No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
گھڑی کی سوئی جیسے ہی پانچ پر پہنچی, اس کا الارم بآواز بلند بج اٹھا تھا, ہڑبڑا کر اس نے نیند سے جھولتی آنکھوں کو بمشکل پھیلا پھیلا کر زیرو کے بلب کی روشنی میں اپنا موبائل ڈھونڈا اور الارم بند کر دیا, دائیں اور بائیں لیٹے دونوں بچے کسمسانے لگے تھے, دونوں کے منہ میں فیڈر دیا, تھوڑی دیر تھپکا اور اس تھوڑی دیر میں بیٹھے بیٹھے ہی نیند کے چار پانچ جھونکے لے کر اور مزے اڑا لئے, الارم دوبارہ بجا تھا, اس بار اس نے جھٹ سے بند کر دیا, انگڑائی لی اور بستر سے اتر گئی, بیڈ کے دوسرے سرے پر حسن دنیا و مافیہا سے بیگانہ ہوا سو رہا تھا
وہ ایک بار پھر انگڑائی لیکر واش روم میں گھس گئی, وضو کیا, فجر کی نماز پڑھی اور کچھ دیر تلاوت کی, دو سالہ سندس پھر کسمسائی تھی, اس نے جلدی سے فیڈر بھر کر اس کے منہ میں دے دیا, فارغ ہو کر کچن میں آ گئی… رات کے گندے برتنوں سے سنک بھرا پڑا تھا, وہ انہیں دھونے میں لگ گئی, پھر آٹا گوندھا, اس کے سسر نماز کے فوراً بعد ہی دودھ لے آتے تھے, دودھ ابالتے ہوۓ اسے پھر سندس کے رونے کی آواز آئی تھی
“سارہ… یار اسے تو چپ کراؤ” حسن بے سدھ ہوا پڑا تھا, کچھ دیر اسے تھپک کر وہ پھر کچن میں آ گئی, سالن گرم کیا, چاۓ بنائی اور لسی بنا کر باہر نکل آئی, گھڑی ساڑھے چھ بجا رہی تھی, اس کی دوڑ لگ گئی, جھاڑو پکڑی اور شروع ہو گئی, کمرے, برآمدہ, صحن… پھر کھرا دھویا, پھر سارے میں پوچا لگایا…کام والی پرسوں جواب دے گئی تھی
“ماما… ” اپنے پیچھے چار سالہ انس کی آواز سن کر وہ پلٹی
“ماما پوٹی آ رہی ہے… ” وہ آنکھیں مسلتے ہوۓ بولا, اس نے بھاگم بھاگ اسے پاٹ پر بٹھایا, ابھی حسن کے کپڑے پریس کرنے تھے… روٹیاں بنانی تھیں
وہ روٹیاں بنا رہی تھی جب سندس کا باجا پھر سے بج اٹھا
“سارہ… اسے باہر ہی لے جاؤ یار” حسن کی خود غرضی بھی انتہا کو ہی تھی
“مجھے سو کام کرنے ہیں ابھی… ” وہ گھرک کر بولی, حسن چپ چاپ تکئے میں منہ دے گیا, سندس نے بھی پیپمر بھر رکھا تھا, اس نے جلدی جلدی اسے صاف کیا اور باہر لے آئی, اس کی ساس گھٹنوں کے درد کی مریضہ تھیں, اب بھی وہ باہر چارپائی پر بیٹھیں تسبیح کر رہی تھیں
“آنٹی اس کا دھیان رکھنا ذرا… ” وہ سندس کو ان کے حوالے کر کہ دوبارہ کچن کی طرف بھاگی, جلدی جلدی روٹیاں بنائیں اور ٹفن بند کیا, گھڑی ساڑھے سات بجانے لگی تھی
“ماما… دھو دو” انس نے تان لگائی جو اس نے سنی ان سنی کر دی
“اوۓ پوستیو… اٹھ جاؤ, سورج غروب بھی ہونے والا ہو گیا” اس نے زوردار آواز سے حاشر اور حازم کے کمرے کا دروازہ بجایا تھا
تم بھی اٹھ جاؤ… رانی صاحبہ ” ویسی ہی ایک لتاڑ حمنہ کے حصے بھی آئی تھی
“میں ناشتہ ڈائیننگ ٹیبل پر لگا رہی ہوں, جس کا جب دل کرے کھا لے, چاۓ تھرماس میں ڈال دی ہے” اس نے فٹا فٹ ناشتا ٹیبل پر لگایا تھا
“ماما… دھو دو” دوسری تان… پھر سے سنی ان سنی
“حسن… آٹھ بجنے لگے ہیں” کمرے میں آ کر اس نے حسن پر سے کمبل کھینچا اور لائیٹ جلائی, پھر اس کے کپڑے استری کرنے لگی
“ماما… کب سے کہہ رہا ہوں… دھو دو” انس اپنا پاٹ اٹھاۓ اس کے پیچھے آن کھڑا ہوا
“او ہو… گندا بچہ… اسے کیوں اٹھا لاۓ” وہ ایک دم اس پر برس پڑی
“مکھیاں ساری پوٹی کھا رہی تھیں…. ” وہ بولا, سارہ نے جلدی سے اسے دھویا
“حسن… ” وہ اس کے سر پر آ کر چیخی تھی
“اچھا… سن لیا” وہ بولا, سارہ انس اور سندس کا ناشتہ لیکر باہر آ گئی, ان دو بچوں کو ناشتہ کروانا بھی بس اسی کے بس کا روگ تھا, دادی کے ہاتھوں سے تو ایک نوالہ بھی نہیں کھاتے تھے
باہر کے واش روم میں ایک افراتفری مچی ہوئی تھی, وہ تینوں اپنے اپنے کپڑے اٹھاۓ ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑ رہے تھے
“توبہ ہے… بندہ پندرہ, بیس منٹ جلدی اٹھ جاۓ تو کیا ہے… اب یوں لگ رہا ہے جیسے موت آنے لگی ہو تینوں کو… ” پروین بیگم مسلسل انہیں گھرک رہی تھیں
“اور اس حمنہ کی بچی کو میں نے ہزار دفعہ کہا ہے کہ صبح جلدی اٹھا کر… سارہ کے ساتھ کام کروایا کر, وہ بیچاری اکیلی ذلیل ہوتی رہتی ہے لیکن نہیں… یہ تو مہارانی ہے سب کی” وہ بولیں
“بھابھی… آپ کا واش روم فری ہے ؟” حازم وہ معرکہ جیت کر واش روم میں گھس گیا تھا, حاشر جلدی سے اندر کی طرف بھاگا, اس کی چھ مہینے پہلے ہی ریسکیو میں سلیکشن ہوئی تھی
“صرف دو منٹ… میرے آنے سے پہلے باہر آ جانا” وہ بولی, حاشر نے اندر کی طرف دوڑ لگا دی, حمنہ بیچاری بکتی جھکتی وہیں واش بیسن پر ہی سوکھا سوکھا نہانے لگی تھی
“او ہیرو… کدھر ؟” حاشر کو اندر آتا دیکھ کر حسن کی آنکھ کھلی تھی
“بھائی بس دو منٹ… میں شاور لیکر ابھی… “
“خبردار… باہر دفع ہو جا, میں خود نہانے لگا ہوں” حسن کی نیند یکدم اڑنچھو ہوئی تھی
“بھائی… اللہ کا واسطہ” وہ بیچارہ منتیں ہی کرتا رہ گیا, حسن لمحوں میں کپڑے اٹھا کر واش روم میں گھس گیا
“ہاں… کیا بنا ؟” وہ سندس کو گود میں اٹھاۓ اندر آئی تھی
“صبح سحری ٹائم اٹھوں گا میں دیکھ لینا” وہ کلستا ہوا باہر نکل گیا تھا
“یہاں بیٹھو… ” اس نے سندس کو بیڈ پر بٹھایا اور ٹی وی چلا دیا
“یہ لو… کھیلو اب… ” انس بھی بیڈ پر چڑھ گیا تھا, اس نے ان دونوں کے مشترکہ کھلونوں کا بڑا سا ڈبہ بیڈ پر رکھتے ہوۓ کہا اور اپنے کپڑے نکال لئے, گھڑی بھاگی چلی جا رہی تھی
“حسن جلدی کر لیں… سوا آٹھ ہو گئے ہیں, میں کب سے جگا رہی ہوں آپ کو” اس نے واش روم کا دروازہ زور سے بجا ڈالا
“جلدی کرو… جلدی” حسن ایک دم باہر نکلا تھا, وہ جب شاور لیکر باہر نکلی تو وہ جوتے پہن رہا تھا
“بس پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس… ” وہ اسے وارننگ دیتے ہوئے باہر نکل گیا, اسے ہزار باتیں سناتے ہوئے وہ جلدی جلدی تیار ہوئی اور اپنا بیگ اٹھا کر باہر نکل آئی, باہر ڈائننگ ٹیبل پر ایک معرکہ کارزار گرم تھا
میری روٹی… میری بریڈ… میری لسی…. میری چاۓ
حسن نے بس ایک نظر اسے دیکھا تھا
گلابی سوٹ, گلابی دوپٹہ, گلابی جوتے, گلابی گال…اور گلابی ہونٹ
وہ بس نظریں چرا گیا, سراہے جانے کا وقت نہیں تھا
“سارہ جلدی کرو… ” دو گھونٹ چاۓ کے بھر کر وہ اپنا بیگ اور گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر کو دوڑ پڑا, وہ دونوں ستارہ ٹیکسٹائل میں کام کرتے تھے, حسن وہاں پاور ہاؤس کا ہیڈ تھا اور سارہ ٹیکسٹائل ڈیزائنر تھی, اس کے پیچھے ہی حاشر بھی باہر نکلا تھا
“موٹی بس کر جا… باقی کالج جا کر ڈھپ لینا” حازم نے بائیک کی چابی اٹھاتے ہوئے حمنہ کو گھرکا تھا, وہ یونیورسٹی جاتے ہوئے اسے کالج چھوڑ دیتا تھا
پورے ساڑھے آٹھ بجے وہ اپنے آفس میں تھی… ڈھیر سارا کام… آج کے ڈیزائن, کل کے پینڈنگ پراجیکٹس, آنیوالے کل کے لئے ڈیمانڈ لسٹس… پورا دن کھپتے ہوۓ گزر گیا…دوپہر میں آدھے گھنٹے کی لنچ بریک ہوئی تو چاۓ کا ایک کپ اور چند بسکٹ گلے سے اتارے, دوپہر دو بجے وہ فارغ ہوئی تھی
آفس سے باہر نکلتے ہوۓ اس نے حاشر کو کال کر دی, وہ بھی اسی وقت فارغ ہوتا تھا سو واپسی پر اسے پک کر لیتا تھا, گھر پہنچی تو پتہ چلا کہ انس کو بخار چڑھ گیا ہے, کہاں کا ریسٹ اور کہاں کا سکون… ؟
ادھر ادھر نمبر ملا کر اس نے ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لی تھی, حمنہ نے بس اتنا کر دیا تھا کہ اس کے آنے سے پہلے سبزی بنا دی تھی اور آٹا گوندھ دیا تھا, انس کے ٹھنڈی پٹیاں رکھ کر وہ کچن میں آ گئی, چینج کرنے کی بھی فرصت نہیں ملی تھی… سالن بنایا, روٹیاں بنائیں…اور ساتھ میں سارا دن کی بچھڑی ہوئی سندس کو گود میں چڑھاۓ رکھا, ماں کو دیکھ کر وہ پھر حمنہ کے پاس بھی نہیں جاتی تھی, اندر, باہر کے چھوٹے چھوٹے کام نپٹاتے اس کی بس ہو گئی, انس مسلسل روں روں کر رہا تھا
“آنٹی کوئی کام والی ملی ؟” وہ تھک کر چور ہو گئی تھی
“سارہ میں نے ادھر ادھر سب کو کہا ہے… کیا کروں… ؟ کہاں سے لاؤں کام والی ؟” پروین خود پریشان تھیں
شام چھ بجے وہ حازم کے ساتھ موٹر سائیکل پر انس کو ہسپتال لے گئی, وہاں اسقدر رش… پورے دو گھنٹے بعد وہ دونوں واپس آۓ, انس کو دوائی کھلا کر اس نے فیڈر دے کر لٹا دیا, سندس بھی سونے کی تیاریوں میں تھی, اسے سلا کر وہ باہر نکل آئی, حمنہ نے کھانا لگا دیا تھا
“سارہ… آ جا پہلے کھانا کھا لے” پروین نے کہا اور ابھی اس نے کرسی کھینچی ہی تھی کہ حسن کی گاڑی کا ہارن بج گیا, رات کے نو بج رہے تھے, اس نے گیٹ کھول دیا, حسن گاڑی اندر لے آیا تھا
“کھانا ریڈی ہے… ” وہ اس کے پیچھے اندر آتے ہوئے بولی
“شدید بھوک لگ رہی ہے, سواۓ چاۓ کے اور کچھ نہیں کھایا صبح سے” وہ بھی تھکا پڑا تھا
“بس چینج کر کہ کھانا کھا لیں” سارہ اس کے پیچھے ہی اندر آ گئی
“پاپا… مجھے بکھاریاں ہو گئی ہیں, ڈاکٹر پاس گئے تھے, سوئی لگی مجھے” اسے دیکھتے ہی انس کا باجا بج گیا
“اوۓ ہوۓ میرا بچہ… کہاں ہوئیں بکھاریاں…؟” اس نے جھٹ انس کو بازوؤں میں اٹھا لیا
“اسے ڈاکٹر کو دکھا لینا تھا” وہ بولا
“دکھا لائی ہوں… ابھی دوا کھلائی ہے” سارہ نے اس کے کپڑے نکال دیئے تو وہ واش روم میں گھس گیا, وہ کچن میں آ گئی, سالن دوبارہ گرم کیا, چاۓ بنائی, رات کے برتن دھوۓ… خود کھانے بیٹھی تو روٹی ختم… ہمت ہی نہ ہوئی دوبارہ پکانے کی, بس چپ چاپ چاۓ میں بسکٹ ڈبو کر کھا لیے
کچن سمیٹ کر باہر نکلی تو رات کے دس بج رہے تھے, کمرے میں آ کر اس نے عشاء پڑھی, آنکھیں نیند سے بوجھل اور جسم تھکن سے…دوپٹہ سر سے اتارتے ہوئے وہ دونوں بچوں کے بیچ میں لیٹ گئی تھی, حسن بیڈ کے دوسرے سرے پر لیٹا تھا, سارہ کی کمر بیڈ سے نہیں لگ رہی تھی, وہ سندس کی طرف کروٹ لے گئی, لمحوں میں نیند نے آ لیا, کچھ دیر بعد اسے اپنے کانوں میں حسن کی سرگوشیاں سنائی دی تھیں
“حسن… میں صبح پانچ بجے کی اٹھی ہوئی ہوں… پلیز” اس کے لحجے میں ہی مدہوشی گھلی پڑی تھی
“سارہ… یار میرا جسم ٹوٹ رہا ہے, اخیر ہوئی پڑی ہے میری… ” حسن نے انس کو اٹھا کر سرے پر کیا اور خود کھسک کر اس کے قریب ہو گیا
“سارہ… ” وہ خود سارے دن کا نڈھال ہوا پڑا تھا, بہت محبت اور چاہت سے اس نے سارہ کا موم جیسا وجود اپنے دونوں بازوؤں میں سمیٹ لیا
“حسن… پلیز… ” سارہ کے گلابی لبوں سے بہکی ہوئی سی سرگوشی نکلی تھی, بمشکل آنکھیں کھول کر اس نے خود پر جھکے حسن کو دیکھا اور حسن کمال… وہ تو اس کی ان خمار آلود نگاہوں پر ہزار بار واری صدقے چلا گیا تھا
“خدا کی قسم تمہارا یہ گلاب چہرہ سارا دن میری نظروں سے محو نہیں ہوا… ” وہ اپنی تمام تر شدتیں اس کے لبوں پر نکالتے ہوئے پاگل ہوا تھا
اور سارہ… سارہ حسن… وہ تو پہلے ہی ٹوٹ کر بکھر جانے کے لئے کسی آسرے کی تلاش میں تھی… اور حسن کمال کی آغوش سے بڑھ کر بھی کوئی آسرا تھا بھلا… اس کی مرمریں بانہوں کی گرفت حسن کی گردن کے گرد تنگ ہوئی تھی
“میری جان… آئی لو یو, آئی لو یو سو مچ” حسن اس کے گلے سے دوپٹہ کھینچ کر دور پھینکتے ہوۓ پوری طرح اس پر حاوی ہوا تھا, سارہ نے بس خاموشی سے اپنا آپ اس کے حوالے کر دیا
………………..
پورے ساڑھے آٹھ بجے وہ انڈسٹری پہنچا تھا, سارہ کو اس کے ڈپارٹمنٹ کے آگے ڈراپ کر کہ خود پاور ہاؤس کی طرف آ گیا, آج اسے بیسمینٹ کو سپر وائز کرنا تھا, بارہ بجے تک وہ بری طرح کھپ گیا, ہر دوسرے پوائنٹ پر مسئلہ…
وہاں سے فارغ ہو کر جیسے ہی آفس پہنچا, چپڑاسی سر پر آن کھڑا ہوا
“مینیجر صاحب بلا رہے ہیں… ” پانی کے دو گھونٹ پی کر وہ مینیجر کے آفس چلا آیا, کوئی میٹنگ تھی, ڈیڑھ گھنٹہ چلی… لنچ بریک ہوتے ہی تھرڈ فلور کا سرکٹ شارٹ ہو گیا, بھاگم بھاگ وہ وہاں پہنچا تھا, چار بجے تک وہ سیٹ ہوا, اس دوران سیکینڈ فلور سے وہاں بجلی فراہم کی گئی, شام پانچ بجے وہ فارغ ہو جاتا تھا لیکن پچھلے چار ماہ سے ایکسٹرا ٹائم لگا رہا تھا, ان دونوں نے مل کر گاڑی نکلوائی تھی… اس کی انسٹالمنٹس جمع کروانی تھیں… حاشر کی شادی سر پر آئی کھڑی تھی, اس کا کمرہ سیٹ کروانا تھا
سو ہلکا پھلکا کھانا کھا کر وہ سائٹ پر چلا گیا, تبھی گھر سے کال آ گئی
“حسن بھائی… پلیز جلدی گھر آئیں ” حازم کی کال تھی
“کیا ہوا ؟” وہ ہول گیا
“امی اور ابو کسی کا افسوس کرنے گئے تھے, واپسی پر بائیک پھسل گئی, امی کو زیادہ چوٹ لگ گئی ہے” وہ انتہائی پریشانی سے کہہ رہا تھا
“میں ابھی آیا… بس دس منٹ” حسن بوکھلا گیا, دس منٹ تو کیا…. آدھا گھنٹہ تو اسے اپنا ریپلیسمنٹ دینے میں ہی گزر گیا, پھر اندھا دھند گاڑی چلا کر گھر پہنچا, پروین تو بیٹھ بھی نہیں پا رہی تھیں, انہیں ہسپتال لیکر آیا, ڈرپس لگیں, انجکشنز لگے, دو گھنٹے بعد حازم کو ان کے پاس چھوڑ کر وہ واپس انڈسٹری چلا گیا, اوور ٹائم کے دو گھنٹے اب آگے لگانے تھے, رات کے دس بج رہے تھے جب وہ واپس ہسپتال آیا, پروین اب قدرے بہتر تھیں
“حازم… امی کو گاڑی میں گھر لے جا, میں موٹر سائیکل پر آ جاؤں گا” وہ اسے گاڑی کی چابی تھما کر خود اس کی موٹر سائیکل لیکر انڈسٹری آ گیا, رات بارہ بجے وہ فارغ ہوا تھا
تھکن سے چور گھر پہنچا تو سارہ نیند سے جھولتی ابھی جاگ ہی رہی تھی
“امی کیسی ہیں اب ؟” اس نے پوچھا
“بہتر ہیں, حازم اور حمنہ ان کے پاس ہی سوۓ ہیں آج… “وہ بولی, آنکھیں نیند سے چور تھیں
“تم سو جاتیں… ” حسن نے دھیرے سے اس کی بوجھل پلکوں کو اپنے لبوں سے چھوا
“آپ کو کھانا کون دیتا پھر ؟” وہ بولی, حسن ایک لمبی سانس بھر کر واش روم میں گھس گیا
“کام والی نہیں ملی کوئی ؟” وہ باہر نکلا تو سارہ کھانا لے آئی
“نہیں… آج میں نے امی سے کہا ہے کہ کوئی اپنی طرف سے ڈھونڈ دیں” وہ بولی
“دو پیناڈول لا دو مجھے… جسم ٹوٹ رہا یے” وہ بولا تھا
“بس پینا ڈول سے گزارہ ہو جاۓ گا نا آج رات ؟” سارہ نے معنی خیز انداز سے پوچھا, حسن نے فوراً اس کی طرف دیکھا
“کیونکہ مجھ میں بالکل ہمت نہیں ہے پینا ڈول والا رول پلے کرنے کی… میرا روم روم دکھ رہا ہے” وہ انتہائی لاچارگی سے بولی تھی, حسن بس مسکرا کر رہ گیا
“تم اکیلی تو نہیں کرتیں… میں بھی تو وہی رول پلے کرتا ہوں… تمہارے لئے ” حسن کھڑے ہوتے ہوئے بولا تھا
ان دونوں کی شادی کو پانچ سال ہو گئے تھے, انس اور سندس… دو بچے تھے, وہ دونوں میاں بیوی جاب کرتے تھے, صبح سے لیکر شام تک مشینوں کی طرح کام کر کر کے رات کو بستر پر لیٹتے تو جسم کسی پھوڑے کی طرح دکھ رہا ہوتا تھا, حسن کی اپنی ذمہ داریاں تھیں اور سارہ کی اپنی… وہ جانتی تھی حسن اکیلا اسے اور اپنے بچوں کو اتنی لگژری لائف نہیں دے سکتا تھا
بچوں کے بعد تو زندگی اور مصروف ہو گئی تھی
……………………
وہ بھی ایسا ہی ایک مصروف دن تھا, یونہی افراتفری میں سب بھاگم بھاگ تیار ہوۓ اور اپنے اپنے کاموں کو نکل پڑے… انس کا سکول میں ایڈمیشن ہوۓ ایک ہفتہ ہو گیا تھا, اب صبح صبح اس کی تیاری بھی کروانی پڑتی تھی, پروین کو ڈاکٹر نے پورے ایک مہینے کا بیڈ ریسٹ بتایا تھا…کام والی ہنوز ندارد تھی
پورا دن یونہی بکتے جھکتے کھپتے گزر گیا
سارہ شام تین بجے کے قریب گھر آئی, جسم بری طرح ٹوٹ رہا تھا, شان تک بخار چڑھ گیا, حسن رات دس بجے گھر آیا…نزلہ, زکام, کھانسی… بخار
“سارہ پانی گرم کرنا… میں نے غرارے کرنے ہیں” وہ نڈھال سا واش روم میں گھس گیا, سارہ بیچاری نے پانی گرم کیا, پھر اس کے لئے سالن گرم کیا
“یہ لیں پانی… ” اس نے گرم پانی کا گلاس حسن کی طرف بڑھایا تھا, وہ عام سے ٹراؤزر پر ٹی شرٹ پہن کر واش روم سے باہر نکل آیا
“ہاتھ اتنا گرم کیوں ہے تمہارا ؟” گلاس پکڑتے ہوۓ حسن کی انگلیاں اس کے ہاتھ کو چھو گئیں
“بخار ہے… ” سارہ کی آنکھیں بھی چڑھتی جا رہی تھیں
“میڈیسن لے آتیں ؟” وہ بولا
“ٹائم نہیں ملا… ” وہ کہہ کر واپس کچن میں چلی گئی, حسن غرارے کر کے ڈرائینگ روم میں آ گیا
“لے آؤ کھانا ” وہ بولا, تبھی سندس روتی ہوئی اس کے پاس آ گئی
“کیا ہوا میری گڑیا کو… ؟” حسن نے اسے گود میں بٹھایا تھا, سارہ کھانا لے آئی, حاشر دائیں طرف صوفے پر کانوں میں ہینڈ فری دیے لیٹا تھا, حازم اور حمنہ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے تھے, پروین اپنے کمرے میں تھیں
“اسے اٹھا لو… ” حسن نے کہا
“ایک منٹ… ” وہ پانی لینے فریج کی طرف آئی, تبھی سندس نے ہاتھ مار کر سارا سالن میز پر گرا دیا, سالن گرم تھا, وہ یکدم بلبلا کر رو پڑی
“سارہ… ” حسن زور سے چیخا تھا
“کیا ہو گیا ؟” وہ بوکھلا گئی
“کم از کم رات کو تو انہیں سلا دیا کرو” وہ برس پڑا
“میں اسے سلا کر ہی آئی تھی, خدا جانے اس کی نیند کہاں دفعان ہو گئی ہے” سارہ کی ساری تھکن اور فرسٹریشن دو سالہ سندس پر اتر گئی, اس نے رکھ کے اس کی کمر پر ایک دھپ لگایا تھا, وہ اور اونچی آواز میں رونے لگی
“اسے کیوں مارا ؟” حسن چنگھاڑ اٹھا
“کبھی تو انسان بن جایا کرو… کبھی تو سکون کر لیا کرو… سارا دن بھی ذلالت… ساری رات بھی ذلالت… پتی نہیں نسل ہی کیسی ہے… ؟” سارا اسے گھسیٹتی ہوئی کمرے میں لے گئی, حسن تیر کی طرح اس کے پیچھے آیا تھا
“میری نسل ہے نا… چھوڑو اسے… ” اس نے زور سے سندس کا ہاتھ چھڑوایا
“چھوڑ دیں اسے… چھوڑ دیں” سارہ حلق کے بل چلائی تھی
“بکواس بند کر لو… ” حسن اس سے زیادہ اونچا چیخا, انس بھی ڈر کر اٹھ گیا, حازم اور حمنہ دوڑ کر اس کے کمرے میں آ گئے
“حسن… خبردار جو مجھ سے اس ٹون میں بات کی تو, آیا نہیں ہوں میں ان دونوں کی, ماں ہوں… سمجھے” وہ بولی
“ہاں دیکھ لیا میں نے کہ کیسی ماں ہو تم… ” حسن نے پھر سندس کو کھینچا
“کیسی ماں ہوں میں… ؟ چار سال سے آپ کے بچے پال رہی ہوں اور پھر بھی کیسی ماں ہوں میں ؟” وہ سارا ضبط کھو بیٹھی
“اب ایک اور لفظ تمہاری زبان سے نہ نکلے سمجھی…” حسن تیر کی طرح اس کی طرف بڑھا
“حسن بھائی…. رکیں, بس کریں” حازم بیچ میں آیا تھا, حمنہ نے انس کو گود میں اٹھا لیا
“کیا کرلیں گے… ماریں گے مجھے… ماریں, یہ کسر رہ گئی ہے اسے بھی پورا کر لیں… ماریں” سارہ کی ساری ہمت جواب دے گئی تھی, وہ گلا پھاڑ کر چیخی پڑی
“میں کہہ رہا ہوں زبان بند کر لو جاہل عورت… ” حسن کا تمام تر غصہ بھی باہر نکل آیا تھا
“بھابھی بس کریں… چپ کر جائیں” حاشر بھی دوڑتا ہوا آ گیا, پروین بھی ہول کر اپنے کمرے سے نکل آئیں
“صبح آٹھ بجے سے ذلیل ہونا شروع ہوتا ہوں میں… پورا دن گزر جاتا ہے خوار ہوتے, اب دس بجے بھی گھر نہ آیا کروں ؟” وہ دہاڑ کر بولا
“تو میں سارا دن بستر توڑتی ہوں کیا… آپ سے زیادہ ذلیل ہوتی ہوں, آپ نے تو صرف جاب دیکھنی ہے… میں نے ساتھ گھر بھی, کچن بھی, بچے بھی… میں انسان نہیں ہوں, ربورٹ ہوں میں” سارہ اس سے ڈبل دہاڑی تھی
“میں تمہارا منہ توڑ دوں گا اب گلا پھاڑا تو… ؟ حسن دوبارہ اس کی طرف بڑھا
“بس کریں… حسن بھائی بس” حاشر اور حازم نے اسے بمشکل قابو کیا ہوا تھا
“چل حسن باہر نکل… بس کر دے” پروین نے کہا
“کیا بس کر دوں… پڑھی لکھی لڑکی سے شادی کی تھی میں نے… مجھے کیا پتہ تھا کہ اس سے بڑھ کر جاہل کوئی نہیں ہے جس نے ساری زندگی اجیرن کر دی میری” وہ پھر تڑخ اٹھا
“تو پھر اس جاہل عورت کو رکھا ہی کیوں ہوا ہے اپنی زندگی میں… نکال باہر کیوں نہیں کرتے؟” سارہ حلق کے بل چیخی
“بڑا شوق ہے تمہیں میری زندگی سے دفع ہونے کا… جاؤ, دفع ہو جاؤ میرے سامنے سے اپنی یہ منحوس شکل لیکر ” حسن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے کچا چبا جاتا
“ٹھیک ہے…. جا رہی ہوں میں, اور اب اگر خون کھرا ہے نا تو خبردار جو میرے پیچھے واپس آۓ تو… جا رہی ہوں میں” اس نے سندس کو گود سے اتارا اور دوپٹہ سر پر لیتی ہوئی باہر نکل گئی
“ماما…. ماما” انس روتا ہوا اس کے پیچھے دوڑا تھا
“خبردار جو میرے بچے کو ہاتھ بھی لگایا…. ” حسن نے دوڑ کر انس کو اٹھا لیا
“چار دن بھی یہ دو بچے سنبھال لئے تو نام بدل دینا میرا…خود غرض انسان” وہ روتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گئی
“سارہ… سارہ رک جا بیٹے… ” پروین اسے پکارتی رہ گئیں
“بھابھی رکیں… بات تو سنیں” حازم اور حاشر اس کے پیچھے بھاگے تھے, بیک گراؤنڈ میں انس اور سندس کا باجا پوری آواز میں بج رہا تھا
“حسن روک اسے… ” پروین نے اس کا بازو جکڑا
“جانے دیں… یہاں رکی تو میرے سے سر پھڑوا لے گی اپنا” وہ انس کو اٹھاۓ اندر چلا آیا
سارہ دروازہ کھول کر باہر نکل گئی تھی
“حاشر اسے چھوڑ آ… اکیلی کیسے جاۓ گی” پروین نے زور سے آواز دی تھی, حاشر موٹر سائیکل نکال کر اس کے پیچھے بھاگا
“بھابھی بات سنیں… بیٹھیں, میں چھوڑ آتا ہوں” وہ بولا, بڑی مشکلوں سے وہ اس کے پیچھے بیٹھی تھی
رات کے بارہ بجنے والے تھے جب وہ اسے لیکر اس کی امی کے گھر پہنچا… وہاں ہو کا عالم
گھپ اندھیرا… دروازہ بند… سب سوۓ پڑے
سارہ نے پوری قوت سے دروازہ بجایا تھا
اس کے بڑے بھائی ساحر نے دروازہ کھولا… اور پھر یکلخت اس کا منہ بھی کھل گیا
“سارہ… ” وہ حق دق کھڑا تھا, سارہ روتے ہوئے اندر بھاگ گئی تھی
…………………………
“امی قسم سے تماشہ بنا دیا ہے اس شخص نے میرا, اس کی خاطر صبح سے شام تک ذلیل ہوتی ہوں میں, اس کے بچوں کی خاطر, اس کی آسودگی کی خاطر اپنی زندگی تیاگ دی میں نے لیکن… یہ شخص ساری عمر خوش نہیں ہو گا” رات کے بارہ بجے وہ ٹی وی لاؤنج کے بیچوں بیچ صوفے پر بیٹھی زار و قطار رو رہی تھی, جمیلہ بیگم چپ چاپ, حق دق سامنے والے صوفے پر بیٹھی تھیں, ساحر اس ڈیڑھ سال سے بڑا تھا… اس کی بیوی فاریہ سارہ کے ساتھ ہی بیٹھی تھی, سارہ سے چھوٹا سارب اور اس سے چھوٹی سونیا …دونوں ایک طرف خاموش کھڑے تھے
“کہا کیا ہے اس نے ؟” جمیلہ نے پوچھا, سارہ کے والد دبئی گئے ہوۓ تھے
“کہتا دفع ہو جاؤ میرے گھر سے… بچے اس کے ہیں لیکن بچوں کی ماں جاۓ بھاڑ میں” وہ تڑخ گئی
“آۓ روز کا یہ ہی سیاپا ہے… یہ ہی تماشہ ہے, جب دیکھ لو لڑائی… جب دیکھ لو جھگڑا… ” وہ روتی جا رہی تھی اور کہتی جا رہی تھی
“وجہ کیا بنی ؟” ساحر نے پوچھا
“سندس نے سالن گرا دیا… مجھے غصہ آ گیا, میں نے اسے ایک لگا دی… بس شروع ہو گیا… میری بچی, میری بچی… ملازمہ ہوں میں اس کے بچوں کی” وہ دل کی بھڑاس نکالتی چلی گئی تھی, جمیلہ نے ایک لمبا سانس بھرا اور ساحر کی طرف دیکھا
اگر یہ سب پہلی دفعہ ہوا ہوتا تو شاید وہ ابھی کے ابھی اس کے سسرال میں فون کھڑکا دیتیں لیکن پچھلے پانچ سالوں میں یہ دو دفعہ پہلے بھی ہو چکا تھا…اور کس گھر میں نہیں ہوتا… ؟
کونسے ملازمت پیشہ میاں بیوی ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کی سو فیصد برداشت کرتے ہیں…. ؟ کوئی ایک بھی نہیں… ملازمت پیشہ میاں بیوی کو میں سٹیل کے نہیں… کانچ کے برتنوں سے مشابہت دیتی ہوں جو جب جب کھڑکتے ہیں… تو صرف بجتے نہیں ہیں…تڑک بھی جاتے ہیں
“پورا دن بخار میں پھنکتی رہی ہوں… ایک دفعہ نہیں پوچھا اس نے” اب بھی انہوں نے اس کی ساری بات سن کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
“چل بس کر سارہ… جا ریسٹ کر لے, سونیا بہن کو چاۓ بنا کر دے, ساتھ دو پینا ڈول دے دے” انہوں نے رسان سے کہا تھا
“اٹھ میرا بچہ… جا سونیا کے کمرے میں چلی جا” جمیلہ نے اسے کھڑا کیا تھا, وہ چپ چاپ اوپر چلی گئی
“امی ویسے حسن بھی پڑھا لکھا جاہل ہی ہے… یہ دوسری دفعہ یوں اکیلی یہاں آئی ہے, یاد ہے جب انس پیدا ہوا تھا… تب بھی اس اجڈ نے یونہی اسے خالی ہاتھ نکال باہر کیا تھا, پھر میری شادی پر بھی یہ ہی تماشہ ہوا… اب پھر… ؟ یہ کوئی طریقہ تو نہ ہوا ؟” ساحر کہتا چلا گیا
“خدا جانے اصل بات کیا ہے ؟” جمیلہ نے کہا
“امی اصل بات جو بھی ہو… آدھی رات کو بیوی کو گھر سے نکالنے کی کیا تک بنتی ہے….؟ لاوارث ہے کیا یہ… ؟” سارب کو بھی غصہ آ گیا, اس کی اور حاشر کی ایک ساتھ ہی سلیکشن ہوئی تھی
“صبح بات کرتی ہوں پروین سے… ” وہ کہتے ہوئے اٹھ گئیں تھیں
اور سارہ سے وہ رات گزارنی دوبھر ہو گئی تھی… صبح فجر کے بعد ہی وہ سارب کے سر ہو گئی
“میرے بچے لیکر آؤ… خد جانے میرے بچے کس حال میں ہوں گے, وہ تو میرے علاوہ کسی سے روٹی بھی نہیں کھاتے, فیڈر بھی نہیں لیتے… ” سارہ جیسے مرنے والی ہو رہی تھی
“آپی بس کریں, کچھ دن اس کے پاس بھی رہ لینے دیں بچوں کو” سارب نے کہا لیکن وہ ماں تھی, کیسے صبر کرتی ؟
“امی… سارب سے کہیں میرے بچے لیکر آۓ ؟” کچھ ہی دیر میں وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی
“سارہ… تھوڑی ہمت کر, ایسے تو قطعی وہ دانت کے نیچے نہیں آنیوالا” ساحر آفس جانے کے لئے تیار تھا, سارب بھی بس نکلنے ہی والا تھا, سونیا نرسنگ کر رہی تھی
“نہیں تو نا سہی… میں حاشر سے کہتی ہوں کہ میرے بچے… ” اس کی بات بیچ میں ہی رہ گئی
“ماما… ماما…کہاں ہو… ؟” تبھی اسے انس کی آواز سنائی دی تھی
“انس… ” وہ باہر کو دوڑی, انس بھاگتا ہوا اندر آ رہا تھا, پیچھے ہی حاشر سندس کو گود میں اٹھاۓ اندر داخل ہوا
“انس… میرا بچہ, میرا مٹھو” وہ اسے یوں چوم رہی تھی جیسے وہ عرصے بعد کسی مہم سے لوٹا ہو
“ماما آپ کہاں چلی گئی تھیں… میں رو رہا تھا, دودھو بھی نہیں پیا…” انس کے پاس شکایتوں کا ایک ڈھیر تھا
“یہ لیں… اپنی اس چھمک چھلو کو بھی پکڑیں, خدا کی قسم بھابھی اس مٹر کے دانے نے ساری رات زبان منہ میں نہیں ڈالی ” حاشر, سندس کو نیچے اتارتے ہوئے بولا
“تو اب رکھ لیتا تمہارا بھائی… سنبھال لیتا انہیں, رات تو بڑے زعم سے کہہ رہا تھا کہ… میرے بچے, میرے بچے” سارہ بھڑک پڑی
“بھابھی آپ کو بھی پتہ ہی ہے… ان سے تو اپنا آپ نہیں سنبھالا جاتا, بچے کیسے سنبھالیں گے ؟” حاشر نے کہا اور ادھر ادھر نظریں دوڑائیں, نور نظر کہیں بھی نہیں تھی
“حاشر… حسن سے بس ایک ہی بات کہنی ہے تو نے اب ہماری ہو گئی ہے بس… سو اب وہ بھی بس کر دے, بہت ہو گیا, یہ دوسری مرتبہ ہوا ہے جو یہ اس طرح رات کے بارہ بجے اکیلی یہاں آئی ہے” ساحر کو از حد غصہ تھا, وہ بس کڑی نظروں سے حاشر کو دیکھتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھ گیا, وہ ایک پرائیویٹ فرم میں جی ایم تھا
“کیوں نکالا حسن نے اسے ؟” جمیلہ بھی باہر نکل آئیں
“آنٹی جی لڑائی ہو گئی دونوں کی… دونوں کو ہی غصہ آ گیا, امی اور ابو آج چکر لگائیں گے آپ کی طرف… ” حاشر کو دیر ہو رہی تھی
“سارب جلدی چلو دیر ہورہی ہے… سونیا اپنا بیگ اٹھاۓ دھڑ دھڑ کرتی نیچے اتری تھی, حاشر نے بس ایک نظر اسے دیکھا
سفید دوپٹے کے ہالےمیں میں ہمیشہ کی طرح صاف شفاف چہرہ… اگلے ہی پل وہ نظریں جھکا گیا, وہ اور سارب آگے پیچھے ہی دروازے سے باہر نکل گئے تھے, سارہ دونوں بچوں کو لیکر اوپر چلی گئی
…………………………..
پوری رات وہ ایک لمحے کے لئے نہیں سو پایا, سندس کا باجا مسلسل بجتا رہا… انس بھی ہر گھنٹے بعد اٹھ جاتا تھا, حاشر دونوں بچے لیکر نکلا تو اس کی آنکھ لگی… اب بھی سرخی مائل آنکھوں کو بمشکل کھول کر وہ جیسے تیسے انڈسٹری جانے کے لئے نکلا تھا جب پروین نے آواز دے لی
“دوپہر کو گھر آنا ہے تھوڑی دیر کے لئے نواب صاحب… ” انہوں نے کہا
“وہ کس خوشی میں ؟” حسن تپا پڑا تھا
“جس خوشی میں بیوی کو رات گھر سے نکالا ہے… چل کر ساس اور سالے کو صفائیاں دے اپنی… مجھ سے تو نہیں مفت میں باتیں سنی جاتیں ” پروین بھی عاجز آئی پڑی تھیں
“امی… اسے چپ چاپ وہاں بیٹھا رہنے دیں, ہر بار میں ہی معافی مانگتا ہوں چاہے میری غلطی ہو یا نا ہو… اس بار سراسر غلطی اس کی ہے… سو اس بار وہ خود ہی واپس آۓ گی, میں تو نہیں جاؤں گا اس کی منتیں کرنے” وہ تڑخ کر کہتے ہوۓ گاڑی نکال لے گیا, پروین سن سی بیٹھی رہ گئیں
پہلے بھی دو بار ایسے ہو چکا تھا, انس کی پیدائش کے فوراً بعد بھی ان دونوں کی ایسی ہی ایک دھواں دھار جنگ چھڑی تھی, سارہ کا چھلہ چل رہا تھا, جسمانی تکلیف ایک طرف اور ذہنی پریشانی ایک طرف… انس ساری ساری رات نہ سوتا, مسلسل روتا رہتا… سارا دن اسے تگنی کا ناچ نچاۓ رکھتا… وہ بیچاری گھن چکر بن گئی تھی, حسن کی نیند بھی نہ پوری ہوتی… ساری رات بے خوابی اور سارا دن انڈسٹری… وہ بھی عجیب چڑچڑا سا ہو گیا تھا, ایک رات یونہی بس چھوٹی سی بات پر وہ دونوں لڑ پڑے… اچھا ہی لڑے اور سارہ چند دنوں کے انس کو لیکر میکے چلی گئی, چند دنوں بعد ہی حسن کو احساس ہو گیا کہ شاید اس کی طرف سے تھوڑی زیادتی ہو گئی تھی… وہ بس اتنا سوچ لیتا کہ سارہ نے چند دن پہلے ہی اس کے بیٹے کو جنم دیا تھا, وہ پروین اور کمال کو لیکر سسرال چلا آیا… ساحر کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی, سارہ کے والد بھی یہیں تھے, ساحر نے اس کی وہ عزت افزائی کی کہ حد نہیں, جمیلہ بھی راشن پانی لیکر اس پر چڑھ دوڑی تھی, ظاہر ہے غلطی تو تھی نا اس کی…وہ بس چپ چاپ سر جھکاۓ سنتا رہا تھا
دوسری بار ان دونوں نے ساحر کی شادی پر تماشہ لگایا تھا… تب انس ابھی دو سال کا بھی نہیں ہوا تھا اور سارہ کی گود میں سندس آ گئی تھی… وہی ہمیشہ والا مسئلہ… دو چھوٹے چھوٹے بچے, گھر, جاب, شوہر… اوپر سے شادی کی تیاریاں
ساحر کی مہندی والی رات وہ دونوں الجھ پڑے, بات اتنی بڑی نہیں تھی لیکن سارہ یکلخت ہی سارا ضبط کھو بیٹھی… گھر مہمانوں سے بھرا پڑا تھا, حسن نے ایک دو بار اسے چپ کروانے کی کوشش کی لیکن وہ برس ہی پڑی, حسن بھی دو باتیں سن کر تیسری پر بھڑک اٹھا… دونوں خوب ہی لڑے, حسن سب کچھ چھوڑ چھاڑ واپس چلا گیا, نا تو ساحر کی بارات میں شامل ہوا اور نا ولیمے میں… سارہ پورا ایک مہینہ میکے میں رہی… اور آخر کار حسن نے ہی ہار مانی, آخر کو تھا تو ایک مرد ہی نا… شادی کو ابھی صرف دو سال ہی ہوۓ تھے, بیوی کے بنا کیسے گزارا کرتا… ؟ ایک بار پھر پروین اور کمال نے زور زبردستی اسے سسرال بھیج دیا, وہی معافی تلافی… وہی ترلے منتیں… اور سارہ واپس آ گئی
اب یہ تیسری بار ہوا تھا…
وہ واقعی دوپہر میں گھر نہیں آیا, پروین نے کال کی تو مصروف کر دی, حازم گھر آیا تو اس سے بھی کال کروائی… جواب ندارد
تھک ہار کر وہ دونوں میاں بیوی خود ہی شام کو حازم کے ساتھ اس کے سسرال جا پہنچے, ساحر آفس سے گھر آ گیا تھا, کافی دیر تو وہ دونوں خاموش سر جھکاۓ بیٹھے رہے
“وہ بے غیرت نہیں آیا جس نے آدھی رات کو اپنی بیوی گھر سے نکال باہر کی… ” ساحر کو انہیں دیکھتے ہی غصہ چڑھ گیا
“ساحر آ جاۓ گا وہ بھی… معافی بھی مانگے گا” پروین بس اتنا ہی کہہ سکیں
“بہن یہ کوئی طریقہ تو نہ ہوا نا… کیا ساری زندگی یونہی چلے گا, میں مانتی ہوں میاں بیوی میں جھڑپ ہو ہی جاتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوا کہ جب دل چاہا بیوی کو گھر سے نکال باہر کیا… اور جب دل چاہا دو ہاتھ جوڑ کر اسے واپس لے گیا” جمیلہ کو غصہ آ گیا
“بہن میں مانتا ہوں حسن کی غلطی ہے, وہ غصے کا ذرا تیز ہے لیکن… سارہ بھی ذرا سی بات پر گھر چھوڑ کر آ جاتی ہے, میری بات کا برا نہ منانا بیٹے لیکن دونوں برابر ہی ہیں… شوہر لاکھ جھگڑا کرے… بیوی آخر گھر کیوں چھوڑے… ؟” کمال صاحب نے کہا
“واہ انکل… شوہر کہے کہ میرے گھر سے دفع ہو جا اور بیوی ڈھیٹ بن کر وہیں کھڑی رہے… اپنا سر پھڑوانے کے لئے ” ساحر نے کہا
“چل بیٹا تھوڑی نرمی اختیار کر, حسن خود آۓ گا اسے لینے” کمال نے کہا
“انکل جی میری ایک بات کان کھول کر سن لیں… ابو میرے باہر ہوتے ہیں اور امی دل کی مریضہ ہیں, میں خود فیملی والا ہوں, چھوٹے دونوں ابھی بیاہنے والے ہیں… ہم نے ساری عمر بس سارہ کے مسئلے ہی حل کرتے رہنا ہے ؟ اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے ہمیں” ساحر برس ہی پڑا, وہ دونوں بالکل خاموش تھے
“انکل جی میری طرف سے دونوں سو دفعہ لڑیں… لیکن گھر کی لڑائی گھر تک رکھیں, وہ لڑائی ہر بار ہمارے گھر تک کیوں آتی ہے, سوچیں ہمارے دلوں پر کیا گزرتی ہے جب وہ آدھی رات کو روتی ہوئی یہاں آتی ہے, چلیں مان لیا کہ سارہ بھی غصے کی ذرا تیز ہے, برداشت کی حد جلدی پار کر لیتی ہے لیکن یہ بھی تو دیکھیں نا انکل کہ اس کی روٹین کتنی ٹف ہے, گھر, بچے, نوکری اور شوہر… ایسے میں اگر زیادہ بول بھی دیتی ہے تو وہ بے غیرت ذرا سی برداشت نہیں کر سکتا… ؟” وہ بولا
“ساحر بیٹے وہ کونسا سارا دن فارغ ہوتا ہے, صبح کا نکلا رات کو دس بجے گھر آتا ہے” کمال نے کہا
“تو کس پر احسان کرتا ہے… ؟ اپنے گھر, اپنے بچوں اور اپنی فیملی کے لئے کرتا ہے سب کچھ…” ساحر نے کہا
“چل بیٹے بس کر, میں نے کہا نا کہ حسن خود آۓ گا, معذرت کرے گا تم لوگوں سے تبھی سارہ کو واپس لیکر جاۓ گا” کمال نے کہا
“نہیں انکل… اب کی بار صرف معذرت نہیں, اب کی بار یا آر… یا پار, یہ روز روز کے تماشے ختم بس” ساحر نے کہا تھا
…………………….
وہ رات کو دس بجے گھر آیا, حسب معمول گاڑی کھڑی کر کے اندر آیا تو پروین سو چکی تھیں, کچن کے آگے سے گزرا تو وہ خالی تھا, حمنہ ٹی وی لاؤنج میں صوفے پر پڑی سو رہی تھی, یقیناً پروین نے اسے حسن کے آنے تک جاگنے کا کہا تھا لیکن وہ ہر شے سے بے خبر سو رہی تھی, وہ چپ چاپ کمرے میں آ گیا
ایک لمحے کو تو خالی کمرے نے منہ چڑایا تھا, لائیٹ جلا کر اس نے بیگ صوفے پر اچھال دیا
نہ بیوی نہ بچے… خالی کمرہ… بہت دیر تک وہ یونہی چت لیٹا پنکھے کو گھورتا رہا
پھر اٹھا, شاور لیا اور باہر نکل آیا
“او پوستی… اٹھ کے کھانا گرم کر ” اس نے حمنہ کو ہلایا تھا, پھر ڈرائینگ روم میں آ گیا, حاشر جاگ رہا تھا
“گئے تھے امی ابو…. ؟” اس نے پوچھا
“ہاں جی… ” وہ بولا
“پھر… ؟” وہ بولا
“پھر کیا… ؟ آپ کو بھی پتہ ہی ہے کہ پھر کیا ؟” حاشر نے کانوں سے ہینڈ فری نکال دیں, حمنہ کھانا لے آئی تھی
“تو ساتھ گیا تھا… ؟” اس نے پوچھا
“میں گیا تھا… ” حازم نے کہا
“ساحر تو پھٹ پڑا ہو گا ؟” وہ نہ جانے کیا اگلوانا چاہ رہا تھا
“اسے پھٹنا بھی چاہئیے حسن بھائی, رات کے بارہ بج رہے تھے جب وہ گھر سے نکلی ہیں, پانچ سالوں میں تیسری بار وہ گھر چھوڑ کر گئی ہیں” حازم نے کہا
“میں نے تو نہیں کہا تھا کہ چلی جاۓ… ” حسن نے کہا
“تو آپ نے روکا بھی تو نہیں… ” حاشر نے کہا, وہ بس سر جھٹک کر کھانا کھانے لگا, پھر کچھ دیر بعد اٹھ کر کمرے میں آ گیا, بستر پر لیٹتے ہی وہ پھر یاد آئی تھی
کاش… کاش کے اس لمحے وہ اس کے پہلو میں ہوتی, کتنا سکون اترتا اسے دونوں بانہوں میں سمیٹ کر… کتنی خوشگوار نیند آتی اس کے بالوں میں چہرہ چھپا کر… لیکن وہ نہیں تھی
کمرہ خاموش تھا… پوری پوری رات جگانے والے بچے بھی نہیں تھے لیکن… نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی
گھڑی کی ٹک ٹک بند کمرے میں گونجے جا رہی تھی, وہ کروٹیں بدل بدل کر تھک گیا, تبھی ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے سیل اٹھا لیا, بہت دیر وہ سارہ کے نام کو سکرین پر جگمگاتا ہوا دیکھتا رہا
اچانک میسیج کا نوٹیفیکیشن آیا تھا
“Hello…? “
وہ چونک گیا, انجان نمبر تھا
“Who? “
اس نے جوابی ٹیکسٹ کیا
“Forgot…??? “
جواب آیا تھا… حسن بس ساکت سا سکرین کو دیکھتا رہ گیا
اسے بھلا وہ کیسے بھول سکتا تھا
………………………
وہ دونوں بچوں کے فیڈر بھر کر اوپر آئی تو سیل بج رہا تھا, شام کا وقت تھا, اس نے سیل اٹھایا, حاشر کی کال تھی
“بھابھی نیٹ آن کریں, امی کہہ رہی ہیں انس سے بات کرنی ہے” وہ بولا, سارہ نے چپ چاپ نیٹ آن کر دیا, سبھی نے باری باری بچوں سے بات کی تھی, پروین نے کوئی پندرہ بیس منٹ اسے سمجھایا تھا, اسے بھی کونسا ان سے کوئی گلہ تھا… وہ روائتی ساس تو کبھی بھی نہیں رہی تھیں, بیٹے کے مقابلے انہوں نے ہمیشہ بہو کو ساتھ ہی دیا تھا
وہ چپ چاپ سنتی رہی, حاشر نے کچھ دیر بعد کال کاٹ دی, اس نے دونوں بچوں کو فیڈر دیا اور خود بھی ان کے ساتھ ہی لیٹ گئی
بہت دیر سوچ کر اس نے واٹس ایپ کھولا.. . حسن کی چیٹ کھولی, وہ آنلائن تھا, سارہ نے سوری ٹائپ کیا… پھر مٹا دیا, تبھی سکرین پر کسی انجان نمبر سے کال آنے لگی
“یہ کون ہے… ؟” وہ کچھ دیر سوچتی رہی پھر کال اٹینڈ کر لی
“ہیلو… ” مردانہ آواز سن کر وہ چونک گئی
“ہیلو… سارہ خان” آواز دوبارہ آئی تھی
“کون ؟” سارہ نے ہچکچاتے ہوۓ پوچھا تھا
“بھول گئیں… ؟” آواز پھیکا سا مسکرائی تھی, سارہ دم بخود رہ گئی
یہ آواز… یہ لحجہ… یکدم وہ بہت پیچھے چلی گئی تھی
“سارہ… ” وہ اسے پکار رہا تھا, سارہ بس دم بخود سی اسے سنے گئی
…………………….
گرمیاں شروع ہو گئی تھیں… کمروں میں حبس اور گھٹن محسوس ہونے لگی تھی, سارہ کے جانے کے بعد حمنہ کی تو جان جیسے عذاب ہو گئی تھی, پروین سے بمشکل ہی کچھ دیر کھڑا ہوا جاتا تھا… کچن حمنہ کے سر پڑ گیا, ابھی صد شکر کے ایک عدد کام والی مہیا ہو گئی تھی, اب بھی اس نے گلا پھاڑ پھاڑ کر سب کی چارپاییاں باہر نکالیں, حاشر اور حازم دونوں اوپر سوتے تھے
اس رات بھی حاشر نے اپنی ہینڈ فری اور پانی کی بوتل اٹھائی اور سیڑھیاں چڑھ گیا, حازم باہر صحن میں لیٹا تھا, آخری سیڑھی پر حاشر ٹھٹھک گیا, حسن اوپر تھا اور بڑے خوشگوار موڈ میں کسی سے بات کر رہا تھا, اس کے منہ سے” کرتی ہو… ” سن کر حاشر چونکا… وہ کسی لڑکی سے بات کر رہا تھا
“بھابھی تو نہیں ہو سکتیں…” حاشر نے اندازہ لگایا, حسن کی آواز بڑی مدھم سی تھی… ساتھ ساتھ وہ دھیمے سروں میں مسکرا بھی رہا تھا, وہ دبے قدموں اوپر آ گیا, حسن سیل کان سے لگاۓ چارپائی پر اوندھا پڑا تھا, اسے آتا دیکھ کر گڑبڑا گیا
“چلو میں بعد میں بات کرتا ہوں ” حسن نے کال ڈس کنیکٹ کرتے ہوئے کہا تھا
“بھابھی سے بات کر رہے تھے ؟” حاشر نے تکا مارا
“مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے اس چڑیل سے بات کرنے کی” حسن نے کہا
“پھر… گرل فرینڈ تھی ؟” وہ مسکراتے ہوئے اپنی چارپائی پر گرتے ہوئے بولا
“زبان تھوڑی کم چلایا کر… سمجھا” حسن اسے گھرک کر نیچے اتر گیا تھا
……………………….
