Roshan Sitara By Umme Hania Readelle50348 Roshan Sitara (Episode 117) Last Episode (Part - 2)
Rate this Novel
Roshan Sitara (Episode 117) Last Episode (Part - 2)
Roshan Sitara By Umme Hania
نہیں یہ خواب نہیں تھا۔۔۔ اسکا تصور اس وقت مجسم حقیقت اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔
اسکا فائز ۔۔۔ وہ کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہوئی تھی۔۔۔ وہ وہی تھا۔۔۔ وہ وہیں کھڑی ساکت سی بہتی آنکھوں سے یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ جیسے پلکیں جھپکے گی تو منظر تحلیل ہو جائے گا۔۔۔ آنکھوں میں جمع ہوتے پانی کے باعث سامنے دکھائی دیتے منظر کے درمیان دھند کی دبیز تہہ جمتی جو اس پانی کے پھسل کر بہہ جانے پر چھٹتی اور کچھ ہی وقت میں پھر سے بن جاتی۔۔۔۔
ماہرہ کی آنکھیں اسی ایک شخص کے چہرے پر جمی تھیں جسے دن رات اسنے دعاوں میں گڑگڑا کر مانگا تھا ۔۔۔ وہ اپنے شاہکار کے شانے پر ہاتھ رکھے مسکراتا ہوا پریس کے جوابات دے رہا تھا جبکہ مرتسم اور وہاج انکے دائیں بائیں کھڑے تھے۔۔۔
اے پرفیکٹ ٹیم۔۔۔ درمیاں میں کوئی صحافی چٹکلا چھوڑتا تو وہ سب ہس دیتے۔۔۔۔
کتنی مکمل تھی اسکی مسکراہٹ۔۔۔
وہاج اور مرتسم کو دیکھ کر لگتا نا تھا کے وہ فائز سے ابھی ابھی ملے ہیں۔۔۔ یہ ملاقات شاک زدہ نہیں بلکہ پرسکون سی تھی۔۔۔ مطلب وہ ہر چیز سے پہلے سے آگاہ تھے۔۔۔
ماہرہ وہیں کھڑی کھڑی بے دم ہونے لگی تھی ۔۔ جیسے یہ سکون بھی اسکی جان نکالتا اسے بے دم کر رہا تھا۔۔۔ وہ کسی بھی پل ڈھ جانے کے در پر تھی۔۔۔
بریسلٹ وائبز کے شور نے اسے پاگل کر رکھا تھا ۔۔۔ اسنے ہاتھ بڑھا کر اسے نوچ کر کلائی سے اتارا۔۔۔ ساتھ ہی ان وائبز کا رابطہ ٹوٹ گیا۔۔۔ وہ جھٹکے سے پلٹی اور اندھا دھند باہر کو بھاگی۔۔۔
اسکا ردعمل غیر متوقع تھا۔۔۔ وہ زاروقطار رو رہی تھی۔۔۔ ہچکیوں سے۔۔۔ پھوٹ پھوٹ کر۔۔۔ بچوں کی مانند۔۔۔
جس شخص کو دن رات دعاوں میں مانگا اسے سامنے پا کر وہ اس تک نہیں گئ تھی بلکہ واپس پلٹ آئی تھی۔۔۔
اس شخص کے ساتھ ساتھ مرتسم اور وہاج کی جانب بھی اسکے بہت سے حساب کتاب نکلتے تھے جنہوں نے اسکی حالت دیکھنے کے باوجود اسے ہر چیز سے لاعلم رکھا تھا ۔۔۔ ان سب سے حساب وہ بعد میں بے باک کرنے کا ارادہ رکھتی تھی ۔۔۔ وہ قدم رکھ کہیں رہی تھی پڑ کہیں رہا تھا۔۔۔ وہ اندھا دھند بھاگ رہی تھی۔۔۔ ہاتھوں کی پشت سے آنسو صاف کرتے اسنے پارکنگ سے گاڑی نکالی اور زن سے روڈ پر بھگا لے گئ۔۔۔۔
دل ہنوز بے ہنگم انداز میں ڈھرک رہا تھا ۔۔۔ انتہائی ریش ڈرائیونگ کر کے وہ اپارٹمنٹ پہنچی۔۔۔ اور آتے ہی وضو کر کے سجدے میں گر گئ۔۔۔ اس پر سجدہ شکر واجب تھا۔۔۔ اس ذات کا جسنے اسکی دعاوں اور فریادوں کو رد نہیں کیا تھا۔۔۔ اسکی دعائیں قبولیت کا شرف پا گئ تھیں۔۔۔ وہ اب بھی یہاں اس ذات کے پاس نا آتی جسنے اسے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھی تنہا نا چھوڑا تھا۔۔۔ جسنے اسکی ایک ایک پکار پر لبیک کہا تھا۔۔۔
وہ سجدے میں سر رکھے ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔
تیرا شکر میرے مالک۔۔۔ تیرا لاکھ لاکھ دفعہ شکر۔۔۔
میرے پاس وہ الفاظ ہیں ہی نہیں جن میں میں تیرا شکر ادا کر پاوں میرے مالک۔۔۔
تو کتنا پیارا ہے میرے اللہ۔۔۔ تو کتنا پیارا ہے۔۔۔ میں تیری کس کس نعمت کا شکر ادا کروں۔۔۔ تو نے سب کچھ تو عطا کر دیا۔۔۔ مجھے معاف کردے میرے مالک۔۔۔ میں تیری گنہگار بندی۔۔۔ اس قابل نا تھی جتنا تو نے نواز دیا۔۔۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔۔۔ اور بے شک صرف تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔۔۔ اور پھر کتنی ہی دیر وہ اس رب کے حضور حاضری دیتی اس سے راز و نیاز میں مشغول رہی۔۔۔ جو سکون اس در پر تھا اسکا نعمل البدل تو پوری دنیا میں کہیں نہیں۔۔۔۔۔ اسقدر بے سکونی بے چینی اور اضطراب کے بعد یہ سکون جو اسکی رگ رگ میں سرائیت کر رہا تھا اسی سکون سے اسکا دم نکلتا جا رہا تھا۔۔۔
******
وہ وہیں سجدے میں سر رکھے اپنے رب سے راز و نیاز کرتی ہوش و ہواس سے غافل ہو گئ تھی۔۔۔ اب جو اسکی آنکھ کھلی تو ایک ہی پوزیشن میں رہنے کے باعث جسم کے اعضا گویا درد کرنے لگے تھے۔۔۔ وہ کراہ کر سیدھی ہوئی جب اسے باہر سے مائز کے کھلکھلانے کی آواز آئی۔۔۔ غالباً وہ سب کانفرینس سے واپس آ چکے تھے۔۔۔ وہ وہاں سے اٹھتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر دروازے تک آئی جہاں اسکا روبو بوائے مائز کو گود میں اٹھائے اس سے کھیل رہا تھا۔۔۔
یکدم ہی ماہرہ کا پارہ ہائی ہوا۔۔۔ وہ مائز سے بہت کھیلتا تھا ماہرہ کو اس سے اعتراض نا تھا مگر وہ اسے کبھی مائز کو اٹھانے نا دیتی۔۔۔ اسکی گرفت اتنی سخت تھی کے ننھا مائز لمحوں میں کراہ اٹھتا ۔۔۔
وہ غصے سے آگ بگولہ ہوتی اسکی جانب لپکی۔۔۔
روبو بوائے بدتمیز بدلحاظ کتنی دفعہ کہا ہے کے میرے بیٹے کو اٹھایا مت کرو۔۔۔ سنائی نہیں دیتا کیا تمہیں۔۔۔۔ اسنے جھپٹ کر مائز کو اسکی گود سے کھینچا۔۔۔ جب پیچھے ہٹتی ہٹتی چونک کر پلٹی۔۔۔
یکدم ہاتھ پاوں بے جان ہوئے اور گرفت کمزور ہونے پر مائز نیچے اترتا لپک کر اپنے کھلونوں کی جانب بڑھا۔۔۔ جبکہ اسے لگا وہ گویا پتھر کی ہو گئ ہو۔۔۔
سامنا کھڑا شخص جسکی گرفت سے اسنے مائز کو جھپٹا تھا وہ لوہے کا روبورٹ نہیں بلکہ گوشت پوشت کا بنا انسان تھا۔۔۔
وہ اسی پوزیشن میں کھڑی بے یقینی و حیرت زدہ نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔گویا ہر چیز اپنی جگہ پر ساکت ہو گئ ۔۔۔۔ ہوا تھم گئ ۔۔۔ سانس رک گئ۔۔ وقت تھم گیا۔۔۔ گویا ہر چیز فریز ہوگئ۔۔۔کئ ساعتیں آئی اور بے یقینی کی نظر ہوتیں گزر گئیں۔۔۔ وہ وہی تھا۔۔۔ اسکے اسقدر قریب۔۔۔ خواب سا خواب تھا۔۔۔ گمان سا گمان تھا۔۔۔
جب ہلکی سی مسکراہٹ فائز کے ہونٹوں پر ابھری اسنے درمیانی فاصلہ عبور کرتے بڑی نرمی سے اسے اپنے حصار میں سمیٹا تو وہ جیسے لمحے کے ہزارویں حصے میں ہوش میں آتی بھری بھری ریت کی مانند ریزہ ریزہ ہو کر اسکی باہوں میں بکھرتی چلی گئ۔۔۔ اس مضبوط سہارے کا انتظار اسنے پچھلے دو سالوں سے کیا تھا۔۔۔ اور دن رات کیا تھا۔۔۔۔ جی جان سے کیا تھا۔۔۔ رو رو کر کیا تھا ۔۔۔ گڑگڑا کر کیا۔۔۔ اب جو یہ میسر ہوا تو ضبط کے سبھی بندھن ٹوٹ گئے ۔۔۔ سمجھ ہی نا آئی ہوا کیا۔۔۔ یہ جو ایک آشنا لمس تھا۔۔۔ اسے محسوس کرتی وہ بکھر بکھر گئ۔۔۔
پھر جو نیروں کے سیلاب امڈے۔۔۔۔ آنسو تھے کے تھمنے کا نام تک نا لے رہے تھے۔۔۔ وہ بڑی نرمی سے اسے سمیٹے مسلسل اسکے بال سہلا رہا تھا۔۔۔ جیسے برسوں کی مسافت کے بعد مسافر کو منزل مل گئ ہو ۔۔۔ ساری دنیا گویا ساکت ہوگئ تھی۔۔۔ الفاظ اپنی موت آپ مر گئے۔۔۔ اس خاموشی میں محض احساس تھا جو دونوں کی اندرونی کیفیت کی عکاسی کر رہا تھا۔۔۔ نگر نگر مارے مارے پھر کر ہجر کی کئ طویل راتیں کاٹ کر کہیں وصل کے لمحات نصیب ہوئے تھے۔۔۔ وہ یونہیں زاروقطار روتے اس کا چہرا اپنے کپکپاتے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتی انگلیوں کی پوروں سے اسکا نقش نقش چھو کر گویا خود کو اسکے ہونے کا یقین دلا رہی تھی۔۔۔
عجیب بے یقینی کا عالم تھا۔۔ تصور یوں بھی مجسم حقیقت بن جاتے ہیں کیا۔۔۔
وہ بھی نم آنکھیں لئے یک ٹک سا جذب کے عالم میں اس دیوانی کی صورت دیکھ رہا تھا۔۔۔
بہت امتحان لیا ہے تم نے میری محبت کا فائز علوی۔۔۔ دیکھ لو تمہاری محبت نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔ کافی لمحوں بعد اسکی آنکھوں میں دیکھتے کپکپاتے لبوں سے شکوہ برآمد ہوا تو آواز بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ وہ اداسی سے مسکرا دیا۔۔۔
کہا تھا نا کہ یہ سفر بہت کھٹن ہے۔۔۔ قدم پیچھے ہٹا لو۔۔۔ اپنے لئے کوئی آسان منزل ڈھونڈو۔۔۔ نہیں مانی نا تم۔۔۔بہت ضدی ہو۔۔۔ اسکے لہجے میں کرب تھا۔۔۔
نو ڈاوٹ ۔۔۔ تم میرے فائز ہی ہو۔۔۔ وہ آہستگی سے ہسی۔۔۔ کیونکہ تم کل بھی میرے معاملے میں بے مہر ظالم اور سفاک تھے۔۔۔ اور تم آج بھی وہی ہو۔۔۔ اتنے عرصے کی جدائی بھی تمہیں بدل نہیں سکی۔۔۔
اسکی ہسی میں فائز کا قہقہ بھی شامل ہوا۔۔۔ ان سب کا تو پتہ نہیں۔۔۔ البتہ خوش قسمت ضرور ہوں۔۔۔ کیونکہ قسمت والوں کو ملتی ہے ایسی ہمسفر اور میں خوش قسمت ہوں جسے اللہ نے اسقدر مخلص باوفا قدردان اور چاہنے والی ہمسفر عطا کی۔۔۔ وہ گیلی سانس اندر کھینچتا آنکھوں کی نمی پیچھے دھکیل کر اسکی بھیگی گال نرمی سے سہلاتا گویا ہوا تو ماہرہ کو لگا گویا کسی نے جلتے بھڑکتے دل پر پھاہے رکھ دئیے ہوں۔۔۔ اسکی ایک لائن کی لفاظی نے گویا سالوں کی مسافت کی تھکن اتار دی ہو۔۔۔ کبھی لفظ بھی شفا بن جاتے ہیں یہ اسنے آج جانا تھا۔۔۔
کیوں ستایا مجھے اسقدر فائز۔۔۔ جانتے ہو کتنا تڑپی ہوں تمہارے لئے۔۔۔ کہاں تھے تم اب تک۔۔ وہ نا نا کرنے کے باوجود شکوہ کر گئ۔۔۔
*******
سر سانس چل رہی ہے ابھی اسکی۔۔۔ وہ دلاور خان کی لیب تھی جہاں خون کا سیلاب امڈا پڑا تھا ۔۔۔ دلاور خان کرسی پر سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھا تھا جبکہ میر خون میں لٹ پٹ اس شخص کو جھلسا دینے والی نگاہوں سے تک رہا تھا جب اسکا ایک شخص فائز پر جھکا اسکی نبض چیک کر کے بولا۔۔۔ فائز کا دماغ اندھیروں میں اتر رہا تھا جب اسے میر کی کٹیلی آواز سنائی دی۔۔۔
کال کوٹھری میں پھینک کر آو اسے ۔۔۔
پھر اسے اپنے جسم پر دو لوگوں کی سخت گرفت محسوس ہوئی اور اسکے بعد اسے اندھیرے کمرے کے سخت چٹیلے فرش پر پھینک دیا گیا۔۔۔ اسکے جسم سے خون پانی کی مانند بہہ رہا تھا۔۔۔ ساری تکلیفیں آپس میں مدغم ہو رہی تھیں ۔۔۔ اسے نہیں پتہ وہ کب تک اس سخت چٹیلے فرش پر بے حس و حرکت پڑا رہا۔۔۔ بس آہستہ آہستہ اسکی حسیات اسکا ساتھ چھوڑ رہی تھیں۔۔۔ آنکھوں کے آگے تیزی سے اندھیرا چھا رہا تھا جب اسے باہر سے تیزی سے آتی ہیل کی ٹک ٹک کی آواز سنائی دی۔۔۔ اور اسکے بعد شائنہ کی گارڈ سے جھگڑنے کی آوازیں اسکے کانوں سے ٹکرائیں۔۔۔
تم بے غیرت انسان مجھے اندر جانے دو۔۔۔ اور خبردار جو اگر یہ بات بابا یا اس گھٹیا میر کو پتہ چلی تو۔۔۔ ورنہ تمہارا وہ حشر کروں گی کے تمہاری سات نسلیں یاد رکھیں گی۔۔۔ اور میری دھمکیوں کو ہلکا ہرگز مت لینا۔۔۔ شائنہ خان اب اس مقام پر کسی بھی حد سے گزر سکتی ہے۔۔۔ اسکی آواز میں ازدھوں کی سی پھنکار تھی۔۔۔ جیسے سب جلا کر بھسم کر دینا چاہتی ہو۔۔۔ اسکے ساتھ ہی فائز کا دماغ مکمل تاریکی کی نظر ہو گیا۔۔۔
****
دوبارہ اسکی آنکھ کھلی تو اسنے خود کو ایک چھوٹے سے لکڑی کے کمرے میں پایا۔۔۔ سخت چٹیلے فرش کی جگہ نرم بستر نے لے لی تھی۔۔ اسنے نگاہیں گھما کر ارد گرد دیکھا ۔۔ وہ گویا ایک چھوٹا سا وڈ ہاوس تھا۔۔۔
اسکے زخموں کی پٹی کر دی گئ تھی۔۔۔ لیکن نقاہت حد سے سوا تھی۔۔۔ اتنی کے منظر دھندلا رہے تھے۔۔۔ بار بار آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا۔۔۔
دفعتا بوکھلائی سی شائنہ اندر داخل ہوئی۔۔۔ نیلی جینز اور سیاہ جیکٹ میں ملبوس سر پر سفید فر والی ہڈی لئے ہوئے۔۔۔
احمر ہم اس وقت آبادی سے دور جنگل میں ایک وڈ ہاوس میں موجود ہیں۔۔۔ دیکھو تم مجھ پر اعتبار کر سکتے ہو۔۔۔ وہ لبوں کو تر کرتی تیز تیز بول رہی تھی۔۔۔ اعتبار نا کرنے کی تم اس وقت پوزیشن میں نہیں ہو۔۔۔ وہ اسکے قریب آ کر بیٹھی۔۔۔ اسکے ہر ہر انداز میں عجلت اور بے چینی تھی۔۔۔ جیسے اسے کسی چیز کا خوف لاحق ہو۔۔۔
تمہیں تین گولیاں لگی تھیں ایک کندھے پر دوسری سینے کے قریب اور تیسری پیٹ میں۔۔۔ پیٹ والی گولی چھو کر گزری تھی۔۔۔ البتہ سینے کے قریب لگنے والی گولی سب سے خطرناک تھی۔۔۔جنہیں نکال دیا گیا ہے۔۔۔ لیکن تمہارا خون بہت بہہ چکا ہے ۔۔۔ بے ساختہ فائز کو اپنے ارد گرد بہتے خون کا سیلاب یاد آیا۔۔۔ البتہ قوی امکان ہے کے تمہارے مسلز کام کرنا چھوڑ دیں۔۔۔ یا کوئی مستقل معذوری تمہارا مقدر ٹھہرے۔۔۔
میرے پاس خون کا کوئی انتظام نہیں۔۔۔ اگر جلد از جلد تمہیں خون نا ملا تو تمہاری جان کو بھی خطرہ ہے۔۔۔وہ اس سے بات کرتی بار بار کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھ رہی تھی۔۔ جیسے اسکے پاس وقت مختصر ہو۔۔۔ بے حد مختصر۔۔۔
موت تو ویسے بھی تمہارے سر پر منڈلا رہی ہے۔۔۔
میر کو خبر لگ گئ ہے کہ تم اسکی کال کوٹھری سے فرار ہو چکے ہو۔۔۔ وہ شکاری کتے کی مانند تمہاری بو سونگھتا پھر رہا ہے۔۔۔ اگر وہ تم تک پہنچ گیا تو تمہاری موت پکی ہے۔۔۔
اگر وہ تم تک نا پہنچا اور تم یہیں وڈ ہاوس میں رہے تو بھی خون نا ملنے کی بنیاد پر تم مر جاو گے۔۔۔ کیونکہ میں جتنا تمہارے لئے کر سکتی تھی۔۔۔ اپنی جان پر کھیل کر کر چکی ہوں۔۔۔ جب تمہارا مرنا طے ہے تو کیوں نا تم اپنوں میں جا کر مرو۔۔۔ کیا پتہ خدا کے گھر تمہاری زندگی ہو۔۔۔ وہ پریشانی سے بول رہی تھا یا شاید اسے خود پر اعتبار کرنے کے لئے قائل کر رہی تھی۔۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کے وہ شخص اتنی آسانی سے اس پر اعتبار نہیں کرے گا۔۔۔
کیا چاہتی ہو تم۔۔۔ فائز کو اتنا سا بولنے پر ہی اپنا سر گھومتا محسوس ہوا۔۔۔
کسی ایسے انسان کا کانٹیکٹ نمبر دو جو جلد از جلد تمہیں یہاں سے آ کر ریسکیو کر سکے۔۔۔ جلد از جلد۔۔۔ جتنا جلدی ممکن ہو سکے۔۔۔۔ کیونکہ تمہاری جان ہنوز خطرے میں ہے۔۔۔
وہ پریشان تھی اور اسکی پریشانی اسکے چہرے سے ہوادیدہ تھی۔۔۔
ناجانے کیسے سوئی جاگی کیفیت میں اسنے شائنہ پر اعتبار کرتے اسے میجر اریز کا نمبر دیا۔۔۔۔
اس پر مسلسل غنودگی طاری ہو رہی تھی سوئی جاگی کیفیت میں وہ اپنے اردگرد سب ہوتا محسوس کر پا رہا تھا۔۔۔ شائنہ کا میجر اریز سے رابطہ کر کے اسے مختصراً سب بتا کر اس وڈ ہاوس کا ایڈریس دینا۔۔۔
پھر جلے پیر کی بلی کی مانند وہاں چکر کاٹنا۔۔۔ ساتھ ساتھ وہ پیچھے بھی کسی سے رابطے میں تھی۔۔۔ شاید وہ میر کی حرکات و سکنات پر بھی نظر رکھے ہوئے تھی۔۔۔
مائے گاڈ ۔۔۔ پلیز تم کیسے بھی کر کے اسے اس طرف آنے سے کچھ وقت تک روکو۔۔۔ وہ گھبرائی سی فون پر کسی کو کمانڈ دے رہی تھی۔۔۔ شاید میر اسی جانب آنے والا تھا۔۔۔
آپ کہاں ہیں۔۔ پلیز اگر آپ اگلے چند منٹوں تک یہاں پہنچ سکتے ہیں تو ٹھیک ورنہ آپ یہاں آنے کا تکلف مت کریں۔۔۔ وہ غالبا اب پرہشانی میں میجر اریز کو فون کرتی اس سے بھی الجھ پڑی تھی۔۔۔
اور اگلے کچھ ہی وقت میں میجر اریز اپنے چند ساتھوں کے ساتھ وہاں تھا۔۔ وہ سب تیز تیز قدم اٹھاتے اسی کی جانب آ رہے تھے۔۔۔ شائنہ پتہ نہیں تیزی سے انہیں کیا کیا بتا رہی تھی۔۔۔ فائز کا دماغ مزید گنودگی میں جاتا جا رہا تھا۔۔۔
اسے میجر اریز خود پر جھکا محسوس ہوا۔۔۔
وہ پریشان حال صورت لئے فائز کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرے کچھ کہہ رہا تھا ۔۔۔ فائز کا دماغ اسکے الفاظ سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔ پھر شائنہ کی جلد بازیاں ۔۔۔ وہ انہیں جلد از جلد وہاں سے نکلنے کو بول رہی تھی۔۔۔ فائز علوی اس بندی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔۔۔ مگر اس وقت بے بسی کا عالم یہ تھا کے وہ چاہنے کے باوجود کچھ نا کرپایا۔۔۔
اسے تیزی سے سٹریچر پر لٹاتے جیٹ میں منقل کیا جا رہا تھا۔۔۔ ساتھ ہی اسے فرسٹ ایڈ دی جانے لگی۔۔۔
جیٹ کے پرواز کرتے ہی اسکا ذہن اندھیروں میں ڈوب گیا۔۔۔
دوبارہ اسکی آنکھ ہسپتال کے کمرے میں کھلی۔۔۔ وہ غالباً پاکستان واپس آ گیا تھا۔۔۔ اسکے ہاتھ پر خون کی بوتل آئی وی لائن کی مدد سے لگی تھی۔۔ جبکہ میجر اریز کیساتھ ساتھ مرتسم اور وہاج بھی وہیں تھے۔۔۔ وہ اب منظر واضح پہچاننے لگا تھا۔۔۔
وہ تینوں تیزی سے اسکی جانب بڑھے۔۔۔ انہیں دیکھتے ہی فائز کی آنکھیں تیزی سے بھیگنے لگی۔۔۔ دل کی ڈھرکن بڑھ گئ۔۔۔ وہ اپنوں کے بیچ واپس آ گیا تھا۔۔ اتنی مشقت کاٹنے کے بعد۔۔۔
فائز میرے یار۔۔۔ اب کیسی طبیعت ہے تمہاری۔۔۔صرف وہ ہی نہیں بلکہ اسکے دونوں جگری یار رو رہے تھے۔۔۔ اسنے زندگی میں پہلی مرتبہ انہیں روتے دیکھا تھا۔۔۔ وہاج نے اپنی آنکھیں مسلتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا جبکہ مرتسم اسکا ہاتھ تھامتا ہونٹوں سے لگا گیا۔۔۔
جلدی سے ٹھیک ہو جا یار۔۔۔ہمیں بہت ضرورت ہے تمہاری۔۔۔ اور تو اور ابھی تو وہاں گھر میں بھی ایک دیوانی تمہاری منتظر ہے جسکا یقین راسخ آج جیت گیا۔۔۔
مرتسم کے کہنے پر وہ ہلکا سا ہسا۔۔۔
اسکی حالت ابھی خطرے سے باہر نہیں تھی۔۔۔ ڈاکٹروں کی بارہا کوشیشوں کے باوجود اسکے مسلز کام نہیں کر رہے تھے۔۔۔ وہ اٹھ کر بیٹھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔ خون خطرناک حد تک ضائع ہو گیا تھا۔۔۔ اگر یہ کہا جاتا کے اسکی زندگی معجزانہ طور پر کسی کی بے لوث دعاوں کی بدولت بچ گئ تھی تو بے جا نا تھا۔۔۔ اس لئے اسنے ہی سب کو ماہرہ کو کسی بھی قسم کی صورتحال سے آگاہ کرنے سے منع کیا تھا۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کے اگر آج یہاں اس مقام پر وہ زندگی کی بازی ہار جاتا تو وہ پھولوں سی نازک لڑکی دوبارہ اس دوہری اذیت کا شکار ہوتی۔۔۔
ہنگامی بنیادوں پر خون کا ارینج کر کے اسے خون فراہم کیا جا رہا تھا۔۔۔ دن تیزی سے گزر رہے تھے۔۔۔ مرتسم اور وہاج کی پریشانی دیدنی تھی۔۔۔ وہ دونوں اسے پریس کے روز اپنے ساتھ لیجانا چاہتے تھے مگر اسکی طبیعت سمبھلنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔
پھر ایک روز وہ ہوا جسکے لئے شاید ابھی تک فائز کی سانسیں چل رہی تھی۔۔۔
شہزادے اٹھو۔۔۔ آنکھیں کھولو ۔۔۔ دیکھو آج تم سے ملنے کون آیا ہے۔۔۔۔اٹھو اور اٹھ کر اپنے شیر سے ملو۔۔۔ مرتسم کی آواز پر اسنے آہستگی سے آنکھیں کھولیں جب اسکی گود میں ایک ننھے سے شہزادے کو دیکھ اسکا سارا جسم متحرک ہو اٹھا۔۔۔
وہاج بھی اسکے ساتھ ہی تھا۔۔۔
پھر وہ ہوا جو اب تک ڈاکٹروں کی پوری ٹیم مل کر بھی نا کر پائی تھی۔۔۔۔ اسنے اپنی پوری قوت اور پوری ول پاور صرف کرتے اپنے پٹھوں کو حرکت دینے کی کوشیش کی۔۔۔۔ وہ کیا چیز تھی جسنے اسے دشمن کی قید میں بے تاب کر دیا تھا۔۔۔ وہ کونسا احساس تھا جو اسے ہر بندش ٹور کر یہاں واپس آنے کو اکساتا تھا۔۔۔ اسکے وجود کا حصہ۔۔۔ وہ ننھی سی جان ۔۔ جو اس وقت اسکے سامنے تھی۔۔۔ اپنے آپ میں مگن ۔۔۔ بلیک جینز اور بلیک ہی ہڈی میں ملبوس ریشم سے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔۔۔ وہ ایک سرخ و سپید گول مٹول سا بچہ تھا جو ماں اور باپ دونوں کی شباہت چرا لایا تھا۔۔۔ وہ اس وقت مرتسم کی گود میں مگن سے انداز میں چاکلیٹ کھا رہا تھا۔۔۔
اتنی کھٹن مسافت طے کرنے کے بعد بھی بھلا وہ اس لمس سے آشنا ہونے سے محروم رہ پاتا۔۔۔ وہ کونسی چیز تھی جو اب بھی اسے اسکے بیٹے سے دور رکھتی۔۔۔۔۔۔ اندر جذبات میں ایک طلاطم برپا ہوا تھا۔۔۔ وہ ہر چیز پس ہشت ڈالتا بھرپور کوشیش سے اٹھ کر بیٹھا۔۔۔ چہرے پر تکلیف کے اثرات واضح تھے۔۔۔ رنگت خطرناک حد تک سرخ پر گئ
مگر ہر جسمانی تکلیف ۔۔۔ درد ۔۔۔۔کھنچاو۔۔۔ ہر چیز اس منظر کے سامنے ہیچ تھی۔۔۔
صرف ایک طلب ۔۔۔ صرف ایک طلب۔۔۔ محض بیٹے کو سینے میں بھیچنے کی طلب ہر چیز سے اوپر تھی۔۔۔
اسکی زخموں سے خون ابھر آیا۔۔۔ مگر جہاں اتنی تکلیفیں سہی وہاں کچھ اور سہی۔۔۔ وہ اپنی پوری قوت صرف کر کے اٹھا۔۔ اس سے پہلے کے وہ ڈولتا وہاج نے سرعت سے آگے بڑھتے اسے سہارا دیا ۔۔۔ مرتسم مائز کو اسکے پاس بستر پر چھوڑے ڈاکٹرز کو بلانے بھاگا۔۔۔۔۔۔۔ مگر وہ ہر چیز پس پشت ڈالے مائز کو سینے میں بھینچے اسے چٹا چٹ چومتا یوں اس میں مگن تھا جیسے برسوں کی تشنگی مٹانا چاہتا تھا۔۔۔ اس ننھے سے معصوم لمس نے کئ زخموں کا مداوا کر دیا تھا۔۔۔ دل میں ٹھنڈک اتار دی تھی۔۔۔آنسو موتیوں کی لڑیوں کی مانند اسکی آنکھوں سے پھسل پھسل گر رہے تھے۔۔۔وہ اسے شدت سے خود میں بھینچے اسے محسوس کرتا خود کو سکون فراہم کر رہا تھا۔۔۔ ڈاکٹرز کی ٹیم بھاگتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔ اس خوبصورت منظر نے سب کو اشک بار کر ڈالا۔۔
جلد ہی اسکی ہمٹ ٹوٹنے لگی اور مائز بھی اسکے پرشدت لمس پر رونے لگا تو مرتسم نے آگے بڑھ کر اس سے مائز کو پکڑا۔۔۔۔ڈاکٹرز نے اسے سرعت سے پکڑتے اسے ٹریٹمنٹ دینا شروع کیا۔۔
*******
اگر کبھی فائز نے پروفیسر عظیم سے کیا وعدہ ایفا کرتے سونم کے بھائی ہونے کا حق ادا کیا تھا۔۔۔ تو اس کھٹن وقت میں اسنے بھی بہن ہونے کا حق ادا کیا تھا۔۔۔ آرمی ہسپتال میں وہ دن رات اسکی عیادت کو آتی۔۔۔ پہروں اسکے پاس بیٹھ کر اس سے باتیں کرتی تینوں وقت کا پرہیزی کھانا وہ فائز کے لئے بنا کر لاتی ۔۔۔ نا صرف بنا کر لاتی بلکہ خود اسے کھلاتی۔۔۔
مائز کی ملاقات فائز کے لئے بہتریں دوا ثابت ہوئی تھی۔۔۔ اسنے تیزی سے ریکور کرنا شروع کیا تھا۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے اب وہ دونوں باقاعدگی سے مائز کو اس سے ملانے لاتے۔۔۔ وہ کئ کئ گھنٹے اسکے ساتھ رہتا یہ ہی وجہ تھی کے وہ بہت جلد باپ سے مانوس ہونے لگا تھا۔۔۔ اور فائز بھی تو سارے دن میں اس ایک ملاقات کے لئے بے تاب رہتا۔۔۔ وہ تو جب اکتا کر پیچھے سے ماہرہ کا مائز کے لئے فون آتا تو انہیں یاد آتا کے بچے کو اسکی ماں کے پاس واپس بھی چھوڑنا ہے۔۔۔ ابھی اسکے زخم بھرے نا تھے لیکن وہ لوگ ڈاکٹر سے اجازت لے کر فائز کو ہائی پین کلرز اور اینٹی بائیو ٹکس دے کر پریس میں لے کر آئے تھا۔۔۔ ان دوائیوں کا اثر کم از کم بھی بارہ گھنٹے تک رہنے والا تھا۔۔۔
*****
وہ صوفے پر بیٹھی فائز کے سینے پر سر رکھے اسکی زبانی ساری روداد سنتی خانوش آنسو بہا رہی تھی۔۔۔ اسکا ہر درد ماہرہ کے درد سے بڑا تھا۔۔۔ وہ اپنوں میں تھی۔۔۔ اسکا بیٹا اسکے پاس تھا۔۔۔ مگر وہ دشمنوں کے بیچ تن تنہا اتنا عرصہ اذیتیں سہتا رہا۔۔۔ماہرہ کا دل اسکی ایک ایک تکلیف پر اشکبار تھا۔۔۔
ماہرہ کے سر رکھنے کے باعث فائز کے سینے سے درد کی شدید ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں۔۔۔ مگر وہ یہ بات چاہ کر بھی اسے کہہ نا سکا۔۔۔ بس نرمی سے اسکے گرد حصار بنائے اسکا سر سہلاتا رہا۔۔۔ جب اسکے منہ سے نکلتی ہلکی سی کراہ سن کر وہ چونک کر ہوش میں آتی سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
ایم۔۔۔ ایم سو سوری فائز۔۔۔ سو سوری یار۔۔۔ مجھے بالکل پتہ نہیں چلا۔۔۔
اٹس اوکے۔۔۔ ریلیکس ہو جاو یار۔۔۔ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔۔۔ اپنوں کے بیچ آ کر ہی تو میں خود کو تندرست محسوس کرنے لگا ہوں۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر کہتا زرا ریلیکس ہو کر بیٹھا تو وہ بھی صوفے کی ٹیک سے سر ٹکاتی اسے ہی دیکھنے لگی۔۔۔
کہتے ہیں اللہ کے اپنے بندے کو آزمانے کی تین طریقے ہوتے ہیں۔۔۔ وہ کھوئی کھوئی سی بولی۔۔۔
ایک۔۔۔ وہ مانگنے پر فوراً عطا کر کے شکر کا امتحان لیتا ہے۔۔۔
دوسرا ۔۔۔وہ مانگنے پر دیر کرتا ہے اور انسان کے صبر کا امتحان لیتا ہے۔۔۔
تیسرا وہ مانگنے پر عطا نا کر کے انسان کے ایمان کا امتحان لیتا ہے۔۔۔
میری آزمائش شاید صبر کی تھی۔۔۔ تم نہیں تھے نا میرے پاس میں تو گویا اندھی ہوگئ تھی۔۔۔ میں نے جانا کے تمہارے بنا تو میں کچھ بھی نہیں۔۔۔ جو تھی تمہارے دم سے تھی۔۔۔ وہ اظہار کے معاملے میں کبھی بھی کنجوس نا تھی۔۔۔ اب کنجوسی کیسے کرتی جب عرصے بعد وہ میسر آیا تھا۔۔۔
وہ لب بھینچے خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔ تمہیں پتہ ہے ۔۔۔ تمہارے بعد اس بے رحم دنیا نے مجھے اپنے بہت سے رنگ دکھائے۔۔۔ اسکی آنکھیں بھرانے کیساتھ ساتھ لہجہ تک بھر آیا۔۔۔
ہر لمحہ میں نے تمہیں یاد کیا۔۔۔ اللہ سے تمہیں بارہا مانگا۔۔۔ مگر واقعی۔۔۔ یہ دنیا بہت ظالم ہے۔۔۔ میری سوچ سے بھی زیادہ۔۔۔ مجھے تنہا تو دیکھ ہی نہیں سکتی تھی۔۔۔ کہتی تھی فائز نہیں تو تمہارا تو وجود ہی نہیں۔۔ اپنے لئے نیا سہارا تلاشو۔۔۔ اسکی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔ تمہیں کہاں کہاں سے دکھاوں فائز ۔۔ تمہاری ماہرہ کو اس بے رحم دنیا نے کیسے کیسے زخمی کیا ہے۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں سے بہت دقت سے بول رہی تھی۔۔۔ جیسے میلے میں گھما بچہ کوئی اپنا مل جانے پر شکایتوں کی پوٹری کھولے بیٹھا ہو۔۔۔
تم واپس آگے ہو نا۔۔۔ اب بس تمہارے پیچھے چھپ کر اس ظالم دنیا کے ظلموں سے محفوظ ہو کر پرسکون رہنا چاہتی ہوں۔۔۔ وہ شدت سے اسکا ہاتھ تھامتی ماتھے سے لگا گی۔۔۔
فائز نے نرمی و محبت سے اسکے آنسو چنے۔۔۔ جب یکدم اپارٹمنٹ کا درلوازہ کھلا اور بابا اور مظہر اندر داخل ہوئے۔۔۔
انہیں اندر آتا دیکھ ماہرہ سرعت سے سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔۔ چہرے کی رنگت یکدم متغیر۔۔۔ فائز اسکے چہرے کی اڑتی رنگت دیکھ چونک اٹھا۔۔۔
مظہر نے ہاتھ میں مہندی کے لباس کی سجی باسکٹ اور بڑائیڈل ڈریس کا ڈبہ تھام رکھا تھا۔۔۔
ماہرہ نے ایک چور نگاہ فائز کو دیکھتے تھوک نگلا۔۔۔
ماہرہ بیٹا۔۔ جو تم چاہتی تھی وہ ہو گیا۔۔۔ شام کو تمہاری مہندی ہے اور یہ رہا تمہاری مہندی کا اور دلہن کا لباس۔۔۔ کچھ وقت تک بیوٹیشن یہیں آ جائے گی پھر مظہر تمہیں یہاں سے پک کر لے گا۔۔۔ اب کسی قسم کے اعتراض کا کوئی جواز نہیں۔۔۔ اب تمہارا انکار۔۔۔
بابا کی باتوں کے ساتھ ہی ماہرہ کی رنگت زرد پڑتی جا رہی تھی۔۔۔ اسکی زرد پڑتی رنگت اور بابا کی باتوں سے فائز کو معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا۔۔۔ بابا تو اسے یکسر نظرانداز کئے مکمل طور پر ماہرہ سے مخاطب تھے ۔۔۔ غالباً وہ اسے روبورٹ ہی سمجھے تھے۔۔۔۔۔
اسلام علیکم ماموں جان۔۔۔ کی۰سے ہیں آپ۔۔۔ یار پہلے بیٹے سے تو مل لیں۔۔۔ پھر بیٹی سے بھی بات چیت کر لیجئے گا۔۔۔ وہ تو تب سے آپکے پاس ہی تھی۔۔۔ دور سے تو میں ایا ہوں۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ کوئی اور بات کرتے ۔۔۔ فائز مسکرا کے انہیں مخاطب کرتا انکی توجہ اپنی طرف مبذول کرواتآ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
جبکہ اظہر صاحب حیرت و انیساط سے ماتھے پر بل لئے اسے دیکھنے لگے۔۔۔
ایسے کیا دیکھ رہیں ہے یار آپکاپ فائز ہی ہوں۔۔۔ کوئی روبو بوائے نہیں۔۔ وہ اندر ہے لیب میں اپنے کام پر لگا ہوا۔۔ اسنے مسکرا کر لیب کے بند دروازے کی جانب اشارہ کیا۔۔۔۔
بابا نے حیرت سے وہاں دیکھا۔۔۔ مظہر کی حالت بھی کچھ یونہی تھی۔۔۔
فائز علوی۔۔۔ یہ جو ایک مضبوط سہارا مجھ سے کھو گیا تھا۔۔۔ میں نے بارہا اسے دعاوں میں مانگا ہے۔۔۔ اور اب میرے مالک نے مجھے اس سہارے سے نواز دیا۔۔۔ جس کے پیچھے چھپ کر میں ہر فکر و غم سے آزاد ہونا چاپتی ہوں۔۔۔ ماہرہ نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے فائز کے کندھے کو چھوا۔۔۔ یوں کے اسکے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔۔۔۔۔
لحاظہ اب تم جانو۔۔۔ یہ سب جانیں اور یہ سفاک دنیا جانے۔۔۔ میرا محافظ میرے پاس ہے تو مجھے کسی چیز کا غم نہیں۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں سمیٹ کہتی جا کر کمرے میں بند ہوگئ۔۔۔ جبکہ جاتے جاتے اظہر صاحب کو پتھر کا بنا گئ۔۔۔
*****
ماموں جان۔۔۔۔ وہ قدم قدم اٹھاتا انکی جانب بڑھا جو بالکل گم صم سے اسے دیکھ رہے تھے جبکہ مظہر بھی شش و پنج میں مبتلا تھا۔۔۔
تم فائز نہیں ہو۔۔۔ یہ پھر سے ماہرہ کی کوئی فضول سی پلانینگ ہے شادی سے بچنے کے لئے۔ ۔۔ لیکن اگر اسنے اس مرتبہ انکار کیا تو۔۔۔
ماموں جان کا جسم بے بسی سے کپکپانے لگا تھا۔۔۔ جب فائز نے بے ساختہ آگے بڑھتے انہیں شانوں سے تھاما۔۔۔
ریلیکس۔۔۔ یلیکس ماموں جاں ۔۔۔ آپ یہاں آئیں ۔۔۔ بیٹھیں۔۔۔ وہ زبردستی انہیں پکڑ کر صوفے پر بیٹھاتا جگ سے پانی کا گلاس بھر کر انکی جانب بڑھا چکا تھا۔۔۔
پانی پیئں پہلے۔۔۔ انہیں ہنوز بھرائی نم آنکھوں سے تکتا پا کر فائز نے خود ہی پانی کا گلاس انکے لبوں سے لگایا۔۔۔
میں فائز علوی۔۔۔ آپکا بیٹا ماموں جان۔۔۔ مانا کے دو سال کے عرصے کے بعد دیکھ رہے ہیں لیکن ممکن نہیں کے مجھے پہچان نا پا رہے ہوں۔۔۔۔ اسکے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔
وہی لہجہ۔۔ وہی شائستہ انداز۔۔۔ وہی اطوار۔۔۔ وہی دل مو لیتا کردار ۔۔۔ وہ کس کس چیز کو جھٹلاتے۔۔۔ بے ساختہ ایک آنسو انکی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔ فائز نے انکے کپکپاتے ہاتھ تھام کر لبوں سے لگانے کے بعد عقیدت سے آنکھوں سے لگائے تو وہ رو دئیے۔۔۔
یہ کیسے ممکن ہے بھلا۔۔۔
انکے پوچھمے پر فائز انہیں اپنے ساتھ گزری ایک ایک بات انکے گوش گزارتا رہا جسے سن کر وہ گویا پتھرا گئے۔۔۔
تمہیں تو پھر ریسٹ کرنی چاہیے فائز تم یہاں کیوں بیٹھے ہو۔۔۔ اسے اسقدر ظالمانہ انداز میں گولیاں لگنے کا سن کر انکی پدرانہ شفقت جاگ اٹھی۔۔۔
اب بہت بہتر محسوس کر رہا ہوں ماموں جان۔۔ شاید اپنوں میں لوٹ آنے کی خوشی ہے جو کسی درد تکلیف کو محسوس نہیں ہونے دے رہی۔۔۔ وہ ہولے سے مسکرایا۔۔۔ پھر اٹھ کر پاس کھڑے ساکت سے مظہر تک آیا اور آگے بڑھ کر اس سے گلے ملا۔۔۔ وہ بھی ہوش میں آتا اسے خود میں بھینچ گیا۔۔۔ حالانکہ دونوں میں خوشگوار تعلقات کبھی بھی نا رہے تھے۔۔۔اور اس میں بھی زیادہ ہاتھ مظہر کا ہی تھا جسنے ہمیشہ اسے ڈی گریڈ ہی کیا تھا۔۔۔ مگر اب بہن کی بدولت رشتہ ہی ایسا بن گیا تھا یا وہ سب بچپن کی نادانیاں تھیں
۔۔۔ وہ اس سے بہت خوش ہو کر ملا۔۔۔
یہ سب کیا ہے ماموں جان ۔۔۔ وہ بہت کچھ سمجھتے ہوئے بھی انکے منہ سے سننا چاہتا تھا تبھی اسکا اشارہ مہندی اور برائیڈل ڈریس کی جانب تھا۔۔۔
ماموں جان کسی حد تک شرمندہ ہو اٹھے۔۔۔ میں بہت ڈر گیا تھا فائز۔۔۔ بہت زیادہ۔۔۔ میری بیٹی پچھلے دو سالوں سے جوگن بن گئ تھی۔۔۔ ہر چیز سے خود کو کاٹ کر اسنے خودکو خود تک ہی محدود کر لیا تھا۔۔۔ اور پھر میر والا واقع میرے قدموں تلے سے زمین تک سرکا گیا۔۔۔ مجھے اسکی فکر تھی۔۔۔ اسی لئے چاہتا تھا کے اسے اس بے رحم دنیا میں ایک مضبوط سائبان فراہم کروں۔۔۔ یہ ایک باپ کی بے بسی تھی بیٹا جو بیٹی کی رضا مندی کے خلاف جا کر میں اسکی بہتری کو مدنظر رکھتے یہ فیصلہ کر رہا تھا۔۔۔ وہ پشیمانی سے کہتے سر جھکا گئے تو فائز جا کر انکے ساتھ بیٹھتا انہیں اپنے حصار میں لے گیا۔۔۔
میں سمجھ سکتا ہوں ماموں جان۔۔۔ اولاد کی محبت چیز ہی ایسی ہے جو آپکو بے بس کر ڈالتی ہے۔۔۔ ماں باپ تو اولاد کے لئے دل چیر کر بھی خوشیاں خرید لانے کے خواہشمند ہو جاتے ہیں۔۔۔ اس تکلیف سے گزر چکا ہوں اس لئے آپکا درد بہت اچھے سے سمجھ سکتا ہوں۔۔۔ لیکن اب چونکہ میں آگیا ہوں تو دوبارہ ماہرہ کے سامنے اس بات کا ذکر تک مت کرئیے گا۔۔۔ وہ ہرٹ ہوتی ہے۔۔۔ اور اب میں اسے مزید ہرٹ کرنا نہیں چاہتا۔۔۔ فائز کے رسانیت سے کہنے پر وہ مسکرا کر سر ہاں میں ہلا گئے۔۔۔
میرے خیال میں ہمیں چلنا چاہیے بابا۔۔۔ جا کر ابھی یہ فنگشن رکوانا بھی ہے اور مام سمیٹ سبکو فائز کی آمد کے بارے میں بھی بتانا ہے ۔۔۔ مظہر نے عقلمندی کا مظاہر کرتے وہ لباس واپس اٹھاتے باپ کو وقت کی قلت کا احساس دلایا تو وہ بھی سر ہاں میں ہلاتے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔
****
وہ بہت ٹھنڈی میٹھی پرسکون نیند کی وادیوں میں اتری ہوئی تھی جب اسے اپنے بالوں میں کسی کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا۔۔۔ اس سکون کو محسوس کرتے وہ نیند میں بھی مسکرا دی۔۔۔
مسلسل سر میں سرائیت کرتے اس نرم سے لمس کے باعث وہ کچھِ ہی پلوں بعد مسکراتی ہوئی آنکھیں کھول گئ۔۔۔ اور آنکھیں کھولتے ہی بڑا خوبصورت منظر اسکا منتظر تھا۔۔۔ فائز علوی ڈھیلے سے ٹراوز شرٹ میں ملبوس ایک ٹانگ مورے بیڈ کراون سے ٹیک لگائے اسکی جانب جھکا بہت محنت سے اسکے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا۔۔۔ بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے جبکہ پرکشش ساحرانہ نگاہیں اسی کے چہرے کا طواف کر رہی تھی۔۔۔ نیند کی خماری کے اترتے اسنے گردن گھما کر گویا مائز کو ڈھونڈنا چاہا جو اسکے بائیں جانب بستر پر پھیل کر لیٹا محو استراحت تھا۔۔۔ ماہرہ کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔۔۔ اسکا باپ آگیا تھا اور اب ماہرہ کو اسکی فکر نا رہی تھی۔۔۔ دفعتاً اسکی نگاہ وال کلاک پر پڑی جو رات کا ڈیڑھ بجا رہا تھا۔۔۔ مائے گاڈ۔۔۔ وہ چونک اٹھی۔۔۔ میں اتنی دیر تک سوتی رہی۔۔۔ وہ زرا سا سیدھی ہوتی بیڈ کرون سے ٹیک لگا کر نیم دراز ہوئی۔۔۔ وہ تو سر شام ہی سو گئ تھی اور اب تو آدھی رات ہو چکی تھی۔۔۔ مطلب سارا وقت مائز فائز کے پاس ہی رہا۔۔۔
فائز بھوک لگی ہے۔۔۔ دفعتاً وقت کا احساس ہوتے ہی اسکی بھوک جاگ اٹھی ۔۔۔ ویسے بھی اسنے پریس میں جانے سے پہلے ناشتہ ہی کیا تھا۔۔۔ تبھی اسکی جانب دیکھتی لاڈ سے بولی۔۔۔
وہ بے ساختہ مسکرا دیا۔۔۔
سویٹ ہارٹ شوہر بیچارا بیمار ہے۔۔۔ تین تین گولیاں لگی ہیں اسے۔۔۔ بجائے اسکے کھانے پینے کا خیال رکھنے کے تم الٹا اسے ہی بول رہی ہو۔۔۔ اسکا انداز متاسفانہ تھا۔۔۔ ماہرہ کی رنگت پل بھر میں بدلی۔۔۔ وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔
ایم سو سوری فائز۔۔۔ میں تو یہ بات یکسر بھول ہی گئ تھی۔۔۔ تمہیں بھوک لگ رہی ہوگئ نا میں ابھی تمہارے لئے کچھ پرہیزی کھانا بنا کر لاتی ہوں۔۔۔۔ اسکی حواس باختگی اور عجلت دیدنی تھی۔۔۔ وہ تو وہی پہلے والا فائز سمجھ کر فرمائش کر گئ تھی۔۔۔ جو بالخصوص اسکے لئے کوکنگ کر کے اسے زیر نگرانی کھانا کھلاتا تھا۔۔۔
ارے یار رکو تو صحیح۔۔۔ کہاں بھاگی جا رہی ہو۔۔۔ فائز نے اسے بازو سے تھامتے بستر سے اترنے سے روکا۔۔۔
تمہیں تو خود بھوک لگ رہی ہے نا تو بھوک میں تو تم سے ویسے بھی کوئی کام ٹھیک سے نہیں ہوتا۔۔۔
وہ خفت سے مسکرا دی۔۔۔
اب ایسی بھی بات نہیں فائز علوی۔۔ تم دو سال پہلے کی ماہرہ کو جانتے ہو۔۔۔ ان دو سالوں نے مجھے بہت سے رنگ دکھائے ہیں بہت کچھ سیکھ چکی ہوں میں۔۔۔ اس لئے اب مجھے انڈر ایسٹیمیٹ مت کرنا۔۔۔
چلو پھر ایک کام کرتے ہیں۔۔۔ اکھٹے کھانا بناتے ہیں۔۔۔ اسنے کچھ سوچتے نئ تجویز پیش کی۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ وہ لمحے کی تاخیر کئے بنا اسکی تجویز مسترد کر گئ۔۔۔
چلو پھر باہر چلتے ۔۔۔ فائز نے چٹکی بجاتے اگلا حل پیش کیا۔۔۔
اس وقت۔۔۔ ماہرہ کے چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات ابھرے۔۔۔
بالکل اس وقت۔۔۔ ابھی ابھی تو قید تنہائی اور بندشوں سے رہائی ملی ہے۔۔۔ اب زرا آزادی بھی تو محسوس کرنی چاہیے نا۔۔۔ یہاں تھوڑی نا کوئی قید ہے جو اس وقت گھر سے نکلنے کے بارے میں سوچا نا جائے۔۔۔
اٹھو چلو جلدی کرو۔۔۔ دو منٹوں میں باہر آو۔۔۔ وہ جلدی مچاتا اسے ہاتھ سے پکڑ کر بستر سے اتار گیا۔۔۔ یوں کے وہ بوکھلا کر رہ گئ۔۔۔
مگر مائز۔۔۔ وہ سو رہا ہے۔۔۔
اسکا مسلہ نہیں۔ اسکا باپ ہے اسے سمبھالنے کو۔۔۔ تم بس چادر اوٹھ کر باہر آو۔۔۔۔ وہ دوسری سائیڈ سے آتا جھک کر سوئے ہوئے مائز کو اٹھاتے اسکے ماتھے کا بوسہ لے کر اسے کندھے سے لگاتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔
*****
وہ لوگ اس وقت ایک مشہور شاہراہ کے قدرے سنسان گوشے میں گاڑی میں بیٹھے تھے۔۔۔ سامنے فوڈ پوائنٹ پر بہت رش تھا۔۔۔ ماہرہ نے باہر جانے کی بجائے وہیں سوپ منگوایا تھآ۔۔۔
اسکی گود میں سویا مائز اٹھ چکا تھا اور اب کلکاریاں مارتا کبھی ماں اور کبھی باپ کے پاس جا رہا تھا۔۔۔ اسکی معصوم معصوم حرکتیں دیکھ وہ دونوں خوش ہو رہے تھے۔۔۔کبھی فائز اسکے ننھے ننھے ہاتھوں کے سامنے اپنی انگلی کرتا تو وہ جھٹ سے اسے تھام لیتا۔۔۔ فائز اسکے صوقے واری جاتے اسکے ننھے ننھے ہاتھوں کا بوسہ لیتا تو ماہرہ اسے سینے میں بھینچتی چٹاچٹ چوم ڈالتی۔۔۔۔ وہ ماں اور باپ دونوں کی توجہ پا کر بے حد خوش تھا۔۔۔
دفعتاً انکا آرڈر آگیا۔۔۔ فائز اللہ کتنا پیارا ہے نا۔۔۔۔ وہ سوپ پیتی کھوئی کھوئی سی گویا ہوئی۔۔۔ تو فائز مسکرا دیا۔۔۔
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے اللہ نے مجھے ایک مشکل فیز سے گزارا ہی خود سے جوڑنے کے لئے تھا۔۔۔ میری غفلت کو دور کرنے کے لئے۔۔۔ اپنے ہونے کا احساس دلانے کے لئے۔۔۔ ورنہ کیا کوئی میرے جتنا غافل بھی ہو سکتا تھا بھلا ۔۔۔ جسے اپنا مقصد حیات ہی نا معلوم ہو۔۔۔ وہ ہولے سے مسکرائی۔۔۔
اللہ نے مجھ سے میری سب سے محبوب چیز دور کر دی۔۔۔ جسے دیکھ دیکھ میں جیتی تھی۔۔۔ میں آخری حد تک ٹوٹ گئ۔۔۔ بکھر گئ۔۔ مگر میرے رب کی یہ ہی تو شان ہے کے وہ بڑے سے بڑا غم دے کر بھی انسان کو تنہا نہیں چھوڑتا۔۔۔ وہ تو ہمیشہ انسان کو تھامنے کو تیار رہتا ہے۔۔۔ بس انسان ہی غفلت میں مارا جاتا ہے۔۔۔ میرا میرے رب کی جانب بڑھنے کا سفر بھی تمہارے کھو جانے کے بعد ہی شروع ہوا۔۔۔ تب میں نے جانا کے قرآن میں تو کوئی ایک سورۃ بھی ہوپ لیس نہیں۔۔۔ پورا قرآن محض بھرا ہی امید سے ہے۔۔۔ کے اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہونا۔۔۔ حالات جو بھی ہوں آپ جس مقام پر بھی ہوں ۔۔۔ مر رہے ہو۔۔۔ ٹوٹ گئے ہو۔۔۔ بکھر گئے ہو۔۔۔ ریزہ ریزہ ہو گئے ہو تب بھی اللہ سے امید نا چھوڑنا۔۔۔ وہ ہے نا۔۔۔ اور جب وہ ہے تو تمہیں کیا غم۔۔۔ جو رب حضرت موسی کو فرعون پر غالب لا سکتا ہے۔۔۔ جو حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ سے سہی سلامت واپس لا سکتا ہے ۔۔ جو حضرت عیسی کو زندہ سلامت اوپر اٹھا سکتا ہے کیا وہ رب تمہارے لئے راستے نہیں بنا سکتا۔۔۔ اور پھر حضرت یعقوب علیہ اسلام کے واقعی نے بہت ہمت دی مجھے فائز۔۔۔ انکا غم تو اتنا بڑا تھا کے وہ رو رو کر اندھے ہو گئے۔۔۔ اسقدر گہری چوٹ۔۔۔ مگر انکا اپنے رب پر توکل بڑا نیکسٹ لیول کا تھا۔۔۔ آخری وقت تک انکی امید نہیں ٹوٹی۔۔۔ پھر کیا ہوا۔۔۔ اللہ نے بیٹا بھی لوٹایا۔۔۔ اور بادشاہی دے کر لوٹایا۔۔۔ اور بینائی بھی واپس آگئ۔۔ سبحان اللہ۔۔۔
بے شک یہ سب میرے مالک کی ہی کرم نوازی ہے جو کہتا ہے میں اپنے بندے کو اسکی طاقت سے زیادہ نہیں آزماتا۔۔۔
ماہرہ کی آواز بھر آئی۔۔۔
اس رب نے تمہیں مجھ سے ملا دیا نا۔۔ لگتا ہی نہیں کبھی وہ برا وقت تھا بھی۔۔۔ وہ وقت برا تھا۔۔۔ بہت برا۔۔۔ لیکن اسنے کٹوا دیا نا۔۔۔ اور یہ ہی شان ہے میرے مالک کی۔۔۔ بے ساختہ اسکی آنکھیں بھر آئیں تو فائز نے اسے بازو کے حصار میں لئے اپنے ساتھ لگایا۔۔ سہارا پاتے ہی وہ سسک اٹھی۔۔۔
یقین نہیں آتا کے میری آزمائش ختم ہوگئ۔۔۔ اس خوبصورت حقیقت پر گمان کا احساس ہوتا ہے۔۔۔ اسنے بھرائی نگاہوں سے اسکا چہرا دیکھتے اپنا مومی ہاتھ اسکی گال پر رکھا۔۔۔
کہتے ہیں جب اللہ کسی سے محبت کرتا ہے نا تو اسے مصائب میں ڈال دیتا ہے۔۔۔ فائز ہولے سے ہسا۔۔۔ آزماتا ہے اس انسان کو۔۔۔ یہ میرے اللہ کا فریم آف ورک ہے۔۔۔ اس لئے جو مشکل وقت انسان کو اللہ کے قریب تر کر دے وہ مشکل وقت بھی رحمت ہے اور جو مشکل انسان کو باغی بنا دے اللہ سے دور کر دے۔۔۔ وہ دنیا میں ہی انسان کے لئے سزا ہے۔۔۔
مجھے خوشی ہے کے ہمارا برا وقت بھی ہمارے لئے خدا کی رحمت رہا۔۔۔ جسنے نا صرف ہمارا توکل ہمارے رب پر بڑھاتے ہمیں اسکے مزید قریب کیا بلکہ ہمیں بھی مزید ایک دوسرے کا قدردان بنایا۔۔۔ وہ اسکے ماتھے سے ماتھا ٹکرائے آہستہ آواز میں سرگوشیاں کر رہا تھا۔۔۔ ماہرہ ہولے سے مسکرا دی۔۔۔ نیز اس مشکل وقت میں بھی ہمیں ایک خوبصورت تحفے سے نواز دیا۔۔۔ ماہرہ نے مسکراتے ہوئے مائز کی جانب اشارہ کیا جو اپنی ہی ایک دنیا آباد کئے ڈیش بورڈ کھولے اندر موجود چیزیں نکال نکال کر انکا باہر ایک ڈھیر لگا رہا تھا۔۔۔
فائز نے مسکراتے ہوئے مائز کی ننھی گال کا پرشدت بوسہ لیا۔۔۔ یہ تو شہزادہ ہے ۔۔ میرے جینے کی وجہ۔۔۔ اسکا بوسہ اسقدر پرشدت تھا کے مائز شدت سے رو دیا۔۔۔
ماہرہ نے اسے اٹھا کر سینے میں بھینچتے فائز کو گھورا۔۔۔
ابھی جو یہ بھاگ بھاگ کر ماں کی گود میں چھپتا ہے نا۔۔۔ ایک ہفتہ گزر لینے دو جو یہ زرا باپ کی گود سے اتر بھی گیا تو۔۔ وہ مسکراتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔۔۔
******
صبح تقریباً نو بجے ہی مامی ماموں جان کے سنگ فائز کے اپارٹمنٹ میں موجود تھیں۔۔۔۔ فائز جو مائز کو تیار شیار کئے کپڑے چینج کروا کر سیریلیک کھلا رہا تھا انہیں یوں فلیٹ میں آتا دیکھ مائز کا منہ صاف کر کے مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور نہایت خوشدلی سے ممانی سے جا کر ملا۔۔۔ وہ کتنی ہی دیر اسے نم آنکھوں سے دیکھتے رہنے کے بعد اسکے ماتھے کا بوسہ لے گئیں۔۔۔ فائز کھل کر مسکرا دیا۔۔۔
اللہ تمہیں لمبی زندگی دے میرے بچے۔۔۔ اور تمہارا سایہ صدا میری بیٹی کے سر پر بنا رہے۔۔۔ ورنہ وہ تو رل گئ تھی تمہارے بنا۔۔۔ ممانی جان نے انگلی کی پور سے نم آنکھیں صاف کی تو وہ انہیں بازو کے حصار میں لے کر صوفے تک آیا۔۔۔ ماموں جان مائز کو اٹھائے اس سے کھیلنے لگے تھے۔۔۔
انہیں صوفے پر بیٹھا کر وہ خود بھی سنگل صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔ مام نے جانچتی نگاہوں سے ارد گرد دیکھا مگر انہیں ماہرہ کہیں دکھائی نا دی۔۔۔
ماہرہ کہاں ہے۔۔۔ بلآخر وہ زیادہ دیر تک دل میں پنپتا سوال دل میں نا رکھ پائیں۔۔۔
وہ سو رہی ہے ممانی جان۔۔۔ رات مائز تنگ کرتا رہا تو وہ ٹھیک سے سو نہیں پائی۔۔۔ اس لئے ابھی تک اٹھی نہیں۔۔۔ اور ہم باپ بیٹے نے بھی اسے تنگ نہیں کیا اور خاموشی سے کمرے سے نکل آئے۔۔۔ انہیں مسکرا کر کہتے اسنے ماموں جان کی گود سے مائز کو تھاما جو دونوں ہاتھ اٹھا کر لپک کر اسکی طرف آ رہا تھا۔۔۔
رات واپسی پر انہیں دیر ہوگئ تھی اور تب تک مائز اپنی نیند پوری کر کے بالکل فریش تھا جیسے نا خود سوئے گا نا انہیں سونے دے گا۔۔۔ اور وہ دونوں بھی بنا ماتھے پر شکن لائے رات گئے تک اسکے ساتھ کھیلتے رہے جو بستر پر کبھی ماہرہ پر چڑھ جاتا تو کبھی فائز پر۔۔۔ وہ دونوں اسکی شرارتیں اور کلکاریاں دیکھ دیکھ خوش ہوتے تھے۔۔۔
ان سب تکلفات کی کوئی ضرورت نہیں تھی بیٹا۔۔۔ کچھ دیر بعد فائز کو چائے کے ساتھ اچھا خاصا اہتمام کر کے لے آنے پر مامی جان خاموش نا رہ سکیں۔۔۔ وہ خود بیمار تھا اوپر سے مائز سمبھال رہا تھا نیز انکے لئے اہتمام تک کر لایا تھا۔۔۔
ارے تکلف کی کیا بات ہے مامی جان۔۔۔ میرا خودکا بھی چائے پینے کا موڈ ہو رہا تھا۔۔۔ اسنے مسکرا کر ٹرے انکے سامنے رکھتے انہیں سرو کرنا چاہا جب مامی جان نے اسے ہاتھ کے اشارے سے منع کرتے خود سرو کرنا شروع کیا۔۔۔ وہ مائز کو اٹھائے پھر سے بیٹِھ گیا۔۔۔
اب ماہرہ کو اٹھا دو فائز۔۔۔ خاصا وقت ہو گیا ہے۔۔۔ گھڑی کو دس کا ہندسہ عبور کرتے دیکھ مامی گویا ہوئیں۔۔۔ اس وقت فائز کو خود کئیر اور خدمت کی ضرورت تھی۔۔۔
چھوڑیں نا ممانی جان۔۔۔ اٹھ جائے گی جب نیند پوری ہوگئ اسکی۔۔۔ کوئی تھوڑی بے آرامی تو نہیں کاٹی اسنے۔۔۔ ابھی تو پرسکون ہوئی ہے۔۔۔ کرنے دیں اسے انجوائے اپنی سکون کی نیند۔۔۔ وہ ہولے سے مسکراتا کوکیز چائے میں دبو کر نرم کرتا گود میں بیٹھے مائز کو کھلا رہا تھا۔۔۔
مامی جان نے اسے نم آنکھوں سے دیکھا۔۔۔ دل اور آنکھوں سے کدورت کی پٹی اتری تھی تو وہ شخص خودباخود ہیرا دکھائی دینے لگا تھا جسکے پیچھے انکی بیٹی پاگل تھی۔۔۔ اسکی پوشیدہ خوبیاں بھی دکھائی دینے لگی تھیں۔۔۔
نہیں میں تو تمہارے احساس سے کہہ رہی تھی کے تم خود بیمار ہو اور مائز کو یوں سمبھالنا ۔۔
نہیں یہ اتنی بڑی بات نہیں مامی جان ۔۔۔ انفیکٹ ہم دونوں تو بہت اچھا وقت گزار رہے ہیں۔ بس اب یہ بھی دوبارہ سے سو جائے گا ۔۔۔ اسنے چائے کی چسکی لیتے گویا بات ہی ختم کر دی۔۔
تقریباً گیارہ بجے کے قریب ماہرہ موندی موندی آنکھیں لئے۔۔۔ نائٹ سوٹ میں ملبوس بالوں کا گول مول سا جوڑا بناتی کمرے سے نکلی۔۔۔ فائز میں اتنی دیر تک سوتی رہی۔۔۔ تم نے مجھے جگایا نہیں یار۔۔ اور ناشتہ۔۔۔ وہ اپنے دھیان بات کرتی باہر آ رہی تھی جب سامنے مام اور بابا کو دیکھ خوشی سے چیخ اٹھی۔۔۔
مام۔۔۔ بابا۔۔۔ وہ لپک کر ماں کی آغوش میں آسمائی۔۔۔
کیسی ہیں آپ۔۔۔ ماں نےباریک بینی سے اسکا ہستا مسکراتا چہرا دیکھتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا جو ایک ہی رات میں کھلتے گھلاب کی طرح مہکنے لگا تھا۔۔۔۔
چہرے اور آنکھوں میں آلوہی سی چمک تھی۔۔ صدا سہاگن رہو۔۔۔ خدا تمہارا دامن خوشیوں سے بھرے۔۔۔ ماں نے صدق دل سے دعا دیتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔
بابا۔۔۔ ماں کے بعد وہ باپ سے آ کر ملی ۔۔۔۔ میرا پیارا بچہ۔۔۔ ہمیشہ خوش رہو۔۔۔ انہوں نے محبت سے اسکے سر پر پیار دیا۔۔۔
آپ مجھ سے ناراض تو نہیں نا بابا ۔۔۔ وہ باپ کی بازو تھامتی انکی ساتھ ہی بیٹھتی گلوگیر آواز میں گویا ہوئی۔۔۔ وہ نرمی سے مسکرا دئیے۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔ بلکہ میں اپنی بیٹی کے لئے بہت خوش ہوں۔۔۔ بابا کے مسکرا کر کہنے پر وہ ہلکی پھلکی ہوگئ۔۔۔
تمہارا ناشتہ اوون میں پڑا ہے ماہرہ ۔۔۔ گرم کر کے پہلے ناشتہ کرلو۔۔۔ تب تک میں اسے سلا آوں۔۔۔ فائز نیند سے بھری آنکھیں لئے رین ریں کرتے مائز کو اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔ مام نے مسکراتی نگاہوں سے فائز کو مائز کو تھپکتے کمرے کی جانب لیجاتے دیکھا۔۔۔ وقت نے ثابت کیا تھا کے انکی بیٹی کا انتخاب اسکے لئے بہترین انتخاب تھا۔۔۔ فائز علوی ماہرہ فائز علوی کے لئے ایک بہترین ہمسفر ثابت ہوا تھا۔۔۔
*****
