No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
اس دن وہ ذرا جلدی گھر آ گئی تھی, معمول کےطابق چہرے پر ہزار رنگ لیے گنگناتے ہوۓ اندر داخل ہوئی, جمیلہ دونوں بچوں کو لئے بیٹھی تھیں, فاریہ کچن میں تھی, اس کا آٹھواں مہینہ چل رہا تھا, جمیلہ کو سلام کر کے وہ اوپر آ گئی, سونیا پانچ بجے آتی تھی, فریش ہو کر اس نے اپنے لئے ایک سٹائلش سا سوٹ سلیکٹ کیا اور پھر بڑا دل لگا کر اسے استری کیا
“امی… رات کو میری ایک اسسٹنٹ کا نکاح ہے, میں نے وہاں جانا ہے, واپسی پر ذرا دیر ہو جاۓ گی” کچھ دیر بعد اس نے نیچے اترتے ہوئے جمیلہ سے کہا, وہ بس تاسف سے اسے دیکھ کر رہ گئیں, شام تک وہ اپنی بیوٹی ٹولز کے ساتھ مصروف رہی… تھریڈنگ, فیشیل, بلیچ, مینی کیور, پیڈی کیور… نیل پالش لگائی
پھر نہانے گھس گئی… آدھے گھنٹے بعد باہر نکلی تو سونیا آ چکی تھی
“کدھر کی تیاریاں… ؟” اسے ڈریسنگ ٹیبل کے آگے بیٹھتے دیکھا تو چپ نہ رہ سکی
“جہاں مرضی جاؤں ” وہ بولی
“خدا کا واسطہ ہے سارہ… بس کسی کے ساتھ بند کمرے میں نہ چلی جانا ” سونیا سے رہا نہیں گیا
“اب ایک اور لفظ بکواس نہ کرنا…” اسے غصہ آ گیا
“سچی باتیں ہمیشہ یونہی کڑوی لگتی ہیں” سونیا کہتے ہوئے نیچے چلی گئی, سارہ بڑا دل لگا کر تیار ہوئی تھی
ہلکے فیروزی رنگ کی فراک نما شیفون کی بھاری کامدار شارٹ سی شرٹ جو اس کے گھٹنوں سے ذرا اوپر تک ہی تھی, ساتھ میں نیوی بلو کنٹراسٹ کا سلک کا شرارہ جو گھٹنوں پر سے تنگ ہو کر نیچے آ کر گھیر دار ہو گیا تھا, شرارے کے سروں پر انتہائی خوبصورت فینسی کام ہوا ہوا تھا, شرٹ کی جھالر نما آدھی آستینوں میں سے اس کی سفید دمکتی ہوئی بانہیں غضب ہی تو تھیں… دودھیا کلائیوں میں اس نے میٹل کی انتہائی خوبصورت نیوی بلو چوڑیاں ڈال لیں, سوٹ کے ساتھ کی ہی ہم رنگ جیولری تھی, گلے میں جھولتے نیکلس کی لڑیاں اس کی بیوٹی بون کے گڑہوں کو پر کر رہی تھیں, لمبے سیاہ بالوں کا سٹائل بنا کر آدھے سینے پر ڈال لیے تھے اور باقی کے آدھے یونہی پشت پر کھلے چھوڑ دئے تھے, شیفون کا فیروزی اور نیوی بلو امتزاج کا دوپٹہ اس نے پن لگا کر دوسرے کندھے پر سیٹ کیا تھا, بہت ہی نفاست سے کیا ہلکا ہلکا میک اپ, کاجل اور مسکارے سے سجی خوبصورت سی آنکھیں, لبوں پر چار چاند لگاتی پنک کلر کی لپ اسٹک اور گالوں پر پنک شیڈ کا ہلکا ہلکا بلش… بہت دیر تک تو وہ خود کو پہچان ہی نہیں سکی, پھر اس ناقابل تسخیر انسان کا تصور کیا تو لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی, جھک کر اس نے نیوی بلو پنسل ہیل والا فینسی سا جوتا پاؤں میں پہنا تھا, پوری تیاری کر کے وہ اپنا بیگ اور چادر اٹھا کر نیچے اتر آئی
“سارہ… ” جمیلہ نے اسے آواز دی تھی, وہ رک گئی
“تجھے یہ یاد ہے کہ تیرے دو بچے بھی ہیں… ؟” وہ بولیں, سونیا ان کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھی تھی, سارب لیٹا ٹی وی دیکھ رہا تھا
“وہ میں نے ہی پیدا کیے ہیں امی… ” سارہ نے کہا
“اچھا…چل شکر ہے, میں تو سمجھی تھی شاید شوہر کے ساتھ ساتھ تو انہیں بھی بھول گئی ہے” جمیلہ نے کہا, سارہ چپ چاپ چادر لیتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گئی
“کیسے جاۓ گی ؟” جمیلہ نے پوچھا تھا
“گاڑی منگوا لی ہے میں نے… ” وہ بس ایک نظر انہیں دیکھتی ہوئی باہر نکل گئی
اس کے نکلتے ہی سارب تیر کی طرح صوفے پر سے اٹھا اور موٹر سائیکل کی چابی اٹھا کر باہر کو دوڑ پڑا
“سارب دھیان سے پیچھا کرنا, اسے پتہ نہ لگے, اور موبائل آن رکھنا” سونیا بھی دوڑتی ہوئی اسے کے پیچھے ہی باہر آئی تھی, سارب فٹا فٹ موٹر سائیکل سٹارٹ کر کے باہر نکال لے گیا, وہ مسلسل سارہ کی گاڑی کے پیچھے تھا, پندرہ, بیس منٹ بعد گاڑی والے نے اسے ایک چھوٹے سے گھر کے سامنے اتار دیا, وہ اتر کر اندر چلی گئی تھی
…………………….
لائیٹ گرے کلر کے انتہائی خوبصورت تھری پیس میں ملبوس, پیروں میں گرے لیدر شوز پہنے وہ خوشبوؤں سے آراستہ ہو کر اپنے کمرے سے نکلا تھا, رات کے آٹھ بج رہے تھے, ایک ہفتے سے وہ اوور ٹائم لگانا بھی چھوڑ گیا تھا,باہر نکلا تو سبھی لوگ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے تھے, سبھی نے ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھا
“ہاں… پھر چل پڑا ڈولہ ڈنر کرنے… ” پروین سے رہا نہ گیا, وہ چپ چاپ باہر نکلتا چلا گیا, جیسے ہی گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز آئی… ٹی وی لاؤنج میں کھلبلی مچ گئی
“چابی کہاں ہے ؟” حاشر نے پوچھا
“یہ لیں … جلدی جائیں ” حمنہ نے اسے چابی پکڑائی تھی, حاشر چہرے پر ماسک چڑھاتے ہوئے موٹر سائیکل لیکر اس کے پیچھے ہی نکل کھڑا ہوا, تقریباً دس منٹ بعد حسن نے گاڑی ایک دوست کے گھر کے آگے روک دی, حاشر کو تھوڑا اچنبھا ہوا تھا, وہ حسن کے اس دوست کو جانتا تھا, اس سے پہلے کہ وہ بھی اندر جاتا… گیٹ کھلا اور ایک وائیٹ کلٹس باہر آئی, وہ حسن کی گاڑی نہیں تھی
“واہ بھائی… بڑے کوئی چھپے رستم ہیں آپ” حسن نے گاڑی چینج کی تھی, حاشر مسلسل اس کے پیچھے تھا
……………………….
“کہاں ہو… ؟” سارہ نے چادر اتارتے ہوئے اسے کال کی تھی
“تم پہنچ گئیں فریا کے گھر ؟” اس نے پوچھا
“ہاں… ” سارہ نے کہا
“میں بس دو منٹ تک آیا… ” وہ ڈرائیو کر رہا تھا, سارہ نے چادر ایک طرف رکھتے ہوئے خود کو ایک فائنل ٹچ دیا تھا
“looking gorgeous Sara… “
فریا نے کہا, وہ بس ایک ادا سے مسکرا دی, تبھی اس کا موبائل بجا تھا
“آ جاؤ… ” وہ بولا, سارہ نے چہرے پر ماسک چڑھایا اور بیگ اٹھا کر باہر نکل آئی, وہ اس کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولے کھڑا تھا, سارہ بس ایک نظر اس قیامت کو دیکھتی ہوئی اندر بیٹھ گئی, اس نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کر دی
“کہاں لے چلوں ؟” وہ مسکراتے ہوئے پوچھ رہا تھا
“جہاں تمہارا دل کرے… ” سارہ نے کہا
“اپنے گھر لے چلوں… اپنے کمرے میں… ؟ اپنے بستر پر… ؟” وہ سارہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“اتنی جرأت کر سکتے ہو تو لے چلو” سارہ نے کہا, وہ بس مسکرا کر رہ گیا تھا, کچھ دیر کے بعد گاڑی ایک ہوٹل کے سامنے رک گئی
“پلیز…. ” اس نے ساری کی طرف کا دروازہ کھولا اور اس کے آگے ہاتھ پھیلا دیا, سارہ اس کا ہاتھ تھام کر باہر نکل آئی تھی, وہ یونہی اس کا مرمریں ہاتھ تھامے اسے اندر لے گیا
سارب نے ان دونوں کو اندر جاتے دیکھا تھا
اس نے فوراً سونیا کا نمبر ملایا
“ہاں سارب… ” وہ موبائل ہاتھ میں ہی پکڑے بیٹھی تھی
“سارہ اسی کے ساتھ ہے… وہ دونوں pearl Continental میں ہیں, میں اندر جا رہا ہوں, ساحر بھائی کو لیکر فوراً یہاں پہنچو… لائیو لوکیشن بھی سینڈ کر رہا ہوں” سارب نے کہا تھا اور اسے پتہ ہی نہ چلا کہ اس کے بالکل برابر میں حاشر کی موٹر سائیکل آ کر رکی تھی…حسن کی گاڑی اس سے چند قدم آگے تھی
حازم کا سیل بجا… حاشر کی کال تھی
“ہاں حاشر… ” وہ بولا
“بھائی اسی لڑکی کے ساتھ ہیں, انہوں نے پہلے فیاض کے گھر سے گاڑی چینج کی ہے… پھر اسے پک کیا ہے اور اب اسے لیکر pearl continental میں آۓ ہیں, تو امی اور ابو کو لیکر فوراً آجا… ” حاشر , حسن کے پیچھے پیچھے اندر چلا گیا تھا
……………………..
حسن نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا, وہ بڑے حق سے اس کے پہلو میں چل رہی تھی, حسن نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے ایک نظر اسے دیکھا, پھر دھیرے سے اس کی انگلیوں پر گرفت مضبوط کر دی, اس نے ایک ادا سے حسن کو دیکھا تھا, وہ مسکرا دیا اور اسے ساتھ لئے ریسیپشن پر آ گیا
“حسن کمال… میں نے بکنگ کروائی تھی ” حسن نے کہا, ریسیپشنسٹ نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کمرے کی چابی اس کے آگے رکھ دی, حسن نے مسکراتے ہوئے چابی اٹھائی تھی
“دو جوس پلیز… دس منٹ تک” وہ کہہ کر آگے بڑھا, اس کا کمرہ تھرڈ فلور پر تھا
“لفٹ سے چلیں یا اٹھا لوں ؟” حسن شرارت سے بولا تھا, وہ بس دھیرے سے مسکراتے ہوئے اسے ٹہوکا مار گئی, تھرڈ فلور پر آ کر حسن نے دروازہ کھولا
“جان من…پلیز” اس نے دھیرے سے گردن کو خم دیتے ہوئے اندر کی طرف اشارہ کیا تھا, وہ بڑے حق سے اپنی مخروطی انگلیاں اس کے گال پر پھیرتی ہوئی اندر چلی گئی, حسن نے دروازہ بند کر دیا
………………….
ساحر, جمیلہ اور سونیا کو لیکر آیا تھا, دوسری طرف حازم نے پروین اور کمال کو موٹر سائیکل پر دھر رکھا تھا
“امی… وہ دیکھیں… سارہ کے ساس اور سسر… ساتھ دیور بھی ہے” سونیا نے سب سے پہلے انہیں دیکھا
“یہ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟” جمیلہ دھک سے رہ گئیں
“ہاۓ امی… کہیں انہیں سارہ کی کرتوتوں کا پتہ تو نہیں چل گیا” ساحر کے چہرے پر بھی ہوائیاں اڑ گئیں
” ساحر بھائی پریشان نہ ہوں… ہو سکتا ہے وہ لوگ یہاں ڈنر کرنے آۓ ہوں ” سونیا نے کہا
“ڈنر… سارہ کی ساس جوڑوں کی مریضہ ہیں اور سسر دل کا… اور یہ جو ساتھ آیا ہے… تمہیں کیا لگتا ہے کہ اس کی جیب میں یہاں ڈنر کرنے کے پیسے ہوں گے ؟” ساحر نے کہا
دوسری جانب حازم کی نظر بھی ان پر پڑ گئی تھی
“امی… ادھر دیکھیں” وہ بوکھلا گیا
“چلو جی… ان کی کسر رہ گئی تھی” پروین نے کہا
“امی… اگر کہیں ساحر نے حسن بھائی کو یہاں کسی اور لڑکی کے ساتھ گل چھرے اڑاتے دیکھ لیا تو کیا ہو گا ؟” حازم کو متوقع صورتحال جیسے نظر آ رہی تھی
“مجھے تو لگتا ہے یہ حسن پر ہی چھاپہ مارنے آۓ ہیں ” کمال صاحب نے تکا لگایا تھا, تبھی اسے حاشر کی کال آ گئی
“کدھر ہے ؟” اس نے پوچھا
“نیچے… ہوٹل کے سامنے ” حازم نے کہا
“حسن بھائی نے کمرہ بک کروایا ہوا ہے… تھرڈ فلور پر آ جاؤ…میں یہیں ہوں” حاشر نے کہا
“حاشر… یار ایک گڑ بڑ ہو گئی ہے” حازم نے کہا
“اب کیا ہو گیا ؟” وہ بولا
“حسن بھائی کا سارا سسرال بھی یہاں پہنچا ہوا ہے… ان کی منڈی اتارنے ” حازم نے کہا
“چلو جی… ” حاشر کا جیسے دل بیٹھ گیا
“ہم آ رہے ہیں… وہیں رک” حازم کال ڈس کنیکٹ کرتے ہوئے پروین اور کمال کے ساتھ اندر چلا گیا, دوسری جانب ساحر اینڈ کو بھی سارب کی کال پر اندر چلے گئے تھے
………………………
سارہ نے دھیرے سے اپنا شولڈر بیگ اتارا اور صوفے پر رکھ دیا, وہ پرل کانٹینینٹل کا ایک انتہائی لگژری کمرہ تھا, اے سی کی ہلکی ہلکی خنکی اور دبیز پردوں کی خوابناکی… ماحول بڑا ہی رومینٹک ہو رہا تھا, اس سے پہلے کہ سارہ مڑ کر اسے دیکھتی, اس نے اپنے بالکل پیچھے اس کی موجودگی کو محسوس کیا تھا… وہ عین اس کے پیچھے تھا, اس کی انگلیاں دھیرے سے سارہ کی کمر پر سرسرائیں تھیں, سارہ کے بدن میں جیسے سنسنی سی دوڑ گئی, انگلیاں سرسراتی ہوئی آگے کو آئیں اور پھر اس نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا کر سارہ کا دھان پان سا وجود اپنے ساتھ جوڑ لیا
خوشبوؤں کا ایک طوفان تھا جو سارہ کی سانسوں میں اترا تھا, دھیرے دھیرے اس کی دہکتی ہوئی سانسیں سارہ کے بالوں میں سرسرانے لگیں
“سارہ… ” اسے اپنے کانوں میں سرگوشی سنائی دی لیکن اس کی قربت کا سرور اتنا زیادہ تھا کہ سارہ اپنے لبوں کو ہلا نہیں سکی, بس اپنا سر اس کے سینے سے لگاتے ہوئے آنکھیں موند گئی
“میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے سارہ… بے حد… بے حساب” اب کے اس کی سانسیں سارہ نے اپنی گردن پر محسوس کی تھیں, ان کی حدت کے زیر اثر سارہ کے رونگھٹے کھڑے ہو گئے تھے, اس کا سارہ کے وجود کے گرد حصار دھیرے دھیرے تنگ ہوتا جا رہا تھا, وہ بہت نرمی سے اس کی سیاہ زلفوں کو چوم رہا تھا, اے سی کی خنکی کے باوجود سارہ کے ماتھے پر پسینے کے چند قطرے ابھر آۓ, دھیرے سے اس نے سارہ کی زلفیں ایک طرف کرتے ہوئے بڑی محبت سے اپنے لب اس کی دودھیا گردن پر رکھ دیئے… سارہ کے بدن میں سرسراہٹ ہوئی تھی
اس کے لبوں نے پہلا نشان چھوڑا… گیلا سا
پھر دوسرا… پھر تیسرا… اس کے لب دھیرے دھیرے سارہ کی گردن کا سفر طے کرتے چلے گئے
اور پھر یکلخت رکے… حد ختم ہو گئی تھی, بڑے حق سے اس نے اپنی دو انگلیوں سے سارہ کی شرٹ کی پشت پر لگی زپ کو دھیرے سے نیچے کو کیا تھا اور اس سے پہلے کہ مزید گستاخیوں ک مرتکب ہوتا… وہ یکدم اس کی طرف پلٹ گئی
اس نے دیوانوں کی طرح سارہ کو اپنے دونوں بازوؤں میں بھرا تھا
“تمہیں کچھ کہنا تھا مجھ سے… ؟” اس نے سارہ کے کانوں میں سرگوشی سی کی تھی… سارہ نے دھیرے سے خود کو اس کی گرفت سے چھڑوایا تھا
…………………….
پرل کانٹینینٹل… تھرڈ فلور
وہ دونوں دھڑے ایک دوسرے سے تیس, پینتیس قدم کے فاصلے پر کھڑے تھے
دونوں ہی ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے
“کس کمرے میں گئی ہے وہ… ؟” ساحر نے پوچھا
“وہ والا… ” سارب نے انگلی سے اشارہ کیا تھا
“پکا… ؟” ساحر نے پھر پوچھا
“میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ان دونوں کو اس کمرے میں جاتے ہوئے ” وہ پر یقین تھا
“اس لڑکی کی خیر نہیں ہے آج امی… اس کا گلا گھونٹ کر گھر جاؤں گا میں” ساحر بھڑک کر آگے بڑھا لیکن سامنے سے آتے حاشر سکواڈ کو دیکھ کر رک گیا
“تو یہاں کیا کر رہا ہے ؟” ساحر نے تڑخ کر پوچھا تھا
“وہ… ساحر بھائی… میں یہاں… ” حاشر سے کوئی بات نہ بن پڑی, اس نے انتہائی پریشانی سے سونیا کی طرف دیکھا, سونیا نے آنکھوں کے اشارے سے ان سب کے آنے کا مقصد پوچھا تھا, جواباً وہ بس بے بسی سے اسے دیکھتا رہ گیا
“ساحر بیٹا تو یہاں کیسے ؟” کمال صاحب نے حاشر کی مشکل آسان کرتے ہوئے پوچھا
“انکل جی میں…. ” ساحر نے پلٹ کر ماں کو دیکھا… وہ انتہائی پریشانی سے انہیں دیکھ رہی تھیں
“سارہ اس کمرے میں ہے… اسے لینے آۓ ہیں ہم” ساحر نے کہہ ہی دیا
“نہیں ساحر بھائی… سارہ بھابھی اندر نہیں ہیں… اندر تو… ” حاشر کہتے کہتے رکا
“سارہ اندر ہی ہے… میں نے خود اسے اندر جاتے دیکھا ہے” سارب نے کہا
“لیکن اندر تو… اندر تو حسن بھائی ہیں” حاشر نے کہا, ساحر نے اسے یوں دیکھا جیسے وہ پاگل ہو گیا ہو
“اوۓ… دو منٹ میں اپنی شکل گم کر یہاں سے… سارہ اندر ہی ہے, وہ یہاں… پتہ نہیں کس… کے ساتھ آئی ہے” ساحر نے اٹکتے ہوۓ کہا تھا, کمال صاحب نے زور سے حاشر کے ایک چپت لگائی
“تجھے پکا پتہ بھی ہے کہ وہ اسی کمرے میں گیا تھا” انہوں نے پوچھا
“ابو میں نے خود دیکھا ہے انہیں اس کمرے میں جاتے… ” حاشر نے کہا
“میری تو بس ہو گئی ہے… ” پروین وہیں فرش پر بیٹھ گئیں تھیں
“ذلیل کر کے رکھ دیا ہے اس لڑکے نے مجھے… حاشر دروازہ کھول… آج اس بے غیرت کے سر سے عشق کا سارا بھوت اتار کر جاؤں گی میں” انہیں غصہ آ گیا تھا, ساحر نا سمجھی سے کبھی حاشر کو دیکھتا… تو کبھی بند دروازے کو
“ساحر بھائی دروازہ کھلوائیں… ابھی ساری بات سامنے آ جاۓ گی” سونیا نے کہا
تبھی ایک طرف سے روم سروس والا لڑکا آتا ہوا دکھائی دیا, اس کے ہاتھ میں دو جوس کے گلاس تھے
“یہاں کیا ہو رہا ہے ؟” وہ کمرے کے آگے مجمع دیکھ کر بولا
“تو ابھی دفع ہو یہاں سے… ” ساحر بھڑکا
“لیکن… میں تو جوس دینے آیا ہوں” وہ بولا
“کتنے لوگ ہیں اندر ؟” حاشر نے پوچھا
“دو… ایک مسٹر اور… ایک مسٹریس” وہ بولا
“دروازہ لاکڈ ہے… ؟” ساحر نے پوچھا
“نہیں سر… انہوں نے دس منٹ پہلے ہی جوس منگوایا تھا” لڑکے نے کہا
“تو ایسا کر… اسے مجھے دے… اور جا, شاباش” ساحر نے کچھ نوٹ اسے پکڑاتے ہوۓ نیچے بھیج دیا تھا
………………………….
وہ اس کے عین سامنے کھڑی تھی… اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ… اس پر اپنے حسن کے تمام تر داؤ چلانے کے لئے بالکل تیار تھی
حسن نے بڑی پیاسی نظروں سے اسے دیکھا… یہ چند انچ کی دوری بھی آخر کیوں تھی ؟ دھیرے سے اپنا کوٹ اتار کر اس نے صوفے پر اچھال دیا, پھر کف لنکس کھولتا ہوا اس کی طرف بڑھا, وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہ ہلی, حسن اس کے قریب آ گیا… اتنا کہ اس کے لبوں کے اوپری کناروں پر ابھرتے پسینے کے قطرے دکھائی دینے لگے, اپنا ایک بازو اس کی کمر کے گرد حمائل کر کہ حسن نے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا, دوسرے ہاتھ کا انگوٹھا دھیرے سے اس کے لبوں پر پھیرا… وہ تر ہو رہے تھے
“میری جان… ” حسن نے اس کی ٹھوڑی کو ذرا سا اوپر کیا
“کچھ کہو گی نہیں… ؟” وہ اس کے چہرے پر اپنی انگلیاں پھیرتے ہوئے پوچھ رہا تھا, اس نے دھیرے سے اپنا ایک ہاتھ حسن کی شرٹ کے سب سے اوپر والے بٹن پر رکھ دیا… پھر اس کی آنکھوں میں جھانکا
“کیا کہوں ؟” وہ بولی تو لحجہ خوابناک سا تھا, حسن نے اسے اپنے سینے سے لگا کر بھینچا تھا, اس کے لب حسن کے لبوں سے ٹکرانے لگے, اوپری بٹن کھل گیا تھا, حسن ایک ہاتھ سے اس کا چہرہ تھام کر اس پر جھکا
دوسرا بٹن بھی کھل گیا… اس کی انگلیاں حسن کے سینے پر رینگنے لگی تھیں
“جو تمہارا دل کہے ؟” حسن کے لبوں کی حد ختم ہوئی تھی, دیوانہ وار وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لئے اپنی تمام تر شدتیں اس کے پنکھڑیوں جیسے لبوں پر اتارتا چلا گیا, اس کا دوپٹہ ڈھلک کر نیچے گر گیا تھا, دونوں کی سانسیں الجھنے لگیں, تیسرا بٹن…. چوتھا بٹن… پانچواں بٹن
اس کے وجود پر حسن کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا, وہ اس کی شدتوں کے زیر اثر پیچھے کو گرتی جا رہی تھی, آخری بٹن کے کھلتے ہی وہ پیچھے بیڈ پر گر گئی, حسن ایک دم اپنی شرٹ اور بنیان اتارتے ہوئے اس پر جھکا تھا…وہ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اس کے سامنے تھی
“I love you … I love you so much, I can’t live without you… even for a moment”
حسن اس کی زپ کھولتے ہوئے بے خود ہو گیا, اپنے لب جا بجا اس کے برہنہ کندھوں پر ثبت کرتا چلا گیا, اس کی دونوں بانہیں حسن کے گلے کا ہار بنی ہوئی تھیں
“I love you too… I love you more than anything… “
وہ پسینے میں تر بتر اس کے لبوں سے ہارتی جا رہی تھی, بال بکھر چکے تھے, کندھوں پر سے شرٹ ڈھلک سی گئی تھی, حسن کی قربت اس کے حواس سلب کر رہی تھی
“I am sorry…. “
حسن نے اسے دونوں بازوؤں میں بھر کر اٹھا لیا
“I am sorry too… “
وہ اپنے لب حسن کے لبوں پر رکھتی اس پر برساتوں کی طرح برس گئی تھی
بس ایک لمحہ… بس ایک لمحہ لگا اور کمرے کا دروازہ زوردار آواز سے کھل گیا
اندر داخل ہوتے سبھی نفوس کی نظریں پہلے تو پھیلیں اور پھر سامنے کا منظر دیکھ کر جھک سی گئیں
“حسن بھائی آپ… ” سونیا اپنے لبوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے حیرانی سے بولی تھی, ساحر اسے دیکھ کر دم بخود کھڑا تھا… جمیلہ حق دق تھیں
“سارہ بھابھی…. ” حاشر اور حازم کی اکٹھی تان اٹھی تھی, پروین بس پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں
اور وہ دونوں… سارہ اور حسن… کرنٹ کھا کر ایک دوسرے سے دور ہوۓ تھے, بوکھلاہٹ میں اس کا ہاتھ زپ تک ہی نہ جا رہا تھا, شرٹ کندھوں سے ڈھلکی پڑ رہی تھی, حسن نے جلدی سے اس کا ریشمی دوپٹہ اس کے کندھوں کے گرد لپیٹ دیا… بکھرے بال اور بکھرا سا حلیہ…اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی تھیں, حسن کی شرٹ اور بنیان بیڈ سے کافی دور گرے ہوئے تھے, وہ نا محسوس سا سارہ کے پیچھے کو ہو گیا
“کس کے ساتھ آئی تھی تو یہاں… ؟” جمیلہ کو سب سے پہلے ہوش آیا, وہ تیر کی طرح سارہ کی طرف بڑھیں اور ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کیا
“امی میں… حسن کے ساتھ آئی… ” سارہ سے بولا نہ گیا
“پھر بکواس… پھر بکواس… ” جمیلہ نے اسے ایک اور تھپر رسید کیا, سارہ کی سسکی نکل گئی, آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا
“آنٹی بس کریں… سارہ میرے ساتھ ہی تھی” حسن تڑپ کر بولا
“تو چپ کر جا… ” جمیلہ نے بھڑک کر کہتے ہوۓ سارہ کو بالوں سے جکڑا تھا
“ایک سیکینڈ میں اگل دے کہ کس سے چکر چل رہا ہے تیرا… کس کے ساتھ آئی تھی تو یہاں… ؟” وہ بولیں, ریشمی دوپٹہ پھر نیچے گر گیا تھا
“امی میرا کسی سے کوئی چکر نہیں ہے… میرے سارے چکر حسن سے شروع ہو کر حسن پر ہی ختم ہو جاتے ہیں” وہ بلک بلک کر رو پڑی تھی
“آنٹی… چھوڑیں اسے, یہ میرے ساتھ آئی تھی” حسن نے جمیلہ کے ہاتھوں کی گرفت سے اس کے بال چھڑواۓ اور اس کی زپ بند کی, اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا, پروین کا جوتا اس کی کمر سینک گیا, وہ بلبلا کر پلٹا تھا
“بے غیرت… جو رہی سہی عزت تھی نا ہماری تیرے سسرال میں وہ بھی مٹی میں ملا دی تو نے… کس کلموہی کو لیکر آیا ہے تو یہاں… ؟ کہاں ہے وہ جس سے عاشقی کر رہا ہے تو ؟” وہ بے در پے اس پر جوتا برساتی چلی گئیں, حسن سے بولنا دشوار ہو رہا تھا
“امی… ” اس کی چنگھاڑ نے پروین کا ہاتھ روکا
“خدا کی قسم میں یہاں سارہ کو لیکر آیا تھا” وہ چیخ پڑا, سارہ ایک طرف کھڑی سسکیاں بھر رہی تھی
“کوئی چکر نہیں ہے میرا… نہ سارہ کا… میں ہی ملتا تھا اس سے, میں ہی لیکر جاتا تھا اسے ڈیٹ پر, ڈنر پر, لانگ ڈرائیو پر… میرے ساتھ ہی ہوتی تھی یہ… ” وہ کہتا چلا گیا
“تو پھر جب سارا گھر تجھے کہہ کہہ کر تھک گیا تھا کہ جا کر سارہ کو واپس لے آ تو ہتھے سے کیوں اکھڑ جاتا تھا… ؟” پروین نے کہا
“وہ… میں… ” حسن نے سارہ کی طرف دیکھا
“اور تو سیدھی طرح نہیں کہہ سکتی تھی کہ میں نے واپس جانا ہے, یہ تماشا رچانا کتنا ضروری تھا” جمیلہ نے کہا, ساحر تو بس چپ چاپ ان دونوں کو دیکھے جا رہا تھا
“وہ… دراصل امی… ” حسن نے پھر سارہ کی طرف دیکھا
“میں نے اور سارہ نے اپنی شادی والی رات ایک دوسرے سے وعدہ کیا تھا کہ… ہم دونوں کی آنیوالی زندگی میں جب بھی ہم دونوں کی لڑائی ہو گی… موقع پر کوئی صلح صفائی نہیں ہو گی, موقع پر دونوں میں سے کوئی بھی دل میں کچھ نہیں رکھے گا… لیکن جس کی غلطی ہوئی وہ پہل ضرور کرے گا… ” حسن کہتا چلا گیا
“اور وہ پہل صرف ایک چھوٹا سا سوری کہہ دینے سے نہیں ہو گی بلکہ… ہم دونوں شروعات سے شروع کریں گے, چھوٹی چھوٹی ملاقاتیں, پھر ڈنرز, لانگ ڈرائیوز… اور آخر میں… ” حسن اس سے زیادہ کہہ نہ سکا
“تو اس کا مطلب کہ یہ تماشا اب تک تین بار ہو چکا ہے ؟” ساحر پہلی بار بولا تھا
“ہاں…. ” حسن نے نا محسوس سے انداز سے اپنی شرٹ اٹھائی
“اور آگے بھی ہوتا رہے گا… ؟” اس نے پھر پوچھا
“ہاں… ” حسن مضبوطی سے بولا تھا
“اس بار کی سوری ہو گئی… ؟” ساحر نے کہا, حسن نے سارہ کی طرف دیکھا, پھر دھیرے سے اثبات میں سر ہلا دیا
“حسن… تجھ سے بڑھ کر شعبدہ باز میں نے آج تک نہیں دیکھا… لعنت ہے تم دونوں کے اس گھٹیا تماشے پر… بے غیرتوں کی طرح ہوٹلوں میں ایک دوسرے سے سوری کرتے پھرتے ہو, پہلے ہی گھر کی چاردیواری میں انسانوں کی طرح رہ لیا کرو” ساحر تاسف سے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے باہر نکل گیا
“ویسے یہ کوئی طریقہ تو نہ ہوا حسن… اس کا مطلب الو تو ہر بار ہم لوگ ہی بنتے رہے نا… برے بھی ہم ہی بنتے رہے, تم دونوں نے تو ایک ہو ہی جانا تھا…. میری توبہ جو میں نے آئیندہ کبھی اس لڑکی کی سائیڈ لے لی” جمیلہ نے کہا
“چلیں امی… ” سارب اور سونیا انہیں لیکر باہر نکل گئے
“تو ذرا گھر آ… ” پروین اسے گھورتی ہوئی بولیں تھیں, حاشر اور حازم بھی ان دونوں کی پیچھے باہر نکل گئے, حسن نے دھیرے سے اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے دروازہ بند کیا تھا, پھر مڑ کر سارہ کو دیکھا اور اسے کندھوں سے تھام کر بیڈ تک لے آیا
“لو… ” وہ جوس کا گلاس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا, سارہ نے اپنا چہرہ صاف کرتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا
“لے لو یار… آخر کو میری حق حلال کی کمائی لگی ہے اس پر… ” حسن اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا, سارہ نے شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھا, حسن نے دوبارہ جوس کا گلاس اس کی طرف بڑھا دیا, وہ کچھ دیر اس کی طرف دیکھتی رہی پھر اس کے لبوں پر یکلخت مسکراہٹ پھیل گئی… ساتھ ہی حسن ہنستے ہوئے بیڈ پر پیچھے کو گرا تھا
“حسن کتنی بے عزتی ہوئی ہے ہماری… ” وہ بولی, حسن کروٹ لیکر اس کی طرف مڑا
“امی نے کتنا مارا مجھے… ” وہ پھر بولی
“مجھے بھی تو جوتے پڑے ہیں… ” وہ شرارت سے اس کی زپ کھولتے ہوئے بولا تھا, سارہ نے گھور کر اسے دیکھا
“بس کریں… اٹھیں گھر چلیں اب” سارہ اٹھ کھڑی ہوئی. حسن ٹس سے مس نہ ہوا
“حسن… اٹھیں… بچے پچھلے دو ہفتوں سے اگنور ہو رہے ہیں” سارہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا
“سارہ یار… میں باہر کھڑا رہوں گا, تم اندر جا کر اپنا سامان اور بچے لے آنا… ” حسن نے کہا
“بالکل نہیں… میں تو نہیں جاؤں گی وہاں اکیلی… آپ میرے ساتھ جائیں گے” سارہ نے کہا
“ساحر میرا خون پی جاۓ گا… ” حسن نے اٹھتے ہوئے کہا
“دیکھا جاۓ گا…. ” سارہ باہر نکلتے ہوئے بولی تھی
رات کے نو بج رہے تھے جب وہ اور سارہ گھر پہنچے, حسن نے گاڑی باہر ہی کھڑی کر دی تھی
دروازہ سارب نے کھولا اور اپنی ہنسی روکتا ہوا ایک طرف کو ہو گیا
“تمہارا وہ جلاد بھائی جاگ رہا ہے یا سو گیا؟” حسن نے اس سے پوچھا
“جاگ رہے ہیں… آپ کے انتظار میں” سارب ہنستے ہوئے بولا تھا, سارہ حسن کو کھینچتے ہوۓ اندر لے گئی, جمیلہ اور سونیا لاؤنج میں بیٹھی تھیں, ساحر اپنے کمرے میں تھا, حسن ایک نظر سونیا کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ کر وہیں بیٹھ گیا
“پاپا… پاپا… ” انس بھاگتا ہوا آیا تھا, پیچھے پیچھے سندس محترمہ تھیں, حسن نے بڑی محبت سے ان دونوں کو گود میں بٹھا لیا
“آنٹی… میں لے جاؤں سارہ کو ؟” اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا
“اچھا ابھی میری اجازت کی کوئی ضرورت ہے تجھے… ؟” جمیلہ نے کہا, سونیا نے گھٹنوں میں منہ دے لیا, تبھی ساحر نیچے اترا تھا
“جاؤ اپنا سامان لے آؤ… ” حسن نے سارہ کو دیکھتے ہوئے کہا, وہ اوپر چلی گئی, ساحر مسلسل حسن کو دیکھتے ہوئے عین اس کے سامنے آ بیٹھا, سارب اور سونیا مسلسل دھیمے سروں میں ہنس رہے تھے
“کیسا لگتا ہے پھر ؟” ساحر نے پوچھا
“کیا مطلب ؟” حسن الجھ کر بولا
“مطلب ہر سال, ڈیڑھ سال بعد ایک نئے سرے سے افئیر چلا کر کیسا لگتا ہے ؟” وہ بولا, حسن سے بات نہ بن پڑی
“دیکھ ساحر… مجھ میں لاکھ خامیاں ہوں گی لیکن… میری زندگی کا سب سے بڑا سچ یہ ہی ہے کہ وہ سارہ سے شروع ہو کر سارہ پر ہی ختم ہو جاتی ہے… میں لاکھ برا سہی… لیکن بیوفا نہیں ہوں, مجھے بھلے ہی اس پر غصہ آۓ لیکن میری اس سے محبت کا پلڑا ہمیشہ بھاری ہی رہے گا, میں مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا, بہت لمبی زندگی پڑی ہے ابھی, سینکڑوں نشیب و فراز آئیں گے, ہو سکتا ہے سارہ دوبارہ یہاں آ کر بیٹھ جاۓ, ہو سکتا ہے ہماری پھر سے لڑائی ہو جاۓ لیکن… سارہ تب بھی میری ہی رہے گی, وہ میری بیوی ہے, میری عزت ہے… اور تا عمر رہے گی, میں چاہے اسے کتنا بھی گھٹیا تماشہ کر کے مناؤں… لیکن مناؤں گا ضرور… ” حسن کہتا چلا گیا, سارہ اپنا سامان لے آئی تھی, حسن, سندس کو گود میں اٹھاۓ کھڑا ہو گیا, دائیں ہاتھ سے اس نے انس کی انگلی تھام لی
“خدا حافظ آنٹی… ” وہ بس ایک نظر ساحر کی طرف دیکھتا ہوا باہر نکل گیا تھا
“ویسے حسن بھائی کی شکل دیکھ کر نہیں لگتا کہ یہ اتنے رومینٹک ہوں گے ” سارب کہے بغیر نہ رہ سکا, سونیا دھیمے دھیمے ہنس رہی تھی
“ویسے یہ طریقہ بھی ٹھیک ہی ہے ساحر بھائی… میں تو ضرور ٹرائی کروں گا… کیا خیال ہے ؟” سارب نے کہا
“امی… اگر اب سارہ کے سسرال والوں نے سونیا کا رشتہ مانگا تو ہاں کر دیجئے گا” ساحر دھیرے سے مسکراتے ہوئے بولا تھا
سونیا کے گال تمتماتے چلے گئے تھے
……………………….
راستے میں انس نے آئس کریم کی رٹ شروع کر دی, اسے آئس کریم کھلا کر وہ لوگ رات کے گیارہ بجے گھر پہنچے, گیٹ حازم نے کھولا تھا
“حازم یہ بیگ اندر لے جا ” حسن کو اس کی کھلی ہوئی ہوئی باچھیں صاف نظر آ رہی تھیں, سندس آس کی گود میں ہی سو گئی تھی, وہ اسے گود میں اٹھاۓ اندر کی طرف بڑھا, سبھی ٹی وی لاؤنج میں جمع تھے
“تم جاؤ اندر… ” وہ سارہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“آپ نے سب کو میرے ساتھ فیس کیا ہے نا… تو میں بھی آپ کے ساتھ ہوں” سارہ نے کہا
“ہاں… ہو گئی صلح… رومیو کے جانشین ” پروین ستی پڑی تھیں
“پانچ سال ہو گئے تجھے ہمیں ذلیل کرتے حسن… ہر بار تیرے سسرال جا کر نظریں نہیں اٹھائی جاتی تھیں ہم سے… اگر تو نے سارا معاملہ خود ہی سیٹ کر لینا ہوتا تھا تو ہمیں کیوں خوار کرواتا تھا… ” پروین کہتی چلی گئیں, حسن اور سارہ سر جھکاۓ سنتے رہے
چھوٹے تینوں کے دانت ہی اندر نہیں جا رہے تھے
“امی… میں اور سارہ ہمیشہ ساتھ ہی ہیں… بھلے ہی دن میں سو دفعہ لڑیں” وہ کہہ کر کھڑا ہو گیا
“بس ٹھیک ہے… میں آئیندہ تیری وکیل بن کر تیرے سسرال نہیں جاؤں گی” وہ بات ختم کرتے ہوئے بولیں تھیں
حسن اپنے کمرے کی جانب بڑھا… اور پھر رکا… دھیرے سے پلٹا
“امی… حاشر کا رشتہ مانگنے کب جانا ہے ؟” وہ بولا تو پروین یکدم ہی ٹھٹھک گئیں
“کہاں ؟” انہوں نے پوچھا
“وہیں جہاں یہ چاہتا ہے… ” حسن دھیرے سے مسکراتے ہوئے اندر چلا گیا
اب بس پروین تھیں اور حاشر…
کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے سندس کو بیڈ پر لٹایا… اور انس کو فیڈر بنا کر دے دیا, حسن چینج کرنے چلا گیا تھا, سارہ نے بھی اپنے کپڑے نکال لئے اور واش روم میں گھس گئی, باہر نکل کر اس نے عشاء کی نماز پڑھی, بچوں کے فیڈر بھرے اور دروازہ بند کرتی ہوئی بستر کی طرف آ گئی, حسن موبائل دیکھ رہا تھا, اسے دیکھا تو موبائل ایک طرف رکھ دیا, پھر اسے دیکھا… وہ بالوں کو کیچر لگا رہی تھی, دوپٹہ صوفے پر پڑا تھا
حسن نے مسکراتے ہوئے دونوں بانہیں اس کی طرف کھول دیں
“آج کا کوٹا پورا ہو گیا ہے آپ کا…” وہ دھیرے سے مسکراتے ہوئے بولی تھی
“کہاں پورا ہوا… میرے تو کمرے کی بکنگ پر لگے پیسے بھی پورے نہیں ہوۓ ابھی…. ” وہ بولا اور اسے دوبارہ اشارہ کیا… سارہ مسکراتے ہوئے اس کے اوپر گر گئی تھی… حسن نے بہت محبت سے اسے خود میں سمیٹ لیا تھا
…………………..
