Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishtay Piyar K (Episode 08)

Rishtay Piyar K by Fairy Malik

i m sorry he is no more

وہ سب تو جیسے ساکت ھوگئے سامعہ بیگم کی چیخوں نے درودیوار ہلا دیے تھے, زرک کی نظر زینیہ پر پڑی اس سے پہلے کہ وہ لہرا کے گرتی اسنے بھاگ کے اسکو سہارا دیا تھا مگر وہ اسکی بانہوں میں جھول گئ,

ضروری کاروائ کے بعد باڈی انکے حوالے کر دی گئ تھی زینیہ کو بھی ہوش آگیا تھا اور وہ روئے چلی جارھئ تھی سامعہ بیگم کے کہنے پر زرک نے ایمولینس کا بندوبست کیا تھا باڈی انکے آبائ گاوں بالا کوٹ جانی تھی, مہ پارہ بیگم اور صارم صاحب بھی آگئے تھے, زوئ کو ماہم اور میثم کے پاس چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا ,زرک کی گاڑی خراب تھی اسلیے مہ پارہ بیگم کی گاڑی میں زارون صاحب اور مہ پارہ ,معیز اور صارم جارھے تھے زرک اور زھراء بیگم ایمبولینس میں سامعہ بیگم اور زینیہ کے ساتھ تھے ,

عارب صاحب اور انکی فیملی اپنی گاڑی میں تھی انہوں نے بھی جنازے میں شریک ھونے کا فیصلہ کیا تھا اور پھر وہاں سے واپسی پرانکا اپنے گھر جانے کا ارادہ تھا, 4 گھنٹوں میں وہ لوگ بالا کوٹ پہنچے تھے وہاں سب عزیز رشتے دار جمع تھے زینیہ کا رو رو کے برا حال تھا وہ سمبھلنے میں نہیں آرھی تھی , آخر سسکیوں اور آہوں میں زینیہ کے پاپا کو عصر کے بعد سپرد خاک کر دیا گیا , اب سب بیٹھے زینیہ کو تسلی دے رھے تھے, زھراء بیگم اور مہ پارہ نے سامعہ بیگم کو بتایا کہ عشاء کے بعد وہ نکلیں گے کیونکہ زوئ کا صبح پیپر تھا اور زوئ اور ماہم اکیلی تھیں زارون صاحب کا بھی ہاسپٹل سے آف نہیں تھا صبح انکا آپریشن ڈے تھا جبکہ صارم صاحب نے میٹنگ کے لیے کراچی جانا تھا ,قل پر ان سب نے پھر آنے کا وعدہ کیا تھا, معیز اور زرک کو سامعہ بیگم کے ساتھ رکنا تھا قل تک کیونکہ بہت سے کام تھے جو وہ دونوں مل کے کر سکتے تھے, معیز اور زرک مہمانوں کو کھانا کھلانے میں لگے ھوئے تھے زھراء اور مہ پارہ زینیہ اور سامعہ بیگم کو تسلی دے رھی تھیں,زارون اور صارم صاحب مردوں میں بیٹھے تھے, عارب صاحب کی فیملی بھی ادھر ھی تھی ,گاڑیاں گھر سے دور کھڑی تھیں,اور عارب گاڑیوں کے گرد چکر کاٹ رھے تھے۔

۞۞۞۞۞

عارب صاحب اپنا کام کر چکے تھے , اسلیے ہاتھ جھاڑتے مہمان خانے میں آگئے وہ خوش تھے کہ کسی کو خبر نہیں ھوئ لیکن وہ بھول چکے تھے کہ کوئ ھے جو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ھے ,عشاء کے بعد مہ پارہ بیگم زھراء بیگم ,زارون صاحب اور صارم صاحب ایک گاڑی میں نکلے تھے جبکہ دوسری گاڑی میں عارب اور انکی فیملئ تھوڑی دیر پہلے روانہ ھوچکی تھی, صارم صاحب کی گاڑی تھی اسلیے وہ ڈرائیو کر رھے تھے انہوں نے رات 11 تک پہنچ جانا تھا زرک نے زوئ کو فون کرکے بتادیا تھا, زوئ اور ماہم انتظار میں تھیں ,زوئ ساتھ ساتھ تیاری بھی کر رھی تھی اسکا پیپر تھا, میثم تو 10 بجے سو گیا تھا 10 سے 11 اور پھر 11 سے 11.30 ہوئے زوئ کو فکر ھونے لگی اسنے پاپا کے نمبر پر کال کی مگر نمبر بند تھا خالو کو ٹرائ کیا تو انکی بیل جارھئ تھی مگر کوئ پک نہیں کررھا تھا, اسنے کافی کوشش کی آخر 12 بجے زرک کو کال ملائ

زرک ماما لوگ نہیں پہنچے ابھی تک اور میں انکو کالز کر رھی ھوں وہ اٹینڈ نہیں کر رھے

پریشانی اسکی آواز سے واضح تھی

زوئ تم پریشان نہ ھو میں ابھی کال کرتا ھوں اسنے معیز کو نمبر ڈائل کرنے کو کہا خود وہ زوئ کو تسلیاں دے رھا تھا مگر کافی دیر تک بات نہ ھوئ تو زوئ تو فون پر ھی رونے لگ گئ , ماہم کے بھی صبر کا پیمانہ لبریز ھوچکا تھا, اسنے بھی رونا شروع کردیا ,

زرک پلیز آجاو زوئ نے اسکو پکارا تھا وہ بھی پریشان ھوگیا اسنے زوئ کو ماہم اور میثم کا خیال رکھنے اور حوصلہ کرنے کا بولا اور پھر وہ معیز اور زینیہ کے ایک دو کزنز کے ساتھ ماما لوگوں کی گاڑی ڈھونڈنے نکلے, انکو کہیں کچھ نظر نہ آیا پولیس سٹیشن جاکے رپورٹ لکھوا کے وہ گھر آگئے , وہ پریشان تھا ماں باپ,خالہ خالو سے رابطہ نہ تھا,اور بہن اور چھوٹے کزنز اکیلے تھے, زینیہ اور اسکی ماما بھی فکرمند تھیں , رات صبح میں تبدیل ھوگئ , لیکن کچھ پتہ نہ چل سکا,دوپہر کا وقت انکے لیے قیامت بن کے آیا تھا, پولیس کی گاڑی کے ساتھ ایمبولینس گھر کے باہر رکی تو زینیہ تو پریشان ھوگئ , اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی سب اکٹھے ھوگئے , اور پولیس کے آدمیوں نے آگے بڑھ کے زرک کو بتایا

آپکی بتائ ھوئ گاڑی صبح کھائ میں سے ملی ھے گاڑی کی بریکس فیل ھونے کی وجہ سے یہ حادثہ ھوا تین ڈیڈ باڈیز مل گئیں ھیں چوتھی کی تلاش جاری ھے, یہ سن کر تو کہرام مچ گیا, زرک ,معیز تو جیسے سن ھوگئے تھے , جنازے لے کے وہ گھر کی طرف روانہ ھوئے تھے , 4 گھنٹوں کا سفر صدیوں کے برابر تھا, جب جنازے گھر پہنچے تو زوئ تو غش کھا کے گری تھی , ماہم اور میثم بھی پاگل ھوگئے تھے , عارب صاحب کو بھی اطلاع ھوگئ وہ بھی فیملی لے کے پہنچ گئے تھے , جنازے زھراء بیگم کے گھر رکھے گئے تھے, زارون صاحب ,صارم صاحب اور مہ پارہ بیگم جگہ پر دم توڑ گئے تھے, زھراء بیگم لاپتہ تھیں زرک اور معیز رونے کے ساتھ ساتھ بہنوں کو بھی سمنبھال رھے تھے ,زوئ اور ماہم کا برا حال تھا, آہوں سسکیوں اور چیخوں میں تینوں جنازے اٹھے تھے, خوشیاں دکھوں میں بدل چکی تھیں , سب بچے کنگ تھے یہ کیا ھوگیا تھا سامعہ بیگم تو سب کو حوصلہ دے رھی تھیں , زینیہ نے زوئ اور ماہم کو زبردستی چائے کے ساتھ نیند کی ٹیبلٹ دی تھی, وہ باھر آئ تو زرک ایک کونے میں خاموش بیٹھا تھا اسنے اسکا کندھا ہلایا تو وہ چونکا ,

زرک پلیز کچھ کھا لیں دیکھیں آپ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا اب رات ھوگئ ھے ,

وہ اپنا دکھ بھولے اسکو تسلیاں دے رھی تھی اسے تسلی ھوئ کوئ تو ھے جو اسکا ساتھ دینے کے لیے موجود ھے

زینیہ میرا دل نہیں چاہ رھا کسی بھی چیز کو

وہ اذیت میں تھا زینیہ کو دکھ ھوا

زینیہ نے زبردستی اسکو دو بسکٹ کھلا کے چائے اور پین کلر دی تھی, آخر میں وہ خود لیٹی , اگلے دن بھی مہمانوں کا تانتا لگا رھا تھا ,افسردگئ اور تناو کی اس کیفیت میں اگلے دن تھوڑی سی امید کی کرن زھراء بیگم کی صورت میں انکو مل گئ , انکو مقامی لوگوں میں کوئ اپنے گھر لے گیا تھا وہ زخمی ھوئیں تھیں لیکن زندہ تھیں انکی ٹانگ فریکچر تھی باقی بھی کافی زخم تھے پولیس نے انکو زرک سے کانٹیکٹ کر کے انکے گھر پہنچا دیا تھا , اور انکو دیکھتے ھی زوئ اور ماہم ایسا بلک کر روئیں کہ وہ پریشان ھوگئیں اس سے پہلے کہ زرک ان دونوں کو منع کرتا, انھوں نے زھراء بیگم کو سب بتا دیا, اور وہ اپنے آپ کو سمبھال نہ پائیں جان سے عزیز شوہر,, پیاری بہن اور اسکا شوہر سب چلے گئے انکا ہنستا بستا گھرانہ اجڑ گیا تھا انکو فالج کا اٹیک ھوا تھا,زرک انکو لے کہ ہاسپٹل پہنچا تھا, ڈاکٹر کے کہنے پر انکو ہاسپٹل ایڈمٹ کرادیا تھا , زندگی میں اتنا سب اکیلے فیس کرنا پڑے گا اسنے سوچا بھی نہیں تھا, اسنے زوئ کو معیز کو بٹھا کے سمجھایا تھا اب جو چلے گئے انکے لیے رونے کہ بجائے بچ جانے والوں کا سوچنا تھا, وہ دونوں بھی سمجھ گئے تھے شاید اسلیے اب ہاسپٹل ,مہمان داری سب دیکھ رھے تھے,پڑھائ اور کالج,یونیورسٹیاں سب بھولے ھوئے تھے,,,,

۞۞۞۞

مہمان داری اور ہاسپٹل کے چکر نے ان سب کو گھن چکر بنا دیا تھا ,دن گزر رھے تھے قل ھوئے,دسواں ھوا لوگ آتے چلے جاتے, عارب صاحب ابھی تک یہاں ہی تھے مگر آج انہوں نے بھی واپسی کا قصد کیا تھا ماہم اور میثم تو ماما پاپا کے بعد چاچو ,چاچی کو سہارا مان چکے تھے لیکن وہ نہیں جانتے تھے ,سہارا صرف اللہ پاک کی ذات ھوتی ھے, ماہم ,میثم یہانتک کہ معیز نے بھی انکو روکنے کی کوشش کی مگر وہ نہ رکے اور رابطے میں رہنے کا کہ کے چلے گئے تھے,,,,

دن گزر رھے تھے زھراء بیگم کی حالت میں کوئ فرق نہ آیا تھا ,ڈاکٹرز کے مطابق فلحال کچھ کہنا قبل از وقت تھا کیونکہ فالج نے انکے جسم کے کافی حصوں یہانتک کہ دماغ کو بھی متاثر کیا تھا لیکن کس حد تک اس بات کا ابھی تک پتہ نہ چل سکا تھا کیونکہ زھراء بیگم بات کرنے سے قاصر تھیں , لیکن لگتا یہی تھا کہ انکا دماغ بھی کافی متاثر ھوا ھے کیونکہ جب بچے ان سے ملنے جاتے تو انکی آنکھوں میں شناسائ کی کوئ رمق تک موجود نہ ھوتی تھی,

باقی سب تو حوصلہ ہار جاتے مگر زرک نے ان سب کو سمیٹا ھوا تھا, سامعہ بیگم اورزینیہ کو بھی وہ اپنے گھر لے آیا تھا کیونکہ انکا گھر کرائے کا تھا اور انکل کے بعد دیگر اخراجات کے ساتھ کرایہ دینا آنٹی کے لیے مشکل تھا سامعہ بیگم راضی نہیں تھیں مگر وہ انکو منا لایا تھا, معیز لوگ بھی اپنے گھر چلے گئے تھے وہ گھر جہاں ماما, پاپا کی یادیں تھیں , مگر ہاسپٹل روز جاتے, زندگئ معمول پر آرھئ تھی, سب نے پڑھائ دوبارہ سٹارٹ کردی تھی سوائے زرک کے وہ سب کے کہنے کے باوجود نہیں مانا تھا, اسکو اپنئ ماما کو بچانا تھا کسی بھی قیمت پر اسلیے وہ ہاسپٹل کے چکر لگاتا رھتا,

ایک دن وہ معمول کے مطابق گیا تو ہاسپٹل کا ایک لمبا بل اسکا منتظر تھااسنے اکاونٹ سے پیسے نکلوائے اور بل ادا کیا,دوائیاں ,ہاسپٹل کے اخراجات, بھاگ دوڑ زرک کو لگتا تھا وہ ہمت ہار رہا ھے,کوئ سہارا نہیں تھا ,سب کو وہی سہارا دے رہا تھا ,وہ بنک سٹیٹمنٹ نکلوا کے لایا تھا اس رات وہ اپنے کمرے میں بیٹھا حساب کتاب کر رھا تھا ,گھر اپنا تھا لیکن زوئ کئ تعلیم اور اسکی شادی کے اخراجات کے بعد اسکے پاس اتنے پیسے نہیں بچتے تھے کہ وہ اپنی ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کرتا, باہر جاکر سپیشلائزیشن کرتا , ہاسپٹل بنانے کا خواب تو اب خواب ہی تھا, وہ ساری رات اسی پریشانی میں تھا پھر ایک فیصلے پر پہنچ کر اسنے خود کو مطمئن کیا اور سونے کے لیے لیٹ گیا, اسکے پاس اسکے علاوہ کوئ چارہ نہ تھا,

۞۞۞۞

صبح اٹھ کے زرک نے ناشتہ کیا اور سامعہ بیگم کو ہاسپٹل اور زینیہ,زوئ کو یونی ڈراپ کرکے خود جاب کی تلاش کے لیے نکل پڑا, سارا دن مارا ماری کے بعد وہ شام کو گھر پہنچا تھا, اگلے چار پانچ دن وہ اسی تگ ودو میں لگا رھا مگر اس کام میں اسکو دانتوں پسینہ آگیا اسکو پتہ چل گیا کہ بناء سفارش کے ادھوری تعلیم کے ساتھ جاب کا حصول ناممکن ھے, ماما کا علاج چل رھا تھا مگر فلحال کوئ پروگریس نہیں تھی, اسنے کافی دن بعد ڈاکٹر سے ملاقات کئ تو اسنے زھراء بیگم کے لیے تھراپسٹ کا انتظام کرنے کا کہا , ایک اور اضافی خرچہ آن پڑا تھا, پیسے پانی کی طرح لگ رھے تھے,

معیز بھی ہاسپٹل چکر لگاتا ,کافی دن بعد معیز ماہم ,میثم کو لے کہ گھر آیا تھا ,زرک کے ساتھ بیٹھا رھا ان دونوں نے اکٹھے بیٹھ کہ چالیسویں کے انتظامات ڈسکس کیے تھے, رات کا کھانا کھا کے وہ لوگ رخصت ھوئے تھے, چالیسواں قریب تھا پورا ہفتہ اسکے انتظامات میں گزرا ویک اینڈ پر چالیسواں تھا, معیز نے عارب صاحب کو بھی انوائٹ کیا تھا, سب اچھی طرح ھوگیا مہمان رخصت ھوئے تو معیز نے عارب صاحب سے بات کا سوچا,

معیز نے انکو بتایا کہ بزنس فلحال وہ نہیں سمبھال سکتا اسلیے اسکا خیال ھے کہ بزنس کا سلسلہ ختم کردے مگر عارب صاحب نے اسکو بزنس سمبھالنے کی آفر کی وہ خوش ھوگیا کہ چچا سے اچھا انتظام کون سمبھال سکتا ھے, اسنے سارا کچھ انہیں سونپ دیا اور مطمئن ھوگیا, خود وہ ابھی صرف پڑھائ کرنا چاھتا تھا, اور اسکے لیے ضروری تھا کہ اسکو کوئ اور فکر نہ ھو , مگر وہ بھول گیا کہ اسکی فکریں تو اب شروع ھونے والی ھیں.زرک نے تھراپسٹ کا انتظام کرلیا تھا ,اسکی فیس وغیرہ الگ سے تھی ,وہ پریشان تھا اسکو کسی بات کی فکر نہیں تھی , مگر وہ ماما کو صحت یاب دیکھنا چاھتا تھا, ٹانگ کی ہڈی بھی صحیح نہیں ھورہی تھی اسکا بھی آپریٹ ھونا تھا, زوئ کے نیکسٹ سمسٹر کی فیس بھی سر پر تھی, اسکی سمجھ میں نہیں آرھا تھا وہ کیا کرے, زینیہ اور زوئ سے وہ ذکر نہیں کرسکتا تھا کیونکہ وہ پریشان ھوجاتیں تھیں, سامعہ بیگم سے بھی وہ نہیں کہ سکتا تھا,اسے لگتا تھا وہ بے بس ھورھا ھے, تھکن اسکے پور پور میں رچ گئ تھی, اسکا ایک پاوں گھر ھوتا دوسرا ہاسپٹل , راتیں پریشان تھی تو دن مصروف ,جاب کی تلاش بھی جاری تھی,

عارب صاحب نے سب سمبھال لیا تھا اور آہستہ آہستہ ساری چیزوں کو گہرائ تک جان رھے تھے,اور پھر انہوں نے بنک اکاونٹ سے رقم اپنے اکاونٹ ٹرانسفر کرنی شروع کردی کمپنی میں لاس کے نام پر وہ معیز کو دھوکہ دے رھے تھے, انکو سٹاف سے بھی مسئلہ تھا کیونکہ وہ سب صارم صاحب کے وفادار تھے, اکاوننٹنٹ اور کیشیئر نے دبے لفظوں میں احتجاج کیا,تو انہوں نے ان سمیت کافی ایمپلائز کو فارغ کردیا تھا, معیز اس ساری صورتحال سے ناواقف تھا, جب تک اس تک بات پہنچی پانی سر سے اونچا ھوچکا تھا, مینیجر صاحب کو فارغ کیا گیا تو وہ احتجاجا معیز کے پاس آگئے وہ لاعلم تھا اسلیے انہوں نے سب بتا دیا ,رات ھی اسنے عارب صاحب سے بات کی تو وہ اپنی بیگم کے ساتھ آگئے اور باتیں بحث سے لڑائ میں بدلیں تو عارب صاحب کی حقیقت کھل گئ ,انھوں نے کافی پیسہتو اینٹھ لیا تھا, اب باقی پر بھی قابض ھونا چاھتے تھے, لڑائ ھوئ تو انہوں نے معیز کو صاف کہ دیا کہ بزنس انکے آبائ گھر اور زمینوں کو بیچ کر شروع کیا گیا تھا اسلیے اس میں انکا بھی برابر کا حصہ ھے اور جب معیز نے حساب کتاب دیکھا تو اکاونٹ کا دیوالیہ ھو چکا تھا ,کمپنی بھی خالی تھی, گھر بھی عارب صاحب کی دھمکیوں نے بکوا دیا اور آخر میں انکے پاس بس اتنا پیسہ ہاتھ آیا کہ انھوں نے ایک چھوٹا گھر لیا اور باقی پیسے اپنی اور چھوٹے بہن بھائ کی تعلیم کے لیے رکھ دیے اس مشکل کی گھڑی میں زرک اور زوئ انکو مورل سپورٹ کے علاوہ کچھ نہ کرسکتے تھے, ماہم تو اس دن خوب روئ جس دن ماما پپاکا بنایا ھوا گھر چھوڑ کر انکو نئے گھر شفٹ ھونا پڑا,انہی دنوں معیز نے زرک کو یونی جانے کا بولا تو اسنے معیز کو ساری صورتحال بتا دی , وہ بھی پریشان ھوگیا تھا,

۞۞۞۞

اس دن معمول کے مطابق زرک زینیہ کو ہاسپٹل سے لینے اور زوئ کو چھوڑنے گیا تھا تو ڈاکٹر نے ماما کی ٹانگ کے آپریشن کا بولا تھا, اور اسکے لیے خون کا بندوبست کرنے کا کہا تھا, اسنے معیز کو بلایا تھا, پھر زرک کا بلڈ گروپ میچ ھوگیا اور اسنے خود ھی ماما کو خون دیا ,ٹانگ کا آپریشن کامیاب ھوا تھا , ڈاکٹرز کے خیال میں اب وہ کچھ ٹائم بعد چل پھر سکتیں تھیں ,مگر فالج نے ایک بازو, اور دماغ ,زبان سب متاثر کیے تھے,تھراپی جاری تھی, انکے روز وشب ہاسپٹل اور گھر کے بیچ مقید تھے, زینیہ بھی بھرپور ساتھ دے رھئ تھی وہ آنٹی اور زینیہ کا مشکور تھا, آنٹی نے سارا گھر سمبھال رکھا تھا,وہ روز جاب کے سلسلے میں بھی بھاگ دوڑ کر رھا تھا,مگر ابھی تک کچھ نہیں بنا تھا, اگر کہیں ملتی بھی تو اتنی چھوٹی جاب جس میں ٹائم انتہا کا جبکہ سیلرئ نہ ھونے کہ برابر ھوتی, ایسے ھی معمول کے دنوں میں ایک دن وہایک جگہ انٹرویو کے لیے گیا تھا اسکو امید تھی اسکا سلیکشن ھوجائے گا کیونکہ جاب f.s.c کی بیس پر تھی , مگر وہاں ایم اے لیول کے لوگ دیکھ کہ اسکو اندازہ ھوگیا کہ اسکی دال نہیں گل سکتی , اور وہی ھوا اسکو جواب دے دیا گیا, اس رات وہ بہت ٹوٹا ھوا تھا, پے درپے مسائل اور پریشانیوں نے اسکو نچوڑ دیا تھا اور پہلی بار وہ اپنے کمرے میں پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا, وہ جو اپنی ماں اور بہن کا حوصلہ تھا آج خود حوصلہ چھوڑ بیٹھا تھا,اسنے رورو کر اللہ سے ماما کی زندگی مانگی تھی , وہ تھک چکا تھا اسنے رب کو پکارا تھا اور صبح اسے ایک خوشخبری سننے کو ملی, ہاسپٹل پہنچا تو تھراپسٹ نے بتایا کہ رات ماما نے انگلیوں کو تھوڑی حرکت دی تھی , اور زبان سے بھی کچھ آوازیں نکالیں تھیں, اسے لگا اسکی دعائیں پوری ھوگئ ھیں, وہ بہت خوش تھا ,

اس دن اسنے ماما سے ڈھیروں باتیں کی تھیں ماما کے ھاتھوں کو چوما تھا, وہ ماما کو صحت یاب دیکھنا چاھتا تھا, اس نے بہت کچھ کھو دیا تھا اب جو اسکے پاس تھا وہ انکو دور نہیں دیکھ سکتا تھا, اس دن گھر جاکے اسنے زوئ ,زینیہ اور آنٹی کو ماما کے بارے میں بتایا تھا اس دن اسنے دیکھا زینیہ بہت ویک ھوگئ تھی ,زوئ بھی چپ چپ تھی اسنے انکے ساتھ کھانا کھایا اور ان دونوں کو تسلی بھی دی تھی,

پھر اپنے کمرے میں آگیا جاب کے بارے میں اسکی پریشانی برقرار تھی, اسنے سوچنا شروع کیا ,بزنس سے نہ اسکو لگاو تھا بہ وسائل تھے ,جاب اسکو مل نہیں رھئ تھئ…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *