Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishtay Piyar K (Episode 01)

Rishtay Piyar K by Fairy Malik

اسکی نظر سامنے دیوار پر تھی جہاں گھڑی کے ھندسوں پر لگی سویاں ساکت تھیں

وقت ٹہرا ھوا تھا اسکی زندگی کی طرح کمرے میں جامد خاموشی تھی…

اسے خوف سا محسوس ھوا

وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی اندر آگئ

گھڑی کے نیچے ڈھیر ساری تصویریں لگی ھوئ تھی وہ چلتی ھوئ انکے پاس جا کھڑی ھوئ…

یہ تصویریں مختلف موقوں پر کھینچی گئ تھیں ,پہلی تصویر نانا نانو خالہ اور ماما کی دوسری تصویر ماما پاپا کی شادی اگلی تصویر ان کی پیدائش ,اور چوتھی ان سب کزنز کی تھی…

سینٹر میں کر کے انکی فیملی فوٹو تھی جو ان کے سکول کے پہلے دن کی تھی

اور نچلی لائن میں پہلی تصویر اسکی اور زرک کی کراٹے کلاس کی تھی

دوسری میں زرک ماما کی گود میں سر رکھے لیٹا ھوا تھا

اگلی تصویر میں وہ پاپا کے کندھے سے لگی ھوئ تھی تھی ,ہر تصویر کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ تھی

مگر آخری والی تصویر بہت یادگار تھی ,وہ اور زرک ھنس رھے تھے انکےہاتھ منہ مٹی سے لتھڑے ھوئے تھے اور شرارت انکے منہ پر صاف نظر آرھئ تھئ , اسکو بے ساختہ ھنسی آگئ

اسکے غور کرنے پر اسے محسوس ھوا کہ تصویر میں ھنسی ضبط کرنے کی کوشش میں اسکی آنکھوں میں پانی تیر رھا تھا

اور اسےوہ لگا اب وہ پانی آنکھوں سے نکل کر گالوں تک پہنچ رھا ھےاسنے ھاتھ سے گال کو چھوا

تو واقعی اسے گیلا پن محسوس ھوا

وہ رو رھی تھی اسے اب اس بات کا احساس ھوا تھا….

وہ آگے بڑھی اسنے الماری کے ھینڈل کو گھمایا تو وہ کھلتی چلی گئ

سامنے ھی اسکے کپڑے ھینگ ھوئے تھے

اس نے سب سے آگے لٹکی ھوئ لائٹ بلیو اور وائٹ چیک والی شرٹ باھر نکالی

یہ زوئ ھی کا دیا ھوا گفٹ تھا وہ جب بھی اسکو پہنتا زوئ اسکو نظر بھر کر نہیں دیکھتی تھی

کہ کہیں اسکو نظر نہ لگ جائے

اس نے بے ساختہ اس شرٹ کو گلے لگایا تھا اس میں اس کی خوشبو تھی , سامنے والی دیوار میں اسکا ڈریسنگ ٹیبل تھا

جہاں خوشبووں کا جہان آباد تھا,

اسکا کلون اسکا جیل اسکی کریم آفٹر شیو,اسکا باڈئ سپرے ,ٹیگ ھم,کلب ڈینیوٹ,وسیم اکرم 402,جانان اور بہت سے پرفیوم آگے پیچھے رکھے ھوئے تھے اس کا ھیر برش سب ترتیب سے رکھے ھوئے تھے

وہ ایسا ھی تھا نفاست پسند…

اگلی دیوار کے ساتھ اسکا بیڈ رکھا ھوا تھا

سائڈ ٹیبل پر پڑی اسکی رولیکس کی گھڑی پڑئ ھوئ تھی

ساتھ ھی اسکے ھیوی بائک کی کی چابی اسکے گوچی کے گاگلز رکھے ھوئے تھے

یہ سب اسکے گفٹ تھے وہ چلتے ھوئے اسکی رائٹنگ ٹیبل کے پاس آگئ…

رائٹنگ ٹیبل کے اوپر لگے ریک میں کتابوں کی کلیکشن تھی

ھر طرح کئ کتابیں وھاں موجود تھیں

چئیر پر بیٹھتے ھی اسکی نظر اس کے پین پر پڑی دوسری طرف رکھا ھوا چھوٹا سا قرآن پاک دین سے محبت کاثبوت تھا

وہ پانچ وقت کا نمازی تھا اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے…

اس نے منہ رائٹنگ ٹیبل پر رکھا اور اس کو پکارا پوری قوت سے اپنے خاص انداز کے ساتھ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ کس انداز سے بلانے پر دوڑا چلا آتا تھا وہ پکار رھئ تھی .

۞۞۞۞۞۞

زرک کہاں ھو تم پلیز آجاو?

فون اٹینڈ ھوتے ھی اس نے بولنا شروع کر ددیا تھا زرک نے سلام کیا تو اسے احساس ھوا کہ وہ سلام کیے بناء ھی شروع ھوچکی ھے اسنے سلام کا جواب دیا تو زرک بولا !زوئ …….

میں بس تمھارے انسٹیوٹ کے پاس پہنچ چکا ھوں تم باھر آجاواور گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگی زوئ کا بلاوا ھو اور زرک دیر کردے اسنے15 منٹ کا راستہ 7 منٹ میں طے کیا اور انسٹیٹوٹ کے باھر گاڑی روکی توسامنے ھی زوئ اپنی فرینڈز کے ساتھ کھڑی نظر آئ زوئ نے اسے دیکھ لیا تھا اسلیے وہ اپنی فرینڈز کو ہاتھ

ہلاتئ گاڑی کی طرف چل پڑی فرنٹ ڈور کھلا ھوا تھا, وہ بیٹھی تو گاڑی چل پڑی اور ساتھ ھی زوئ کی زبان بھی نان سٹاپ شروع ھو چکی تھی………

زارون علی ڈاکٹر تھےان کی بیگم زھراء علی انکی کزن تھیں اور وہ بھی ڈاکٹر تھیں لیکن شادی کے بعد وہ صرف گھر کی ھو کے رہ گیئں,اللہ پاک کا خاص کرم تھا ان دونوں میاں بیوی پر انکے پاس دنیا کی ہر چیز تھی بنگلہ,گاڑیاں,دولت,کسی چیز کی کمی نہ تھی ,ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ اولاد کے معاملے میں بھی وہ خوش قسمت تھے انکو اللہ پاک نے بیٹے اور بیٹی دونوں سے نوازا تھا, زرک اور زوسیا دونوں جڑواں تھے اور انکی زندگی کا حاصل تھے , ان دونوں کے ھوتے ھوئے انکو کسی چیز کی ضرورت محسوس نہ ھوتی تھی خاص طور پر زھراء بیگم کی تو ان دونوں میں جان بستی تھی…….

گاڑی کا ھارن بجا گارڈ نے گیٹ کھولا تو زرک گاڑئ اندر لے آیا زوئ بھاگتی ھوئ اندر گئ اور زھرا بیگم کو آوازیں دینے لگی زھرا بیگم کچن سے باھر آئیں وہ کھانا پکانے کا کام خود کرتی تھیں کیونکہ انکے خیال میں گھر کی عورت کے خود کھانا پکانے سے گھر میں برکت آور محبت رھتی ھے , زوئ انکو پیار کر کے اور کھانے کا کہ کے خود روم میں فریش ھونے چل دی زرک اندر آیا تو زھراء بیگم اسکو بھی فریش ھونے کا کہ کر خود کھانا لگانے چل دیں ,کھانا کھاتے ھوئے بھی زوئ کی باتیں چل رھی تھیں ,ھنسی مذاق اور باتوں میں کھانا کھایا گیا پھر زوئ تو اپنے کمرے میں آرام کرنے چل دی جب کہ زرک اور زھراء بیگم ڈرائنگ روم میں ھی بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگے,گرمیوں کی دوپہر تھی اے سی کی خنکی نےڈرائنگ روم میں ٹھنڈک کا احساس پیدا کیا ھوا تھا ,اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی نے ماحول میں ارتعاش پیدا کیا تھا,زھراء بیگم گبھرا گئیں اور انھوں نے بے اختیار یااللہ خیر کہا وہ ایسی ھی تھیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر گبھرا جانے والی , زرک نے ایک ھاتھ سے ماما کو تسلی دی اور دوسرے ھاتھ سے ریسیور اٹھایا اور بولا ھیلو اسلام علیکم زرک علی

۞۞۞۞

دوسری طرف سے آنیوالی آواز نے زرک خان کو چیخنے پر مجبور کردیا تھا کیونکہ فون پر کوئ اور نہیں اسکی خالہ جان تھیں جو انگلینڈ میں 17 سال سے مقیم تھیں اور اب ایک دم فون کرکے زرک سے انکا ایڈریس پوچھ رھی تھیں کیونکہ وہ پاکستان پہنچ چکی تھیں زرک نے انکو ائرپورٹ پر ویٹ کرنے کا بولا تھا اور فون بند کر کے ماما کو گلے لگایا اور انکو یہ خوشخبری سنائ تھی زھرا بیگم کی خوشی کا تو ٹھکانا ھی نھیں تھا انکی ماں جائ 17سال بعد ان سے ملنے آرھی تھی زرک ماما کو بتا کر خالہ کو لینے ائرپورٹ چلا گیا اور زھرا بیگم نے ملازمہ کو بلا کر گیسٹ روم کی سیٹنگ اور مہمانوں کی مدارت کا سامان منگوانے کی ھدایت دے دی تھی اور خود ماضی میں کھو گئیں …………

زاھدہ خاتون اور مظاھر صاحب کی دو ھی اولادیں تھیں مہ پارہ اور زھراء بیٹےماہ زیب کی پیدائش پر زاھدہ خاتون جانبر نہ ھوسکئیں اورمظاھر صاحب کے ساتھ دو بیٹیوں جنکی عمریں 4,2 سال تھیں روتا چھوڑ کر چل بسیں اور 2 گھنٹے بعد ماہ زیب بھی ماں کے پیچھے چل دیا دوہرا صدمہ تھا مگر مظاھر صاحب کو جھیلنا تھا اپنی خاطر نہ سہی ان دو ننھی جانوں کے لیے جو یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ انکا کتنا بڑا نقصان ھوگیا ھے …………………

انھوں نے مہ پارہ اور زھراء کو بہت نازوں سے پالا تھا انکی تعلیم اور تربیت دونوں میں کوئ کمی نہ چھوڑی تھی زھرا بیگم ڈاکٹر اور مہ پارہ بیگم انجینئرنگ کر کے فری ھوئیں تو مظاھر صاحب نے اپنی گرتی صحت کے پیش نظر اچھے رشتے دیکھ کر دونوں بیٹیوں کی اکٹھی شادی کا سوچا وہ اپنی زندگی میں ھی اپنے فرض سے سبکدوش ھونا چاھتے تھے اسلیے انھوں نے لڑکے دیکھے اور وہ دونوں بیٹیوں کے لیے انکو اچھے انسان مل گئے زارون علی بھئ زھراء کی طرح ڈاکٹر تھے جبکہ صارم انگلینڈ میں مقیم تھے ,شادی کے ھنگامے گزرے مظاھر صاحب نے کوئ کمی نیئں آنے دی زھراء اور مہ پارہ پیا دیس سدھاریں………………

اگلے دن ولیمہ تھا وہ وہاں سے آئے تو مہ پارہ زھراء بھی انکے ساتھ تھیں اس رات انھوں نے اپنی بیٹیوں سے بہت باتیں کی تھیں صبح داماد بھی آے سارا دن گپ شپ میں ٹائم کا پتہ ھی نہیں چلا دونوں جوڑے اجازت لے کر گھروں کو سدھارے تو مظاھرصاحب نے ملازموں کو منع کیا کہ صبح انکو جلدی نہ اٹھایا جائے وہ آرام کرنا چاھتے تھے اس رات وہ بہت پرسکون سوئے تھے اور دن چڑھے تک سوتے رھے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *