Muhabat Karna Tum Ese By Ayesha Zulfiqar Readelle50159

Muhabat Karna Tum Ese By Ayesha Zulfiqar Readelle50159 Last updated: 14 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Karna Tum Ese

By Ayesha Zulifqar

گھڑی کی سوئی جیسے ہی پانچ پر پہنچی, اس کا الارم بآواز بلند بج اٹھا تھا, ہڑبڑا کر اس نے نیند سے جھولتی آنکھوں کو بمشکل پھیلا پھیلا کر زیرو کے بلب کی روشنی میں اپنا موبائل ڈھونڈا اور الارم بند کر دیا, دائیں اور بائیں لیٹے دونوں بچے کسمسانے لگے تھے, دونوں کے منہ میں فیڈر دیا, تھوڑی دیر تھپکا اور اس تھوڑی دیر میں بیٹھے بیٹھے ہی نیند کے چار پانچ جھونکے لے کر اور مزے اڑا لئے, الارم دوبارہ بجا تھا, اس بار اس نے جھٹ سے بند کر دیا, انگڑائی لی اور بستر سے اتر گئی, بیڈ کے دوسرے سرے پر حسن دنیا و مافیہا سے بیگانہ ہوا سو رہا تھا وہ ایک بار پھر انگڑائی لیکر واش روم میں گھس گئی, وضو کیا, فجر کی نماز پڑھی اور کچھ دیر تلاوت کی, دو سالہ سندس پھر کسمسائی تھی, اس نے جلدی سے فیڈر بھر کر اس کے منہ میں دے دیا, فارغ ہو کر کچن میں آ گئی... رات کے گندے برتنوں سے سنک بھرا پڑا تھا, وہ انہیں دھونے میں لگ گئی, پھر آٹا گوندھا, اس کے سسر نماز کے فوراً بعد ہی دودھ لے آتے تھے, دودھ ابالتے ہوۓ اسے پھر سندس کے رونے کی آواز آئی تھی "سارہ... یار اسے تو چپ کراؤ" حسن بے سدھ ہوا پڑا تھا, کچھ دیر اسے تھپک کر وہ پھر کچن میں آ گئی, سالن گرم کیا, چاۓ بنائی اور لسی بنا کر باہر نکل آئی, گھڑی ساڑھے چھ بجا رہی تھی, اس کی دوڑ لگ گئی, جھاڑو پکڑی اور شروع ہو گئی, ا "جلدی کرو... جلدی" حسن ایک دم باہر نکلا تھا, وہ جب شاور لیکر باہر نکلی تو وہ جوتے پہن رہا تھا "بس پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس... " وہ اسے وارننگ دیتے ہوئے باہر نکل گیا, اسے ہزار باتیں سناتے ہوئے وہ جلدی جلدی تیار ہوئی اور اپنا بیگ اٹھا کر باہر نکل آئی, باہر ڈائننگ ٹیبل پر ایک معرکہ کارزار گرم تھا میری روٹی... میری بریڈ... میری لسی.... میری چاۓ حسن نے بس ایک نظر اسے دیکھا تھا گلابی سوٹ, گلابی دوپٹہ, گلابی جوتے, گلابی گال...اور گلابی ہونٹ وہ بس نظریں چرا گیا, سراہے جانے کا وقت نہیں تھاکمرے, برآمدہ, صحن... پھر کھرا دھویا, پھر سارے میں پوچا لگایا...کام والی پرسوں جواب دے گئی تھی"ماما... " اپنے پیچھے چار سالہ انس کی آواز سن کر وہ پلٹی