑے سے بڑا نقصان اور آپسی چپقلش جہاں ہو وہیں بھلا کر آگے بڑھ جانا چاہیے۔۔۔ وہاج نے اسی کے انداز میں حساب بے باک کیا تو وہ سر جھکاتی مسکرا دی۔۔۔

ناو اٹس یور ٹرن۔۔ وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے ریلیکس سے انداز میں بیٹھی فاہا کی جانب متوجہ ہوئی۔۔

میں نے زندگی میں سیکھا کے اپنی ذات کی خامیوں پر کمپلیکسز کا شکار ہونے کی بجائے خود پر کام کرتے ہر دم بہتری کے سفر پر گامزن رہنا چاہیے۔۔۔ زندگی میں ہر چیز ممکن ہے اگر وہ چیز ادھر کلک کر جائے تو۔۔۔ اسنے دماغ کی جانب اشارہ کیا۔۔۔

فاہا کے بعد سب کی نگاہوں نے ڈھیلے سے انداز میں بیٹھے مرتسم تک کا سفر کیا۔۔۔

زندگی میں کبھی بھی کسی بھی فیز میں کسی طرح کے حالات میں بھی کبھی ماں کا دل نہیں دکھانا چاہیے۔۔۔ ماں کو ہرٹ نہیں کرنا چاہیے۔۔۔ کبھی انکے مخالف نہیں چلنا چاہیے۔۔۔ ماوں کے دل اولاد کے معاملے میں بڑے نرم ہوتے ہیں۔۔۔ وہ بڑی جلدی مان جاتی ہیں۔۔۔ انکی خوشی انکی اولاد سے مشروط ہوتی ہے۔۔۔ اس لئے ہمیشہ ماں کو اعتماد میں لے کر انہیں منا کر کوئی بھی کام کرنا۔۔۔ چاہیے وہ کتنا بھی ٹائم ٹیکنگ کیوں نا ہو۔۔۔ کیونکہ ماں کا دل دکھا کر کبھی کوئی کامیاب نہیں ہو سکا۔۔۔ اس لیے ۔۔ آپ بیٹی ہو یا بیٹا۔۔۔ زندگی کی جس بھی فیز میں ہو آپکا کوئی کام اٹک گیا ہے یا کوئی پریشانی کوئی غم کوئی مشکل آپکو درکار ہے تو اس بھاگتی دوڑتی دنیا میں زرا رک جائیں۔۔۔ اپنے ارد گرد دیکھیں کہیں جانے انجانے میں ماں کا دل تو نہیں دکھایا ۔۔۔ کہیں ماں ناراض تو نہیں۔۔۔ اگر ہاں تو فوراً سے انہیں منائیں۔۔۔ انکا دل اپنی طرف سے خوش رکھیں۔۔۔ پھر دیکھیں کے آپکے راستے کی رکاوٹیں کیسے کیسے دور ہوتی ہیں۔۔۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھتا ہلکا سا مسکرا کر شانے اچکا گیا۔۔۔

اور جنکی مائیں نا ہوں۔۔۔ سوال فائز کی جانب سے آیا تھا جو سر جھکائے سوئے ہوئے مائز کا سر سہلا رہا تھا۔۔۔۔۔

وہ وہی کریں جو انکے بس میں ہے۔۔۔ مرتسم نے گہرا سانس بھرا ۔۔۔ انکے لئے قرآن پاک پڑھیں صدقہ خیرات کریں اور انکی مغفرت کی دعا کریں۔۔۔

میری باری آگئ ہے بھئ۔۔۔ ماحول کی گھمبیرتا کم کرنے کو ماہرہ نے سبکی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔۔۔

جی جی فرمائیے۔۔۔ وہ سب اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔ میری زندگی کا لیسن اتنا لمبا نہیں ہے۔۔ بہت چھوٹا سا ہے۔۔۔ لیکن وہ اپنے اندر پوری دنیا سموئے ہوئے ہے۔۔۔

جی جی پلیز بتائیے نا۔۔۔ فائز مسکرایا۔۔۔

صبر۔۔ شکر اور توکل اگر آپ اپنی زندگی میں ان تین چیزوں کو مضبوطی سے تھام لیتے ہو تو کوئی آپکو گرا نہیں سکتا۔۔۔ کوئی آپکو ہرا نہیں سکتا۔۔۔ مشکل وقت آنے پر صبر۔۔۔ نعمت ملنے پر شکر اور کام نا بننے پر اللہ پر توکل بہت زیادہ توکل ۔۔۔ ان تین چیزوں سے آپکی زندگی سٹریس فری ہو جاتی یے۔۔۔ جب انسان اللہ کی رضا میں راضی ہونا سیکھ جاتا ہے تو پھر پیچھے کچھ ڈسٹرب کرنے کو بچتا ہی نہیں۔۔۔

جی تو مسٹر فائز علوی ناو اٹس یور ٹرن۔۔۔

میں نے زندگی میں ایک ہی بات سیکھی یے۔۔ کے جب تک آپکے ہاتھ سے خیر بٹتی رہے گی تب تک آپکی راہ کی رکاوٹیں چھٹتی رہیں گی۔۔۔ اور خیر بانٹنا کوئی بڑے بڑے صدقہ خیرات کرنا نہیں ہے۔۔۔ بلکہ آپکے باعث کسی کے ہونٹوں پر مسکان آجانا بھی خیر ہے۔۔۔ آپ کسی کے ٹوٹے دل کا مرہم بن جائیں یہ بھی خیر ہے۔۔۔ کسی کو حوصلہ دینا اسکی ہمت بندھانا بھی خیر ہے۔۔۔ کسی کی زندگی میں کوئی ویلیو ایڈ کرنا بھی خیر ہے۔۔۔ اس لئے کوشیش کریں کے آپ تنقید کرنے والے نقص نکالنے والے اور اپنے لفظوں سے دل توڑنے والے نا بنیں بلکہ آپ خیر بانٹے والے بنیں۔۔۔ کسی کو اپنے حق میں دعا کرنے کو بولنے کی بجائے کام ایسے کریں کے لوگوں کے دل سے آپکے لئے دعا نکلے۔۔۔ یہ ہی صدقہ جاریہ ہے۔۔۔

امپریسو۔۔ وہاج بے ساختہ گویا ہوا۔۔۔

چائے مزید آرڈر نا کی جائے۔۔۔

میرے خیال سے اب واپس چلنا چاہیے۔۔۔ ماہرہ کے کہنے پر فائز دوبدو گویا ہوا۔۔۔

کوئی نہیں یار۔۔۔ کچھ دیر بعد چلیں گے۔۔۔ اپنے ہی گھر جانا ہے پھر پریشانی کیسی۔۔۔

آئی تھنک چائے کی جگہ اب کی بار کافی ٹرائے کرنی چاہیے۔۔۔

ناٹ بیڈ۔۔۔ گڈ آئیڈیا۔۔۔ وہ سب کے سب ایک مرتبہ پھر سے شروع ہو چکے تھے۔۔ دور کھڑے چاروں اوڑھ چاندنی بکھیرتے چاند نے بھی مسکرا کر انہیں آپس میں مگن دیکھا۔۔۔۔

****

ختم شدھ۔۔۔