Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Naam Zindagi (Episode 01)

Muhabbat Naam Zindagi by Amna Writer

اٹھ بھی جاو اب ہانیہ کب سے تمہیں اٹھارہی ہوں بیڈ پر لیٹے وجود نے بیزاری سے کروٹ بدلی تھی مانور کب سے اس کی منٹ کررہی تھی پا نی کا جگ پکڑ کر اس کی طرف بڑھی ہانیہ اب آگر نہ اٹھیں تم تو میں پا نی کا سارا خگ خالی کردو گی تم پر مانور نے اسے آخری وارننگ دیتے ہو ہے کہا ہا نیہ پھر بھی ڈھیٹ بنی لیٹی رہی تو مانور نے اس پر سارا پانی پھینک دیا ہانیہ غصےسےاٹھ کر بولی مانور آپی کیوں آپ میری نیند کی دشمن بنی ہوئی ہے آپ ہانیہ ٹا ئم دیکھوکیا ہو رہا ہے اور تمہاری ابھی تک نیند ہی نہیں پوری ہوئی ہا نیہ نے ٹا ئم دیکھا تو دوپہر کے چار بج رہے تھے آج تو پکا امی سے ڈانٹ پڑے گی ہانیہ نے اوپر کی طرف دیکھ کر کہا یا اللہ بچلینا ما نور ہسنے لگی اور کہا ڈرامے پھر کر لینا اٹھو اور منہ ہاتھ دھو لو میں کھانا لے کر آتی ہو اور مانور با ہر کی طرف چل دی ہا نیہ اٹھ کر واش روم چلی گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احمد صاحب کے دو بیٹے تھے بڑے بیٹے کا نام طلال اور چھوٹے بیٹے کا نام شعیب تھا طلال کے دو بچے ھے بیٹا طلحہ اور بیٹی مانور جبکہ شعیب صاحب کی ایک ہی بیٹی تھی ہانیہ دونوں بھائیوں میں بہت اتفاق تھا اور ایک ہی گھر میں رہتے تھے نعشیں بیگم اور سارا بیگم کی بہنوں جیسی بنی ہوئی تھی اور دونوں بھائیوں کے بچوں میں بہت پیار تھا طلحہ شادی شدہ تھا ما نور بی اے میں تھی جب حماد کا رشتہ ما نور کے لیے آگیا رشتہ اچھا تھا تو گھروالوں نے منگنی کردی جبکہ ہا نیہ ما نور سے دو سال چھوٹی تھی اور سکینڈ ائیر کی سٹوڈنٹ تھی ہا نیہ گھر بھر کی لا ڈلی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارسلان آفس میں بیٹھا فا ئل دیکھ رہا تھا جب فون کی رنگ ٹون بجی ارسلان نے فون دیکھا تو حماد کی کال آرہی تھی ارسلان نے مصروف انداز میں کال پک کی دوسری طرف حماد نے پوچھا ارسلان کہا ہو تم ؟؟ میں آفس میں ہو کیوں کیا ہوا ارسلان نے کہا ؟ تمہیں پتا ہے آج میری مہندی ہےاور تم آج بھی آفس میں ہو آج کے دن تو تمہیں کم سے کم میرے ساتھ ہو نا چا ہیے تھا دوسری طرف ارسلان نے ہنس کر کہا کہ کیوں تو کل رخصت ہوکر اپنے سسرال چلا جا ئے گا کیا بکواس نہیں کر سیدھی طرح بتا آرہا کہ نہیں حماد نے غصے سے کہا اچھا آرہا ہو میں ارسلان نے کے کر فون بند کردیا اور ٹیبل سے گاڑی کی چابی اٹھا کر آفس سے با ہر نکل گیا ”’

________________

صدیقی صاحب ایک جا نے مانے مشہور بزنس مین تھے ان کے دو بیٹے تھے بڑا سلیمان اور چھوٹا ارسلان سلیمان شادی شدہ تھا شادی کے بعد سلیمان انگلینڈ سٹیل ہو گیا تھا جبکہ ارسلان باپ کے ساتھ مل کر بزنس کو وسیع سے وسیع کر رہا تھا ارسلان چھوٹا ہونے کی وجہ سے لاڈلا تھا انزلہ بیگم ( ارسلان کی ماں) چا ہتی تھی کہ ارسلان کی شادی کردی جا ئے مگر ارسلان انھیں ہر مرتبہ ٹال دیتا تو انزلہ بیگم خاموش ہو جا تی پر اب انھو ں نے سوچ لیا تھا کہ ارسلان سے بات کر کے ہی رہے گی اس با رے میں

——”””’

حماد کے ساتھ بیٹھا ارسلان وائٹ شلوار پر براون واسکٹ پہنے اپنی پر کشش وجیہہ پر سنالٹی سمیت ماحول پر چھا یا ہوا تھا ہال میں سب لڑکیوں کی نظر ارسلان پر تھی اور کچھ کی ماوں نے تو سوچ لیا تھا کہ اس کو ہی اپنا داماد بنائے گی حماد کے گھر والے لڑکی والوں کی طرف مہندی لگانے جارہے تھے ارسلان حماد سے بات کررہا تھا جب حماد کی بہن نہیا سٹیج پر آئی ارسلا ن بھا ئی آپ نہیں جا ئے گے بھابھی کو مہندی لگانے نہیں تم لڑکیوں کی مہندی میں میرا کیا کام میں حماد کے پاس ہی رہتا ہو تم لوگ جا و حماد نے ارسلان کی طرف دیکھ کر کہا او میرے بھا ئی تو میری فکر نہ کر جا چلے جا ارسلان نے حماد کی گردن میں ہاتھ ڈال کر کہا گد ھے تیری فکر کر بھی کون رہا ہے میں تو یہاں تیرے پاس بیٹھ کر تجھ پر دھیان رکھو گا کیوں مجھ پر دھیان وہ کیوں میں کو نسا بھاگ جاو گا جو تو مجھ پر دھیا ن رکے گا ارسلان نے اس کی گردن سے ہاتھ نکال کر کہا کہ دھیان اس لیے رکھو گا تاکہ تو بھا بھی کو کا ل نہ کر سکے حما د نے ار سلان کو گھور کے دیکھا اور کہا بیٹا تیرا بھی ٹائم آنا ہے پھر میں تجھے بتا و گا حماد بھا ئی ارسلان بھا ئی آپ جیسے نہیں ہے نہیا جو اتنی دیر سے خا موش کھڑی ان کی با تیں سن رہی تھی حماد کی آخری بات سن کر بول پڑی کیوں تم نے اپنےارسلان بھا ئی کو شریف سمجھ رکھا ہے ہاں نہ شر یف ہی ہے اس لیے آج تک کسی لڑکی کو لفٹ نہیں کروائی تو میں نے بھی کب کسی لڑ کی کو لفٹ کروائی انفیکٹ میں تو لفٹ میں بھی اکیلے جا تا ہو تاکہ کو ئی لڑ کی یہ نہ سمجھ لے کہ میں نے اس کو لفٹ کروائی ہے نہیا اور ارسلان نے حماد کی با ت سن کر قہقہ لگایا

——– -””” ہا نیہ شیشے کے سا منے کھڑی اپنی ما ٹھا پٹی سیٹ کر رہی تھی جب نو شین بیگم (مانور کی ماں ) کمرے میں داخل ہو ئی ہا نیہ پر نظر پڑی تو بے اختیار ان کے منہ سے ما شاء اللہ نکلا ہانیہ نے پنک کلر کا شرارہ اور شر ٹ والا سوٹ پہنا تھا سوٹ کے اوپر ایمبرائڈی کا بڑا ہلکا پھلکانفیس سا کام ہوا تھا گلے پر بین پتی کی صورت کام تھا جبکہ قمیض کے دامن پر فرانٹ کی دونوں سا ئیڈ پر ہلکا پھلکا کا م تھا ڈوپٹا سا دہ تھا البتہ ڈوپٹے کے کناروں پر میچنگ لیس مزین تھی ساتھ میچنگ کھسہ اور جیولری تھی بلا شبہ ہانیہ بہت خو بصورت اور چھا جانے والی شخصیت تھی ہا نیہ نو شین بیگم کو دیکھ کر مسکرائی اور اور ان کے پاس آکر بولی تا ئی امی کیسی لگ رہی ہو میں نو شین بیگم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ہا نیہ کی نظر اتاری ما شاء اللہ میری بیٹی بہت پیا ری لگ رہی ہے ہا نیہ نے مسکرا کر کہا شکریہ تائی اماں اچھا چلو با ہر آجا و لڑکے والے آگئے ہے چلیے تائی امی با ہر آئی تویکھا سب لڑکے والوں سے مل رہے تھے ہا نیہ بھی حما د کی امی سے مل کر نہیا کی طرف آئی اسلام و علیکم

وعلیکم سلام

کیسی ہو نہیا میں بہت پیا ری آپ کیسی ہو ہا نیہ مسکرائی اور کہا میں بھی ٹھیک

ہا نیہ جاو مانور کو لے آو با ہر سارا بیگم (ہا نیہ کی ماں) نے کہا جی اچھا ہا نیہ نہیا کو لے کر ما نور کے کمرے میں چلی گئ اورمہندی کی رسم کرنے کے بعد لڑکے والے چلے گئے

——— احمد ہاوس میں افراتفری کا سماں تھا کسی کو کپڑے نہیں مل رہے تھے تو کسی کے جوتے غائب تھے ہا نیہ ما نور کو پارلر لے گئی تھی اور خود بھی وہی تیار ہو گئی تھی ہا نیہ جب مانور کو لے کر ہال پہنچی تو بارات آگئی تھی ہا نیہ مانور کو براہیڈل روم لے آئی مانورآپی آپ بیٹھو میں تا ئی امی اور امی کو لے کر آتی ہو اور روم سے باہر نکل گئی ہا نیہ اپنے دھیان میں چل رہی تھی جب کسی سے زبردست ٹکراؤ ہوگیا ہانیہ کو اپنا سرگھو متا ہوا نظر آیا ہا نیہ نے غصے سے سامنے والے کو دیکھا نظر نہیں آتا آپکو دھیان کہاں تھا آپکا ارسلان نے بولنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ ہانیہ پھر بول پڑی آپکا دھیان ضرور لڑکیوں پر ہی ہوگا ہو نہ تم لڑکے شادیوں پر یہی تو کرنے آتے ہو شٹ اپ میں ان لڑکوں جیسا نہیں ہو اور غلطی تمہاری تھی کون پگل انسان منہ نیچے کر کے چلتا ہےدیکھیے آپ اس سے پہلے ہا نیہ کچھ بولتی ریا ض جو کہ حماد کا کزن تھا ارسلان کے پا س آکر پوچھا کیا ہوا ارسلان؟ کچھ نہیں کے کر وہاں سے چلا گیا —–

_______ ہانیہ نے اس کو جاتے دیکھ کر کہا کھڑوس نہ ہو تو بڑا آیا خود ہو گا پا گل کو ن پا گل ؟ ہانیہ نے ریا ض کو دیکھا جو اس کو ہی بڑے غور سے دیکھ رہا تھا تم پا گل ہا نیہ غصے سے کہے کر چلی گئی ریا ض اس حسین بلا کو جا تے دیکھ رہا تھا جب پیچھے سے کسی نے اس کے شا نے پر ہا تھ رکھا نہ تنگ کر زید لڑکی دیکھنے دے ریا ض سمجھا زید ہو گا جب کسی نے ہاتھ نہیں اٹھایا تو ریاض غصے سے پیچھے مڑ ا سامنے والے کو دیکھ کر ریاض کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا ریاض نے تھوک نگل کر کہا تت ۔۔ تت ۔۔ تم علیشاء یہاں کیا کررہی ہو علیشاء نے گھور کے ریاض کو دیکھا نہیں میرا مطلب تم ہال سے باہر کیوں آئی تم یہاں کیا کر رہے تھے ریاض میں زید کو دیکھنے آیا تھا ریاض نے اطمینان سے کہا پر زید تو اندر ہے تم کونسے والے زید کو دیکھنے آئے علیشاء کے سوال پر ریاض کا دل چاہا کے اس کا جواب دینے سے اچھا خود خوشی کرلے پھر علیشاء کو دیکھ کر بولا اچھا شاید اندر چلا گیا ہو ریاض وہ لڑکی کون تھی علیشاء نے غصے سے ریاض کو دیکھا ریاض نے کہا کونسی لڑکی وہی جس سے تم ابھی بات کر رہےتھے ریاض نے خود کو تین چار گالیاں دی اور دل میں کہا او ریاض کے بچے تو ایک عدر مینگیتر بھی رکھتا ہے جو پوری آفت ہے اب یہ تجھے چھوڑے گی نہیں تیرا قیمہ بنا کر کتوں میں تقسیم کرے گی پھر علیشاء کو دیکھ کر بولا اچھا وہ لڑکی جو ابھی یہاں کھڑی تھی جی ہاں علیشاء نے دانت پیس کر کہا جان وہ میری منہ بولی بہن تھی اچھھھا علیشاء نے اچھا کو لمبا کھینچا تو کیا میں جان سکتی ہو مسٹر ریاض کے آپکی اور کتنی منہ بو لی بہن ہے علیشاء نے غصے میں ریاض سے پوچھا نہیں نہیں بس یہی ایک منہ بولی بہن تھی وہ بھی لڑکی کہ رہی تھی کے میرے بھائی بن جاو ورنہ تمہیں تو پتا ہے کے میں کسی کو منہ اٹھا کر نہیں دیکھتا ہاں تم منہ اٹھا کر نہیں آنکھیں اٹھا کر دوسروں کی ماوں بہنوں کو دیکھتے ہو ریاض نے منہ بنا کر کہا جان اب میں اتنا بھی گیا گزر نہیں ہو کہ لوگوں کی ماوں کو دیکھو اس کا مطلب بہنوں کو دیکھتے ہو ں علیشاء نے غصے سے کہا نہیں جان میں تمہارے سوا کسی کو نہیں دیکھتا ریاض نے جلدی سے صفائی پیش کی علیشاء غصے سے ہال کے اندر چلی گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حماد کےگھروالوں نے ما نور کا شاندار استقبال کیا ایک دو رسم کرنے کے بعد مانور کو حماد کے کمرے میں پہنچا دیا حماد کی چچازاد نے مانور کو بیڈ پر بیٹھا دیا اور مانور کا ڈوپٹا سیٹ کیا جو تھوڑا خراب ہو گیا تھا مانور تمہیں کچھ چا ہیے تو نہیں علینا نے مانور کو دیکھ کر پوچھا مانور نے نفی میں سر ہلایا علینا ایک دو باتیں کرنے کے بعد چلی گئی مانور نے سر اٹھا کر کمرے کا جائزہ لیا لیفٹ سائڈ پر صوفہ سیٹ رکھا ہوا تھا رائٹ پر الماری تھی شوپیس پڑے ہوئے تھے دیوار پر حماد کی تصویرے لگی ہوئی تھی مانور کمرے کا جائزہ ابھی لے ہی رہی تھی کہ کمرے کا دروازہ کھول کر حماد اندر داخل ہوا اور بیڈ پر مانور کے قریب بیٹھ گیا مانور کی نظریں جھکی ہوئی تھی حماد نے تھوڑی کے نیچھے ہاتھ رکھ کرچہرہ اوپر اٹھایا تو مانور نے اپنی نظریں اوپر اٹھائی تو حماد کی نظروں سے جاملی کچھ دیر مانور دیکھتی رہی پھر حماد کی نظروں کی تاب نہ لا سکی تو نظریں جھکہ دی حماد نے جیب سے چھوٹا ڈبہ نکلا اور اسے مانور کے ہاتھ پر رکھ دیا یہ آپکی منہ دیکھائی کا تحفہ ما نور نے ڈبی کھولی تو اس میں ڈائمنڈ کا خو بصورت بریسلیٹ تھا مانور نے بریسلیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا بہت پیارا ہے شکریہ اتنے اچھے تحفے کے لیے اب اسے پہنو بھی مانور نے ڈبی سے بریسلیٹ نکلا میں پہنادو مانور نے حماد کی طرف دیکھا اور ہاں میں سر ہلا دیا حماد نے مانور سے بریسلیٹ لے کاہاتھ میں پہنا دیا حماد نے مانور کے ہاتھ پر بوسہ دیا اور کہا اب زیادہ پیارا لگ رہاہےبریسلیٹ مانور نے شرم سے سر جھکا دیا حماد نے یہ خو بصورت منظر اپنی آنکھوں میں قیدکرلیا

——

مانور کے گھروالے جب ہال میں پہنچھے تو حماد کے گھروالے ان کے استقبال میں کھڑے تھے سب اندر کی طرف چل دیے ہانیہ اندر مانور کی روم کی طرف چلی گئی تھوڑی دیر بعد مانور کو سٹیج پر لایا گیا ہانیہ اپنے گھروالوں کے پاس آگئی کھانا کھانے کے بعد نہیا ہانیہ کو لے کر سٹیج پر آگئی ہانیہ مانور کے پاس بیٹھ گئی حماد نے ارسلان کو میسیج کرکے بلایا تھوڑی دیر بعد ارسلان ہال کے دروازے سے اندر آتا دکھائی دیا حماد نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پاس بلا لیا ارسلان سٹیج پر آیا تو حماد ارسلان سے بغل گیرہوا مانور بھی ارسلان کو دیکھ کر کھڑی ہوگئی ہانیہ نے ارسلان کو دیکھا مانور یہ ارسلان میرا دوست اسلام و علیکم ارسلان بھائی

وعلیکم سلام

اور ارسلان یہ میری سالی صاحبہ ہانیہ

اور ہانیہ یہ ارسلان میرا دوست

ہانیہ نے ارسلان کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ہانیہ نے منہ دوسری سا ئیڈ کرلیا

ارسلان مانور سے باتیں کرنے کے بعد حماد کے ساتھ باہر چلاگیا ہانیہ نے اسے جاتا دیکھ کہا کھڑوس انسان

کیا کہا ؟ مانور نے ہانیہ کو دیکھا

کچھ نہیں آپی

———

ارسلان گھر آیا تو ثناءاور ممانی آئی ہوئی تھی ارسلان نے انھیں سلام کیا اور کمرے میں جانے لگا تو ثناء نے ماں کو اشارہ کیا ندرت بیگم نے ارسلان کو آواز دی ارسلان بیٹا ارسلان جو آخری سیڑھی پر تھا مڑ کر پیچھے ندرت بیگم کو دیکھا جی ممانی بیٹا ہمارے پاس بھی کبھی بیٹھ جایا کرو جی ممانی ارسلان نیچھے ان کے پاس آکر بیٹھ گیا بیٹا کام کیسا چل رہا ہے

جی اچھا چل رہا ہے مامی ارسلان نے مسکرا کر کہا

پڑھی کیسی جا رہی ثناء

ثناء ارسلان کو ہی نظروں میں رکھے ہوئی تھی جب ارسلان نے پوچھا

جی اچھی

میں فریش ہوکر آتا ہو ماما پلیز میرے لیے ایک چائے کا کپ روم میں بھیج دینا شرفو سے

اچھا بیٹا

ارسلان روم میں آیا الماری سے کپڑے نکال کر فریش ہونے چلا گیا

شرفو جاو ارسلان کو چائے دےآو ندرت نے ثناء کو اشارہ کیا پھو پھو میں دے آو ارسلان کو چائے

انزلہ نے ثناء کو دیکھا ہاں دے آو تم ثناء چائے لے کر اوپر آئی تو ارسلان واش روم میں تھا چائے ٹیبل پر رکھ کر کمرے کا جائزہ لینے لگی ارسلان باہر آیا تو ثناء بیڈ پر بیٹھی کمرے کو دیکھ رہی تھی ثناء تم یہاں

ہاں میں چائے دینے آئی تھی ثناء نے چائے کی طرف اشارہ کیا ارے تم کیوں چائے لےکر آئی شرفو کے ہاتھ بھیج دیتی ما ما

کیوں تمھیں میرا کمرے میں آنا پسند نہیں آیا نہیں اسی بات نہیں ہےارسلان نے ٹاول رکھ کر کہا

اچھا تو پھر کیسی بات ہے ثناء نے ارسلان کو دیکھا

میں اپنے کمرے میں کسی باہروالے کا آنا پسند نہیں کرتا پر میں تو باہر والی نہیں ہو ثناء نے ارسلان کو دیکھ کر کہا نہیں میرے لیے تم باہر والی ہی ہو میرے کمرے میں صرف میری فیملی اور میری بیوی ہی آسکتی ہے تو بیوی بھی میں ہی تمہاری ہوگی ارسلان صدیقی

اچھا دیکھ لے گے جب تم بیوی بنو گی میری ارسلان نے ریلکس موڈ میں کہا

ثناء غصے سے اٹھ کر چلی گئی ارسلان نے ٹیبل سے چا ئے کا کپ اٹھا کر لبوں سے لگالیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ ٹی وی کے سامنے بیٹھی ڈرامہ دیکھ رہی تھی جب سارا بیگم وہاں چلی آئی ہانیہ یہاں بیٹھی کیا کر رہی ہو ماما ڈرامہ دیکھ رہی ہو ہانیہ نے ٹی وی سے نظریں ہٹائے بغیر کہا ہانیہ میں نے تمہیں کچھ کہا تھا شاید اففففف میں کیسے بھول گئی ما ما نے مجھے کھانا بنانے کو کہا تھا ہانیہ نے نظریں اٹھا کر سارا بیگم کو دیکھا جو اسے ہی غصے سے دیکھ رہی تھی

امی مجھے یاد نہیں رہا ہانیہ نے معصوم شکل بنا کر کہا ہاں تمہیں یاد ہوگا بھی کیسے تمہیں تو بس یہی پتا ہو گا کہ ناگن ڈرامہ کب لگتا ہے تمہیں اس کے علاوہ بھی اور کوئی کام آتا ہے یہ نہیں سارا بیگم کا غصہ ساتوےآسمان پر پہنچا ہواتھا اس سے پہلے ہانیہ کی اور کلاس لگتی وہاں نوشین بیگم آگئی سارا کیوں بچی کو ڈانٹ رہی ہو ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے

بھابھی انیس کی ہوچلی ہے آپ کی بچی اور حرکتیں ابھی بھی بچوں جیسی ہے سارا تم کیوں فکر کررہی ہو جب اس کی شادی ہو گی تو خود ہی سمجھ آجائے گی ہانیہ اٹھ کر نوشین بیگم کے پاس آئی اور کہا تائی امی بلکل سہی کہ رہی ہے جب میری شادی ہوگی تب میں خودی کھانا وغیرہ بنالیا کرو گی ابھی آپ لوگ ہی بناو مجھ سے نہیں ہوتا کام نوشین بیگم ہانیہ کی بات سن کرہسنے لگی جب کے سارا بیگم نے ہانیہ کو گھورا دیکھا بھابھی آپ کے لاڈپیار نے اس کو بگاڑکے رکھ دیا ہا نیہ اب تو تمہیں ہی کھا نا بنانا ہو گا نوشین نے ہانیہ کو دیکھ کر کہا تائی امی یہ کیا آپ نے پارٹی بدل لی جاو اب کچن میں سارا بیگم نے کہا ہانیہ منہ بناکر چلی گئ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *