Roshan Sitara By Umme Hania Readelle50348

Last updated: 10 November 2025

Roshan Sitara By Umme Hania

کون تھی وہ لڑکی اور کیوں تھی وہ فائز علوی کے اتنے قریب۔۔۔ دماغ میں کہیں چٹاخے سے اٹھ رہے تھے۔۔۔
دونوں ہاتھوں سے چہرا تھپتھپاتے اسنے وہی ہاتھ بالوں پر پھیر کر اپنے حواس بحال کرنے چاہیے۔۔۔
وہ بار بار فائز علوی کا نمبر ملا رہی تھی۔۔۔ لیکن اسنے اٹھا کر نا دینے کی قسم کھا رکھی تھی تبھی غصے سے کھولتی ایک مرتبہ پھر سے گاڑی لے کر یونیورسٹی سے نکلی۔۔۔ اس سے پہلے بھی کئ بار فائز علوی مصروفیت کے باعث اسکا فون نہیں اٹھاتا تھا لیکن سبکی کا جو احساس آج ہو رہا تھا وہ آج سے پہلے کبھی نا ہوا تھا۔۔۔
اپنی ہی سوچوں کے منجدھار میں پھسے پتہ نہیں کس قوت کے تحت وہ فائز علوی کے اپارٹمنٹ کے احاطے میں موجود تھی۔۔۔ یہ شعوری نہیں لاشعوری عمل تھا کیونکہ وہ نہیں جانتی تھی کے فائز علوی دن کے اس وقت اپنے اپارٹمنٹ میں ملے گا بھی کے نہیں۔۔۔ اسکا دماغ کہیں اور تھا لیکن لاشعور میں ہاتھ میکانگی انداز میں جانے پہچانے راستوں کو تلاشتےخصوصی جگہ پر بریک لگا چکے تھے۔۔۔
چونک کر ہوش میں آتے اسنے ارد گرد دیکھا۔۔۔ خود کو فائز علوی کے اپارٹمنٹ کے احاطے میں دیکھ کر دل سے ہوک سی نکلی۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ بیک گیئر لگا کر گاڑی وہاں سے باہر نکالتی ایک غیر ارادی نگاہ اطراف میں اٹھی لیکن پارکنگ ایریا میں کھڑی فائز علوی کی بائیک کو دیکھتے جیسے وہیں ٹھٹھکی تھی۔۔۔
بائیک کو دیکھتے ہی وہ بنا توقف کئے گاڑی سے نکلی اور بھاگ کر اندر کی جانب بڑھی۔۔۔ لفٹ سے نکل کر وہ مطلوبہ فلور پر آئی۔۔۔ حیرت انگیز طور پر فلیٹ کا دروازہ پہلے ہی کھلا تھا۔۔۔ اسنے ڈھرکتے دل کیساتھ سارا دروازہ کھول دیا۔۔۔ لیکن سامنے اسنے جو منظر دیکھا وہ ناقابل یقین تھا۔۔۔
صوفے پر بیٹھی وہ اجنبی لڑکی جسکی اسکی جانب پشت تھی۔۔۔ جبکہ اسکے سامنے دوزانو بیٹھا مسکراتا ہوا فائز علوی۔۔۔
یہ منظر دیکھ کر ماہرا علوی جیسے پورے قد سے زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔ دل انکی اس قدر قربت پر رقابت کے احساس تلے تڑپ اٹھا تھا۔۔۔
فائز کے ساتھ ساتھ سونم نے بھی چونک کر دروازے کی جانب دیکھا جبکہ اچھلنے کے باعث سونم کے ہاتھ میں تھاما پانی تک چھلک گیا۔۔۔
ماہرا کو دیکھ کر فائزہ نے گہری سانس خارج کی اور گھٹنوں پر وزن ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
یہ وہ آخری چیز تھی جو وہ نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔
کون ہے یہ فائز علوی۔۔ وہ قدم قدم چلتی اسکی طرف بڑھی۔۔۔ آواز میں ٹوٹی کانچ کی کرچیاں تھیں۔۔۔ فائز نے لبوںِ پر زبان پھیرتے بات سمبھالنا چاہی۔۔۔وہ سونم کے سامنے کوئی تماشا نہیں چاہتا تھا وہ پہلے ہی مینٹلی ڈسٹرب تھی۔۔۔
سونم ہونق بنی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
تم اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو ماہرہ۔۔۔ اسنے ایک ہاتھ کمر پر رکھے دوسرا ہاتھوں بالوں میں پھیرتے خود کو کمپوز کرنا چاہا۔۔۔
ہاں ڈسٹرب کر دیا نا میں نے تمہیں۔۔۔ اسکی آواز میں نمی کی آمیزش تھی۔۔۔ فائز علوی نے چونک کر اسے دیکھا اور سختی سے انگلی اٹھاتے اسے وارن کرنا چاہا ۔۔۔ ایک لفظ فضول مت بولنا ماہرہ۔۔۔ میں برداشت نہیں کروں گا۔۔۔ جیسے وہ ماہرہ کے انداز سے ہی سمجھ چکا تھا کے وہ کیا بولنے والی ہے۔۔ تبھی کھنچے اعضلات سمیٹ سرخ نگاہوں سے اسے دیکھتا چبا چبا کر گویا ہوا۔۔۔ وہ واضح ضبط کے کڑَے مراحل سے گزر رہا تھا۔۔۔
کیوں کیوں نا پوچھوں۔۔مج۔۔۔ مجھے جواب چاہیے فائز علوی۔۔۔ یہ لڑکی۔۔۔ وہ ٹوٹے لہجے میں پھر سے گویا ہوئی۔۔۔
سونم۔۔۔ وہ اسکی بات نظر انداز کئے سونم سے مخاطب ہوا۔۔۔ یوں کے ماہرہ جو ناجانے کیا کہنے جا رہی تھی یکدم گم صم رہ گئ۔۔۔
سونم نے اس آکورڈ ہوتی صورتحال میں تھوک نگلتے اسے دیکھا۔۔۔۔
جج۔۔۔ جی۔۔۔
تم سامنے کمرے میں جا کر آرام کرو۔۔۔ میں کچھ دیر تک آتا ہوں۔۔ اور اگر کچھ چاہیے ہو تو وہ رہا کچن۔۔۔ اسنے کچن کی جانب اشارا کیا۔۔۔ وہاں تقریباً کھانے پینے کا سارا سامان ہے۔۔۔ میں جلد واپس آنے کی کوشیش کروں گا۔۔۔
وہ بول رہا تھا جبکہ ماہرہ مٹھیاں بھینچے ضبط کے آخری مراحل سے گزرتی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ کس حق سے کہا تھا اسنے کہ ۔۔۔۔وہ سامنے کمرے میں جا کر آرام کرو۔۔۔ ماہرہ کا دل چاہا کے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لے کے کون ہے وہ جسے وہ اپنے کمرے تک رسائی دے رہا ہے اور کس حق سے۔۔۔ اسکے کمرے تک رسائی تو آج تک ماہرہ اظہر بھی حاصل نا کر پائی تھی۔۔۔
اپنی بات مکمل کر کے وہ ماہرہ کا بازو اپنی سخت گرفت میں جھکڑتا اسے کھینچتے ہوئے اپارٹمنٹ سے باہر نکلا جبکہ جانے سے پہلے وہ اپارٹمنٹ کا دروازہ اچھے سے لاک کرنا بالکل نا بھولا تھا۔۔
****"
Complete novel available  in DOWNLOAD LINK

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!