Khuwab-E-Junon By Umme Hania

مائیں تو بیٹیوں کے سو پردے رکھ لیتی ہیں ماں۔۔۔ آپ میرا ایک پردہ نا رکھ سکیں ۔۔۔ کر دیا نشر مجھے پورے خاندان میں ۔۔۔ عفرا ابھی ماں کی طرف بڑھی ہی تھی کے پیچھے سے ابھرتی آواز پر جھٹکے سے پیچھے پلٹی جہاں سرخ چہرے اور سوجے پیوٹوں کے ساتھ ندھال سی صلہ کھڑی ماں سے مستفسر تھی ۔۔۔ شکن آلود لباس ... آنچل ایک کندھے پر جھول رہا تھا اور بال الجھے پڑے تھے چلی جاو یہاں سے صلہ ماں کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں۔۔۔ اس سے پہلے کے صلہ آگے بڑھتی عفرا بھاگ کر اسکے مدمقابل آئی۔۔۔ لیکن صلہ نے تو جیسے اسکی کوئی بات سنی ہی نہیں۔۔۔ اسکے بازو پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹاتی خود ماں کی جانب بڑھی نگاہیں ہنوز ماں پر موجود تھیں۔۔۔ یہ کام میں نے نہیں تم نے بخوبی کیا ہے۔۔۔ پورے خاندان میں اپنا اشتہار لگا کر ہمیں بدنام کر دیا ۔۔۔۔ انکار بھیجوانے کے اور بہت سے طریقے ہوتے ہیں لیکن یہ کونسا طریقہ ہے جو تم نے اپنایا۔۔۔ ماں غصہ نہیں کر رہی تھیں ۔۔۔ وہ نقابت زدہ آواز میں بے بسی سے گویا ہوئیں۔۔۔ ان میں تو اب لڑنے یا غصہ کرنے کی بھی طاقت نا بچی تھی۔۔۔ انکی بیٹی نے انہیں بری طرح توڑ دیا تھا۔۔۔۔ وہ اولاد کے ہاتھوں ہار گئ تھیں۔۔۔ تو اور کیا کرتی میں ماں ۔۔۔۔ آپ ہی بتا دیں کہ کیا کرتی کیا آپ نے میرے پاس کوئی اور راستہ چھوڑا تھا۔۔۔ اگر میں اسے انکار نا کرتی تو آپ نے میرا اس ٹٹ پونجیے سے نکاحکروا دینا تھا۔۔۔ وہ ماں کے پاس پائنتی کی جانب بیٹھتی سسک اٹھی۔۔۔ میں نہیں رہ سکتی بالاج کے بنا۔۔۔ محبت ہی تو کی ہے نا۔۔۔ محبت پر بھلا کس کا اختیار ہے۔۔۔۔ اسے میرے لئے جرم کیوں بنایا جا رہا ہے۔۔۔ میں کفر کیسے کروں دل میں کسی اور کو رکھ کر کسی دوسرے کی سیج کیسے سجاوں۔۔۔ اس سے کیوں نا شادی کروں جس سے میں نے محبت کی۔۔۔ وہ پشیمانی سے سر جھکائے سسک رہی تھی۔۔۔ ماں کی حالت اسکا بھی دل چیر رہی تھی لیکن وہ اپنی محبت سے بھی دستبرداری کا ضرف اپنے اندر نہیں پاتی تھی۔۔۔ شادی محبوب انسان سے نہیں ایک ذمہ دار انسان سے کی جاتی ہے جو زندگی کی آخری سانس تک آپکی ذمہ داری نبھا سکے۔۔۔ محبت چار دن کی چاندنی ہوتی ہے زرا سی حالات کی تپش پڑنے پر بھاپ بن کر اڑ جانے والی... نصرت بیگم کسی غیر مری نقطے کو دیکھتیں گویا ہوئیں۔۔۔ سچی محبت ایسی نہیں ہوتی ماں۔۔۔ سچی محبت آخری سانس تک ساتھ نبھاتی ہے۔۔۔ آج کل کے دور میں سچی محبت ہوتی کہاں ہے۔۔۔ محبت صرف وہی سچی ہوتی ہے جو نکاح کے بعد اپنے محرم سے کی جائے۔۔۔ باقی سب دھوکہ ہوتی ہے۔۔۔ دنیا دکھلاوا ۔۔۔ محض ایک کشیش جو صرف تب تک ہوتی ہے جب تک اس چیز تک رسائی نا ہو جائے۔۔۔ رسائی ملتے ہی وہ کشش مانند پڑنے لگتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ کشیش وقت اور حالات کی گرد تلے کہیں دب کر رہ جاتی ہے پھر زندگی بھی بوجھ لگنے لگتی ہے۔۔۔ کیوں اتنے خوفناک نقشے کھینچ کر دکھا رہی ہیں مجھے آپ۔۔۔ یہ سب ارینج میرج میں ہوتا ہوگا۔۔۔۔ لو میرج آپ۔۔۔ یہ سب ارینج میرج میں ہوتا ہوگا ۔۔۔۔ لو میرج میں ایسا نہیں ہوتا ۔۔۔ آپ کیوں مجھے ۔۔۔ وہ دہل کر ماں کی بات کاٹتی گویا ہوئی جب ایک مرتبہ پھر سے انکی شکست خورده آواز گھونجی میں تمہیں گڑھے میں گرنے سے بچانا چاہتی تھی صلہ اور تم نے مجھے ہی پشیمانی کے گڑھے میں پھینک دیا۔۔۔۔ مت کہیں ایسا ماں ۔۔۔ خدارا نا کہیں۔۔۔ میر دل پھٹ جائے گا ماں۔۔۔۔ میں بالاج کے بنا مر جاوں گی۔۔۔ مجھ سے میری محبت مت چھینے۔۔۔ خدارا ماں ایسا مت کریں۔۔۔ وہ روتے ہوئے ماں کے سامنے ہاتھ جوڑ گئی۔۔۔ نصرت بیگم نے خالی خالی نگاہیں اٹھا کر صلہ کو دیکھا۔۔۔ بیل بجنے کی آواز پر عفرا ان دونوں کو وہیں چھوڑ باہر نکلی۔ کچھ ہی منٹوں بعد وہ انہی قدموں پر واپس کمرے میں آئی۔۔۔ امی... وہ باہر بالاج بھائی آئے ہیں۔۔۔ وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔ عفرا ماں کو متوجہ کرتی گویا ہوئی جبکہ ماں خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ صلہ کا دل دھک دھک کرنے لگا ناجانے ماں اب کیا کرتیں۔۔۔ بالاج سے ملتی بھی یا اسے دھتکار کر گھر سے نکال دیتی۔۔۔

Complete novel available  in DOWNLOAD LINK

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!