Muhabbat Naam Zindagi by Amna Writer NovelR50666 Muhabbat Naam Zindagi (Episode 02)
Rate this Novel
Muhabbat Naam Zindagi (Episode 02)
Muhabbat Naam Zindagi by Amna Writer
ندرت بیگم اور ثناء کے جانے کےبعدانزلہ بیگم ارسلان کے کمرے میں آگئی ارسلان آفس کی کوئی فائل کھولے دیکھ رہا تھا جب دروازے پر دستک ہوئی آجائے اندر انزلہ بیگم دروازہ کھول کر اندر آگئی ارے ماما آپ آئے نہ ارسلان نے انزلہ بیگم کو دیکھ کر فائل بند کرکے سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور انزلہ بیگم کو پکڑ کر بیڈ پر بیٹھایا اور خود ان کی گود میں سر رکھ کے لیٹ گیا ارسلان مجھے تم سے بات کرنی تھی جی ماما کررے نہ میں سن رہا ہو
ارسلان مجھے تمہاری شادی کے بارے میں بات کرنی ہے
ماما پلیز مجھے ابھی شادی نہیں کرنی ارسلان نے لیٹے ہی جواب دیا
ارسلان اب تو حماد کی بھی شادی ہوگئی ہے اب تو تم شادی کرلو انزلہ بیگم نے غصے سے کہا ماما میں نے کب اسے کہا تھا کہ حماد کے بعد میں شادی کروگا ارسلان انزلہ بیگم کی گود سے اٹھ کر بولا اور انزلہ بیگم کو دیکھا
اس کا مطلب تم شادی ہی نہیں کروگے ما ما میں نے اسے بھی نہیں کہا اب کروگا پر اب نہیں اب نہیں تو کب ارسلان؟ انزلہ بیگم نے ارسلان کو دیکھا ماما آپ کیوں میری شادی کے پیچھے پڑی ہوئی ہے
کیو ں کی میں چاہتی ہو میرے گھر میں بھی بہو آئے ما ما آپ کے گھر میں بہو تو آچکی ہے نہ مریم بھا بھی ارسلان نے ہنس کر کہا
بیٹا پروہ کونسا یہاں ہے وہ تو انگلینڈ میں ہے میں چاہتی ہومیری بڑی بہو نہیں ہے یہاں تو کم سےکم چھوٹی بہو تو ہو ں پر مجھےتو چھوٹی بہو کےبھی اب آسارکم ہی نظر آرہے انزلہ بیگم نے دکھ سےکہااوراٹھ کرباہرکی طرف چل دی ارسلان نےان کو اداس دیکھا ٹھیک ہے ماما کردے میری شادی انزلہ بیگم جو کمرے سے باہر جارہی تھی جلدی سےواپس آئی تم سچ کہےرہے ہو ارسلان ؟ارسلان نے سرہلایا اور بولا جی ماما انزلہ بیگم نے ارسلان کی پیشانی پر بوسہ دیا خوش رہو بیٹااللہ تمہیں کا میاب کررےارسلان تمہیں کوئی لڑکی پسند ہے تو بتادو نہیں ما ما مجھے کوئی نہیں پسند آپ جس کو پسند کررے گی میں اس سےہی شادی کر لو گا انزلہ بیگم ارسلان کی بات سن کر خوش ہوگئی ماشااللہ میرا بیٹا بہت نیک ہے ارسلان ثناء کیسی لگتی ہے تمہیں؟ارسلان نے سر اٹھا کرانزلہ بیگم کو دیکھا
اچھی ہے آپ کیوں پوچھ رہی ہےاس کےبارےمیں وہ میں چاہتی ہو کہ نہیں ما ما ثناء سےمیں بلکل بھی شادی نہیں کروگا اس سے پہلےانزلہ بیگم اپنی بات پوری کرتی ارسلان بول پڑا اچھا ٹھیک ہےمیں بس تمہاری مرضی پوچھنا چاہتی تھی کیوں کہ میں نے ثناء کی آنکھوں میں تمہارے لیےپسندگی دیکھی ہے
ماما وہ کرتی ہوگی پسند پر میں نہیں کرتا ثناءکے علاوہ آپ جس سے مرضی میری شادی کروادےمیں کرلوگا پر ثناء نہیں ٹھیک ہےبیٹا میں آج سے ہی تمہارے لیے لڑکیاں دیکھتی ہو ماما لڑکیاں نہیں صرف لڑکی انزلہ بیگم ارسلان کی بات پر ہنس دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مانور کا آج کچن میں پہلا دن تھا مانور رسم کے مطابق میٹھے میں کھیر بنا رہی تھی مانور نے جلدی سے کھیر بناکر فریزر میں رکھی اور خود چینج کرنے کمرے میں آگئی کمرے میں آئی تھی تو حماد بیڈ پر بےخبرسورہاتھا مانور حماد کو دیکھ کر ہنس دی اور کپڑے چینجکرنے واش روم میں چلی گئی کپڑے چینج کرکے باہر آئی تو حماد ویسے ہی سو رہا تھا مانور کو شرارت سوجھی اور چل کر بیڈ کے قریب آگئی پھر اپنے گیلے بالوں کو حماد کے چہرے کے اوپر کردیا حماد کے چہرے پر پانی پڑا تو حماد اٹھ کر بیٹھ گیا مانور بھاگنے لگی ہی تھی کہ حماد نے مانور کا بازو پکڑ کر کھینچھا مانور سیدھی حماد پر گری حماد نے مانور کے گرد احصار کھینچ لیا مانور نے حماد کو پیچھے کرنا چاہا پر حماد نے اپنی گرفت اور مضبوط کرلی اور مانور کے کان میں سر گوشی کی بیگم صاحبہ شرارت کرنی صرف آپکو ہی آتی ہے مانور کا چہرہ شرم سے سرخ ہوگیا حماد پلیز چھوڑے کوئی آجائے گا نہیں آتا حماد سر گوشی میں بولا حماد پلیز مانور نے بےچارگی سے کہا تو حماد نے اس کے ما تھے پر بوسہ دے کر چھوڑ دیا مانور شیشے کے سامنے جاکر کھڑی ہوگئی اور اپنے بال سلجھانے لگی حماد اٹھ کر فریش ہونے چلاگیا حماد کے نکلنے سے پہلے ہی مانور جلدی سے تیار ہوکر نیچے چلی گئی
حماد واش روم سے نکلا تو مانور جاچکی تھی
حماد بھی جلدی سے نیچے آگیا مانور ڈائننگ ٹیبل پر سب کو کھیر پیش کررہی تھی حماد بھی چلتا ہوا ٹیبل پر آگیا مانور نے حماد کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا مانور کے دیکھنے پر حماد نے مانور کو آنکھ ماری تو مانور کا منہ کھل گیا حماد نیچے منہ کرکے ہسنے لگا کیا ہوا حماد تم ہنس کیوں رہے ہو
شما ئلہ بیگم (حماد کی ماں ) نے حماد سے پوچھا کچھ نہیں ماما بس کوئی پرانی بات یاد آگئی تھی بھائی ہمیں بھی بتائے نہ تاکہ ہم بھی ہنس سکے نہیا نے کہا ہاں حماد ہمیں بھی بتائے نہ ہم بھی تھوڑا ہنس لے مانور بھی شرارت سے بولی حماد نے گھور کر مانور کو دیکھا جو اپنی ہنسی ضبط کررہی تھی کچھ نہیں ہوا آپ سب تو پیچھے ہی پڑجاتے ہے حماد نے غصے سے کہا اور مانور کو آنکھوں ہی آنکھوں میں کہا تمہیں تو میں دیکھ لوگا مانور ہسنے لگی
۔۔۔
——-”””
ہانیہ اٹھ جاو بیٹا امی سونے دے نہ پلیز ہانیہ نے کروٹ بدل کر کہا تمہیں کالج نہیں جانا کیا ہا نیہ کالج کے نام پر اٹھ کر بیٹھ گئی امی ٹائم کیا ہوا ہے آٹھ بجنے والے ہے ہانیہ جلدی اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھی واش روم کے دروازے پر رک کر بولی امی جلدی میرا ناشتہ تیار کردے پلیز میں آگے ہی لیٹ ہو چکی ہو ایک تو یہ لڑکی پہلے لیٹ اٹھتی ہے اور پھر جلدی مچا دیتی ہے سارا بیگم باہر چلی گئی ہانیہ جلدی سے کپڑے چینج کر کے نکلی اور کمرے سے باہر آتے ہی شور مچا دیا طلحہ بھائی مجھے چھوڑ آئے جلدی میں آگے ہی بہت لیٹ ہوچکی ہو اچھا گڑ یا میں آیا طلحہ نے اپنے کمرے سے ہی کہا ہانیہ پھر بولی طلحہ بھائی جلدی آگیا گڑیا اسی وقت طلحہ روم سے نکلا چلو اور پھر دونوں باہر کی طرف چل دیے
—————
ارسلان آفس میں آیا تو حماد پہلے ہی اس کے کیبن میں بیٹھا ہواتھا ارے واہ آج تو بڑے بڑے لوگ آئے ہے ارسلان نے حماد کو دیکھ کر کہا تو حماد ہسنے لگا اور کہا شکر کرو بڑے لوگ خود تمہارے پاس چل کر آگئے ورنہ چھوٹے لوگ تو بھول ہی جاتے ہے ہمارے گھر کا رستہ ارسلان نے قہقہ لگایا یار میں تمہیں ڈسٹرب کرنا نہیں چاہتا تھا اچھا اب میں تجھ سے ڈسٹرب ہوگا حماد نے ارسلان کو گھورا ہاں نہ کیوں کہ تیری بیوی جو آگئی ہے بیوی کی اپنی جگہ ہے اور تیری اپنی اب آئندہ یہ نہ سوچنا کہ میں تیری وجہ سے ڈسٹرب ہوگا حماد نے غصے سے کہا اچھا یار غصہ نہ ہو ارسلان نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی اب بتا گھر کب آئے گا ایک دو دن میں آو گا تو بتا کیا کھائے گا ناشتہ میں کرکے آیا ہو اس لیے چائے پیوگا ارسلان نے فون کرکے دو چائے لانے کا حکم دیا اور بتا گھر میں سب کیسے ہے اور مانوربھابھی کیسی ہے حماد نے کرسی پر ٹیک لگا کر کہا سب ٹھیک ہے حماد میں نے شادی کے لیے ہاں کردی ہے سچی حماد نے خوشی سے ارسلان کو دیکھا یار تو نے مجھے یہ بات سنا کر جو خوشی دی ہے نہ میں بتا نہیں سکتا حماد نے ارسلان کو شرارت سے دیکھ کر کہا اب میں تیری شادی میں گانا گاو گا
اچھا کونسا ارسلان نے ہنس کر پوچھا میرا پیارا بھائیاں دلہا راجہ بن کر آگیا میرا پیارا بھائیاں حماد کمینےتو باز نہیں آئے گا بلکل بھی نہیں حماد نے ہنس کر کہا اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی اور ایک لڑکا چائے لے کر اندر آیا ٹیبل پر چائے کے کپ رکھ کر واپس چلا گیا دونوں نے چائے کے کپ اٹھا لیے چائے پینے کے بعد حماد جانے کے لیے کھڑا ہوگیا اچھا میں اب چلتا ہو اتنی جلدی ہاں یار مانور کو اس کے میکے لے کر جانا ہے او اچھا ابھی سے جوروکاغلام بن گیا
بیٹا جب تیری شادی ہوگی تو بھی اپنی بیوی کے اسے ہی آگے پیچھے گھومے گا حماد نے ٹیبل سے گاڑی کی چا بی اٹھا کر کہا اچھا یہ تو ٹائم بتائے گا کہ میں کتنا بیوی کے پیچھے گھومتا ہو ارسلان نے حماد کو دیکھ کر کہا اچھا میں اب چلتا ہو حماد ارسلان سے مل کر آفس سے باہر نکل گیا۔
________________
ہانیہ چھٹی ٹائم فروا کے ساتھ کالج سے باہر نکلی اور آس پاس دیکھنے لگی طلحہ بھائی اب تک آئے نہیں شاید ہا نیہ نے اردگرد دیکھ کر کہا فروا وہ دیکھو تمہارے بابا آگئے تمہیں لینے ہانیہ نے فروا کی توجہ سامنے سڑک کے دوسری سائیڈ کھڑے فروا کے والد کی طرف کروائی اچھا میں چلتی ہو فروا چلتی ہوئی سڑک کے دوسری سائیڈ چلی گئی فروا کے جانے کے بعد ہانیہ نے اچانک سامنے دیکھا یہ کھڑوس یہاں کیا کررہا ہانیہ نے ارسلان کو دیکھا جو اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا کسی کا انتظار کررہاتھا ارسلان نے اپنے اوپر کسی کی نظریں محسوس کی ارسلان نے بے اختیار سامنے دیکھا ہانیہ کو جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ہانیہ کے پیچھے سے چلتی ہوئی ثناء بھی آرہی تھی ارسلان کو دیکھ کر ثناء کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی ثناء ہانیہ کے پاس سے گزارتی ہو ئی ارسلان تک پہنچی ارے آج آپ کو میری یاد کہاں سے آگئی ڈیئر کزن ارسلان ثناء کی بات کو اگنور کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا ثناء بھی دوسری سائیڈ سے آکر گاڑی میں بیٹھ گئی ارسلان نے گاڑی سٹارٹ کر کے روڈ پر ڈالی ہونہہ ضرور کھڑو س کی گرل فرینڈ ہوگی ہا نیہ نے انھیں جاتے دیکھ کہا تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا ثناء نے ارسلان کو دیکھ کر کہا کیوں کہ میں تمہاری بات کا جواب دینا پسند نہیں کرتا اور تم کسی خوش فہمی میں مت رہنا کہ میں خود تمہیں لینے آئے ہو میں صرف مامی کے کہنے پر آیا ہو ارسلان نے سامنے روڈ کو دیکھ کر کہا چلو ماما کے کہنے پر ہی آگئے ہو پر آئے تو ہونا پھر تھوڑی دیر بعد ثناء بولی ارسلان تم جو کچھ مرضی کرلو پر تمہاری بیوی میں ہی بنوگی ثناء میں نے تو ابھی کچھ کیا ہی نہیں ہےارسلان نے ایک منٹ کے لیے سامنے سے نظریں ہٹا کر ثناء کو دیکھا اور پھر سے سامنے دیکھنے لگا ثناء غصے سے ارسلان کو دیکھ کر رہ گئی
——-
ہانیہ گھر پہنچی تو مانور آئی ہوہی تھی ہانیہ بھگ کر مانور کے گلے لگی مانور آپی آپ کب آئی اور آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ آپ آنے والی ہے ورنہ میں کالج سے چھٹی کرلیتی بس بس لڑکی ایک ہی سانس میں اتنے سوال مانور نے ہانیہ کو خود سے الگ کیا مانور آپی بتائے نہ لڑکی پہلے کپڑے چینج کرو پھر کھانا کھاو پھر میں تمہیں بتاو گی مانور آپی جاو جلدی سے کپڑے چینج کرو مانور نے ہانیہ کو کمرے کی طرف دھکیلا ہانیہ کپڑے چینج کرکے روم سے باہر آئی تو ہانیہ مانور کے پاس جانے لگی تو مانور نے کچن کی طرف اشاکر کےجانےکو کہا آپی ہانیہ نے چلا کر کہا نہیں پہلے کھانا مانور نے ہانیہ کو غصے سے دیکھ کر کہا اچھا ٹھیک ہے ہانیہ کچن میں چلی گئی اور جلدی کھانا کھا کر مانور کے پاس آگئی آپی اب بتائے آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ آپ آرہی ہے ہانی بس اچانک ہی حماد نے پلان بنایا ہے اچھا تو حماد بھائی خود کہا ہے انھیں یہاں کچھ کام تھا بس آتے ہی ہو گے اچھا آج آپ رکے گی نہ یہاں نہیں ہانی میں پھر کبھی آوگی ابھی گھر میں ہم امی کو یہی کہ کر آئے ہے کہ شام تک واپس آئے گے آپی یہ کیا آپ اتنے دنوں بعد آئی ہے وہ بھی تھوڑی دیر تک ہانی ناراض ہوگئی
ہانی میری جان میں پھر آوگی نہ مانور نے ہانی کو منایا اب تم اسے ہی منہ بنا کر بیٹھی رہی نہ تو میں ابھی چلی جاوگی مانور نے ہانیہ کو دھمکی دی جو کامیاب بھی ہوگئی تھی اچھا ٹھیک ہے آپی پر اگلی مرتبہ رہنے کے لیے آئے گی اوکے مانور نے ہمی بڑھی پھر ہانیہ کی نا ختم ہونے والی باتیں شروع ہوگئی جیسے مانور سنتی رہی
—‘-”””-”
ثناء گھر آئی تو ندرت بیگم اس کے انتظار میں بیٹھی ہو ئی تھی ثناء کو دیکھ کر اٹھ کر اس کے پاس آئی ثناء ارسلان سے بات کی تم نے ماما وہ تو مجھ سے بات کرنا نہیں پسند کرتا تو شادی کیسے کررے گا ماما آپ نے پھوپھو سے بات کی ہاں کی تھی پر تمہیں پتا اس چالاک عورت نے کہا کہ ارسلان ثناء کو اپنی چھوٹی بہن سمجھتا ہے مجھے تو لگتا ہے انزلہ ہی نہیں چاہتی کہ تیری شادی ارسلان سے ہو ویسے تو بھائی بھائی کرتی ہے جب اپنے بیٹے کی شادی کی باری آئی تو بھائی کی بیٹی ہی نہیں نظرآرہی فتنی عورت کو ماما مجھے نہیں پتا مجھے صرف ارسلان ہی چاہیے آپ پاپا کو کہے اپنی لاڈلی بہن سے بات کرے وہ بھی اس بہن کا ہی بھائی ہے اسے بھی بیٹی نظر نہیں آتی بہن اور اس کے بیٹے ہی نظرآتے بہن کا چمچا ندرت نے منہ بنا کر کہا اور پھر ثناء کی طرف دیکھ کر بولی تم فکر نہ کرو ابھی تمہاری ماں زندہ ہے میں تمہاری ارسلان سے ہی شادی کروا آو گی
———
ہانیہ پھر تم آوگی نہ میرے بھا ئی کی شادی پر ہانیہ اور فروا کلاس لے کر نکلی تھی جب فروا نے ہانیہ سے پوچھا یار ابھی کچھ نہیں پتا امی سے پوچھ کر بتا و گی مطلب تم نے ابھی آنٹی سے پوچھا ہی نہیں آج پوچھ لوگی امی سے یار کل بھائی کی مہندی ہے یاد سے آج پوچھ لینا اور مجھے کال کرکے بتا دینا اوکے میں تمہیں کال کرکے بتادو گی آگر آنا ہوا تو کیا مطلب آگر آنا ہو تو فروا نے غصے سے کہا ہا نیہ تم
نے آنا ہے میں کل تمہارا انتظار کروگی یار آگر امی نہ مانی تو تو یہ تمہارا مسئلہ ہے تمہیں آنٹی کو منانا ہوگا میرے لیے پلیز ہانیہ فروانے بےچارگی سے کہا اچھا ٹھیک ہے میں کوشش کروگی کوشش نہیں بس منانا ہے اوکے فروا نے غصے سے کہا اوکے ہانیہ نے کہہ تو دیا پر اب سوچ رہی تھی امی کو کیسے منائے گی ہانیہ گھر آئی تو سیدھا کمرے میں کپڑے چینج کرنے چلی گئی کپڑے چینج کرنے کے بعد کمرے سے باہر آئی تو دیکھا سارا بیگم صحن میں بیٹھی سبزی بنا رہی تھی ہانیہ ان کے سامنے جاکر بیٹھ گئی تھوڑی دیر بعد الفاظ ترتیب دینے کے بعد سارا بیگم کو مخاطب کیا امی مجھے آپ سے بات کرنی تھی ہاں کرو ہانیہ میں سن رہی ہو سارا نے سبزی سے بنا نظریں ہٹائے بغیر کہا امی وہ میری کلاس فیلو فروا ہے نہ ہاں کیا ہوا اس کو نہیں امی اس کو کچھ نہیں ہوا وہ نہ اس کے بھائی کی مہندی ہے کل تو مجھے کیوں بتارہی ہو ہانیہ سارا بیگم نے ہانیہ کو دیکھ کر کہا امی اس نے مجھے شادی پر بلایاہے وہ چا ہتی ہے کہ میں شادی پر آو تم مناکردیتی اسے امی میں نے کیا تھا پر وہ بار بار کہہ رہی تھی کہ تم نے ضرور آنا ہے کیوں تمہارے جا نےسے اس کے بھائی کی شادی ہو گی تو آگر تم نہ گئی تو اس کے بھائی کی شادی نہیں ہوگی امی میں نے اب ایسا بھی نہیں کہا ہے اب بہرحال جو بھی کہا ہو تم اس کو منا کردو تم نہیں جاوگی وہاں اممممممی ہانیہ ضد نہیں کرو اور جاو کھانا کھاؤ مجھے نہیں کھانا ہانیہ غصے سے کہہ کر چلی گئی اور اپنے کمرے میں بند ہوگئی شام کوجب سب نے ہانیہ کا پوچھا تو سارا بیگم نے سب کو سچ بتادیا سارا جانے دو یہی تو عمر ہے اس کی بھابھی اسے کیسے جانے دے پتہ نہیں کیسی فیملی ہوگی ان کی اور ہم وہاں ہانیہ کو بھیج دے سارا فروا ایک دو مرتبہ گھر بھی آئی ہے اور میں نے اس میں کہی کوئی خرابی نہیں دیکھی بھابھی ضروری تو نہیں جیسی فروا ہو ویسی ہی اس کی فمیلی ہو سارا ہانیہ سمجھ دار ہے اس لیے اسے جانے دو پر بھابھی ہاں سارا جانے دو ہانیہ کو بھابھی ٹھیک کہ رہی ہے اور چاچی آپ فکر نہ کرے میں ہانیہ کو چھوڑ بھی آوگا اور لینے بھی چلا جاو گا اچھا ٹھیک ہے اب اس کو کوئی بلاکر تو لائے میں لے کر آتی ہو امی اس کو طلحہ کی بیوی جویریہ اٹھ کر ہانیہ کے کمرے کی طرف چل دی ہانیہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی کون ہے ہانیہ نے غصے سے پوچھا میں ہو ہانی دروازہ کھولو ہانیہ نے اٹھ کر دروازہ کھول دیا جویریہ نے ہانیہ کو دیکھا جس کی آنکھیں سرخ ہوئی تھی ہانیہ چلو باہر سب تمہیں بلارہےھے مجھے نہیں جانا بھابھی ہانیہ بیڈ پر جاکر بیٹھ گئی کیوں نہیں جانا جویریہ چل کر ہانیہ کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی ہانیہ کچھ نہیں بولی اچھا چلو باہر آو جویریہ ہانیہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر کی طرف چل دی ہانیہ بھابھی کے ساتھ بدتمیزی نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیےچپ چاپ بھابھی کے ساتھ چل دی ہانیہ بھابھی کی بہت عزت کرتی تھی اور جویریہ بھی اپنی دونوں نندوں مانور اور ہانیہ سے بہت پیارکرتی تھی جویریہ مانور کو باہر لے آئی تھی نوشینبیگم اٹھ نے اٹھ کر ہانیہ کو گلے لگا لیا میری بچی نے دیکھو کیا حال بنالیا اپنا ہانیہ میرے پاس آو یہاں شعیب صاحب نے ہانیہ کو اپنے پاس بلایا ہانیہ ان کے پاس جاکر بیٹھ گئی میری بیٹی نے کھانا کیوں نہیں کھایا بابا مجھے بھوک نہیں تھی ارے میری بیٹی جھوٹ کب سے بولنے لگ گئی شعیب صاحب نے ہنس کر ہانیہ کو اپنے ساتھ لگایا تو ہانیہ رونے لگی ہانی کیا ہوا بیٹا کچھ نہیں بابا ہانیہ نے اپنے آنسو صاف کیے اچھا کل کتنے بجے مہندی ہے بابا مجھے نہیں جانا کیوں نہیں جانا تمہاری ماں نے مانا کیا ہے اس لیے نہیں جانا تو بیٹا اب تو تمہاری امی بھی مان گئی ہے اب تو تمہیں ضرور جانا چاہیے ہانیہ نے سارا بیگم کو دیکھا امی بابا سچ کہہ رہے ہے کیا میں شادی پر جاسکتی ہو ہاں اور مجھے بتادینا کونسے کپڑے پہننے ہے تم نے تاکے میں پریس کر کے رکھ دو گی ہانیہ بھاگ کر سارا بیگم کے گلے لگی تھینک یو امی آپ بہت اچھی ہے اچھا بس اب کھانا کھالو جی امی اور پھر سب نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا
