Roshan Sitara By Umme Hania Readelle50348 Roshan Sitara (Episode 108)
Rate this Novel
Roshan Sitara (Episode 108)
Roshan Sitara By Umme Hania
فاہا نے ایک قطعی اجنبی شخص کو وہاں دیکھ سر پر آنچل درست کیا اور سیدھی ہو بیٹھی۔۔ جبکہ وہاج اور مرتسم بھی حیرت و ناسمجھی سے اسے دیکھتے لیب سے باہر نکل آئے۔۔۔
زاویار انکے چہروں پر ناسمجھی کے تاثرات دیکھ مسکرایا۔۔۔۔ آئی تھنک ماہرا تم نے سب سے میرا تعارف نہیں کروایا۔۔۔ا۔ جبکہ ماہرہ کا دل چاہا یا اس شخص کا سر پھاڑ دے یا اپنا۔۔۔ وہ کیا کرنے آیا تھا اسکی ورک پلیس پر۔۔۔ ابھی شوہر بنا نہیں تھا اور اسقدر چیک آوٹ ۔۔۔ بن جاتا تو ناجانے کیا کیا کرتا۔۔۔
ان تینوں نے زاویار کی جانب دیکھنے کے بعد الجھی نگاہوں سے ماہرہ کی جانب دیکھا جو اسے نظر انداز کرتی میز پر بکھرے کاغذات سمیٹنے لگی۔۔۔
یہ زاوہار ہے میرا فرسٹ کزن۔۔۔
اور منگیتر بھی۔۔۔ ماہرہ کے ادھورا تعارف دینے پروہ مسکراتے ہوئے گویا ہوتا گویا وہاج اور مرتسم کو جھٹکا ہی لگا گیا۔۔۔
دونوں نے چونک کر ماہرہ کو دیکھا جو ہنوز میز پر جھکی ہوئی تھی۔۔۔ بہت جلد ہماری شادی ہے۔۔ ماہرہ نے پتہ نہیں ابھی تک آپ سب کو ہماری شادی پر انوائٹ کیا یا نہیں مگر میری طرف سے آپ سب انوائٹڈ ہیں۔۔۔ وہ خوشدلی سے کہتا لیب کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔
بائے دا وے کیا کر رہے ہیں آپ لوگ۔۔۔
کچھ خاص نہیں۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ لیب میں داخل ہوتا ماہرہ نے سرعت سے سارے کاغذات سمیٹ کر دراز میں ڈالے اور لیب کا دروازہ بند کرتی باہر نکل کر ہلکی مسکراہٹ چہرے پر سجاتی گویا ہوئی۔۔۔
اسکا یہ انداز زاویار سمیٹ سب نے نوٹ کیا۔۔۔
ویل تم یہاں کیسے۔۔۔ وہ نارمل انداز میں کہتی کچن کی جانب بڑھی۔۔۔
جبکہ مرتسم اور وہاج بھی لیب کا بند دروازہ دیکھ اندر جانے کی بجائے وہیں صوفے پر بیٹھ گئے۔۔۔۔ جب ماہرہ نہیں چاہتی تھی کے وہ شخص لیب میں جائے اور کچھ جانے تو پھر وہ کیوں لیب کا دروازہ کھولتے۔۔۔
دراصل میری کچھ ہی دیر میں امریکہ کی فلائیٹ ہے اگلے دو ہفتوں کے لئے میں وہاں جا رہا تھا کچھ کام کے سلسلے میں تو سوچا جاتا جاتا مل جاوں۔۔۔ وہ بھی سنگل صوفے پر براجمان ہوا۔۔۔۔
کہاں تک پہنچی تم۔۔۔۔ مرتسم کو ناجانے کیوں اس شخص کا وہاں آنا اور یوں ماہرہ سے مخاطب ہونا برا لگ رہا تھا۔۔۔ وہ اسکے جگری یار کی بیوی تھی اور یہ شخص۔۔۔ تبھی وہ ان سب کو نظر انداز کرتا فاہا کے پاس بیٹھتا اس سے مخاطب ہوا۔۔۔
آلموسٹ ڈن۔۔۔۔
سن سکتا ہوں۔۔۔۔ اسنے ستائشی انداز میں بھنور اچکاتے گویا اجازت طلب کی۔۔۔
شیور۔۔۔ فاہا نے مسکرا کر لیپ ٹاپ کی سکرین اسکی جانب کھسکائی۔۔۔
جبکہ وہاج بھی سر جھکائے اپنے موبائل پر مصروف ہو چکا تھا۔۔۔
ہیو آ سیو جرنی زاویار۔۔۔ ویسے میں چائے بنا رہی تھی سب کے لئے۔۔۔ تمہیں دیر نا ہو رہی ہوتی تو یقیناً ہمیں جوائن کرتے۔۔۔ رائٹ۔۔۔
ویل اٹس اوکے۔۔۔ نیکسٹ ٹائم بیٹر۔۔۔ ماہرہ چائے بناتی بنا اسکی جانب دیکھے بول رہی تھی جبکہ زاوببننیار اتنا بچہ نا تھا کے اسکے لب و لہجے کا مفہوم نا پہچانتا۔۔۔ وہ بہت خوبصورت انداز میں اسے گیٹ آوٹ کال دے چکی تھی۔۔۔ وہ لب بھینچتا اٹھ کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔
کون تھا یہ نمونہ اور منگنی کا کیا سین ہے۔۔۔ اسکے جاتے ہی وہاج موبائل سے نگاہیں اٹھاتا ماہرہ کی جانب دہکھتا غصیلے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
ماہرہ خاموش رہی۔۔۔ جیسے ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہی ہو۔۔۔ خاموشی سے سر جھکائے چولہے کے سامنے کھڑی چائے بناتی رہی۔۔۔
اسکی بےبسی اسکے چہرے سے عیاں تھی جیسے کسی بھی پل بھرم ٹوٹتا اور وہ رو دیتی۔۔۔۔ وہاج لب بھینچ گیا۔۔۔
وہ یہاں کرنے کیا آیا تھا۔۔۔ فاہا سے سوال جواب سنتے مرتسم نے گفتگو میں حصہ لیا۔۔۔
دیکھنے آیا تھا کے میں دو نامحرموں کے ساتھ یہاں کیا کر رہی ہوں۔۔۔ ماہرہ نے چائے کی ٹرے لا کر میز پر رکھی تو ان دونوں کو گویا سانپ سونگھ گیا۔۔۔
ماہرہ کے چہرے پر غیر معمولی سنجیدگی تھی۔۔۔ وہ سنگل صوفے پر بیٹھتی سر صوفے کی پشت سے ٹکا گئ۔۔۔ فاہا نے اٹھتے سب کو چائے سرو کرنا شروع کی۔۔۔
کل سے تم دونوں اپنی مسز کو یہاں لا رہے ہو۔۔۔ میں اپنے کردار پر کسی طرح کی اٹھتی انگلی برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔ اسنے گیلی سانس اندر کھینچتے فاہا کا بڑھایا چائے کا کپ تھاما۔۔۔ دفعتاً مائز کے رونے کی آواز آئی تو وہ اٹھ کر دوسرے کمرے کی جناب بڑھی وہ غالباً نیند سے ڈر کر اٹھا تھا۔۔۔ وہاج نے دکھ سے اسے جاتے دیکھا جسکی محبت میں آزمائش شاید سب سے کڑی تھی۔۔۔
*****
یہ ہم کہاں آئے ہیں مرتسم۔۔۔ گاڑی کو ایک ریسٹورینٹ کی پارکنگ میں رکتے دیکھ فاہا حیرت سے مستفسر ہوئی۔۔۔ اپارٹمنٹ سے وہ فاہا کی آج کی کی گئ مقابلے کے امتحان کے لئے ساری تیاری سن کر آیا تھا۔۔۔ اور مرتسم کے مطابق وہ سیٹیسفائیڈ نہیں تھا۔۔۔ ابھی اسے بہت محنت کی ضرورت تھی اور گھر جاتے ہی وہ دوبارہ اسے نوٹس دے کر بیٹھانے والا تھا۔۔ وہ اسکے معاملے میں اس سے زیادہ دلچسپی رکھتا تھا اسکے امتحان سے زیادہ مرتسم کو اسکی فکر تھی۔۔۔ اور وہ ایک پرسنٹ رسک لینے کو تیار نا تھا۔۔۔ پچھلے دنوں جتنا نقصان وہ اپنا کر چکی تھی اسے اب اسکا افسوس ہو رہا تھا۔۔۔ ایسے میں انکا یوں ریسٹورینٹ آنا اسے حیرت میں مبتلا کر گیا۔۔۔
اب تم نے تو قسم کھا رکھی ہے مجھے میری ماں سے جوتے پڑوانے کی۔۔۔ اب گھر جا کر بتاو گی کے مرتسم نے سارا دن مجھ سے پڑھائی کروائی اور گھر آ کر بھی یہ ہی ارادہ رکھتا ہے تو پھر ماں کے ہاتھوں ہونے والی میری کھنچائی تم گھنی میسنی ویسے ہی بہت انجوائے کرتی ہو ۔۔۔ وہ گاڑی سے نکل کر گاڑی لاک کرتا آگے بڑھا فاہا نے بھی بے ساختہ اپنی مسکراہٹ روکتے اسکی تقلید کی ۔۔۔جا کر اپنی مدر ان لا کو اچھے سے بتا دینا کے تمہیں ڈنر کروا کر لا رہا ہوں۔۔ البتہ شاپنگ تمہارے امتحان کے بعد کرواوں گا۔۔۔ کھانا آرڈر کرنے کے بعد وہ فرصت سے گویا ہوا تو فاہا سے اپنی مسکراہٹ چھپانا محال ہوئی۔۔۔
کھانا خوشگوار ماحول میں کھا کر وہ مرتسم کے سنگ ہستی کھیلتی گھر واپس لوٹی۔۔۔ ہاں بجا لو شکل پر بارہ تا کے حسب منشا ماں سے میری کلاس لگوا سکو۔۔۔ گاڑی سے اترنے تک وہ مسکرا رہی تھی مگر گاڑی سے نکلتے ہی اسے سنجیدہ صورت لئے اندر بڑھتا دیکھ مرتسم جل کر گویا ہوا۔۔۔ جبکہ فاہا کے منہ سے ہسی کا فوارہ پھوٹ پڑا۔۔۔
سامنے سے آتی ماں نے مسکرا کر یہ منظر دیکھتے انکی ڈھیروں بلائیں لے ڈالیں۔۔۔ وہ بھاگ کر ان سے لپٹی۔۔۔
چیک کر لیں اپنی بہو کو اچھے سے ماں کہیں کوئی اسکا پرزہ مسنگ تو نہیں۔۔۔ وہ نڑوتھے پن سے ماں کو کہتا آگے بڑھا۔۔۔ اور تم بھی دو منٹوں میں کتاب اٹھا کر اندر پہنچو۔۔۔ جاتا جاتا وہ رک کر پلٹتا گویا ہوا تو ماں کے سینے سے لگی فاہا نے مسکرا کر سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
*****
ان سب کے جانے کے بعد ماہرہ کتنی ہی دیر تک ساکت سی بیٹھی اپنے ہاتھوں کو گھورتی رہی۔۔۔ دل بہت بوجھل بوجھل سا تھا۔۔۔ وہ گویا جیسی پوری دنیا سے روٹھی روٹھی سی تھی۔۔۔ اتنا انتظار۔۔۔ اتنا طویل انتظار۔۔۔ آخر کب تک کرتی وہ انتظار۔۔۔ پریگنینسی کا سارا طویل مرحلہ اسنے اکیلے تن تنہا کاٹا تھا۔۔۔ اس بے مہر ستم گر کے انتظار میں۔۔۔ اسکا بیٹا سال کا ہونے والا تھا۔۔ شب و روز وہ تنہا اسے پالتی رہی اس انتظار میں کے اسکا شوہر جلد واپس آ جائے گا۔۔۔ اب تو ہمت بھی ٹوٹنے لگی تھی۔۔۔۔ اس گھر کے چپہ چپہ سے اسکی یادیں وابسطہ تھیں ایک نہیں تھا تو وہ ستم گر خود نہیں تھا۔۔۔ کیوں ہے انسان اتنا بے بس۔۔۔ جو چاہتا ہے وہ ملتا نہیں۔۔۔ جو ملتا ہے اسکی اسے چاہ نہیں۔۔۔ اسنے بھاری دل کیساتھ ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ وقت سوکھی ریت کی مانند ہاتھ سے پھسل رہا تھا۔۔۔ وہ اس بوجھل سی فیز سے نکلنے کی خاطر موبائل سکرول ڈاون کرنے لگی۔۔۔ بہت کم وہ کسی کے سٹیٹس دیکھتی تھی لیکن آج دل کا بوجھل پن ختم کرنے کو غیر ارادی طور پر ایک کے بعد ایک واٹس ایپ سٹیٹس دیکھنے لگی۔۔۔ اسکی ایک انگلی کے کلک سے سٹیٹس تبدیل ہو جاتا کئ سٹیٹس دیکھتے دیکھتے ایک پر وہ یکدم رکی۔۔۔ جیسی تھم سی گئ۔۔۔ وہ کسی سکالر کی گفتگو کو ایک چھوٹا سا کلپ تھا جسے کسی نے سٹیٹس پر لگا رکھا تھا۔۔۔
جب اللہ نے کسی نے کو کچھ بڑا نوازنا ہوتا ہے نا تو اس سے پہلے اس پر کچھ آزمائش آتی ہے تا کے وہ آزمائے جا سکیں۔۔۔ اور پتہ ہے اللہ آزماتا کس کو ہے۔۔۔ جو اسے بہت پیارا ہوتا ہے۔۔۔ پس ہمت نا ہارنا اور اس پر توکل رکھنا عنقریب تمہارا رب تمہیں اتنا نوازے گا کے تم راضی ہو جاو گے۔۔۔
وہ الفاظ تھے یا امرت وہ مسمرائز رہ گئ۔۔۔ آنسو زارو قطار آنکھوں سے بہنے لگی۔۔۔ دل عجیب سے انداز میں ڈھرکا تھا۔۔۔ آنسو سسکیوں اور سسکیاں ہچکیوں میں بدلنے لگی۔۔۔ اسے نہیں یاد کے اسنے یہ الفاظ کتنی مرتبہ سنے اسے یاد تھا تو محض یہ کے یہ الفاظ اسکے ٹوٹے بکھرے دل کے لئے مرہم بن گئے۔۔۔ وہ لگاتار بار بار محض یہ ہی الفاظ سن رہی تھی یہ الفاظ اسے عجیب سا سکون سرور فراہم کر رہے تھے۔۔۔
میرے اللہ۔۔۔ مجھے معاف کر دے۔۔۔ میں تیری کمزور بندی مجھ پر رحم کر۔۔۔ اپنا کرم کر میرے مالک۔۔۔ میں بہت گنہگار سہی مگر تیری رحمت سے مایوس نہیں۔۔۔ مجھ پر اپنی رحمت کی بارش برسا۔۔۔ میری آزمائش ختم کر دے۔۔۔ مجھے سکون دے دے میرے مالک۔۔۔۔ میرے سائباں میرے شوہر کو ہم سے ملادے۔۔۔ میرے مصوم بیٹے کو اسکا باپ ملا دے۔۔۔ میرے مالک مجھ پر کرم کر۔۔۔ اسکا دل سلگ رہا تھا اور اسکی آنکھ سے گرتا ہر آنسو اسکے سلگتے ترپٹے دل پر گر رہا تھا۔۔۔ سسکیوں کے دوران وہ مسلسل اپنے رب سے فریادیں کر رہی تھی۔۔۔ وہ بے بس تھی لیکن اسکا رب تو بے بس نہیں تھا۔۔۔۔
آنکھوں سے دھند چھٹی تو منظر واضح ہونے لگا اور اسکے در کی یہ ہی خاصیت ہے کے وہاں تڑپتے بلکتے دلوں کو سکون مل جاتا ۔ہے۔۔ اسکا تڑپتا بلکتا دل بھی ٹھہرنے لگا تھا۔۔۔ نا امیدی و مایوسی کے بادل چھٹے تو امید کے ساتھ ساتھ تشکر بھی جنم لینے لگا۔۔۔ اسے اپنے ارد گرد پھیلی اس رب کی نعمتیں دکھائی دینے لگی۔۔۔ شوہر نہیں تھا لیکن اس رب نے تنہا تو اسے کسی فیز میں نہیں چھوڑا تھا۔۔۔ چاہنے والے اس پر جان دینے والے ماں باپ اور بھائی جنہوں نے ہر مقام پر اسکی رائے کو اہمیت دی۔۔۔ اسکے خلاف نہیں گئے۔۔۔ جگہ جگہ پر اسے سپورٹ کیا۔۔۔ اسکے فیصلوں کو مقدم جانا۔۔۔۔کیا یہ کسی نعمت سے کم تھا۔۔۔ ہاں اسنے اپنے شوہر سے ٹوٹ کر محبت کی لیکن اسکی جدائی میں بھی اسکے رب نے اسے تنہا نہیں کیا۔۔۔ جینے کو اس محبت کی نشانی کے طور پر اسے اسکے بیٹے سے نوازا۔۔۔ اسکی نعمتوں کے بیچ گر کر بھی وہ اس رب سے ناامید ہوتی جسنے کسی مرحلے پر اسے تنہا نا چھوڑا تو شاید کفر کی مرتکب ہوتی۔۔۔ ابھی اسنے کل ہی تو پڑھا تھا کے اسکا رب کسی انسان کو تنہا نہیں چھوڑتا۔۔۔ جب جب کسی انسان کو رہنمائی کی یا مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ مالک وہ مدد بھیجتا ہے۔۔۔ چاہیے وہ کسی انسان کی صورت ہو۔۔۔ کسی الفظ کی صورت ہو یا چاہیے کسی تحریر کی صورت ہی کیوں نا ہو۔۔۔ سوشل میڈیا سکرول کرتے یا چینل سرفنگ کرتے کوئی بھی آیت یا کسی بھی سکالر کی کوئی بات جو آپکی آنکھ کے سامنے سے گزرے یا آپکے کان میں پڑے وہ بے مقصد نہیں ہوتی وہ آپکے رب کی جانب سے وہ الفاظ ہوتے ہیں جسکی اس وقت آپکو اشد ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ چاہیے وہ امید دلاتے الفاظ ہوں ہدایت ہو یا تنبیہ ہو۔۔۔ ہاں آج اسے بھی ایگزیکت ان الفاظ کی ہی ضرورت تھی جو اسکے دل کی دنیا کو تہہ و بالا کر گئے تھے۔۔۔ پھر کیسے نا وہ اس رب کی شکر گزار ہوتی جو کسی مقام پر اسے بھولا نا تھا۔۔۔
ایک خوبصورت اور پھولوں کی سیج کی سی زندگی کا وعدہ تو اس رب نے کیا ہی نہیں تھا۔۔۔ اس نے تو کہا تھا کے آزمائش آئے گی مگر توکل رکھنا میں مدد بھی بھیجوں گا۔۔۔ مشکلیں دکھ تکلیفیں آئیں گی مگر ہر مشکل کیساتھ آسانی ہے۔۔۔ لیکن زندگی اسی جہد مسلسل کا نام ہے۔۔۔ اللہ پر توکل رکھتے زندگی کے ہر چیلنج کو پار کرتے جانا۔۔۔
انسان کے ہاتھ میں سب کچھ نہیں۔۔۔ بہت سے معاملات میں وہ بے بس ہے۔۔۔ اس لئے جن معاملات میں وہ بے بس ہے اس پر جلنے کڑھنے ڈپریشن میں جانے یا منفی اوورتھنکنگ کا شکار ہونے کی بجائے اللہ سے بہتری کی دعا کرتے وہ کام کرنا چاہیے جو آپکے بس میں ہو۔۔۔ اور اب وہ بھی اللہ سے بہتری کی دعا کرتی وہی کام کرنے والی تھی جو اسکے بس میں تھا۔۔۔ اپنے بیٹے کے ساتھ وقت گزارنے کیساتھ ساتھ اپنے پڑاجیکٹ پر کام کرنا۔۔۔ باقی سب وہ اپنے اللہ کے سپرد کر چکی تھی۔۔۔ اس امید پر کے اسکا اللہ کبھی اسکے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دے گا۔۔۔ اور اللہ پر یہ توکل ہی تھا جو اسکے دل کو پرسکون کر گیا تھا۔۔ اب میٹر نہیں کرتا تھا کے اسکا انتظار کب ختم ہوتا۔۔۔ وہ پرامید تھی کے عنقریب اسکا انتظار ختم ہوگا اور وہ نواز دی جائے گی۔۔۔۔
*****
احمر شیخ سیاہ لانگ کوٹ پر پی کیپ پہنے ہاتھ کوٹ کی جیبوں میں اڑسے اونچے نیچے پتھریلے راستوں پر اپنے دھیاں چلتا جا رہا تھا۔۔۔ کی ایک موڑ مڑ کر وہ چوکنے انداز میں ادھر ادھر دیکھتا ایک فرینچائز پر آیا۔۔۔ محتاط انداز میں ابتدائی معلومات فراہم کرنے کے بعد وہ بائیومیٹرک سم اشو کروانے جا رہا تھا۔۔۔ تھا تو یہ ایک بہت بڑا رسک لیکن آڑ یا پاڑ کرنے کو اسے یہ رسک لینا تھا۔۔۔ بائیومیٹرک سم اشو کرواتے ہی میجر اریز کو اسکی لوکیشن پتہ چل جاتی۔۔۔ ویسے بھی جب سے اسے اپنے بیٹے کے وجود کا علم ہوا تھا ایک ایک لمحہ اس پر بھاری تھا۔۔۔ وہ بس کسی طرح سے اڑ کر پاکستان پہنچتا اپنے بیٹے کو سینے میں بھینچ کر اپنی سبھی تشنگیاں مٹانا چاہتا تھا۔۔۔
وہ شاید جوش میں ہوش کھو رہا تھا تبھی انجام کی پرواہ کئے بغیر آج ایک قدم اٹھانے آیا تھا۔۔۔اسٹاف نے ایک چھوٹی مشین کی طرف اسے لاتے اسکے چھوٹے سے چوکھتے پر اپنا انگوٹھا رکھنے کو بولا تو وہ سرعت سے ہاتھ اس جانب بڑھا گیا۔۔۔ واہ کمال ہو گیا احمر شیخ۔۔۔ فائنلی تم یہاں تک پہنچ ہی گئے۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ منتخب شدہ مشین پر اپنا انگوٹھا ثبت کرتا پیچھے سے ابھرتی صور پھونکتی آواز پر وہ کرب سے آنکھیں میچ کر رہ گیا۔۔۔ یقیناً وہ پکڑا جا چکا تھا۔۔۔۔
*****
