Mere Humsafar Mere Meherbaan By Ayesha Noor Readelle50276

Mere Humsafar Mere Meherbaan By Ayesha Noor Readelle50276

Last updated:

0.0(0 ratings)
Episodes
25
Views
103.6K
Status
—

About this novel

Mere Humsafar Mere Meherbaan

By Ayesha Noor

تین دن. یونہی گزر گئے عروج آفس نہیں آرہی تھی..
ولی نے بھی خود کو کام میں مصروف رکھنے کی ہوتی کوشش کی تھی..
وہ ابھی آفس میں بیٹھا ہوا تھا جب اقرا اسے فائل دینے آئی..
ولی یہ فائل.. ولی نے فائل تھامی اسکے ہاتھ سے..
جب وہ پلٹی تو ولی نے اسے آواز دے کر روک لیا..
اقرا.. ” مجھے تم سے بات کرنی ہے بیٹھو.. ”
تو وہ چپ چاپ بیٹھ گئی..
عروج کیسی ہے اور آفس کیوں نہیں آرہی.. ”
“آپ کو کیوں عروج کی فکر ہونے لگ گئی.. آپ اپنی وائف کی فکر کریں بس” وہ طنزیا بولی..
عروج کو اس طرح سے بات نہیں کرنی چاہیے تھی..” اسکی بھی تو غلطی ہے..
اور آپ نے جھوٹ بولا وہ ” آپکی غلطی بھی تو ہے..
میں نے جھوٹ نہیں بولا میں نے بس چھپایا تھا.. اور چھپانے کا مقصد کسی کو ٹریپ کرنا نہیں تھا.. ”
تو پھر کیا تھا ” اقرا بولی..
میرا ایک سال پہلے نکاح ہوا تھا نیلم سے بڑوں کی مرضی سے ہوا تھا.. میری ماما کی بھانجی ہے.. انہوں نے اسے پالا تھا.. انفیکٹ وہ میری بھی ماما نہیں تھی.. وہ ہماری ماں نہیں تھی بلکہ ماں سے بڑھ کر تھیں.. انکی خواہش تھی کہ میں نیلم سے نکاح کرلوں وہ چھوٹی تھی میں نہیں مانا اور ماما کی دیتھ ہوگئی.. کیا کرتا میں بڑوں کی مرضی کے آگے سر جھکانا پڑا اس بھیڑ جیسی دنیا میں میں اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا..
نیلم ابھی سٹڈی کررہی تھی.. اور میں اپنا اچھا کیرئیر بنانا چاہتا ہوں.. اس لیے میں ابھی اپنی شادی کو ایکسپوز کرنا نہیں چاہتا تھا وہ ابھی چھوٹی ہے اپنی پڑھائی مکمل کرلے.. پھر میں اسے سب کے سامنے لاؤں گا..
اسکے ساتھ رہتے ہوئے مجھے اس سے محبت ہونے لگی.. وہ میرے دل کے بہت کلوز ہے میں اس سے دور نہیں رہ سکتا اس دن کی وجہ سے اب تک ناراض ہے مجھ سے..
اور عروج کو لیکر میرے ایسے جذبات تھے ہی نہیں اگر ہوتے تو اس سے اسطرح کی کوئی بات کرتا اس سے پیار محبت کے کوئی دعوے کیے ہوتے..
” تم دوست ہو اسکی بتاؤ مجھے اگر یہ جذبات عروج کو مجھے لیکر تھے تو وہ بس اسکے ہی تھے میرے نہیں..”
وہ اقرا کو دیکھتے پوچھنے لگا..
اقرا نے بس نا میں سر ہلایا اور اٹھ کر چلی گئی وہاں سے..
وہ اپنی کرسی پہ آکر بیٹھی تھی..
” کیا کہہ رہا تھا وہ” عباس اسکے برابر میں بیٹھا بولا..
ہی از رائٹ.. وہ ٹھیک ہے اپنی جگہ عروج ہی اسکے پیچھے پاگل تھی.. کتنا سمجھایا تھا اسے میں نے مگر وہ نا مانی.. ” انکل کو بھی پریشان کیا ہوا ہے بس کمرے میں بند رہتی ہے.. نا ٹھیک سے کھاتی پیتی ہے بیمار ہوجائے گی..وہ فکر مند ہوئی عروج کے لئے..

 

 

Episodes

(Mere Humsafar Mere Meherbaan) Last Epi(pt.1)

صبح نیلم کی آنکھ نو بجے کھلی تھی وہ بیڈ پہ اکیلے لیٹی تھی ولی آفس جا چکا تھا..
وہ اس وقت ولی کی شرٹ پہنے ہوئے تھی..
رات کا حسیں منظر آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلا تھا.. تو شرما گئی..
کیسے ولی نے اسے خود میں سمو لیا تھا اپنی بے تابیوں اور شدتوں سے اسے باور کروا گیا اسکے آغوش میں گزارے ہوئے اپنی خوبصورت شب کے پل اسکی نئی زندگی کا آغاز اپنے ہمسفر کے سنگ..
اسکی شدتوں کو سہتے نڈھال سی ہوگئی تھی صبح پتا بھی نا چلا کب وہ اٹھا اور چلا گیا.. وہ بمشکل بیڈ سے اتری تھی اور واشروم میں بند ہوئی..
شاور لیکر فریش سی باہر آئینہ کے سامنے آئی اپنے آپ کو دیکھا تو خود کو دیکھنے لگی ولی اس پہ اپنا رنگ چڑھا چکا تھا آج وہ خود کو الگ ہی نظر آئ سنہری گیلے بالوں میں برش پھیرے سیدھا کئے..
کمرے سے باہر وہ پھپھو کے پاس آئی.. اسکا نکھرا نکھرا سا وجود دیکھ پھپھو مسکرائی.. وہ شرم سے نظریں جھکا گئی تھی..
ناشتہ بناؤں اپنی بیٹی کے لئے.. اس نے ہاں میں سر ہلایا تھا..
یہ موبائل ولی دے کر گیا ہے کہا تمہارا ہے” پھپھو نے اسکی طرف موبائل بڑھایا وہ وہی موبائل تھا جو اس دن ولی نے اسے دیا تھا دوبارا اس نے موبائل کو ہاتھ لگانے کی زحمت ہی نہیں کی..
پھپھو اسے موبائل دیے کچن میں چلی گئی..
ابھی وہ موبائل چلا رہی تھی جب موبائل رنگ ہونے لگا ولی نام جگ مگا رہا تھا اسکرین پہ..
ہچکچاتے موبائل کان کیساتھ لگا گئی..
ولی اپنے کیبن میں بیٹھا تھا.. نیلم کا خیال آیا سوچا اسکا حال چال کرلے صبح جلدی میں وہ آفس آیا تھا ..
عروج بھی تھی آج آفس میں.. مس عروج ولی سے بلو کلر والی فائل لے آئیں اٹس ارجنٹ.. ” سی او نے کہا تو اسے جانا پڑا ..
ابھی وہ اسکے پاس پہنچی تھی جو وہ چیئر کا رخ دوسری طرف موڑے فون پہ باتوں میں مصروف تھا.. وہ اسے بلانے والی تھی کے اسکی باتوں کو سنتے چپ ہوگئی..
تمہاری طبیعت ٹھیک ہے نا.. صبح جلدی میں تھا اس لئے تمہیں نہیں جگایا..
جی.. ٹھیک ہوں.. نیلم نے ہلکی سی آواز میں کہا..
اچھا.. رات کو تمہیں کچھ زیادہ ہی تنگ کردیا تھا..طبیعت ٹھیک ہے نا تمہاری ” وہ مسکراتا بولا..
ہہہم.. نیلم کے منہ سے مارے شرم کے کوئی الفاظ نکل نہیں رہے تھے..
تھینکس نیلم میری زندگی کو خوبصورت بنانے کیلئے.. آئی لو یو سو مچ.. “
مسٹر ولی باس فائل منگوا رہے تھے کائنڈلی آپ فائل دیں دے.. عروج سے مزید نا سنا گیا تو بول پڑی..
ولی ویسے ہی مڑا تھا.. موبائل کان کیساتھ لگا ہوا تھا.. فائل اٹھا کر اسکی طرف بڑھا دی..
عروج نے جلدی سے فائل لی اور تیزی سے نکلی تھی وہاں.. مارے ضبط کے چہرہ سرخ ہوا تھا..
ولی نے اپنی بات جاری رکھی نیلم کے ساتھ..
🥀🥀🥀
نیلم نے ولی سے بات کرکے فون کاٹ دیا تھا کہ پھپھو ناشتہ لیکر حا ضر ہوئی تھی..
بیٹا ایک بات سمجھ لو ولی تمہارا شوہر ہے اسکے اور اپنے درمیان کسی بھی غلط فہمی کو دور کرنا ہے ناکہ اسے بات کا پتنگڑ بنانا.. وہ تو ولی سمجھدار ہے جو تمہارے ساتھ نہایت سمجھداری سے چلا ہے.. تم ابھی چھوٹی ہو اسکی تمہیں سیکھنے میں وقت لگے گا کہ رشتہ کا کیسے سنبھالا جاتا ہے تمہارے سر پہ ذمہ داری کا بوجھ بہت جلدی پڑ گیا ہے.. مگر اب تم ایک بیوی کے مقام پہ فائز ہو تمہیں شوہر کے معاملے بہت حساس طریقہ سے چلنا ہے.. بے جا شک شوہر کو تم سے بد ظن کر سکتا ہے کوئی بھی بات ہو پہلے اسے خود بات چیت سے سلجھانا ہے.. شک رشتوں میں دراڑ ڈال دیتا ہے..
پھپھو نے بڑے طریقہ سے اسے سمجھایا تھا..
جی پھپھو اس نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا..
🥀🥀🥀
عروج اپنی کرسی پہ آکر بیٹھی تھی.. ولی کا اس طرح سے اظہار محبت کرنا کسی اور کے ساتھ اسکی برداشت سے باہر تھا.. اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی..
سر درد سے پھٹ رہا تھا ..
آر یو اوکے عروج ” اقرا اسکی حالت بولی تھی..
یار مجھے ولی چاہئے.. ” میں اسے کسی اور کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتی.. “
شٹ اپ ” اقرا کو غصہ آیا تھا اس پہ..
تمہیں ایک بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی ہے وہ تمہارا نہیں ہے..” میرڈ ہے اور اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے.. ” انکل سے کہتی ہوں شادی کروائے تمہاری جلد از جلد کسی سے بھی. ” وہ اس پہ غصہ کرتی بولی..
تم نہیں سمجھ سکتی میرے جذبات کو تمہیں تو تمہاری
محبت مل گئی ہے.. وہ اداسی سے بولی تھی..
اقرا نے نفی میں سر ہلایا مزید اسکی بات کوئی جواب نہیں دیا..
🥀🥀🥀🥀
ولی عروج کے بارے سوچ رہا تھا جب وہ کال پہ بات کررہا تھا تو اسنے اسکی باتیں سنی تھی.. اور اسکے چہرے سخت تاثرات بتا رہے تھے کہ اسنے اسکی باتیں سن لی ہیں..
وہ سوچ رہا تھا اپنے اور نیلم کے آنے والے مستقبل کے بارے میں وہ کسی تیسرے بندے کو اپنے درمیان نہیں برداشت کرے گا.. اس لیے اس نے اپنے لیے نئی جاب تلاش کرنے کا فیصلہ کیا…
🥀🥀🥀
شام کو ولی جلدی گھر آیا تھا..
اسلام علیکم پھپھو..
وعلیکم السلام ” جیتے رہو..
ولی نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائیں.. پھپھو سمجھ گئی وہ نیلم کو ڈھونڈ رہا..
نیلم کمرے میں ہے.. ” پھپھو نے مسکراتے کہا ..
اچھا میں چینج کر کے آیا.. ولی اٹھ کر کمرے میں آگیا..
نیلم شیشہ کے سامنے اپنے بال بنا رہی تھی پھپھو کے مطابق اسے شوہر کے آنے سے پہلے تیار رہنا چاہئے اسی بات پہ عمل کرتی اس نے مہرون رنگ کی فراک پہنی تھی ہلکا سا میک اپ کئے.. اب اپنے سنہری بالوں کو سلجھا رہی تھی جب ولی نے پیچھے سے اسے بانہوں میں بھرا تھا..
ایک دم سے وہ گھبرائی مگر ولی کا لمس پاتے پرسکون ہوئی شرمیلی سی مسکان چہرے پہ آئی تھی..
ولی نے اسکے بالوں میں منہ چھپایا تھا.. اسکے وجود سے اٹھتی بھینی بھینی سی مہک اسے محسور کررہی تھی ..
اسکا رخ اپنی طرف موڑ لیا تھا ماتھے سے اسکا ماتھا ٹیکاتے..
مائے سویٹ ہارٹ ایک ہی دل میرا.. ہر بار تم پہ ہی آجاتا ہے..
شریر سے لہجہ میں کہتا اسکے ماتھے محبت کی ثبت کی تھی..
آپ چینج کرلیں.. چائے لاؤں آپکے لئے.. فرمانبردار بیویوں والا رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا..
نہیں میں چینج کرتا ہوں اور ہم باہر چلتے ہیں ..
ولی اسکی گال پہ بوسہ دیتے واشروم چلا گیا..
دونوں ایک ساتھ تیار کمرے سے باہر نکلے تھے..
پھپھو نے انہیں ایک ساتھ دیکھ دعائیں دی کتنے خوبصورت لگ رہے تھے دونوں ایک ساتھ..
پھپھو ہم باہر جا رہے ہیں آپ بھی چلیں نا ہمارے ساتھ..
ولی انکے سامنے آتا خوش اخلاقی سے بولا..
ارے نہیں بیٹا مجھ سے کہاں چلا جائے گا تم دونوں جاؤ.. یہ تمہارے دن ہیں گھومنے پھرنے کے.. انہوں خوش ہوتے کہا.. اور ولی نیلم کا ہاتھ تھامے باہر کی طرف چل دیا..
آج نگہت بہت خوش ہوگی اسکے دونوں بچے آپس میں خوش اور راضی ہیں.. بلقیس نگہت کو یاد کرتے آبدیدہ ہو گئیں..
🥀🥀🥀
عروج مجھے لگتا ہے تم سائیکو ہوگئی ہو..
جب وہ تم سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھنا چاہتا کیوں اسکے پیچھے پڑی ہو..
اقرا اسکے پاس بیٹھتی بولی.. وہ اس وقت اسکے گھر تھی..
اقرا وہ میری محبت ہے کیسے دستبردار ہوجاؤں میں اس سے..
تم پاگل ہو” اقرا بولی..
ہاں میں پاگل ہوں جو ابھی بھی اس سے پیار کرتی ہوں.. وہ دیوانہ وار بولی..
اقرا چڑ گئی تھی اسکی باتوں سے تو اب..
یہ تمہاری محبت نہیں ضد ہے سچ تو یہ کہ تم ولی سے ضد لگا بیٹھی ہو بس.. ” وہ کہتی رکی نہیں تھی..
عروج کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے اب..
🥀🥀🥀
وہ اسے لئے ساحل سمندر میں آیا تھا شام کا وقت تھا ٹھنڈی ہوا بہت بھلی لگ رہی تھی ولی اسکا ہاتھ تھامے ساحل پہ چل رہا تھا..
نیلم تم نے میری زندگی کو نئی رونق بخش دی ہے.. بہت ٹوٹ چکا تھا میں.. پہلے ماما پاپا ایک ساتھ چھوڑ کر چلے گئے.. پھر دادا پھر ہمیں پالنے والے ماما بابا..
ماما کے جانے سے بہت ٹوٹ گیا تھا..
تم سے نکاح کرنے کے بعد تمہارے لئے کچھ اور ہی سوچا تھا میں نے مگر تمہارے ساتھ رہتے ہوئے دل تمہارا گرویدہ بنا.. تمہاری قربت میں سکوں ملا مجھے.. تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنے کے بعد خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ تم جیسا لائف پارٹنر ملا مجھے.. بس تھوڑی سی نکمی ہے.. باقی سب ٹھیک ہے.. آخری بات اس نے شرارت سے کہی اسے دیکھتے..
نیلم نے اسے آنکھیں دکھائیں..
مگر پھر اسکے کاندھے کے ساتھ سر ٹکا لیا..
ولی آپ نے مجھے عزت دی ہے مان دیا ہے.. سچ تو یہ ہے کے ماما کے جانے سے میں بھی بہت ٹوٹ گئی تھی مگر آپ نے بہت حوصلہ دیا ہے آپ ہی کی وجہ سے میں مجھے زندگی جینے کا حوصلہ ملا.. آپ کے ساتھ میں کو بھی برداشت نہیں کرسکتی مجھ میں حوصلہ نہیں. آپکو کھو دینے کا..
آئی لو یو ولی.. ” بڑے ہی معصومیت سے اظہار کیا تھا نیلم نے..
ولی کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھری تھی ولی نے اسکی رخسار پہ بوسہ دیا اور اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا..
🥀🥀🥀
رافع نے ولی سے رابطہ کر کے ارمان کے بارے میں سب ڈیٹیل لی..
اور پھر ولی کے ساتھ ارمان سے ملاقات کی بھی ارمان نے رافع کو ہر طرح سے مطمئن کردیا تھا..
پھر اسے اپنے گھر مدعو کیا کہ وہ باقاعدہ رشتہ لیکر آئے..
ہر طرح سے تسلی کرنے کے بعد انہوں نے رشتہ کے لئے ہاں کردی..
🥀🥀🥀
مبارک ہو تمہیں تیری بات پکی ہوگئی..
ارمان اس وقت ولی کے گھر تھا.. ولی نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے خوش ہوتے کہا..
نیلم جلدی چائے اور کچھ کھانے پینے کو لاؤ ارمان آیا ہے..
نہیں یار سسرال والوں نے ہی پیٹ بھر دیا میرا.. ارمان بولا..
اب تو پہلی بار آیا ہے میرے گھر کچھ تو لینا پڑے گا نا.. ولی ہنستے بولا..
ہاں وہ تو ٹھیک ہے مگر میرے سسرال والوں نے ٹھیک نہیں کیا میرے ساتھ لڑکی نہیں دکھائی انہوں نے.. وہ دہائی دیتا بولا..
تھوڑی دیر بعد نیلم کچن سے باہر آئی ہاتھ میں ٹرے پکڑے..
ارمان نے جب نیلم کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا وہ جب چھوٹی سی تھی تب بھی اتنی خوبصورت تھی اب تو وہ پہچان میں بھی نہیں آ رہی تھی..
لال کلر ہلکا کام والا سوٹ پہنے سر پہ دوپٹہ ٹکائے لال گلابی رنگت نیلی آنکھیں.. وہ کوئی پری ہی لگی تھی ارمان کو..
اسلام علیکم ارمان بھائی.. ” نیلم نے مسکراتے کہا
وعلیکم السلام.. ماشاللہ چھوٹی سی تھی نیلی اب دیکھو پہچان میں بھی نہیں آ رہی.. ارمان بولا.. تو وہ دونوں مسکرائے..
یہ جلاد تو خون سکائے رکھتا تھا تمہارا اب تو ٹھیک ہے نا.. ارمان نے ہنستے کہا..
اب یہ بہت اچھے ہیں.. نیلم نے معصومیت سے کہا..
نیلم یار تمہاری دوست نہیں ملی اسے اچھا نہیں کیا.. ولی نیلم سے بولا..
وہ اس لئے کے ارمان بھائی ابھی اجنبی ہیں.. صرف بات ہی پکی ہوئی ہے اور وہ لوگ اس معاملے میں زرا سخت ہیں.. نیلم نہایت سمجھداری سے جواب دیا..
بات تو ٹھیک کی ہے نیلم نے ولی نے بھی اسکی سائیڈ لی..
چل بات تو پکی ہوگئی ہے اب جلد از جلد نکاح کی بات کرو ان سے میری.. ارمان نے کہا..
اتنی جلدی.. نیلم بولی
یار مجھے اگلے مہینے واپس جانا ہے اور میں اکیلا نہیں جاؤں گا..” پلیز اتنا کردیا ہے تو آگے بھی کردے ..ارمان منتیں کرتا بولا اور مسکین سی شکل بنا لی نیلم کو تو ہنسی آئی تھی..
چلیں آپ لوگ کریں باتیں میں کرن کے پاس جا رہی ہوں ” نیلم کہتی چلی گئی وہاں سے
کچھ دیر بعد وہ کرن کے پاس بیٹھی تھی..
اور سناؤ پھر ہوگئی بات پکی تمہاری بھی.. نیلم کرن کو چھیڑتے بولی..
ہاں ہوگئی.. “
لڑکا کیسا ہے دیکھا تم نے” نیلم نے جان بوجھ کر کہا جبکہ اسے پتا تھا..
نہیں دیکھا نا بھائی نے منع کیا تھا ابھی سامنے نہیں آنا..
میں نے چھپ کر دیکھ نے کی کوشش کی مگر پھر بھی نہیں دیکھ پائی بس بیک ہی دیکھ سکی” وہ افسوس سے بولی..
اچھا نام کیا ہے ہمارے جیجو کا” نیلم نے اسے دیکھتے مسکراتے کہا جو نام کے نام سے شرما گئی..
ارمان نام ہے.. تمہیں یاد ہے ارمان ولی بھائی کے دوست بھی تھے..
کون ” مجھے یاد نہیں آ رہا ” وہ سوچنے کی ایکٹنگ کرتی بولی..
یاد کرو نا جنہیں ولی بھائی نے گھر سے نکال دیا تھا..”
کرن نے اسے یاد کروانے کی کوشش کی
ہاں ہاں آ گیا یاد وہ ارمان بھائی تمہیں یاد ہے” نیلم اسکے سامنے بنتی بولی..
ہاں یاد ہے .. مجھے وہ بھولے نہیں .. دل میں کہیں نا کہیں انکے آنے کا انتظار تھا.. وہ نا سہی کوئی اور سہی” سب بات قسمت کی ہے ” وہ ارمان کو یاد کرتی بولی جبکہ وہ ابھی تک اس بات سے انجان تھی کہ یہ ارمان وہی شخص ہے..
تم واقعی لکی ہو کرن یہ والے ارمان بھی تمہیں پسند آئیں گے” نیلم مسکراتی بولی..
🥀🥀🥀
اگلے دن ولی نے ارمان کا پیغام انہیں پہنچا دیا کہ.. شادی اگلے مہینے کرنی ہے کیونکہ ارمان واپس چلا جائے گا اور ساتھ میں کرن کو بھی لے جائے اس لئے وہ اگلے ہفتہ نکاح کرلیں تاکہ کرن کے باہر جانے کیلئے پیپرز بنوالے گا پندرہ دن کے اندر..
ایک دن کے سوچ بچار کے بعد انہوں نے ہاں کردی نکاح کیلئے..
🥀🥀🥀
ولی پلیز میری بات سن لیں ” ولی استعفیٰ دے کر آج آفس سے جارہا تھا آج اسکا اس آفس میں آخری دن تھا..
عروج سے برداشت نا ہوا تو اسکے پیچھے دوڑی جب وہ باہر نکل رہا تھا..
جی مس عروج ” وہ اسکی طرف پلٹا اور سرد سے لہجہ میں بولا..
آپ میری وجہ سے یہ جاب چھوڑ رہے ہیں..” وہ دکھ سے بولی
میرا یہاں سے چلے جا نا ہی بہتر ہے ” کیونکہ آپ اس طرح اپنی لائف میں آگے نہیں بڑھ پائیں گی.. پلیز اپنے بابا کا سوچیں انہیں کیوں تکلیف دے رہی ہیں اپنی بے جا ضد کو چھوڑ کیوں نہیں دیتی “
وہ اسے سمجھانے کی کوشش کرتا تحمل سے بولا..
بہت کوشش کی ہے خود کو سمجھانے کی مگر مجھ سے نہی. ہوتا برداشت پلیز ولی مجھے چھوڑ کر مت جاییں” وہ اسکی منتیں کرنے لگی..
اور ولی اسکو اسکے حال پہ چھوڑ کر چلا گیا..
🥀🥀🥀
آج کرن کا نکاح ہے سب تیاریاں مکمل ہے..
گھر میں نکاح کا ایونٹ تھا آنگن میں ہی سجاوٹ کی گئی تھی پھولوں کی اور سامنے صوفہ رکھا گیا تھا..
کرن دلہن بنی تیار بیٹھی تھی اس وقت کمرے میں گھر میں تمام رشتہ دور موجود تھے اور اسکی کزنز بھی آئی ہوئی تھی کرن کو سب سے زیادہ انتظار نیلم کا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی.. کچھ دیر بعد لڑکے والے کے آنے والوں کی اطلاع ملی..
لڑکے والے آگئے ” ایک لڑکی وہاں کہتی آئی..
ارمان کیساتھ ولی اسکی پھپھو.. نیلم اور کچھ دوست حضرات اور بھی تھے.
نیلم کرن کے پاس آئی جلدی..
واؤ کتنی پیاری لگ رہی ہو.. ” آف وائٹ فراک پہنے ساتھ ریڈ دوپٹہ لئے ہلکی سی جیولری پہنے نفیس سا میک اپ کئے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی..
جاؤ میں نہیں کرتی بات تم سے اب آئی ہو ” کرن ناراض ہوتی بولی..
سوری مگر میرے پاس سرپرائز ہے تمہارے لئے.. ” نیلم اسکے پاس بیٹھتی بولی..
کیسا سرپرائز” کرن بولی..
کچھ دیر بعد دکھاؤں گی.. ابھی وہ باتیں کررہے تھے جب رافع مولوی صاحب اور ولی اور ساتھ میں کچھ بڑے بزرگ تھے..
نیلم کرن کے دوسری سائیڈ بیٹھ گئ اور نکاح پڑھانا شروع کیا مولوی صاحب نے.. پہلے کرن سے ایجاب و قبول کیا اور پھر یہی عمل ارامان کے ساتھ دہرایا گیا..
اور یوں دونوں نکاح جیسے خوبصورت بندھن میں منسلک ہوگئے..
کرن بہت گھبراہٹ کا شکار تھی.. دل کی دھڑکن تیز ہی یو رہی تھی.. جیسے جیسے اپنے دلہے سے ملنے کا وقت قریب آ رہا تھا..
تھوڑی ہی دیر آرڈر ملا کے دلہن کو باہر لایا جائے..
چلو کرن تمہارا سرپرائز تمہارے دلہے میاں ہیں.. نیلم اسکا بازو تھامے آہستگی چلتے ہوئے اسے کمرے سے باہر لائی تھی.. باہر آنگن میں جہاں تمام مہمان موجود تھے.. سامنے صوفہ پہ ارمان براجمان تھا وائٹ کاٹن کا سوٹ پہنے ساتھ بلیک ویسکوٹ پہنے ہوئے ہینڈ سم لگ رہا تھا.. اسکے ساتھ ولی بھی کھڑا تھا اس وقت وہ بھی وائٹ کاٹن کا سوٹ پہنے ہوئے..
کرن نے جھکی نظریں اٹھائی تھی سامنے اپنے دلہے کو دیکھ دنگ رہ گئی.. سامنے ارمان کھڑا تھا..
یہ تو وہی ارمان ہے ولی بھائی کے دوست.. کرن نے ہلکی سی آواز میں نیلم سے کہا..
ہاں.. کیسا لگا سرپرائز.. نیلم نے اسکے کان قریب ہوتے کہا.. وہ بھی اس وقت اوف وائٹ لانگ فراک پہنے ہوئے تھی کانوں میں بھاری آوازے ہلکا سا میک اپ کئے ہوئے بہت پرکشش نظر آرہی تھی..
آہستہ آہستہ چلتے وہ اسکے قریب آئی.. کرن کو ارمان کے ساتھ ارمان کے ساتھ بٹھایا گیا.. وہ تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر بیٹھی تھی.. جسے ارمان نے کھسکتے ختم کردیا..
کیسی ہو جان من.. ارمان اسکے کان کے قریب سرگوشی کی.. وہ پہلے ہی اتنا گھبرا رہی تھی.. تھوڑا سا چہرہ موڑ کر اسکی جانب دیکھا تھا ا.. اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا اس نے اپنی محبت پا لی ہے.. ان دونوں کے درمیان ایسی کوئی بات بھی نہیں ہوئی تھی مگر انکا رشتہ دل کا تھا..
شرم سے نظریں جھکا گئی..
وہ اسکی بے باک سرگوشیوں سے اسکا چہرہ گلنار ہوا تھا.. پھر موقع کا فائدہ اٹھاتے ارمان نے اسکا ہاتھ تھام لیا تھا..
چھوڑے کوئی دیکھے گا تو کیا کہے گا.. ہلکی آواز میں اپنا ہاتھ چھڑاتے بولی..
تو ارمان نے چھوڑ دیا.. لوگوں کا بہانہ ہے زرا آؤ تو سہی میری دسترس میں پھر نہیں چھوڑوں گا.. اسکے گال دھک اٹھے تھے اسکی معنی خیزی سرگوشی سے..
کھانے کا دور شروع ہوا پھر سب مہمان اپنے گھر کو ہوئے رات کافی ہو رہی تھی..کرن بھی اٹھ کر کمرے میں آگئی تھی..
سب سے ملتےارمان بھی وہاں نکلا تھا..
نیلم کرن کے پاس بیٹھی..
اور سناؤ کیسا لگے پھر ارمان بھائی.. وہ شرارت سے بولی..
تمہیں پہلے سے پتا تھا نا” وہ اسے آنکھیں دکھائی بولی..
ہاں پتا تھا تمہارا رشتہ ارمان بھائی کیلئے میں ہی تو لائی تھی.. وہ ہنستے بولی..
کتنی وہ ہو تم اور مجھے بتایا بھی نہیں.. وہ حیرت اور خفگی سے بولی..
ارمان بھائی ایک مہینہ پہلے پاکستان آئے تھے تم سے شادی کرنے کے لیے ولی سے رابطہ کیا اور پھر انہوں مجھے تمہارے گھر بھیج دیا.. اور پھر آگے کی کہانی تمہیں پتا ہے..
نیلم کو ولی نے پیغام بھیجا کے باہر آجائے گھر جانا ہے..
تو وہ کر باہر چلی گئی..
کرن کا اب بھی یقین نہیں آ رہا تھا.. اسکا ہمسفر اسکا ارمان ہوگا جسے دل ہی دل میں وہ یاد کرتی تھی

Similar Novels

You may also like these novels.

Enjoying this novel?

Tap a star to share your rating

Choose a rating from 1 to 5 stars

Choose your rating

0.0 / 5 · 0 ratings

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

age differenceForced marriagelove story basedRomantic Urdu Novels