Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab-E-Junon (Episode 11)

Khuwab-E-Junon By Umme Hania

وہ تصور کرسکتی تھی کہ بہن کے ہاتھوں اگائے گئے کانٹے اسے اپنے ہاتھوں سے اکھاڑنے پڑ رہے تھے اور اس کوشیش کی شروعات میں ہی وہ تھکنے لگی تھی۔۔۔ اسکے ہاتھ لہولہان ہونے لگے تھے ۔۔۔ ناجانے آگے ابھی کیا کیا ہونا باقی تھا۔۔۔

اسے امان پر بھی شدید غصہ تھا۔۔۔ اتنا غصہ کے اسکا دل چاہا کاش وہ تھوڑی سی ہمت مجتمع کرے اور اسے کٹہرے میں کھڑا کر کے دل کی ساری بھڑاس نکال ڈالے۔۔۔ مانا کے اسکے ساتھ غلط ہوا تھا۔۔۔ اپنی بہن کے منہ سے امان کے لئے نکلنے والے تحقیرانہ اور غلط الفاظ اسنے خود اپنے کانوں سے سنے تھے اور اگر اس وقت عفرا نے اسکے لئے اتنی تکلیف محسوس کی تھی تو جسکی ذات کے حوالے سے وہ سب کہا گیا تھا اسنے کتنی تکلیف اور اذیت محسوس کی ہوگی وہ اندازہ لگا سکتی تھی۔۔۔ لیکن وہ سب تو اسکی بہن نے کیا تھا نا اس میں بھلا اسکی کیا غلطی ۔۔۔ اسکا بھی تو رشتہ امان سے اتنا ہی اچانک جڑا تھا جتنا کہ امان کا اس سے۔۔۔ کہاں تو وہ امان کیساتھ دودھ پلائی کی رسم کرنے کو بے تاب تھی اور کہاں اسے شوہر کے روپ میں بالکل غیر متوقع طور پر ہی دیکھنا پر رہا تھا۔۔۔ یہ تبدیلی جتنی امان کے لئے غیر متوقع اور ناقابل یقین تھی اتنی ہی اس کے لئے بھی تھی۔۔۔ اسنے بھی کہاں امان سے ایسا کوئی رشتہ تصور کیا تھا۔۔۔ پھر بھلا اسکی ذات کو بیچ میں کس خوشی میں رگیڈا جا رہا تھا۔۔۔

وہ بلا جھجھک جا کر اس سے جرح کر لیتی۔۔۔ اسے کٹہرے میں کھڑا کر لیتی اگر اس سے یہ ایک الگ قسم کا رشتہ نا جڑ جاتا تو۔۔۔

ہاں وہ اس سے اتنی ہی فرینک تھی۔۔۔ اپنا کوئی بھی مسلہ بلا جھجھک اس سے شیئر کر لینے والی۔۔۔ آدھی رات کو بھی پڑھتے پڑھتے کہیں کوئی دشواری پیش آتی تو جھٹ سے بلاتردد اسکا نمبر ڈائل کر ڈالتی کہ جانتی تھی کہ وہ بھی آدھی آدھی رات تک جاگ کر نئے نئے آئیڈیاز پر کام کرتا ہے۔۔۔۔ اور امان وہ بھی تو بنا ماتھے پر شکن لائے اسکی پڑھائی میں مدد کرتا تھا۔۔۔ وہ محنتی تھا اور محنتی لوگوں کی قدر کرتا تھا۔۔۔ اور عفرا نے محنت کرنا تو سیکھا ہی اس سے تھا۔۔۔ باقاعدگی۔۔۔ اصول پسندی ۔۔ ڈسپلن ۔۔۔ لیزر شاپ فوکس۔۔۔ کہ جس چیز میں ہاتھ ڈالو اس میں اتنی گہرائی تک گھس جاو اور اسکے بارے میں اتنی معلومات اکھٹی کر لو کہ جب تک اس کام میں کامیاب نا ہو جاو اس سے پیچھے مت ہٹو۔۔۔ ایک طریقہ فلاپ ہو جائے تو دوسرا اختیار کرو۔۔۔ ایک سٹریٹیجی نا چلے تو دوسری اختیار کرو لیکن جب تک اس کام میں کامیاب نا ہو جاو اس کام سے دلبرداشتہ ہو کر اسے چھوڑ مت جاو۔۔۔

وہ شخص اسکا آئیڈیل تھا۔۔۔ وہ اس سے انسپائریشن لیتی تھی۔۔۔ اسکا بھائی نہیں تھا کوئی اور نا ہی باپ تھا۔۔۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل حل کرنے کے لئے بھی اسے بلاتی تھی۔۔۔ کسی دوسرے سینٹر پیپر دینے جانا ہوتا یا کسی دوست کے گھر وہ پک اینڈ ڈراپ کے لئے بھی بنا سوچے اپنے امان بھائی کو ہی کال کرتی تھی۔۔۔

اسی لئے تو وہ صلہ اور امان کی شادی کا سن کر بہت خوش تھی۔۔۔۔ لیکن پھر سب بدل گیا۔۔۔ ہواوں نے رخ ہی بدل لیا۔۔۔ ایک آندھی اسکا سب کچھ تہس نہس کر گئ۔۔۔

انکے درمیان ایک نیا رشتہ جڑ گیا تھا۔۔۔ اجنبیت کی فصیلیں بلند ہو گئ تھی۔۔۔ پہلے والی اپنائیت اور دوستی جیسے وقت اور حالات کی دھول کی دبیز تہوں تلے دب کر رہ گئ تھی۔۔۔

اب اسکے دل میں امان کے لئے محض غصہ تھا۔۔۔ بے تحاشہ غصہ یا شاید بے بسی شدید بے بسی۔۔۔ حالات کی چکی میں وہ تنہا نہیں بلکہ وہ دونوں ہی پس رہے تھے۔۔۔ دل کا بوجھ مزید بڑھنے لگا تھا۔۔۔ بند آنکھوں سے بھی وہ سن سکتی تھی وہ شخص اسکے پاس ہی بیٹھا اسکی ماں کے ساتھ ہس ہس کر باتیں کر رہا تھا۔۔۔ انکے ہر سوال کا مدلل اور تسلی بخش جواب دیتا انہیں مطمیئن کر رہا تھا۔۔۔ گویا وہ ماں کا پہلے والا بھانجا بن گیا تھا جیسے بیچ میں کچھ آیا ہی نا ہو۔۔۔ تو طے ہوا کہ وہ محض اسی کے لئے بدلا تھا۔۔۔ اس بار دل میں غصے اور بے بسی کے ساتھ ساتھ شدید ناراضگی نے بھی جنم لیا تھا۔۔۔

رونے کی خواہش مزید زور پکڑنے لگی اور آنسو پر وہ اپنا اختیار کھونے لگی تو واش روم کا بہانہ کرتی وہاں سے اٹھ کر وش روم کی جانب بڑھی۔۔۔

****

اچھا نا ماں سوری اب معاف کر بھی دیں نا۔۔۔ نزہت بیگم غصے سے بھریں منہ موڑے کھڑی تھی جبکہ امان کھسیانہ سا مسکراتا انکے کندھے پر بازو پھیلائے انہیں منانے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔

میری نظروں سے دور ہو جاو امان۔۔۔ مجھے تم سے ایسی توقع نہیں تھی۔۔۔ اب بھی آنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی مہمان تو بس کھانا کھا کر واپس جانے ہی والے تھے۔۔۔ خوامخواہ آنے کا تکلف کیا تم نے۔۔۔ نزہت بیگم اسے نظر انداز کرتیں بوفے کی جانب بڑھیں وہ بھی بازو ہنوز انکے کندھے پر پھیلائے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔۔۔

ماں سوری کی تو ہے۔۔ پتہ نہیں چلا نا۔۔۔ طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔۔ رات ساری نیند نہیں آئی صبح فجر کے وقت آنکھ لگی تو پھر اٹھتے اٹھتے اتنی دیر ہوگئ۔۔۔ میں نے تو نعمان سے کہا تھا کہ دیر بہت ہوگئ ہے ایسے ہی چلتے ہیں پر وہ مانا ہی نہیں اورررر تیارررر۔۔۔ وہ خجالت کے باعث تیزی سے وضاحت دے رہا تھا جب ماں نے اسکا ہاتھ اپنے کندھے سے اتارتے اسے زبردست گھوری سے نوازا تو ساتھ ہی اسکے منہ سے نکلتے الفاظ بھی ہچکولے کھا کر رکنے لگے۔۔۔

سوری ماں ۔۔۔ وہ ماں کے یوں دیکھنے پر نظریں جھکا کر پھر سے پشیمانی سے گویا ہوا۔۔۔

اور کل۔۔۔ کل کیا تکلیف تھی جو بنا بتائے گھر سے فرار ہوگئے۔۔۔ اپنی ایک دن کی دلہن تک کا نا سوچا۔۔۔ اسکے سامنے جو شرمندگی مجھے اٹھانی پڑی وہ۔۔۔ ماں ہنوز اسے ایسے ہی دیکھتیں جرح پر اتری۔۔۔

شادی کے نام پر یکدم ہی اسکے اعضلات کھینچ گئے تھے۔۔۔ وہ سنجیدگی سے ایک پلیٹ اٹھا کر اس میں کھانا ڈالنے لگا۔۔۔

ماں اس چیز کے بارے میں میں آپ سے پہلے ہی کہہ چکا تھا آپ مجھے پریش۔۔۔۔۔۔

تو مطلب تم ایسے ہی میرے سر پر خاک ڈالو گئے۔۔۔ ماں کو جھوٹا ثابت کرواو گئے۔۔ ایک معصوم کو اس چیز کی سزا دو گے جس میں اسکا کوئی قصور ہی نہیں۔۔۔

اسکی ہٹ دھرمی دیکھ وہ تیز لہجے میں کہتیں اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔ ارد گرد کھانا ڈالتے لوگ انکی جانب متوجہ ہونے لگے تھے۔۔۔ امان نے منہ میں زبان گھماتے ایک نظر ارد گرد متوجہ ہوتے لوگوں کو دیکھا۔۔۔ اماں کے اردگرد یوں دیکھنے سے نزہت بیگم کو بھی یکدم ہی جگہ اور ماحول کا احساس ہوا۔۔۔

دور سے ہی منیبہ ماں بیٹے کو یوں دیکھتی بھاگ کر انکے پاس آئی ۔۔ چہرے پر مسکراہٹ طاری کرتے اسنے ماحول کی کثافت دور کرنی چاہی۔۔۔

وہ ان دونوں کو وہاں سے ایک نسبتاً ہرسکون گوشے میں لے آئی۔۔۔

ماں کیا ہو گیا ہے آپ کو۔۔۔

منیبہ اسے کہو اپنی شکل گم کر لے میرے سامنے سے۔۔۔ یہ میرا وہ فرمابردار بیٹا نہیں رہا۔۔ ماں گلوگیر لہجے میں کہتی اپنے آنسو صاف کرنے لگی۔۔۔

ماں مجھے کچھ وقت دیں اس رشتے کو قبول کرنے کے لئے مجھے کچھ وقت درکار ہے آپ۔۔۔ وہ بے بسی سے ماں کو دیکھتا گویا ہوا لیکن ماں اسکی بات مکمل طور پر سنے بنا ہی اسے ہاتھ سے پیچھے دھکیلتی آگے بڑھ گئ۔۔۔ امان نے بے بسی سے اپنا سر تھام لیا۔۔۔

میرا وہ مطلب نہیں تھا منیبہ۔۔۔ اسکی آنکھوں میں گلابی پن اترنے لگا تھا۔۔۔ بھائی میں امی سے بات کروں گی۔۔۔ وہ آپ سے ناراض نہیں رہ سکتیں لیکن وہ کل کے حوالے سے کچھ غصے میں ہیں ۔۔۔ پلیز آپ بھی اپنے رویے میں کچھ لچک لائیں۔۔۔ صلہ اور عفرا کو ایک ہی ترازو میں مت تولیں دونوں۔۔۔

بس منیبہ۔۔۔ خدارا میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ اس سے پہلے کہ منیبہ اسے مزید کچھ کہتی وہ سختی سے دو ٹوک انداز میں اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔

صلہ تاسف سے اسے وہاں سے جاتا دیکھتی رہی۔۔۔ ناجانے حالات سلجھنے کی بجائے الجھتے ہی کیوں جا رہے تھے۔۔۔

*****

ولیمے کے فنگشن کے بعد دونوں جوڑیاں رسم کے تحت نصرت بیگم کیساتھ انکے گھر ہی آ گئ تھیں۔۔ نصرت بیگم انہیں یوں دیکھ کر خوش تھیں۔۔۔

گھر آتے ہی عفرا نے کپڑے تبدیل کرتے ہی ماں کی نا نا کرنے کے باوجود بنا انہیں اٹھنے دے جا کر کچن سنبھال لیا۔۔۔ کچن میں آتے ہی اسنے چائے بننی رکھی۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہاں چائے کا دور چلا۔۔۔ چائے پیتے ہی امان نے کام کا بہانا کرتے وہاں سے اٹھنے کی کی۔۔۔

یہ بھی اسکا بڑآ احسان تھا کہ وہ یہاں تک اس کے ساتھ آگیا تھا۔۔۔ کچن میں برتن رکھتے عفرا نے اسے کچن سے ہی دیکھا۔۔۔

وہ جھک کر ماں سے پیار لے رہا تھا۔۔۔ عفرا کا دل بالکل خالی ہو گیا۔۔۔ وہ کب کا وہاں سے جا چکا تھا مگر عفرا ابھی تک کسی بت کی مانند اسی جگہ کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔

دفعتاً باہر سے ایک قہقہ گھونجا وہ جیسے چونک کر حال میں واپس آئی۔۔

لاوئنج میں بیٹھے بالاج اور صلہ کسی بات پر ہسے تھے۔۔۔۔

ایک آنسو ٹوٹ کر عفرا کی گال پر پھسلا۔۔۔

میرے اتنے خوبصورت دن اور یادگار لمحے مجھ سے چھیننے کے لئے آپکو کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔ دل میں اس ستم گر کے خلاف ایک شکوہ بڑھا تھا۔۔۔ وہ آنسو ہاتھ کی پشت سے رگڑ کر صاف کرتی چہرے پر مسکراہٹ لا کر خود کو ہشاش بشاش ثابت کرتی کچن سے باہر نکلی۔۔۔

بہت مشکل کام تھا یہ بھی کہ دل دکھی ہو تو دنیا داری کو چہرے پر مسکراہٹ سجانا۔۔۔ مگر وہ بہت حوصلے سے یہ کام کر رہی تھی۔۔۔

******

مغیث کی طبیعت آج کچھ ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ تب سے منیبہ اسکی کی دیکھ بھال کرنے میں لگی تھی۔۔۔ اللہ اللہ کر کے وہ سویا تو وہ اختیاط سے اسے کاٹ میں لٹا کر کمرے کی لائٹ بند کرتی خود کمرے سے باہر نکل آئی۔۔۔ اب تو سر کیساتھ ساتھ سارا جسم بھی درد کرنے لگا تھا۔۔۔ شام میں چائے کا وقت کب کا نکل چکا تھا مگر اسے مغیث کے دھیان لگے چائے بنانے یا پینے کا موقع ہی نا ملا تھا۔۔۔ نعمان بھی ناجانے کہاں تھا نا ہی اسنے چائے مانگی تو یوں چائے بنی ہی نہیں ۔۔۔ اب وہ کچن میں آکر بعجلت چائے بنا رہی تھی کہ دفعتاً نعمان بھی اندر داخل ہوا۔۔۔ وہ کچن ہی سے اسے اندر آتا دیکھ چکی تھی۔۔ تو غالباً وہ باہر سے کہیں آیا تھا۔۔۔

نعمان آپ چائے پیئں گے۔۔۔ منیبہ نے وہیں سے ہانک لگا کر پوچھا۔۔۔ اسکے ہاں کہنے پر وہ دو کپ چائے کے بنا کر کپ ٹرے میں رکھتی نعمان کے پاس ہی ٹیرس پر آ گئ۔۔۔

آپکی چائے نعمان ۔۔۔ اسنے وہیں موجود چھوٹی گول میز پر چائے کی ٹرے رکھی اور خود اسکے ساتھ موجود کرسی پر بیٹھتے کپ اسکی جانب بڑھایا۔۔

وہ ناجانے کن کاغذات میں کھویا تھا ۔۔۔ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔

کاغذ سمیٹ کر میز پر رکھے اور کپ تھام کر ریلیکس ہو کر بیٹھا۔۔۔

موسم خاصا خوشگوار ہو رہا تھا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا پرسکون محسوس کروا رہی تھی۔۔۔

مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے منیبہ ۔۔۔ نعمان نے چائے کی چسکی لیتے اسکی جانب دیکھا۔۔۔ وہ ابھی تک صبح فنگشن میں پہنے لباس میں ہی ملبوس تھی۔۔۔ چہرے پر مٹے مٹے میک آپ کے اثرات موجود تھے۔۔۔ البتہ جیولری اتار دی گئ تھی اور بالوں کا رف سا جورا بنا رکھا تھا جس کے اطراف سے کچھ لٹیں نکلتی س

اسکے چہرے کو چھو رہی تھیں۔۔۔

وہ خاصی تھکی ہوئی لگ رہی تھی۔۔۔ تھکن اسکے چہرے سے ہوادیدہ تھی۔۔۔

جی کہیے۔۔۔ وہ مسکرا کر سکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔

نعمان نے اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھتے چند پل رک کر الفاظ کا چناو کیا اور پھر گلہ کنگار کر گویا ہوا۔۔۔

منیبہ ہم لندن جا رہے ہیں۔۔۔ وہاں کچھ کام ہے۔۔۔ تم جانتی ہو کہ بابا کے بعد کتنی محنت سے میں نے انکا بزنس اسٹیبلش کیا ہے اب میں ایک سٹیپ مزید آگے لینا چاہتا ہوں۔۔۔ ہے تو یہ ایک بہت بڑا رسک۔۔۔ لیکن رسک تو زندگی کا حصہ ہیں نا اس لئے میں اللہ کا نام لے کر یہ رسک بھی لینا چاہتا ہوں۔۔۔ میں لندن میں اپنے بزنس کی ایک برانچ کھولنا چاہتا ہوں اس لئے ابھی ہمیں کچھ عرصہ وہاں شفٹ ہونا پڑے گا۔۔۔

وہ بات کرنے کے دوران مسلسل منییبہ کے چہرے کی جانب دیکھتا اسکا ایک ایک تاثر نوٹ کر رہا تھا۔۔۔ جسکا رنگ اسکی ہر بات پت پھیکا پڑتا جا رہا تھا۔۔۔

کک۔۔کتنا عرصہ نعمان۔۔۔

کچھ کہہ نہیں سکتا۔۔۔ شاید چند سال۔۔۔ اسنے کندھے اچکاتے ہنوز اسے دیکھتے کہا۔۔۔

تیز ہوا کا ایک جھونکا آیا اسنے منیبہ کے چہرے کر گرد بکھری لٹیں مزید بکھیر دیں۔۔۔ نعمان نے ہاتھ آگے بڑھاتے اسکا کیچر اتار دیا۔۔۔ کالی آبشار پشت پر پھیلتی چلی گی ۔۔۔ مگر وہ یہ سب محسوس ہی کب کر رہی تھی۔۔۔ دل و دماغ تو کہیں اور ہی الجھے ہوئے تھے۔۔۔

اگر تم ساتھ نہیں چلنا چاہتی تو تم پاکستان رہ سکتی ہو۔۔ ممانی کے پاس۔۔۔

میں یہاں کیوں رہوں بھلا۔۔۔ کیا میں آپکے بنا رہ سکتی ہوں۔۔۔ اسکی بات مکمل ہوتے ہی وہ خفگی سے شکوہ کناں نگاہیں اٹھاتی اسے دیکھنے لگی۔۔۔

ارےےے۔۔ میں تو تمہاری اداسی کے باعث کہہ رہا تھا۔۔۔ تم خاصی اداس لگ رہی ہو شاید اپنوں سے دور جانے کی وجہ سے۔۔۔ وہ خفیف سا ہستا گویا ہوا۔۔۔

شادی کے بعد ہر لڑکی ہی اپنوں سے دور شوہر کے سنگ جاتی ہے۔۔۔ میں جاوں گی تو کونسا انوکھا کام کروں گی۔۔ وہ چڑ کر کہتی گویا ہوئی ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی گال ہر پھسلا جسے اسنے رگڑ کر صاف کیا۔۔۔

پھر رو کیوں رہی ہو ۔۔ اداس کیوں ہو۔۔۔ اسنے محبت سے اسکا ہاتھ تھامتے اسکا ہاتھ سہلایا۔۔۔

امی سے دور جانے کے خیال سے اداس ہوں۔۔۔ اپنا ملک چھوڑ کر جانا پڑے گا اس لئے رو دی۔۔ لیکن ان سب چیزوں کے باوجود نا میں آپکو اکیلا جانے دوں گی اور نا ہی آپکے بنا رہ سکتی ہوں اس لئے آپکے ساتھ ہی جاوں گئ۔۔۔وہ نم آنکھیں صاف کرتی گلوگیر لہجے میں کہہ کر سر نعمان کے شانے پر رکھ گئ۔۔۔

نعمان کے اندر جیسے ڈھیروں ڈھیر سرشاری اترنے لگی۔۔۔

وہاں کے لحاظ سے اگر کوئی شاپنگ وغیرہ کرنی ہوئی تو ہم صبح چلیں گے۔۔ وہ اپنے شانے پر ٹکے اسکے سر پر انگلیاں چلانے لگا۔۔۔ اسے شروع سے ہی اسکی یہ آبشار بہت پسند تھی۔۔۔

ہم جا کب رہے ہیں۔۔ وہ آنکھیں موندے اسکا بازو دونوں ہاتھوں سے جھکڑے گویا ہوئی۔۔۔

اگلے ہفتے۔۔۔

منیبہ نے کرنٹ کھا کر سیدھا ہوتے اسے خفگی سے دیکھا۔۔۔

اب بھی بتانے کی کیا ضرورت تھی نعمان۔۔۔ جانے سے ایک دن پہلے بتا دیتے۔۔۔ وہ ظنزیہ گویا ہوئی۔۔۔

یار ۔۔۔ مجھے لگا یوں تم ٹینشن میں امان کی شادی کا فنگشن بھی اچھے سے انجوائے نہیں کر پاو گئ اسی لئے پہلے جان بوجھ کر نہیں بتایا۔۔۔ اسکا خفا خفا سا روپ دیکھتے نعمان نے اسکی ناک دبائی۔۔۔

ہاں جی اتنا آپکو میرا احساس نا۔۔۔ وہ خفگی سے کہتی واپس سر اسکے کندھے پر رکھ گئ۔۔ جبکہ وہ اسکی بات سے محظوظ ہوتا قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔

ہوا کے جھونکوں کے باعث ہنوز اسکے بال اڑ اڑ کر اسکے چہرے پر آ رہے تھے جسے وہ بہت محبت سے اسکے چہرے سے ہٹا رہا تھا۔۔۔۔ دفعتاً اندر سے مغیث کے رونے کی آواز آئی تو دونوں ہی اندر ہڑبڑا کر اندر کی جانب بھاگے۔۔۔۔

*****