Muhabbat Naam Zindagi by Amna Writer NovelR50666 Last updated: 5 May 2026
Rate this Novel
Muhabbat Naam Zindagi (Episode 01)Muhabbat Naam Zindagi (Episode 02)Muhabbat Naam Zindagi (Episode 03)Muhabbat Naam Zindagi (Episode 04)Muhabbat Naam Zindagi (Episode 05)Muhabbat Naam Zindagi (Episode 06)Muhabbat Naam Zindagi (Episode 07)Muhabbat Naam Zindagi (Episode 08)Muhabbat Naam Zindagi (Episode 09)Muhabbat Naam Zindagi (Episode 10)Muhabbat Naam Zindagi (Episode 11)Muhabbat Naam Zindagi (Episode 12)Muhabbat Naam Zindagi (Last Episode)
Muhabbat Naam Zindagi by Amna Writer
احمد ہاوس میں افراتفری کا سماں تھا کسی کو کپڑے نہیں مل رہے تھے تو کسی کے جوتے غائب تھے ہا نیہ ما نور کو پارلر لے گئی تھی اور خود بھی وہی تیار ہو گئی تھی ہا نیہ جب مانور کو لے کر ہال پہنچی تو بارات آگئی تھی ہا نیہ مانور کو براہیڈل روم لے آئی مانورآپی آپ بیٹھو میں تا ئی امی اور امی کو لے کر آتی ہو اور روم سے باہر نکل گئی ہا نیہ اپنے دھیان میں چل رہی تھی جب کسی سے زبردست ٹکراؤ ہوگیا ہانیہ کو اپنا سرگھو متا ہوا نظر آیا ہا نیہ نے غصے سے سامنے والے کو دیکھا نظر نہیں آتا آپکو دھیان کہاں تھا آپکا ارسلان نے بولنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ ہانیہ پھر بول پڑی آپکا دھیان ضرور لڑکیوں پر ہی ہوگا ہو نہ تم لڑکے شادیوں پر یہی تو کرنے آتے ہو شٹ اپ میں ان لڑکوں جیسا نہیں ہو اور غلطی تمہاری تھی کون پگل انسان منہ نیچے کر کے چلتا ہےدیکھیے آپ اس سے پہلے ہا نیہ کچھ بولتی ریا ض جو کہ حماد کا کزن تھا ارسلان کے پا س آکر پوچھا کیا ہوا ارسلان؟ کچھ نہیں کے کر وہاں سے چلا گیا
ہانیہ نے اس کو جاتے دیکھ کر کہا کھڑوس نہ ہو تو بڑا آیا خود ہو گا پا گل کو ن پا گل ؟ ہانیہ نے ریا ض کو دیکھا جو اس کو ہی بڑے غور سے دیکھ رہا تھا تم پا گل ہا نیہ غصے سے کہے کر چلی گئی ریا ض اس حسین بلا کو جا تے دیکھ رہا تھا جب پیچھے سے کسی نے اس کے شا نے پر ہا تھ رکھا نہ تنگ کر زید لڑکی دیکھنے دے ریا ض سمجھا زید ہو گا جب کسی نے ہاتھ نہیں اٹھایا تو ریاض غصے سے پیچھے مڑ ا سامنے والے کو دیکھ کر ریاض کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا ریاض نے تھوک نگل کر کہا تت ۔۔ تت ۔۔ تم علیشاء یہاں کیا کررہی ہو علیشاء نے گھور کے ریاض کو دیکھا نہیں میرا مطلب تم ہال سے باہر کیوں آئی تم یہاں کیا کر رہے تھے ریاض میں زید کو دیکھنے آیا تھا ریاض نے اطمینان سے کہا پر زید تو اندر ہے تم کونسے والے زید کو دیکھنے آئے علیشاء کے سوال پر ریاض کا دل چاہا کے اس کا جواب دینے سے اچھا خود خوشی کرلے پھر علیشاء کو دیکھ کر بولا اچھا شاید اندر چلا گیا ہو ریاض وہ لڑکی کون تھی علیشاء نے غصے سے ریاض کو دیکھا ریاض نے کہا کونسی لڑکی وہی جس سے تم ابھی بات کر رہےتھے ریاض نے خود کو تین چار گالیاں دی اور دل میں کہا او ریاض کے بچے تو ایک عدر مینگیتر بھی رکھتا ہے جو پوری آفت ہے اب یہ تجھے چھوڑے گی نہیں تیرا قیمہ بنا کر کتوں میں تقسیم کرے گی پھر علیشاء کو دیکھ کر بولا اچھا وہ لڑکی جو ابھی یہاں کھڑی تھی جی ہاں علیشاء نے دانت پیس کر کہا جان وہ میری منہ بولی بہن تھی اچھھھا علیشاء نے اچھا کو لمبا کھینچا تو کیا میں جان سکتی ہو مسٹر ریاض کے آپکی اور کتنی منہ بو لی بہن ہے علیشاء نے غصے میں ریاض سے پوچھا نہیں نہیں بس یہی ایک منہ بولی بہن تھی وہ بھی لڑکی کہ رہی تھی کے میرے بھائی بن جاو ورنہ تمہیں تو پتا ہے کے میں کسی کو منہ اٹھا کر نہیں دیکھتا ہاں تم منہ اٹھا کر نہیں آنکھیں اٹھا کر دوسروں کی ماوں بہنوں کو دیکھتے ہو ریاض نے منہ بنا کر کہا جان اب میں اتنا بھی گیا گزر نہیں ہو کہ لوگوں کی ماوں کو دیکھو اس کا مطلب بہنوں کو دیکھتے ہو ں علیشاء نے غصے سے کہا نہیں جان میں تمہارے سوا کسی کو نہیں دیکھتا ریاض نے جلدی سے صفائی پیش کی علیشاء غصے سے ہال کے اندر چلی گئی
حماد کےگھروالوں نے ما نور کا شاندار استقبال کیا ایک دو رسم کرنے کے بعد مانور کو حماد کے کمرے میں پہنچا دیا حماد کی چچازاد نے مانور کو بیڈ پر بیٹھا دیا اور مانور کا ڈوپٹا سیٹ کیا جو تھوڑا خراب ہو گیا تھا مانور تمہیں کچھ چا ہیے تو نہیں علینا نے مانور کو دیکھ کر پوچھا مانور نے نفی میں سر ہلایا علینا ایک دو باتیں کرنے کے بعد چلی گئی مانور نے سر اٹھا کر کمرے کا جائزہ لیا لیفٹ سائڈ پر صوفہ سیٹ رکھا ہوا تھا رائٹ پر الماری تھی شوپیس پڑے ہوئے تھے دیوار پر حماد کی تصویرے لگی ہوئی تھی مانور کمرے کا جائزہ ابھی لے ہی رہی تھی کہ کمرے کا دروازہ کھول کر حماد اندر داخل ہوا اور بیڈ پر مانور کے قریب بیٹھ گیا مانور کی نظریں جھکی ہوئی تھی حماد نے تھوڑی کے نیچھے ہاتھ رکھ کرچہرہ اوپر اٹھایا تو مانور نے اپنی نظریں اوپر اٹھائی تو حماد کی نظروں سے جاملی کچھ دیر مانور دیکھتی رہی پھر حماد کی نظروں کی تاب نہ لا سکی تو نظریں جھکہ دی حماد نے جیب سے چھوٹا ڈبہ نکلا اور اسے مانور کے ہاتھ پر رکھ دیا یہ آپکی منہ دیکھائی کا تحفہ ما نور نے ڈبی کھولی تو اس میں ڈائمنڈ کا خو بصورت بریسلیٹ تھا مانور نے بریسلیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا بہت پیارا ہے شکریہ اتنے اچھے تحفے کے لیے اب اسے پہنو بھی مانور نے ڈبی سے بریسلیٹ نکلا میں پہنادو مانور نے حماد کی طرف دیکھا اور ہاں میں سر ہلا دیا حماد نے مانور سے بریسلیٹ لے کاہاتھ میں پہنا دیا حماد نے مانور کے ہاتھ پر بوسہ دیا اور کہا اب زیادہ پیارا لگ رہاہےبریسلیٹ مانور نے شرم سے سر جھکا دیا حماد نے یہ خو بصورت منظر اپنی آنکھوں میں قیدکرلیا
مانور کے گھروالے جب ہال میں پہنچھے تو حماد کے گھروالے ان کے استقبال میں کھڑے تھے سب اندر کی طرف چل دیے ہانیہ اندر مانور کی روم کی طرف چلی گئی تھوڑی دیر بعد مانور کو سٹیج پر لایا گیا ہانیہ اپنے گھروالوں کے پاس آگئی کھانا کھانے کے بعد نہیا ہانیہ کو لے کر سٹیج پر آگئی ہانیہ مانور کے پاس بیٹھ گئی حماد نے ارسلان کو میسیج کرکے بلایا تھوڑی دیر بعد ارسلان ہال کے دروازے سے اندر آتا دکھائی دیا حماد نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پاس بلا لیا ارسلان سٹیج پر آیا تو حماد ارسلان سے بغل گیرہوا مانور بھی ارسلان کو دیکھ کر کھڑی ہوگئی ہانیہ نے ارسلان کو دیکھا مانور یہ ارسلان میرا دوست اسلام و علیکم ارسلان بھائی
وعلیکم سلام
اور ارسلان یہ میری سالی صاحبہ ہانیہ
اور ہانیہ یہ ارسلان میرا دوست
ہانیہ نے ارسلان کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ہانیہ نے منہ دوسری سا ئیڈ کرلیا
ارسلان مانور سے باتیں کرنے کے بعد حماد کے ساتھ باہر چلاگیا ہانیہ نے اسے جاتا دیکھ کہا کھڑوس انسان
کیا کہا ؟ مانور نے ہانیہ کو دیکھا
کچھ نہیں آپی
