No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
اس نے ایک گھنٹے کی شارٹ لیو لی تھی, دوپٹہ ذرا سلیقے سے اوڑھ کر اس نے اپنا شولڈر بیگ اٹھایا اور باہر نکل آئی, گیٹ تک آتے آتے اس نے اپنا سیل نکال کر ایک بار پھر اس ایڈرس کو دیکھا, وہ ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ تھا جو قریب ہی تھا, وہ پیدل چلتی ہوئی وہاں تک آ گئی
“کدھر ہو… ؟” اندر داخل ہوتے ہوئے اس نے ٹیکسٹ کیا تھا
“تمہارے بالکل پیچھے…” جوابی ٹیکسٹ فوراً ہی آ گیا, سارہ ایک دم پلٹی
وہ عین اس کے سامنے کھڑا تھا, بلیک پینٹ کے ساتھ آف وائیٹ چیک والی شرٹ پہنے, گلے میں ٹائی لٹکاۓ, شرٹ کی آستینیں کہنیوں تک فولڈ کئے, دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے اپنی سیاہ آنکھوں سے مسلسل اسے دیکھ رہا تھا
سارہ ذرا سی پزل ہوئی تھی… گال گلابی رنگ سے رنگے گئے, ماتھے پر پسینے کے چند ایک ننھے ننھے قطرے ابھر آۓ, لب کپکپا سے گئے, بیساختہ اس نے نظریں جھکائی تھیں
“کیسی ہو سارہ ؟” وہ پوچھ رہا تھا
“ٹھیک ہوں… ” سارہ نے اپنی مخروطی انگلیوں سے چہرے پر جھولتی بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے اڑسا تھا
“آؤ… ” اس نے سارہ کے لئے کرسی کھینچی تھی, وہ ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے بیٹھ گئی, وہ بھی اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا تھا
“کیا کھاؤ گی ؟” وہ پوچھ رہا تھا
“صرف جوس… ” سارہ نے کہا, اس نے جوس منگوا لیا
“تمہیں کوئی ڈر ہے کیا… ؟” چند لمحوں بعد سارہ نے پوچھا
“کیوں ؟” وہ چونکا
“چہرہ جو چھپایا ہوا ہے ” وہ بولی, اس نے ہنستے ہوئے سر جھکایا تھا
“وہ کیا ہے نا… تمہارے شوہر سے بہت ڈرتا ہوں میں, تمہیں میرے ساتھ دیکھ کر کہیں میرا سر ہی نہ پھاڑ دے” وہ بولا
“اگر اتنا ہی ڈرتے ہو تو پھر یہاں کیوں بلایا مجھے… ؟ اپنے آفس میں بلوا لیتے ؟” سارہ نے کہا
“تم آ جاتیں ؟؟؟” اس نے پوچھا تھا
“پہلے کب نہیں آئی… ” سارہ نے کہا, وہ بس سر جھٹک کر مسکرا دیا, سارہ نے جوس کا گلاس منہ سے لگا لیا
“سارہ… ” اس نے کچھ دیر بعد اسے پکارا تھا, سارہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی
“I still love you… “
وہ سارہ کی خوبصورت آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ کہہ رہا تھا
………………………..
وہ اسے فورٹریس میں ڈنر پر لیکر آیا تھا
“پلیز… ” حسن نے اس کے لئے کرسی کھینچتے ہوۓ کہا, وہ بس ایک بھرپور نظر اسے دیکھتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گئی, حسن نے مسکراتے ہوئے کھانا آرڈر کیا تھا, وہ مسلسل اسے دیکھ رہی تھی
اتنے سالوں بعد بھی وہ بالکل ویسا ہی تھا… بس ایک ہی نگاہ میں تسخیر کر لینے والا
فان کلر کے تھری پیس میں ملبوس وہ عین اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا تھا
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو… ؟” حسن اس کی نگاہوں کا ارتکاز جان گیا
“اتنے سوٹڈ بوٹڈ ہو کر کیوں آۓ ہو ؟” اس نے پوچھا
“کیونکہ میں تم سے ملنے آیا ہوں ” حسن نے کہا
“اور میں کون ہوں… ؟” وہ بولی
“میری محبت… سابقہ, حالیہ اور آئیندہ ” حسن نے مسکراتے ہوئے کہا
“تو جس کے ساتھ تم پچھلے پانچ سالوں سے رہ رہے ہو وہ کون ہے ؟” اس نے پھر پوچھا
“اسے ڈسکس کرنا کتنا ضروری ہے ؟” حسن نے اس کی طرف دیکھا, وہ چپ چاپ اسے دیکھے گئی
“وہ تمہاری بیوی ہے حسن… تمہارے بچوں کی ماں” کچھ دیر بعد بولی تو لحجہ انتہائی دھیما تھا
“سنو… ” حسن نے دھیرے سے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
“جانتی ہو اس لمحے میرے لیے سب سے اہم کیا ہے… ؟” حسن بولا, اس کی نظریں استفہامیہ ہو گئیں
“میرون رنگ کا سوٹ پہنے ایک انتہائی خوبصورت سی لڑکی جس کا ریشمی دوپٹہ اس کے شانوں پر دھرا ہے, جس کے کالے سیاہ بالوں کی لٹیں اس کے حسین چہرے پر جا بجا اڑ رہی ہیں… اور وہ انہیں بار بار اپنے کانوں کے پیچھے اڑس رہی ہے… ” حسن اس کی آنکھوں میں دیکھتا مخمور سے لحجے میں کہتا چلا گیا, اس کے گال یکدم گلابی ہوۓ تھے, حسن کی بے باک نگاہوں سے پزل ہوتے ہوئے اس نے ایک بار پھر اپنے بالوں کو کانوں کے پیچھے اڑسا
“…اور جس کے مومی شہد جیسے لبوں پر کپکپاہٹ سی طاری ہے, جس کی انتہائی خوبصورت آنکھیں مسلسل مجھے دیکھنے کی تمنا کر رہی ہیں, جو اس لمحے حیا سے سرخ ہو کر سیدھی میرے دل میں اتر رہی ہے… وہ ہے میرے لئے سب سے زیادہ اہم… ” حسن کے ہاتھوں نے اس کی مخروطی انگلیوں کو قابو کیا تھا, وہ بس سر جھکا کر رہ گئی
ڈنر سے واپسی پر وہ اسے گھر تک چھوڑنے آیا تھا, رات کے دس بج رہے تھے
“گھر والے شک تو نہیں کریں گے… ؟” حسن نے اس کے گھر کے سامنے گاڑی روک دی, گلی سنسان ہی تھی
“جب پیار کیا تو ڈرنا کیا… ” وہ پھیکا سا مسکرائی اور اپنی طرف کا دروازہ کھولا, حسن نے عین اسی وقت اس کی کلائی تھامی تھی, وہ رک گئی اور پلٹ کر اسے دیکھا
“I love you…. “
وہ دھیرے سے بولا تھا
“یہ وہ جھوٹ ہے جو میں پچھلے کئی سالوں سے سن رہی ہوں” وہ بولی
“یہ جھوٹ نہیں ہے… ” حسن تڑپ گیا
“یہ جھوٹ ہی ہے حسن کمال… اگر یہ سچ ہوتا تو آج تم میرے ہوتے” حسن کو لگا جیسے اس کی آواز میں نمی سی گھل گئ ہو
“ہر بار تم بیوی سے ٹھوکر کھا کر میری طرف پلٹ آتے ہو, ہر بار میرا ہاتھ پکڑ کر یہ ہی جھوٹ کہتے ہو اور میں ہر بار تمہارے فریب میں آ جاتی ہوں… اب بھی ایسے ہی ہو گا حسن… اب بھی ایسے ہی تم یہ محبت والا جھٹ بولتے بولتے ایک دن پھر کہیں گم ہو جاؤ گے” اس کی گہری سیاہ آنکھوں کے کٹورے لبا لب بھر گئے تھے, حسن کا دل جیسے کسی کی مٹھی میں آ گیا, اس نے یکلخت اس کی کلائی اپنی طرف کھینچی تھی, اس نے بڑی مشکل سے حسن کے سینے پر ہاتھ رکھ کر خود کو اس کے گلے لگنے سے بچایا, اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے حسن نے اس کی آنکھوں کے گوشوں میں چمکتے قطرے چن لئے, وہ شہد جیسی مٹھاس والے مومی لب حسن سے بس چند انچ کی دوری پر تھے, اپنے سینے پر رکھی اس کی انگلیاں دھیرے دھیرے سفر کرتی ہوئی حسن کے چہرے پر آن رکیں
“لیکن جانتے ہو اس لمحے میرے لیے سب سے اہم کیا ہے ؟” وہ سرگوشی میں بولی تھی
“تمہارا یہ جھوٹ کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو” وہ بولی اور حسن کا سارا ضبط کھو گیا, دائیں ہاتھ سے اس کا چہرہ تھام کر حسن نے ان شہد لبوں کو بڑی نرمی سے اپنے لبوں کی گرفت میں لیا تھا
بنا کسی کی پرواہ کیے وہ ان کی مٹھاس اپنے حلق میں اتارتا چلا گیا تھا
………………………
رات کے گیارہ بج رہے تھے جب وہ سیل کان سے لگاۓ کمرے میں داخل ہوئی, سونیا نے دونوں بچوں کو سلا دیا تھا لیکن خود ابھی تک جاگ رہی تھی, سارہ نے مسکراتے ہوئے کال کٹ کی تھی, سونیا نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا
وہ بہت زیادہ خوش لگ رہی تھی, یونہی گنگناتے ہوۓ وہ سیل چارجنگ پر لگا کر سونے کے لئے لیٹ گئی
“سارہ… ” سونیا اس سے بس دو سال ہی چھوٹی تھی
“ہاں… ” سارہ نے کہا
“یہ جو تم کر رہی ہو اسے بھلا کیا کہتے ہیں ؟” سونیا نے کہا, سارہ چونک گئی
“کیا کہتے ہیں… ؟” وہ بولی
“بیوفائی… ” سونیا نے کہا
“کس سے بیوفائی… ؟ اس شخص سے جس نے آدھی رات کو مجھے گھر سے نکال باہر کیا اور پھر پلٹ کر پوچھا بھی نہیں… جسے یاد بھی نہیں کہ اس کی ایک عدد بیوی بھی ہے” سارہ پھٹ پڑی
“یہ سب کہہ کر تم خود کو قطعی justify نہیں کر سکتی” سونیا نے کہا
“مجھے کوئی ضرورت بھی نہیں ہے….” سارہ ہٹ دھرمی سے کہتے ہوئے لیٹ گئی تھی
لیکن سونیا نے اگلی صبح ہی یہ بات جمیلہ کے کانوں میں انڈیل دی تھی
“امی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے انہیں اس ریسٹورنٹ میں… پتہ نہیں کون تھا وہ” سونیا نے کہا, جمیلہ اس کی بات سن کر حق دق تھیں
“سارہ ایسی تو نہیں تھی… ” انہیں یقین نہیں آ رہا تھا
“امی آپ کو یاد ہے جب آپی انس کی پیدائش پر یہاں آئی تھیں… تب بھی ان کی حرکتیں اتنی ہی مشکوک تھیں, بے شک تب کوئی ثبوت نہیں ملا تھا لیکن میں اور ساحر بھائی سو فیصد پر یقین تھے کہ تب بھی انکا کسی سے چکر چل رہا تھا” سونیا کہتی چلی گئی
“اگر اس کا کسی کے ساتھ چکر تھا تو شادی سے پہلے بتا دیتی… اسی سے شادی کروا لیتی” جمیلہ پریشانی سے بولیں
“کیا خبر امی ان کا چکر شادی کے بعد چلا ہو… ” سونیا ان کے قریب ہوئی تھی
“امی… کیا خبر حسن بھائی سے آۓ روز اسی بات پر جھگڑا ہوتا ہو, آخر کونسا شوہر برداشت کرتا ہے بیوی کی بیوفائی ؟” سونیا نے کہا
“سونیا… بکواس بند کر لے” جمیلہ ہول کر رہ گئیں تھیں لیکن بات چھپنے والی تو تھی نہیں
اس دن بھی سارہ رات دس بجے گھر آئی تھی, شولڈر بیگ کندھے پر لٹکاۓ وہ بڑے خوشگوار موڈ میں اندر داخل ہوئی تھی اور یکدم ہی ٹھٹھک گئی, جمیلہ, ساحر اور سونیا ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے تھے, سارہ کی مسکراہٹ یکلخت غائب ہو گئی
“کہاں سے آ رہی ہو ؟” ساحر نے پوچھا
“انڈسٹری سے… ” سارہ نے کہا
“انڈسٹری سے تم دو بجے کی فارغ ہوئی ہوئی ہو” وہ بولا
“ایک دوست سے ملنے چلی گئی تھی… اس نے کھانے پر روک لیا” سارہ نے کہا
“سارہ… ” ساحر آگے کو آیا
“میرے ساتھ زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے سمجھی, میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے تمہیں مونل میں ڈنر کرتے اور خوش گپیاں اڑاتے…” ساحر کی آواز اونچی ہو گئی
“کیا ثبوت ہے آپ کے پاس ؟” وہ بولی
“میں اندھا نہیں ہوں سمجھی… کون تھا وہ… ؟” ساحر نے کہا
“کوئی بھی نہیں تھا… ” سارہ کہہ کر آگے بڑھنے لگی تھی جب ساحر نے اس کا بازو جکڑ لیا, جمیلہ لرز کر رہ گئی تھیں
“سارہ پانچ سال ہو گئے ہیں تمہاری شادی کو, دو بچے ہیں تمہارے اور تمہارا شوہر ابھی زندہ ہے… فوت نہیں ہو گیا جو یوں سر عام بے حیائی کرتی پھر رہی ہو” وہ گرج کر بولا تھا
“سارہ کون ہے وہ ؟” جمیلہ کھڑی ہو گئیں
“اگر کوئی تھا تو پہلے کیوں نہیں بتایا… اسی سے شادی کروا لیتی” جمیلہ نے کہا
“امی ایسا کچھ نہیں ہے… ” سارہ نے کہا
“امی یہ سراسر ہماری آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے, میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسے اس کے ساتھ ڈنر کرتے, اس کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر ریسٹورنٹ سے باہر نکلی تھی یہ… چہرہ بھلے ہی چھپایا ہوا تھا لیکن میں کیا بچہ ہوں… مجھے پہچان نہیں ہے اس کی ” ساحر نے کہا
“جب دیکھ لیا تھا تو وہیں کیوں نہیں پکڑ لیا… ” سارہ بولی
“تم خدا کا شکر ادا کرو کہ تمہیں وہیں نہیں پکڑ لیا… پکڑ لیتا تو یوں میرے سامنے کھڑے ہو کر یوں بکواس نہ کر رہی ہوتیں تم… ” ساحر نے کہا
“سارہ… کیا چاہتی ہے تو ؟” جمیلہ نے پوچھا
“امی… میں کچھ نہیں چاہتی” وہ کہہ کر اوپر چلی گئی
“امی حالات دیکھیں اس کے, یقین کریں حسن نے ایویں اسے گھر سے نہیں نکالا… اسے پتہ چل گیا ہو گا اس کے کرتوتوں کا, کتنی ڈھٹائی سے جھوٹ بول کر گئی ہے حالانکہ میں نے خود دیکھا ہے اسے بے حیائی کرتے… وہ الو کا پٹھا بھی بے غیرت ہی ہے جو اسے لینے ہی نہیں آ رہا… ” ساحر گرجے برسے جا رہا تھا
……………………….
“حسن… بات سن میری” وہ خوشبوؤں سے آراستہ اپنے کمرے سے نکلا تھا جب پروین نے اسے آواز دے لی
“امی مجھے ایک بہت ضروری کام… ” پروین نے اس کی بات کاٹ دی
“بھاڑ میں گئے تیرے بہت ضروری کام… ادھر دفع ہو میرے پاس” وہ بولیں, حسن بادل نخواستہ سا ان کے قریب آ گیا, آج اتوار تھا, سبھی گھر پر تھے
“دو ہفتے ہو گئے ہیں تیری بیوی کو گھر سے گئے ہوۓ اسے واپس نہیں لیکر آنا… ؟” پروین نے کہا
“امی… اسے چپ چاپ وہاں بیٹھا رہنے دیں, اپنی مرضی سے گئی ہے وہ, اپنی مرضی سے ہی آ جاۓ گی” حسن نے کہا
“تو نے نکالا ہے اسے آدھی رات کو… ” پروین تڑخ گئیں
“میں نے نہیں نکالا… اسے خود بہت شوق ہوتا ہے چھوٹی چھوٹی بات پر گھر سے نکل جانے کا, ہر بار یہ ہی کرتی ہے وہ, ذرا س لڑی اور چلو جی میں جا رہی ہوں, میں نے کیا ہاتھ پکڑ کر نکالا تھا اسے, خود ہی نکلی تھی اپنی مرضی سے” وہ کہتا چلا گیا
“کوئی شرم کر حسن, تو اسے کہے کہ دفع ہو جاؤ میرے نظروں سے اور وہ دفع بھی نہ ہو, اس کی عزت نفس نہیں ہے کیا ؟” کمال صاحب بھی وہیں تھے
“تو میں بے غیرت ہوں جو اس کے منہ سے اپنی نسل پر لن ترانیاں سنتا رہوں, دن بھر کا سارا غصہ بچوں پر نکالنے کی کیا تک بنتی ہے بھلا…. ؟” وہ بولا
“حسن مجھے اس ساری بکواس کا کچھ نہیں پتہ… مجھے بس یہ بتا کہ اسے لینے کب جانا ہے ؟” پروین نے کہا
“میں نے تو نہیں جانا, ہر بار میں ہی غیرتوں کی طرح اس کی ماں اور بھائیوں کی گالیاں کیوں سنوں… ؟ اس بار وہ خود ہی آۓ گی ” حسن نے کہا
“چل پھر بیٹھا رہ… ایسے تو نہیں آنیوالی وہ” پروین نے کہا
“تو نہ آۓ… ” وہ کہہ کر کھڑا ہو گیا
“کہاں جا رہا ہے ؟” وہ اسے گاڑی کی طرف جاتے دیکھ کر بولیں
“ڈیٹ پر… ” حاشر دھیرے سے بولا, حسن ٹھٹک گیا
“کیا بولا… ؟” وہ پلٹ کر واپس آیا تھا
“یہ ہی کہ یوں خوشبوؤں میں نہا کر حسن کمال ڈیٹ پر ہی جا رہے ہوں گے” وہ بولا, پروین کے کان کھڑے ہو گئے
“ڈیٹ… ” وہ آخر کو پڑھے لکھے لڑکوں کی ماں تھیں
“بکواس بند کر لے… ” حسن کو تاؤ آ گیا
“بکواس نہیں ہے یہ… آنکھوں دیکھے ثبوت ہیں میرے پاس, پچھلے پنچ سالوں میں تو کبھی نہ چھت پر چڑھ کر لیٹے آپ… اب دس دنوں سے کوٹھا پیارا ہو گیا ہے آپ کو, میں نے خود اپنے ان گنہگار کانوں سے سنی ہیں آپ کی وہ میٹھی میٹھی سرگوشیاں… ” حاشر کہتا چلا گیا, حسن کی رگیں تن گئیں
“پرسوں شاید آپ کسی کے ساتھ امپوریم بھی گئے تھے ناں حسن بھائی… بھابھی تو نہیں تھیں وہ” حازم بھی بول پڑا
“سالے تو وہاں کیا کر رہا تھا… ؟” حسن سے بات نہ بن پڑی
“اسے چھوڑ… یہ بتا کہ تو وہاں کیا کر رہا تھا… کون تھی تیرے ساتھ…؟” پروین پھٹ پڑیں
“امی کوئی نہیں تھی… ” حسن گڑبڑا گیا
“تو پھر بیوی کو لینے کیوں نہیں جاتا… ” انہوں نے اس کا بازو جھنجھوڑ ڈالا
“امی… میں نے نہیں جانا وہاں, مجھ سے نہیں سنی جاتیں اس سالے کی لن ترانیاں” حسن دہاڑ کر بولا
“اور خبردار… جو میری جاسوسی کی تو” وہ حاشر کو انگلی دکھا کر گاڑی نکال لے گیا تھا
“امی ہر بار جب بھابھی میکے جاتی ہیں تو یہ اسی طرح چھٹ پڑتے ہیں, ہر بار ان کے پیچھے یہ یونہی عیاشیاں کرتے ہیں, یاد ہے جب بھابھی پہلی بار میکے گئی تھیں… تب بھی انہوں نے یہ ہی سب کیا تھا, میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا انہیں کسی لڑکی کے ساتھ گھومتے ہوئے, بڑے مزے سے اسے بائیک پر اپنے پیچھے بٹھا کر گھومتے پھرتے تھے” حاشر اگلی پچھلی ساری کھول رہا تھا
“امی حاشر بالکل درست کہہ رہا ہے, تب میں نے اور حازم نے حسن بھائی کا موبائل بھی چیک کیا تھا, پورے دن کی اتنی لمبی لمبی چیٹ اور اتنی رومینٹک… پورے دس دن بھابھی میکے میں رہیں اور پورے دس دن حسن بھائی نے دھواں دھار چکر چلایا…. ” حمنہ کونسا کم تھی, پروین کی تو آنکھیں پھیل گئیں, کمال صاحب بھی ششدر سے سن رہے تھے
“حسن کا چکر چل رہا ہے کسی سے ؟ ” انہیں یقین نہیں ہو رہا تھا
“مجھے تو لگتا ہے امی کہ حسن بھائی نے ابھی تک سارہ بھابھی کو دلی طور پر قبول ہی نہیں کیا… تبھی تو آۓ روز کا جھگڑا کیے رکھتے ہیں, خدا جانے جب وہ یہاں ہوتی ہیں تب بھی ان سے بیوفائی کرتے ہوں, آخر کو بیوی ہیں وہ ان کی…. انہیں کیا پتہ نہیں چلتا ہو گا… اور جب وہ میکے چلی جاتی ہیں تب انہیں کھلی چھٹی مل جاتی ہے” حازم نے کہا
“امی… تبھی تو بھائی سارہ بھابھی کو لینے نہیں جا رہے.. وہ انہیں لانا ہی نہیں چاہتے, ایویں ان کی زندگی برباد کر رہے ہیں” حاشر نے کہا, پروین دم بخود بیٹھی تھیں
“آب بھی راتوں کو دیر تک میسیج کرتے رہتے ہیں, گھنٹوں کال ملاۓ رکھتے ہیں, اگلے دن کسی کو ساتھ لیے امپوریم گھوم رہے تھے, میں ذرا دور تھا اسلئے پتہ نہیں چل سکا کہ کون تھی, حاشر نے بھی انہیں فورٹریس میں کسی کے ساتھ ڈنر کرتے دیکھا ہے, اب بھی پکا یہ اسی کے ساتھ چھٹی منانے گئے ہیں… امی ساحر کیوں نہ باتیں کرے آخر… ؟ ” حازم کو حسن پر شدید غصہ آ رہا تھا
“آ لینے دو ذرا اس لڑکے کو… صبح ہی یہ میرے ساتھ اپنے سسرال نہ گیا تو میرا نام بھی پروین نہیں” وہ ڈٹ کر بولی تھیں
………………………….
وہ ڈھائی بجے فارغ ہو گئی تھی, بیگ کندھے پر لٹکاتے ہوئے وہ اپنے کیبن سے باہر نکل آئی, شام ہونے میں ابھی کافی دیر تھی, وہ کچھ دیر وہیں کھڑی کچھ سوچتی رہی پھر دھیمے سے مسکراتے ہوئے ایک طرف کو چل دی
سارہ کو اس کے آفس کا راستہ بڑے اچھے سے آتا تھا, ماضی میں کتنی ہی بار وہ وہاں آ چکی تھی, دھیمے قدموں سے مغرور سی چال چلتے ہوئے وہ اس کے آفس تک آ گئی
سرگوشی کے سے انداز میں سارہ نے اس کا نام پڑھا تھا, پھر دھیرے سے دروازہ کھولتے ہوئے اندر آ گئی, وہ ایک طرف رکھے ورک ڈیسک کے قریب کھڑا تھا, اس کے سامنے کسی پراجیکٹ کا میپ کھلا ہوا تھا اور .وہ پوری طرح اس میں مگن تھا, ڈارک گرے پینٹ کے اوپر بلیک شرٹ پہنے, معمول کے مطابق آستینیں کہنیوں تک موڑے, وہ اس کی طرف پشت کئے کھڑا تھا, سارہ دو قدم آگے کو آئی, اس کے بدن سے اٹھتی کلون کی مہک سارہ کی سانسوں میں اترنے لگی تھی, وہ یونہی دبے قدموں آگے بڑھی اور اپنا سر دھیرے سے اس کی پشت سے ٹکا دیا, وہ یکلخت چونک گیا
“سارہ… ” اس کے لبوں سے سرگوشی میں نکلا تھا
“صبح سے ایک بھی میسیج نہیں کیا تم نے… ” سارہ نے آنکھیں موند لیں, اس نے سارہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں مقید کیے اور دھیرے سے آگے کو کھینچتے ہوۓ اپنے ارد گرد باندھ لئے
“میں نے سوچا شاید میں تمہاری مشکل بڑھا رہا ہوں ” وہ بولا
“وہ کیسے ؟” سارہ نے پوچھا
“تم شادی شدہ ہو سارہ… دو بچے ہیں تمہارے, شاید میرا تمہاری زندگی میں آنا ٹھیک نہیں ہے” وہ بولا
“اچھا… بڑی جلدی احساس ہو گیا تمہیں ” سارہ ناگواری سے بولی تھی, وہ دھیرے سے پلٹا, سارہ اسی کو دیکھ رہی تھی
“سارہ… تم ہر بار میری طرف پلٹ کر آتی ہو…اور میں ہر بار تمہارا اسیر ہو جاتا ہوں… اور تم ہر بار مجھے تنہا چھوڑ جاتی ہو…اور… ” وہ سارہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرتے ہوئے بولا تھا, اس کی گہری سیاہ آنکھیں سارہ کی خوبصورت سی آنکھوں میں گڑ سی گئیں
“اور…. ؟” سارہ کی سرگوشی اس کے لبوں پر آ کر ٹوٹ گئی
“اور میں پھر سے انتظار کی بھٹی میں جلنے لگتا ہوں… تمہارے ایک بار پھر سے لوٹ آنے تک” وہ اپنی انگلیاں اس کے گلابی گالوں پر پھیرتے ہوئے بولا تھا, اس کے لمس کے زیر اثر سارہ کی آنکھیں بند ہوئی تھیں
“میں تمہیں پانچ سالوں میں ایک پل کے لئے بھی نہیں بھولی… ” سارہ نے بڑے حق سے اس کے سینے پر سر رکھا تھا اور اپنے دونوں بازو اس کے اطراف میں باندھ دیے تھے
…………………………..
حاشر اور حمنہ دونوں اس سے ملنے آۓ تھے, حمنہ نے تو آتے ہی سندس کو گود میں اٹھا لیا تھا
“بھابھی چلیں بس بھی کریں اب… ہم لوگ تو اداس ہو گیے ہیں” حمنہ نے کہا
“اداس ہو یا تھک گئی ہو… ” سارہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا
“میری جان عذاب میں آئی ہوئی ہے قسم سے, سارا کام مجھے کرنا پڑتا ہے…قسم سے بھابھی میری تو صبح و شام کچن میں ہی مت ماری جاتی ہے” وہ اپنے دکھڑے روۓ جا رہی تھی, سارہ ان دونوں کو ڈرائینگ روم میں لے آئی
“بھابھی ہم لوگ ذرا آؤٹنگ پر جا رہے ہیں, بچوں کو لینے آۓ تھے… ” حاشر نے کچھ دیر بعد کہا, نظریں آج بھی متلاشی سی تھیں
“حاشر مجھے سارا پتہ ہے کہ کس قسم کی آؤٹنگ پر جا رہے ہو تم لوگ… تمہارا وہ خود غرض بھائی باہر کہیں گاڑی لیکر کھڑا ہو گا, اب اسے بچے یاد آ رہے ہیں اور تمہیں اس نے جال بچھانے بھیج دیا ہے” سارہ سب سمجھ گئی تھی, حاشر چپ رہ گیا
“بھابھی قسم سے حسن بھائی روز کہتے ہیں کہ بچوں کو لے آؤ, پھر چاہے واپس چھوڑ آنا… اداس ہو گیے ہیں وہ بچوں سے” حمنہ نے کہا
“اور میں… میں تو یاد نہیں آئی ہوں گی اسے ان دو ہفتوں میں… ہیں نا ؟” سارہ نے پوچھا, وہ دونوں بس ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر رہ گئے تھے
“کیونکہ اسے میری کوئی ضرورت ہی نہیں ہے, اس نے شادی کر کہ بس ایک رسم پوری کر دی اور بچے پیدا کر لئے….اس کے بعد بیوی جاۓ بھاڑ میں, اسے بھلا کیا سروکار… بس بچے یاد آ رہے ہیں اسے… پچھلے پانچ سالوں کی بیوی یاد نہیں آ رہی… ” سارہ پھٹ پڑی
“ان دو ہفتوں میں ایک بار بھی نام لیا ہے اس نے میرا, ایک بار بھی شرمندہ ہوا ہے کہ اس نے غلط کیا, ایک بار بھی پلٹ کر پوچھا کہ میں کس حال میں ہوں ؟ نہیں… کیونکہ اسے ضرورت ہی نہیں” وہ کہتی چلی گئی, حاشر اور حمنہ بالکل خاموش تھے
“جاؤ… لے جاؤ اس کے بچے, بس بچوں کا ہی باپ ہے وہ” سارہ کی جیسے آواز بھر آئی تھی, وہ دونوں چپ چاپ اٹھ کھڑے ہوئے, حمنہ نے سندس کو گود میں اٹھا لیا تھا, ابھی وہ دونوں صحن میں ہی تھے جب بیرونی دروازہ کھلا
سفید یونیفارم میں سفید اوور آل پہنے سونیا اندر داخل ہوئی تھی, اس کا نرسنگ کا لاسٹ سمیسٹر چل رہا تھا
“کیسی ہو سونیا… ؟” حمنہ اس سے گلے ملی, سونیا نے بس ایک نظر اس کے پیچھے کھڑے حاشر پر ڈالی تھی اور حاشر اس کے تھکن آلود چہرے کو حفظ ہی کرتا رہ گیا تھا
سارہ بالکل درست تھی… حسن چند قدم آگے گاڑی لئے کھڑا تھا, ہر بار یہ ہی پینترا ہوتا تھا اس کا… بیوی بھلے ہی یاد نہ آتی لیکن… بچے ضرور یاد آنے لگتے تھے, پھر حاشر, حازم یا حمنہ میں سے کوئی نہ کوئی اسے اس قسم کا ڈرامہ رچا کر بچوں سے ملوا دیتا تھا, اب بھی اس نے گاڑی سے باہر نکل کر انس کو گلے سے لگا لیا, خوب ہی چوما, خوب ہی پیار کیا, پھر سندس کی باری آ گئی
“بھائی بس کریں… ساحر آ گیا تو یہیں میدان جنگ لگ جاۓ گا” حاشر نے کہا, حسن نے سندس کو یونہی گود میں بٹھاۓ گاڑی سٹارٹ کی تھی
“بھائی یہ سراسر زیادتی ہے آپ کی… ان بچوں کی ماں بھی کچھ لگتی ہے آپ کی, بھابھی رو رہی تھیں” حاشر نے کہا
“چپ کر… مجھے سارا پتہ ہے اس ڈرامہ کوئین کا” حسن نے کہا تھا
………………….
پروین نے دو دن سے بھوک ہڑتال کر رکھی تھی, وہ صرف پانی پر گزارہ کر رہی تھیں, ایک ایک کر کہ سب نے ٹل لگا لیا لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہیں
مطالبہ حسن سے تھا… سارہ کو واپس لیکر آنے کا
“امی… میں وہاں نہیں جاؤں گ” وہ صاف انکاری تھا, پروین بھی ضد میں آ گئیں
“چل پھر تیرے سر چڑھ کر ہی مروں گی میں بے غیرت انسان… اچھی بھلی خوبصورت اور نیک بیوی کے ہوتے ہوئے تجھے کسی اور سے عشق کی پینگیں بڑھاتے ہوئے شرم نہیں آتی” وہ برس پڑیں تھیں
دونوں ماں بیٹا میں سرد جنگ تین دن تک چلی, پروین کا بی پی مسلسل لو ہوتا جا رہا تھا, حاشر صبح شام اس سے لڑتا… آخر کار وہ ہار ہی گیا
پروین, کمال, حاشر اور حسن پر مشتمل وہ قافلہ ایک شام سارہ کو لینے جا پہنچا تھا, حسن کے چہرے سے ہی لگ رہا تھا کہ اسے کس طرح وہاں لایا گیا ہے, ساحر گھر آ چکا تھا, سارہ بھی گھر پر ہی تھی
دروازہ سارب نے کھولا… حسن کو دیکھتے ہی اس کی تیوری چڑھ گئی تھی, وہ انہیں ڈرائینگ روم میں بٹھا کر خود اوپر چلا گیا, کچھ دیر بعد جمیلہ اور ساحر ان کے پاس آ بیٹھے
“ہاں جی… فرماؤ” ساحر نے بات شروع کی تھی, حسن یونہی چہرے پر سختی طاری کیے سر جھکاۓ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا رہا
“ہم لوگ سارہ کو لینے آۓ ہیں… ” پروین نے مدعا عرض کر دیا
“اچھا… کیوں بہنوئی صاحب… ؟ ایسا ہی ہے ؟؟؟” ساحر نے حسن کی طرف دیکھا, وہ چپ رہا
“ساحر بیٹا حسن اپنی غلطی مانتا ہے, شرمندہ بھی ہے, چل اب جانے دے” پروین نے کہا
“اس کی شکل سے تو نہیں لگ رہا آنٹی کہ یہ شرمندہ ہے… اکڑ دیکھیں اس کی, دماغ تو عرشوں پر لگ رہا ہے اس کا” ساحر نے کہا
“امی میں نے کہا تھا نا کہ میں نے نہیں جانا وہاں… نہیں سنی جاتی مجھ سے ان لوگوں کی بکواس” حسن تڑخ گیا
“تو آدھی رات کو میری بہن کو تن تنہا خالی ہاتھ گھر سے نکال سکتا ہے اور میں بکواس بھی نہیں کر سکتا… بلے بھئی بلے… تو نے سمجھا کیا ہے اسے… ؟یتیم ہے وہ… ؟ یا لاوارث ہے… ؟ یا میں نے بیچ دیا ہے اسے تیرے ہاتھوں ؟ بول… جب دل چاہا لے گیا, جب دل چاہا نکال باہر کیا… ہم لوگ بس ساری عمر یہ ہی تماشا دیکھیں گے” ساحر بھڑک گیا
“آٹھ گز لمبی زبان ہے تیری بہن کے منہ میں سمجھا, یہاں… یہاں ناک پر دھرا رہتا ہے اس کا غصہ…پورا دن ذلیل ہر کر گھر آؤ اور پھر اس کے ہاتھوں ذلیل ہو” حسن کو بھی غصہ آ گیا
“حسن میری بات سن… مجھے پتہ تھا کہ میں غصے کا ذرا تیز ہوں, مجھ سے دوسروں کی باتیں ذرا کم ہی برداشت ہوتی ہیں, میں اپنے کھانے, پینے, پہننے اوڑھنے میں کوئی کمپرومائز نہیں کر سکتا, مجھے وقت پر ہر چیز تیار چاہیے ہوتی ہے…اسی لئے میں نے نوکری والی لڑکی سے شادی نہیں کی… کیونکہ نوکری والی لڑکیاں سب کچھ بہترین طریقے سے مینیج نہیں کر سکتیں, صبح بھی افراتفری… شام بھی افراتفری… اوپر سے چھوٹے چھوٹے بچے… کیونکہ تم جیسوں کو شادی کے فوراً بعد اوپر تلے ہی تو دو, تین بچے بھی چاہیے ہوتے ہیں, اسی لئے میں نے جاب والی سے شادی نہیں کی کہ میں افورڈ نہیں کر سکوں گا, میں اس کی کوتاہیوں, خامیوں یا غلطیوں کو نظر انداز نہیں کر سکوں گا…. ” ساحر کہتے کہتے رکا
“جیسے تو نہیں کرتا… تیری بیوی صبح منہ اندھیرے اٹھ جاتی ہے, بھاگم بھاگ کر کے ہر چیز اٹینشن کرتی ہے, آٹھ سے دو تک گھر سے باہر رہتی ہے… پھر واپس آ کر گھر, کچن, بچے… دو عدد چھوٹے چھوٹے بچے…. پوچھ اپنی ماں سے کہ اوپر تلے کے چھوٹے چھوٹے بچے سنبھالنا کس قدر مشکل کام ہے… اور اس سب کے باوجود بھی تو اگر اس سے یہ ڈیمانڈ کرے کہ وہ تیرے گھر آنے پر کسی محبوبہ کی طرح تیرے ناز اٹھاۓ تو تیرے سے بڑا بے غیرت کوئی نہیں ہے حسن کمال… ” ساحر دہاڑ کر بولا تھا
“اگر اپنے چونچلے ہی پورے کروانے تھے تو کسی عام سی لڑکی سے شادی کر لیتا… بچوں میں کم از کم پانچ پانچ سال کا وقفہ ڈالتا, تب شاید تیری بیوی تیرے غصے کو تھوڑا برداشت کر پاتی, گھر بھی اس کے ذمے, ہانڈی روٹی بھی وہی کرے, تیرے بچے بھی وہی سنبھالے, چھ گھنٹے کی نوکری بھی وہی کرے… اور پھر تیرے جوتے بھی وہی کھاۓ, تیری گالیاں بھی وہی سنے” ساحر کی آواز اونچی ہو گئی
“چل بیٹا بس کر دے… ” پروین نے دھیرے سے کہا تھا
“یہ بس کر دے نا آنٹی… یہ کیوں نہیں بس کر دیتا… ؟ سارا غصہ اسی کے اندر ہے, سارا دن بس یہ اکیلا ہی ذلیل ہوتا ہے, بس یہ ہی ایک ہے جو اپنی فیملی کے محنت کرتا ہے… ہم لوگوں پر کیا چھپڑ پھٹتے ہیں نوٹوں کے؟” ساحر نے کہا
“بیٹا آئیندہ ایسا نہیں ہو گا…” ساحر نے کمال صاحب کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی
“آئیندہ کی نوبت ہی نہیں آۓ گی انکل… اسے کہیں سارہ کو فارغ کرے, ہم سے نہیں یہ روز روز کے تماشے برداشت ہوتے, ماں میری اکیلی ہے یہاں, باپ میرا ملک سے باہر ہے, ابھی دو چھوٹے بیاہنے والے رہتے ہیں… کیا بس ساری زندگی سارہ کے ہی مسئلے حل کرتے رہیں گے ہم… جس پر ابھی آپ لوگ کہتے ہیں کہ دوسری کا ہاتھ بھی دے دو…خدا کی قسم اگر حاشر دنیا کا آخری مرد بھی ہو تب بھی میں سونیا کا رشتہ نہ دوں ” ساحر نے کہا, حاشر نے فوراً صوفے کے پیچھے کھڑی سونیا کی طرف دیکھا, وہ بھی جب اکھیوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی
“تجھ سے مانگا کس نے ہے رشتہ… ؟” حسن ایک دم بولا
“تیرے ماں باپ نے… ” ساحر نے کہا
“جس دن میں مانگوں گا نا یہ رشتہ…. اس دن اتنی بکواس کریں سمجھا, آج نہیں… ” حسن نے کہا, تبھی سارہ نیچے اتری تھی, حسن نے اس کی طرف دیکھا… وہ منہ موڑ گئی
“جمیلہ بہن حسن سے غلطی ہو گئی, بس اس کی آخری غلطی سمجھ کر معاف کر… ” پروین نے کہنا چاہا لیکن جمیلہ نے اس کی بات کاٹ دی
“بہن ساحر ٹھیک کہہ رہا ہے, پانچ سالوں میں یہ تیسری دفعہ یہاں آئی ہے…ایسا آخر کب تک چلے گا, ابھی تو میں اپنے ہاتھوں پاؤں ہوں, ابھی بچے بھی چھوٹے ہیں… حسن سے کہیں سارہ کو چھوڑ دے, خود بھی کسی اپنے مزاج کی لڑکی سے شادی کر لے اور ہم بھی سارہ کا رشتہ کہیں اور کر دیتے ہیں” جمیلہ نے کہا, ایک لمحے کو تو حسن سن رہ گیا تھا
“بہن ایسے مت کریں, ماشاءاللہ دونوں کے دو بچے ہیں, ایویں ان کا مستقبل برباد ہو جاۓ گا… میں کہہ رہی ہوں نا کہ آئیندہ ایسا بالکل نہیں ہو گا” پروین نے کہا
“آنٹی جی آپ کیوں کہہ رہی ہیں یہ سب… یہ کیوں نہیں کہتا… ؟ یہ کہے کہ اس سے غلطی ہو گئی… یہ مانگے سارہ سے معافی… یہ کہے کہ اپنی بیوی کو لینے آیا ہے” ساحر کہتا چلا گیا
“سارہ سے پوچھ لے کہ یہ کیا چاہتی ہے… جیسا یہ چاہے گی ویسا ہی ہو گا… اگر واپس آنا چاہتی ہے تو خوشی سے آۓ…اور اگر نہیں تو بے شک اپنا راستہ الگ کر لے” حسن کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا تھا
………………………….
“میڈم… آپ سے کوئی ملنے آیا ہے؟” اس کی اسسٹنٹ نے اسے آواز دے کر کہا تھا
“کہاں ؟” اس نے پوچھا
“آپ کے آفس میں… ” وہ بولی
“میں ابھی آتی ہوں ” وہ کچھ ڈیزائن اوکے کروا رہی تھی, چند منٹ بعد وہ ڈیزائنز رول کرتی ہوئی اپنے آفس میں آ گئی
“سوری مجھے تھوڑی دیر… ” اسے لگا نووارد اندر ہو گا لیکن آفس خالی تھا, اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ باہر نکل کر اسسٹنٹ سے پوچھتی… اس کے عقب میں دروازہ دھیرے سے بند ہو گیا, سارہ یکدم پلٹی
وہ دروازہ لاکڈ کرتے ہوئے اس سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا تھا, دونوں بازو سینے پر باندھ لیے تھے, سارہ نے بھرپور نظر سے اسے دیکھا
وہ نیوی بلو پینٹ کے ساتھ بلو لائیننگ والی شرٹ پہنے ہوۓ تھا… پیروں میں نیوی بلو ہی شوز تھے, سٹائلش سے بال اور ہلکی ہلکی بڑھی ہوئی ڈاڑھی…اپنی گہری خوابناک آنکھوں سے وہ یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا, سارہ نے رول میز پر رکھ دییے
“میں نے سنا کل تمہارا شوہر تمہیں منانے آیا تھا… ” وہ دھیرے سے بازو کھولتے ہوئے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے دو قدم آگے کو آیا
“تمہیں بڑی خبریں ہوتی ہیں… ” سارہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلی تھی
“اب تمہاری خبریں بھی نہ رکھ سکوں پھر تو لعنت ہی ہے” وہ مسلسل اس کی طرف بڑھ رہا تھا, سارہ اسے دیکھتی رہی, وہ اس سے بس چند انچ کی دوری پر آ کر رک گیا
“سارہ… ” اس نے دھیرے سے پکارا اور مزید آگے ہوا, سارہ کھڑی رہی, یہاں تک کے اسے اس کا بوجھ محسوس ہونے لگا, سارہ نے اس کے بوجھ کے زیر اثر اپنے قدموں کو ڈگمگاتا محسوس کیا تو دونوں ہاتھوں سے میز کا کنارہ تھام لیا, وہ پورے حق سے اس پر جھکا تھا
“اس بار میری ہو جاؤ سارہ… ” سارہ کو اس کی انگلیاں اپنی پشت پر رینگتی محسوس ہوئیں اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی, اس نے اپنا بازو اس کی کمر کے گرد باندھ کر اسے میز پر بٹھا دیا یوں کہ سارہ کے لب اس کی گردن کو چھونے لگے تھے, وہ پوری طرح اس پر جھکا
دونوں کی سانسیں ٹکرانے لگی تھیں, سارہ کا چہرہ دہکنے لگا, ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر آۓ, ہونٹوں کے اوپری کنارے بھی تر ہونے لگے تھے, لبوں کی کپکپاہٹ بڑھتی جا رہی تھی
“ہو جاؤ گی نا… ؟” وہ پوچھ رہا تھا, بہت نرمی سے اس نے اپنی پیشانی سارہ کی پیشانی سے جوڑ دی, دونوں کے لب ٹکراۓ تھے
“ہاں… ” سارہ کے لبوں سے نکلا اور مقابل پل بھر میں ہار گیا, بڑی بے قراری سے اس نے سارہ کے کپکپاتے لبوں کی مشکل آسان کی تھی
گھڑی کی ٹک ٹک مسلسل سنائی دے رہی تھی… اور اس کے ساتھ ان دونوں کی سانسیں
کتنی ہی دیر وہ اس پر جھکا رہا تھا… اس کے لبوں سے امرت پیتا رہا تھا
……………………….
پروین نے حسن سے مکمل بائیکاٹ کر رکھا تھا, وہ اس کی شکل بھی نہیں دیکھ رہی تھیں, وہ چپ چاپ صبح انڈسٹری کے لئے نکل جاتا اور رات گئے واپس آتا… بقول حاشر اور حازم کے ان دنوں اس کا چکر فل عروج پر تھا, بے شک وہ چہرہ چھپا کر ڈیٹ پر جاتا تھا لیکن بھائیوں کی عقابی نظریں اسے کھوج ہی لیتی تھیں… جانے انجانے میں ہی وہ دونوں اس کے پیچھے جاسوسوں کی طرح لگے رہتے تھے
یہ ہی حال سارہ کا تھا, اس نے تو جیسے ہر شرم ہی بھلا دی تھی… کہاں کا شوہر اور کہاں کے بچے… ؟ آۓ روز وہ کہیں نہ کہیں آؤٹنگ پر نکل جاتی تھی, ساحر سے اس کے یہ آنکھ مٹکے بالکل برداشت نہیں ہو رہے تھے
یوں لگ رہا تھا جیسے وہ دونوں ایک دوسرے سے بدلہ لے رہے تھے, حسن, سارہ کا نام سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ جاتا اور سارہ کے ماتھے پر اس کے ذکر سے ہی بل پڑ جاتے تھے, پروین اور کمال کے پر زور اصرار پر بھی وہ سارہ کو دوبارہ لینے نہیں گیا, بقول اس کے ” نہیں آتی تو نہ آۓ… “
سارہ نے بھی اسے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا تھا, پہلی مرتبہ حسن اس لئے اسے لے آیا کہ غلطی اس کی تھی, شادی نئی نئی تھی اور سارہ نے ایک بیٹے کو جنم دیا تھا, دوسری مرتبہ بھی بس بیوی کے بنا زیادہ عرصہ نہیں گزار سکا… جب تنہا رہنا دوبھر لگنے لگا تو اسے لے آیا… بقول حاشر, حازم اور حمنہ کے… حسن بھائی نے افئیر پچھلی دفعہ بھی چلایا تھا لیکن بس وہ پکڑے نہیں گئے اور بقول ساحر, سارب اور سونیا کے یہ ہی حال سارہ کا تھا
لیکن اس بار تو حد ہی ہو گئی تھی, سارہ کو میکے گئے دو مہینے ہو چلے تھے, حسن بچوں سے تو ہر دوسرے روز مل لیتا تھا لیکن سارہ سے اس کی ایک بار بھی بات نہیں ہوئی تھی, دونوں پوری طرح اپنے اپنے چکروں میں مگن تھے لیکن پروں پر پانی نہیں پڑنے دیتے تھے
حسن چنگھاڑ کر چھوٹے بھائیوں کو چپ کروا دیتا اور سارہ تو موقع پرہی مکر جاتی… صاف انکار, سفید جھوٹ… ساحر کی پوری کوشش تھی کہ سارہ کا یہ افئیر حسن کے علم میں نہ آۓ لیکن ساتھ ہی اسے یہ بھی یقین تھا کہ حسن اس کے ان کرتوتوں سے
ضرور واقف ہو گا, اسے سب سے زیادہ فکر حسن کے سامنے اپنی عزت کی تھی… پچھلے پانچ سالوں میں جب جب سارہ واپس آئی تھی ساحر نے اس کی ماں بہن ایک کر دی تھی, اب اگر حسن کو پتہ چل جاتا کہ سارہ کیسے دھڑلے سے عشق چا رہی تھی تو کیا ہوتا ؟ اس سے آگے وہ جھرجھری لے لیتا تھا, سونیا کو اپنی فکر تھی… وہ جانتی تھی کہ اگر سارہ کا رشتہ اس گھر سے ٹوٹ گیا تو وہ اور حاشر کبھی ایک نہیں ہو سکیں گے, دوسری طرف حاشر اور حازم نے حسن کی پوری طرح جاسوسی شروع کر دی… اپنے تئیں وہ دونوں پوری طرح ساری کے ساتھ پر خلوص تھے, حسن کے یہ لچھن انہیں ذرا بھی پسند نہیں تھے
آخر کار دونوں گھروں نے ایک ایک پلان بنایا…مکمل رازداری کے ساتھ
سارہ اور حسن… دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کا
……………………
جاری ہے
