Rishtay Piyar K by Fairy Malik NovelR50646 Last updated: 26 April 2026
Rate this Novel
Rishtay Piyar K by Fairy Malik
وہ پانچ وقت کا نمازی تھا اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے...
اس نے منہ رائٹنگ ٹیبل پر رکھا اور اس کو پکارا پوری قوت سے اپنے خاص انداز کے ساتھ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ کس انداز سے بلانے پر دوڑا چلا آتا تھا وہ پکار رھئ تھی .
زرک کہاں ھو تم پلیز آجاو?
فون اٹینڈ ھوتے ھی اس نے بولنا شروع کر ددیا تھا زرک نے سلام کیا تو اسے احساس ھوا کہ وہ سلام کیے بناء ھی شروع ھوچکی ھے اسنے سلام کا جواب دیا تو زرک بولا !زوئ .......
میں بس تمھارے انسٹیوٹ کے پاس پہنچ چکا ھوں تم باھر آجاواور گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگی زوئ کا بلاوا ھو اور زرک دیر کردے اسنے15 منٹ کا راستہ 7 منٹ میں طے کیا اور انسٹیٹوٹ کے باھر گاڑی روکی توسامنے ھی زوئ اپنی فرینڈز کے ساتھ کھڑی نظر آئ زوئ نے اسے دیکھ لیا تھا اسلیے وہ اپنی فرینڈز کو ہاتھ
ہلاتئ گاڑی کی طرف چل پڑی فرنٹ ڈور کھلا ھوا تھا, وہ بیٹھی تو گاڑی چل پڑی اور ساتھ ھی زوئ کی زبان بھی نان سٹاپ شروع ھو چکی تھی.........
زارون علی ڈاکٹر تھےان کی بیگم زھراء علی انکی کزن تھیں اور وہ بھی ڈاکٹر تھیں لیکن شادی کے بعد وہ صرف گھر کی ھو کے رہ گیئں,اللہ پاک کا خاص کرم تھا ان دونوں میاں بیوی پر انکے پاس دنیا کی ہر چیز تھی بنگلہ,گاڑیاں,دولت,کسی چیز کی کمی نہ تھی ,ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ اولاد کے معاملے میں بھی وہ خوش قسمت تھے انکو اللہ پاک نے بیٹے اور بیٹی دونوں سے نوازا تھا, زرک اور زوسیا دونوں جڑواں تھے اور انکی زندگی کا حاصل تھے , ان دونوں کے ھوتے ھوئے انکو کسی چیز کی ضرورت محسوس نہ ھوتی تھی خاص طور پر زھراء بیگم کی تو ان دونوں میں جان بستی تھی.......
گاڑی کا ھارن بجا گارڈ نے گیٹ کھولا تو زرک گاڑئ اندر لے آیا زوئ بھاگتی ھوئ اندر گئ اور زھرا بیگم کو آوازیں دینے لگی زھرا بیگم کچن سے باھر آئیں وہ کھانا پکانے کا کام خود کرتی تھیں کیونکہ انکے خیال میں گھر کی عورت کے خود کھانا پکانے سے گھر میں برکت آور محبت رھتی ھے , زوئ انکو پیار کر کے اور کھانے کا کہ کے خود روم میں فریش ھونے چل دی زرک اندر آیا تو زھراء بیگم اسکو بھی فریش ھونے کا کہ کر خود کھانا لگانے چل دیں ,کھانا کھاتے ھوئے بھی زوئ کی باتیں چل رھی تھیں ,ھنسی مذاق اور باتوں میں کھانا کھایا گیا پھر زوئ تو اپنے کمرے میں آرام کرنے چل دی جب کہ زرک اور زھراء بیگم ڈرائنگ روم میں ھی بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگے,گرمیوں کی دوپہر تھی اے سی کی خنکی نےڈرائنگ روم میں ٹھنڈک کا احساس پیدا کیا ھوا تھا ,اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی نے ماحول میں ارتعاش پیدا کیا تھا,زھراء بیگم گبھرا گئیں اور انھوں نے بے اختیار یااللہ خیر کہا وہ ایسی ھی تھیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر گبھرا جانے والی , زرک نے ایک ھاتھ سے ماما کو تسلی دی اور دوسرے ھاتھ سے ریسیور اٹھایا اور بولا ھیلو اسلام علیکم زرک علی
دوسری طرف سے آنیوالی آواز نے زرک خان کو چیخنے پر مجبور کردیا تھا کیونکہ فون پر کوئ اور نہیں اسکی خالہ جان تھیں جو انگلینڈ میں 17 سال سے مقیم تھیں اور اب ایک دم فون کرکے زرک سے انکا ایڈریس پوچھ رھی تھیں کیونکہ وہ پاکستان پہنچ چکی تھیں زرک نے انکو ائرپورٹ پر ویٹ کرنے کا بولا تھا اور فون بند کر کے ماما کو گلے لگایا اور انکو یہ خوشخبری سنائ تھی زھرا بیگم کی خوشی کا تو ٹھکانا ھی نھیں تھا انکی ماں جائ 17سال بعد ان سے ملنے آرھی تھی زرک ماما کو بتا کر خالہ کو لینے ائرپورٹ چلا گیا اور زھرا بیگم نے ملازمہ کو بلا کر گیسٹ روم کی سیٹنگ اور مہمانوں کی مدارت کا سامان منگوانے کی ھدایت دے دی تھی اور خود ماضی میں کھو گئیں ............
زاھدہ خاتون اور مظاھر صاحب کی دو ھی اولادیں تھیں مہ پارہ اور زھراء بیٹےماہ زیب کی پیدائش پر زاھدہ خاتون جانبر نہ ھوسکئیں اورمظاھر صاحب کے ساتھ دو بیٹیوں جنکی عمریں 4,2 سال تھیں روتا چھوڑ کر چل بسیں اور 2 گھنٹے بعد ماہ زیب بھی ماں کے پیچھے چل دیا دوہرا صدمہ تھا مگر مظاھر صاحب کو جھیلنا تھا اپنی خاطر نہ سہی ان دو ننھی جانوں کے لیے جو یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ انکا کتنا بڑا نقصان ھوگیا ھے .....................
انھوں نے مہ پارہ اور زھراء کو بہت نازوں سے پالا تھا انکی تعلیم اور تربیت دونوں میں کوئ کمی نہ چھوڑی تھی زھرا بیگم ڈاکٹر اور مہ پارہ بیگم انجینئرنگ کر کے فری ھوئیں تو مظاھر صاحب نے اپنی گرتی صحت کے پیش نظر اچھے رشتے دیکھ کر دونوں بیٹیوں کی اکٹھی شادی کا سوچا وہ اپنی زندگی میں ھی اپنے فرض سے سبکدوش ھونا چاھتے تھے اسلیے انھوں نے لڑکے دیکھے اور وہ دونوں بیٹیوں کے لیے انکو اچھے انسان مل گئے زارون علی بھئ زھراء کی طرح ڈاکٹر تھے جبکہ صارم انگلینڈ میں مقیم تھے ,شادی کے ھنگامے گزرے مظاھر صاحب نے کوئ کمی نیئں آنے دی زھراء اور مہ پارہ پیا دیس سدھاریں..................
اگلے دن ولیمہ تھا وہ وہاں سے آئے تو مہ پارہ زھراء بھی انکے ساتھ تھیں اس رات انھوں نے اپنی بیٹیوں سے بہت باتیں کی تھیں صبح داماد بھی آے سارا دن گپ شپ میں ٹائم کا پتہ ھی نہیں چلا دونوں جوڑے اجازت لے کر گھروں کو سدھارے تو مظاھرصاحب نے ملازموں کو منع کیا کہ صبح انکو جلدی نہ اٹھایا جائے وہ آرام کرنا چاھتے تھے اس رات وہ بہت پرسکون سوئے تھے اور دن چڑھے تک سوتے رھے.
