Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab-E-Junon (Episode 16)

Khuwab-E-Junon By Umme Hania


اگلے ہی روز صبح ہی صبح بالاج اور صلہ بنا کسی کے موڈ کی پرواہ کئے ناران کاغان ہنی مون کے لئے جا چکے تھے۔۔۔ بیٹے کی بغاوت دیکھ ناہید بیگم کے دل کو دھڑکا لگ گیا تھا۔۔۔ وہ اس لڑکی کے پیچھے اپنا اکلوتا بیٹا نہیں کھو سکتیں تھیں ۔۔ صلہ کے ہنی مون پر جاتے ہی وہ دونوں بہنیں بھی اپنے سسرال چلی گئ۔۔۔
صلہ بالاج کی سنگت میں خوش تھی۔۔۔ بہت خوش۔۔۔ بس یہ اسکے سسرالی رشتے اسکی جان کے ساتھ نا چمٹے ہوتے تو وہ اپنے خوابوں کی زندگی گزارتی۔۔۔ لیکن حقیقت یہ ہی تھی کہ وہ چاہ کر بھی ان رشتوں کو نظر انداز نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
اسنے تو بس محبت کی تھی اور محبت کے سنہرے پنجرے میں اسنے زندگی کی ان تلخیوں کے بارے میں تو سوچا بھی نا تھا جو اسکی خوشیوں کو گن کی طرح کھا رہی تھیں۔۔۔۔۔ بالاج تپتی دوپہر میں بادصبا کا جھونکا تھا تو اسکے سسرال والی آتش فشاں۔۔۔ ان سب کے بارے میں تو سوچ کر بھی اسکی ڈھرکنیں تیز ہونے لگتیں تھیں۔۔۔ وہ کہاں جانتی تھی لڑائی جھگڑا یا ایک دوسرے پر طنز کے تیز برسانا۔۔۔ ان سب چیزوں کی سوچ ہی اسے سہما دیتی تھی۔۔۔ لیکن فلحال بالاج کی سنگت میں وہ کوئی بھی منفی بات سوچ کر اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اس وقت وہ خوش تھی اور خوش رہنا چاہتی تھی۔۔۔
*****
عفرا کا ہاتھ تو اتنا نہیں جلا تھا البتہ پاوں پر آبلے سے بن گئے تھے لیکن اسکے باوجود وہ چل پھر رہی تھی اور خالہ کے ڈانٹنے اور خفا ہونے کے باوجود رات کا کھانا اسی نے تیار کیا تھا۔۔۔ امان کچھ دیر تک گھر رکنے کے بعد پھر سے کہیں چلا گیا تھا دوبارہ اسکی واپسی کب ہوئی وہ نہیں جانتی تھی لیکن رات کا کھانا کھانے کے بعد عفرا وہیں خالہ کے پاس انکے کمرے میں ہی سو گئ۔۔۔
صبح اسکی آنکھ حسب سابق فجر کی پہلی اذان کیساتھ ہی کھل گئ تھی۔۔۔
نماز ادا کرنے کے بعد اسنے قرآن پاک کی تلاوت کی اور کمرے سے باہر نکل آئی۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ اس وقت امان مارنینگ واک کے لئے جاتا ہے یہ اسکی سالوں پرانی عادت تھی۔۔۔ وہ اپنی صحت کے ساتھ کوئی کمپرومائز نہیں کرتا تھا۔۔۔۔ اسکے علاوہ وہ اپنے اصولوں کا پکا تھا۔۔۔ غلطی ہوتی تو جلد مان لیتا اور غلط بات پر کسی کی بھی پرواہ کئے ڈٹ جاتا۔۔۔ وہ یہ سب اچھے سے جانتی تھی اور اسکی غیر موجودگی کے باعث بے ڈھرک اپنے کمرے میں چلی آئی۔۔۔ وہ فلحال امان سے سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اسی لئے اسکی غیر موجودگی میں ہی اپنے سبھی کام مکمل کر لینا چاہتی تھی۔۔۔
اسنے بعجلت امان کے کپڑے نکال کر استری کرنا شروع کئے۔۔۔ یہ سب اب اسکے ذمہ تھا جسکے لئے کسی کو بھی اسے کہنے کی ضرورت نا تھی وہ اپنے فرائض باخوبی جانتی تھی۔۔۔غصہ ناراضگی گلے شکوے سب اپنی جگہ لیکن وہ اپنے فرائض کی ادائیگی سے انکاری نا تھی۔۔۔ کپڑے استری کر کے اسنے امان کے جوتے نکالے پھر گھڑی والٹ چابیاں رومال غرض اسکی ضرورت کا سبھی سامان نکال کر وہیں سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا اور اپنا ضروری سامان نکال کر کمرے سے نکل گئ۔۔۔
امان کے آنے میں ابھی بھی پانچ منٹ باقی تھی۔۔۔ واک سے آتے ہی وہ فریش جوس لیتا تھا۔۔۔ وہ واپس کچن میں آئی فریج کھولا جس میں آج صرف سٹرابری ہی موجود تھی۔۔۔ اسنے سٹرابری نکال کر سٹرابری شیک بنایا اور شیک کا جگ اور گلاس باہر لا کر گول میز پر رکھا۔۔۔ دفعتاً باہر سے گیٹ وا ہونے کی آواز آئی صلہ نے بے ساختہ وال کلاک کی جانب دیکھا آج وہ اپنے مقررہ وقت سے دس منٹ لیٹ تھا۔۔۔ اسکے اندر آنے تک وہ خالہ کے کمرے میں جا چکی تھی۔۔۔
اندر آتے ہی امان کی نظر میز پر پڑے جوس کے جگ پر پڑی۔۔۔ روازنہ یہ کام ماں سر انجام دیتی تھی آج یہ کام کس نے کیا تھا وہ اچھے سے جانتا تھا۔۔۔ اس سے پہلے بھی وہ جب بھی اس گھر میں آتی نزہت بیگم کو کسی کام کو ہاتھ نا لگانے دیتی تھی۔۔۔ وہ اسکی اس عادت سے باخوبی واقف تھا۔۔
وہیں میز کے پاس موجود کرسی گھسیٹ کر بیٹھتا جوس گلاس میں انڈیل کر جوس پینے لگا۔۔۔
*****
امان اور ماں چھوٹی گول میز کے گرد بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔۔۔ عفرا کچن سے ساتھ کی ساتھ گرما گرم پڑاٹھے بنا بنا کر انہیں دیتی جا رہی تھی۔۔۔ امان ناشتہ کرتا ایک چور نگاہ اس پر بھی ڈال لیتا جو پورے انہماک سے اپنے کام میں مشغول تھی۔۔۔ امان نے اسکا تفصیلی جائزہ لیا وہ اس وقت میروں کلر کی ایمرائڈری شرٹ کے ساتھ سکن کیپری زیب تن کئے بالوں کی اونچی پونی بنائے آنچل شانوں پر پھیلائے میک آپ سے مبرا چہرا لئے منہمک سی اپنے کام میں مشغول تھی۔۔۔ امان کو اسکی یہ ہی عادت بہت اچھی لگتی تھی کہ جو بھی کام کرتی مکمل یکسوئی سے کرتی تھی۔۔۔
دفعتا وہ آخری پڑاتھا لا کر وہاں رکھتی خود بھی وہیں امان کے مقابل کرسی کھینچ کی بیٹھتی ناشتہ کرنے لگی۔۔۔
وہ خالہ دراصل میں سوچ رہی تھی کہ آج امی کی طرف چکر لگا لوں۔۔ انکی بہت یاد آ رہی ہے۔۔۔ ناشتہ کرتے وہ پست سی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔
ہاں ہاں بیٹا کیوں نہیں۔۔۔ ضرور جاو۔۔۔ بلکہ تم جلدی سے ناشتہ ختم کرو امان ہی تمہیں جاتا ہوا چھوڑ جائے گا اور شام میں واپسی پر لیتا بھی آئے گا۔۔۔
خالہ نے مسکراتے ہوئے اسکے مسلے کا حل پیش کیا۔۔۔
لیکن ماں مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔ میں نے کسی سے ملنا ہے اور میری یہ میٹنگ بہت ضروری ہے۔۔۔
ابھی وہ پوری طرح سے خوش بھی نا ہوئی تھی کے امان کے صاف انکار پر اسے دیکھنے لگی۔۔۔
ماں نے امان کو گھورتے آنکھوں ہی آنکھوں میں تنبیہہ کی۔۔۔
جاو بچے ناشتہ کر لیا ہے تو اندر سے اپنی چادر لے آو۔۔۔ خالہ کے کہنے پر وہ فوراً سے اٹھی ناشتہ وہ تقریباً کر ہی چکی تھی۔۔۔ وہ امان کے انکار کو انا کا مسلہ بنا کر موڈ ضرور بناتی اگر بات یہاں ماں سے ملنے کی نا ہوتی تو۔۔۔
ماں ایسے مت دیکھیں میں مذاق نہیں کر رہا واقعی میرا وقت پر پہنچنا بہت ضروری ہے۔۔۔ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے اس شخص سے ملنے کے لئے میں اپائمنٹ لے رہا تھا اور بلآخر آج مجھے وہ موقع ملا ہے۔۔۔ اندر جاتے اسے امان کی جھنجھلائی سی آواز سنائی دی۔۔۔
اسنے پھرتی سے چادر اٹھا کر اوڑھی اور ہینڈ بیگ کی زپ کھول کر موبائل اندر رکھنے لگی۔۔۔
اب آ بھی چکو عفرا مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔ وہ باہر کھڑا براہ راست اسے پکار رہا تھا۔۔۔
عفرا نے بیگ کی زپ بند کر کے بیگ کندھے پر لٹکایا اور بھاگم بھآگ باہر کو بھاگی۔۔۔
خالہ سے پیار لے کر وہ باہر کو بھاگی جہاں وہ بائیک سٹارٹ کئے اسکا منتظر تھا۔۔۔
*****
آپ اندر نہیں آئیں گئے۔۔۔ امان نے بائیک اسکے گھر کے سامنے روکی تو وہ بائیک سے اترتی مستفسر ہوئی۔۔۔
بہت لیٹ ہو رہا ہوں عفرا شام میں تمہیں لینے آوں گا۔۔۔ اسکے ہر ہر انداز میں عجلت تھی۔۔۔
تھوڑی دیر کے لئے آ جائیں پلیز۔۔۔ کھڑے کھڑے ہی واپس چلے جائیے گا۔۔۔ امی کی تسلی ہو جائے گی پلیز۔۔۔ وہ ہنوز وہیں کھڑی انگلیاں چٹخاتی منمنائی۔۔۔
مجھے واقعی دیر ہو رہی ہے عفرا۔۔۔ وہ جھنجھلایا۔۔۔
پلیززز۔۔۔ وہ ہنوز کھڑی آس بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی اسکی آنکھوں میں ہلکی سی چمکتی نمی کو دیکھ وہ بے بسی سے سر پر ہاتھ پھیرتا بائیک سے اترا۔۔۔
چلو۔۔۔
اسکے اترتے ہی وہ جیسے کھل اٹھی اسنے مسکرا کر گیٹ کھولا اور چہکتی ہوئی اندر بڑھی۔۔۔ کھلا گیٹ دیکھ اسے تھوڑی سی حیرانی ہوئی مگر وہ نظر انداز کرتی اندر بڑھ گئ۔۔۔
امی۔۔۔۔ امی۔۔۔۔ امی کہاں ہیں آپ۔۔۔
اسنے لاوئنج سے ہی ماں کو آوازیں دینا شروع کیں۔۔۔
لیکن جب کہیں سے بھی ماں کی آواز نا آئی تو وہ پریشانی سے امان کو دیکھتی ماں کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
ماں۔۔۔ ماں کو دیکھتے ہی وہ دھک سے رہ گئ۔۔۔ وہ بستر پر نیم غنودہ سی لیٹی تھیں۔۔۔ ماں۔۔۔ اسنے آگے بڑھ کر ماں کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔
ماں آپکو تو بہت تیز بخار ہے۔۔۔ اسنے جتنی تیزی سے انکے ماتھے پر ہاتھ رکھا تھا اسی تیزی سے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔۔۔ آپ نے مجھے بتایا تک نہیں ماں۔۔۔ ایک فون تک نہیں کیا میں بھی کہوں مجھے اتنی بے چینی کیوں ہو رہی ہے۔۔۔ وہ ماں کو دیکھتی رو دی جو غنودہ سی حالت میں لیٹیں اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
میں ٹھیک ہوں بیٹا۔۔۔
نہیں آپ ٹھیک نہیں ہیں خالہ ۔۔۔ عفرا ٹھیک کہہ رہی ہے آپکو بتانا چاہیے تھا۔۔۔ کم از کم ایک فون تو کر دیتیں۔۔۔
چلیں اٹھے ہم ابھی چلتے ہیں دوائی لینے۔ عفرا خالہ کی چادر لاو۔۔۔
امان پریشانی سے انہیں دیکھتا آگے بڑھا اور خالہ سے کہنے کے بعد عفراپ سے مخاطب ہوا۔۔۔ بیٹا میں ٹھیک ہوں میں نے دوائی کھائی ہے۔۔۔ وہ نحیف سی آواز میں گویا ہوئیں۔۔۔
مجھے پتہ ہے جو آپ نے گھر میں موجود دوائی کھائی ہے اس سے آپکو افاقہ نہیں ہوا اس لئے ابھی ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ہے۔۔۔اور اب آپ بحث نہیں کریں گئ خالہ۔۔۔ پلیز اٹھیے ۔۔ وہ ہنوز اپنی بات پر قائم انکے پاس منتظر کھڑا تھا۔۔
عفرا ماں کی چادر لے کر آئی تو انہیں اٹھتے ہی بنی۔۔۔ چادر اوڑھ کر وہ عفرا کے سہارے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتیں کمرے سے ملحقہ واش روم میں چلی گئیں تو پریشان سی عفرا واپس امان کے پاس آئی۔۔۔
امان آپکو تو جانا تھا۔۔۔ صد شکر کے اس بار اسنے بھائی کا سابقہ نہیں لگایا تھا۔۔۔
ہاں جانا تو تھا لیکن میرے لئے کچھ بھی میرے عزیر رشتوں سے بڑھ کر نہیں۔۔۔ وہ پریشانی سے ماتھا مسلتا موبائل پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا
لیکن آپ تو کہہ رہے تھے کہ آپکو یہ اپائمنٹ ڈیڑھ ماہ کے انتظار کے بعد ملی ہے۔۔ اسکی ابھی شاید تسلی نہیں ہوئی تھی۔۔ یا شاید وہ پشیمان تھی۔۔
جہاں ڈیڑھ ماہ پہلے انتظار کیا تھا وہاں مزید کر لوں گا لیکن خالہ سے ضروری وہ میٹںگ نہیں۔۔۔ اسنے چونک کر موبائل کی سکرین سے سر اٹھاتے اپنے پاس کھڑی پریشان حال سی عفرا کو دیکھا۔۔۔
میں بائیک سٹارٹ کر رہا ہوں تم خالہ کو باہر لے آو۔۔۔ اور ہاں ہمارے واپس آنے تک تم خالہ کے لئے کچھ لائٹ سا بنا لینا یقیناً انہوں نے ناشتہ بھی اچھے سے نہیں کیا ہوگا۔۔۔ اسے کہہ کر وہ خود باہر نکل گیا جبکہ عفرا تشکرانہ نگاہوں سمیٹ اسکی پشت کو تکتی رہی۔۔۔ اسکے کانوں میں ماں کی ایک ہی بات بار بار گھونج رہی تھی۔۔۔ کہ شادی محبوب انسان سے نہیں بلکہ ذمہ دار انسان سے کرنی چاہیے محبت کا کیا ہے وہ تو نکاح کے بعد ہو ہی جاتی ہے۔۔۔
******
ماں اور امان کے جانے کے بعد عفرا نے فورا سے کچن میں جاتے سارے کنستر کنگال ڈالے اسے فلحال وہاں ماں کی طبیعت کے پیش نظر صرف دلیہ ہی ملا جیسے اسنے پکنے کے لئے رکھ ڈالا۔۔۔
اسکے بعد اسنے ماں کے آنے سے پہلے پہلے انکا سارا کمرا چمکا ڈالا۔۔ دفعتاً اسے باہر موٹر سائیکل کے رکنے کی آواز آئی تو وہ بھاگ کر باہر نکلی۔۔۔
آگے بڑھ کر اسنے ماں کو سہارا دیا اور انہیں اندر لے آئی۔۔۔
عفرا یہ پکڑو۔۔ اسنے ماں کو لا کر بیڈ پر بیٹھایا تو امان ہاتھ میں کئ ایک فروٹ کے شاپر تھامے اندر آیا۔۔۔
اسنے ایک نظر ان شاپروں کو دیکھتے ہاتھ بڑھا کر اس سے سامان تھاما۔۔
ان کا بی پی بہت ہائی یے۔۔ اور بخار بھی بہت تیز یے۔۔۔ ڈاکٹر نے انہیں ٹینشن فری رہنے کا کہا ہے۔۔ اب انکے لئے جلدی سے کچھ کھانے کو لاو اور پھر انہیں دوائی کھلاو.
عفرا نے فکر مندی سے اسکی بات سنتے سر ہاں میں ہلایا اور ایک نظر ماں کو دیکھتی سامان تھامے کچن میں چلی گئ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ ہاتھ میں دلیے کی پلیٹ تھامے واپس اندر آئی ۔۔
اب آپکو کو بھی اپنا خیال رکھنا ہے خالہ اور جلد از جلد ٹھیک ہونا ہے۔۔۔ وہ ماں کے قریب ہی کرسی کھینچ کر بیٹھا ان سے باتیں کر رہا تھا۔۔۔ ناجانے کیوں آج اسے ماں کے انتخاب پر فخر محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ اسکی اتنی فکر مندی بار بار عفرا کی آنکھیں نم کر رہی تھی۔۔۔
جسکا تم جیسا بیٹا ہو گا امان وہ ماں کیسے نہیں ٹھیک ہوگی۔۔۔
ماں اسے محبت سے دیکھتیں گلوگیر لہجے میں گویا ہوئیں۔۔۔
صرف لفاظی سے کام نہیں چلے گا خالہ۔۔۔ اور بیٹے والی بات تو آپ رہنے دیں ۔۔ واقعی بیٹا مانتی نا تو سب سے پہلے مجھے ہی طبیعتِ خرابی کے بارے میں مطلع کرتیں یوں غیریت نا برتتیں۔۔ اسکا انداز نڑوتھا سا تھا۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں بیٹا اور ابھی کوئی کسر باقی ہے کیا بیٹا اتنا کچھ تو تم نے خرید ڈالا میرے نا نا کرنے کے باوجود اس سب کی بھلا کوئی ضرورت تھی۔۔۔ اسکا نڑوتھا انداز دیکھ کر ماں کو بھی اپنی شکایت یاد آگئ۔۔۔
بالکل تھی خالہ۔۔۔ اور یہ کوئی احسان نہیں ہے فرض ہے میرا ماوں کے لئے پوری دنیا ہی ایسا کرتی ہے۔۔۔ اسنے اٹھ کھڑے ہوتے محبت سے انکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔
شام میں چکر لگاوں گا۔۔۔ اب چلتا ہوں۔۔۔ اور تم انہیں کھانا کھلا کر یاد سے وقت پر دوائی دے دینا۔۔۔ وہ پاس کھڑی ہاتھ میں پلیٹ تھامے عفرا سے مخاطب ہوا جو محض سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
امی میں انہیں باہر تک چھوڑ کر آتی ہوں۔۔۔ وہ ماں سے کہتی پلیٹ وہیں سائیڈ ٹیبل پر رکھتی امان کے پیچھے ہی باہر نکل گئ۔۔۔
سنو۔۔۔ بائیک کے پاس پہنچ کر وہ پلٹا۔۔۔
جی۔۔۔ عفرا نے آنکھیں اٹھا کر اسکی جانب دیکھا۔۔۔ جب تک خالہ ٹھیک نہیں ہو جاتی تم خالہ کے پاس ہی رک جاو۔۔۔ یوں وہ خود کو اکیلا محسوس کریں گی۔۔۔ وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
جی میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔۔۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھے مندیر پر بیٹھے پرندے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ دل میں اس شخص کی قدر کچھ مزید بڑھی تھی۔۔۔
میں شام میں چکر لگاوں گا امی کیساتھ اور اگر تمہیں گھر سے کچھ منگوانا ہوا تو بتا دینا میں لیتا آوں گا۔۔۔
وہ اسکی بات پر محض سر ہلا گئ۔۔۔
کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بلاجھجھک مجھے فون کر دینا۔۔۔ اور فکر کرنے کی ضرورت نہیں میں چکر لگاتا رہوں گا۔۔۔ وہ اسکی اداس صورت دیکھتا ہلکا سا مسکرا کر اسکا گال تھتھپاتا بائیک باہر نکالنے لگا۔۔ جبکہ وہ ابھی تک اسی نرم گرم سے لمس کے حصار میں گھری تھی۔۔۔ ہونٹوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ ابھری اور وہ مسکراتے ہوئے اندر بڑھ گئ۔۔۔