Khaak e Watan by Shagufta Kanwal NovelR50594 Khaak e Watan (Episode 10)
Rate this Novel
Khaak e Watan (Episode 10)
Khaak e Watan by Shagufta Kanwal
“ریلیکس بچے ! میں آ گئی ہوں نا کچھ نہیں ہوگا۔” اس نے پیار سے اس کو گلے لگا کر اس کا سر تھپکا مگر اس کو مسلسل زار و قطار ہچکیوں سے روتا دیکھ کر وہ اپنے لب سختی سے بھینچ کر رہ گئی۔ اس کو پیچھے نہ ہٹتا دیکھ کر اس کی ماں نے آگے بڑھ کر پیچھے ہٹایا۔
“اب بس بھی کر ، بچی کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ پتر تُو بتا۔ تُو ٹھیک ہے نہ اور یہ باہر گولیوں کی آواز۔۔”
“کچھ نہیں ہوتا ماں جی۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ وہ جو یہاں آیا تھا اس نے ہی مجھ پر حملہ کیا ہے مگر اللہ کے فضل و کرم سے میں بالکل ٹھیک ہوں۔ کچھ نہیں ہوا مجھے ۔” اس نے ان کو پریشان دیکھ کر وضاحت دی۔
“تُو یہاں کھڑی منہ کیا دیکھ رہی ہے جا کر بچی کے لیے پانی لا۔” اسماء کی ماں نے اسے ڈپٹا تو وہ آنسو پونچھتی ایک کچی سی کوٹھری میں چلی گئی۔ وہ دونوں میاں بیوی اسے لیے صحن میں لگے درخت کے نیچے رکھی چارپائی کی طرف لے آئے۔ اسماء نے اسے پانی کا گلاس تھمایا تو اس کی ماں نے اسے موڑھا لانے کو کہا۔ وہ بھاگ کر کمرے سے ایک پرانا سا موڑھا اٹھا لائی۔ دانین بیٹھ کر پانی پینے لگی اور ساتھ ہی ذہن کے گھوڑے دوڑانے لگی کہ اس صورت میں اسے کیا کرنا چاہیئے۔ یہ بات تو طے تھی کہ یہ لوگ اب یہاں سیف نہیں تھے۔ احتشام کا وار نہ صرف خالی گیا تھا بلکہ وہ زخمی بھی ہوا تھا تو لازمی بات تھی کہ وہ طیش میں آ کر ان لوگوں کو بھی نقصان پہنچا دیتا۔ اس کو سوچوں میں مگن دیکھ کر اسماء کا باپ کچھ اور سمجھا اس لیے دھیرے سے اسے مخاطب کیا۔
“پتر تُو بھی سوچتی ہوگی کہ کہاں پھنس گئی ہوں؟ ہماری وجہ سے خوامخواہ کی دشمنی مول لے بیٹھی۔”
وہ جو ان کا ٹھکانہ بدلنے کے بارے میں سوچ رہی تھی ان کی بات پر چونکی اور ان کے چہرے پر ندامت دیکھ کر نرمی سے مسکرائی۔
“نہیں چچا جی! ایسی بات نہیں ہے۔ یہ تو میرا فرض ہے بلکہ میرا کیا ہر اس انسان کا فرض ہے کہ جس نے وطن کے دفاع اور اس کے باسیوں کی حفاظت کا حلف اٹھایا ہے۔ بس کچھ لوگ ہیں جو اپنے فرض میں غفلت کر جاتے ہیں۔ خیر میں کچھ اور سوچ رہی تھی اور وہ یہ کہ آپ لوگ یہاں محفوظ نہیں ہیں۔ جو اتنی دیدہ دلیری سے پہلے یہاں آ سکتا ہے وہ یقیناً دوبارہ بھی آئے گا۔ پہلے تو اس کا نشانہ میں تھی مگر اب میرے ساتھ ساتھ وہ آپ لوگوں کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔” اس نے گلاس نیچے رکھتے ہوئے کہا۔
“یا اللہ یہ لوگ کیوں نہیں جینے دے رہے؟ کیوں ہمارے پیچھے پڑ گئے ہیں؟” اسماء کی ماں نے دوپٹے سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
“ریلیکس چچی ! اب آپ لوگوں کا مزید کوئی نقصان نہیں ہوگا اور اس بات کی میں گارنٹی بھی دیتی ہوں بس اس سلسلے میں مجھے آپ کی مدد درکار ہے۔”
“بول پتر ہمارے بس میں جو ہوا ہم کریں گے۔” اسماء کے باپ نے جلدی سے کہا۔
“جب تک یہ معاملہ ختم نہیں ہوجاتا تب تک آپ لوگوں کا منظر سے ہٹ جانا ہی بہتر رہے گا۔ اس طرح اگر آپ لوگ سامنے رہیں گے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔” اس نے ہونٹ چباتے ہوئے پریشانی سے کہا۔
“پر پتر ہم کہاں جائیں گے۔ ان حالات میں کوئی رشتے دار بھی ہمیں اپنے پاس رکھنے کو تیار نہیں ہوگا۔ اب ہر کوئی تیری طرح تو نہیں ہوتا کہ پرائی بلا اپنے سر لے لے۔”
“جانتی ہوں چچا کہ کوئی بھی رسک نہیں لے گا اسی لیے میں نے سوچا ہے کہ اگر آپ لوگ مجھ پر بھروسہ کریں تو کچھ دن کے لیے میرے ساتھ چلیں۔” اس نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔
“کہاں؟” اسماء کی والدہ نے حیرت سے پوچھا۔
“میرے کسی ٹھکانے پر۔ یقین کریں ایک بار اگر آپ لوگ وہاں پہنچ گئے تو کوئی آپ کی گرد کو بھی نہیں پا سکے گا اور میں بھی آپ لوگوں کی طرف سے بے فکر ہوجاؤں گی۔”
“پتر جتنا تُو ہمارے لیے کر چکی ہے بھروسہ نہ کرنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا مگر اب تجھے اور تکلیف دینے کو دل نہیں کرتا۔ اب دیکھ نہ ابھی بھی ہماری وجہ سے تیری جان جاتے جاتے بچی ہے۔ روز روز تو خیر بھی نہیں ہوتی۔ میں تو کہتی ہوں جیسا چل رہا ہے چلنے دو۔ مرنا تو ایک دن ہے ہی تو بھاگنے کا کیا فائدہ؟” انھوں نے افسردگی سے کہا۔
“چچی پلیز! ایسی باتیں تو مت کریں۔ کیا مجھ پر اعتبار نہیں ہے جو ایسی مایوسی کی باتیں کر رہی ہیں۔” دانین نے ان کا ہاتھ پکڑ کر محبت سے کہا۔
“نہیں پتر ایسی بات ۔۔۔۔”
“نیک بخت شاید قسمت کو یہی منظور ہے اس لیے بحث نہ کر۔ بچی جو کہہ رہی ہے مان لے۔” اسماء کے والد نے بیوی کو ٹوکا تو وہ خاموش ہوگئیں۔ دانین نے انہیں دیکھا تو سُن سی رہ گئی۔ ان کی آنکھوں سے آنسو نکل کر ان کی داڑھی میں جذب ہو رہے تھے۔ چالیس پینتالس سال کا وہ مرد جس پرغربت اور پھر بیٹی کے دکھ نے وقت سے پہلے بڑھاپا طاری کر دیا تھا سر جھکائے اپنی بےبسی پر رو رہا تھا۔ حالات اور وقت نے اسے اس موڑ پر لاکھڑا کیا تھا جہاں ایک غریب آدمی صرف اپنی قسمت پر رو ہی سکتا ہے۔ اس نے نچلا ہونٹ سختی سے دانتوں تلے دبا کر ضبط کرنا چاہا مگر تمام تر کوششوں کے باوجود اس کی آنکھیں دھندلا گئیں۔
“میں آتی ہوں۔” جب مزید خود پر قابو نہ پا سکی تو اٹھتے ہوئے بولی اور تیز تیز قدم اٹھاتی ان سے کچھ دور جا کھڑی ہوئی اور موبائل نکال کر افشین کا نمبر ملانے لگی ۔ فون کان سے لگا کر اس نے مڑ کر دیکھا تو اسماء اپنے باپ کے گھٹنوں پر سر رکھے رو رہی تھی۔ وہ اس منظر میں ایسا کھوئی کہ یہ بھی نہ جان سکی کہ افشین کال اٹھا چکی ہے۔ اس کے بار بار ہیلو ہیلو کرنے پر وہ ہوش میں آئی۔
“ہاں ہیلو۔” اس نے جواب دیا۔
“کہاں چلی گئی تھیں؟ کب سے بولے جا رہی ہوں۔”
“یہی تھی۔” اس نے ہولے سے کہا۔
“لگ تو نہیں رہی۔ جب سے جیجو کی گرل فرینڈ کا پتہ صاف ہوا ہے تم تو لفٹ کرانا ہی بھول گئی۔” دوسری طرف سے افشین کی شرارت سے بھرپور آواز پر وہ مسکرا بھی نہ سکی۔
“ایک کام ہے تم سے اور اشعر سے ۔” اس نے اس کے مذاق کو نظرانداز کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
“تم رو رہی ہو؟” اس کی بھیگی اور دھیمی آواز سن کر افشین ٹھٹھکی۔
“ہاں نہیں۔ بس ایسے ہی۔” اس نے ایک ہاتھ سے اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے افشین کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔
“دانی کیا بات ہے؟ کچھ ہوا ہے؟ ارتضی نے کچھ کہا؟” افشین جو لاونج میں بیٹھی تھی تیزی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آئی اور گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر کی طرف بڑھی۔
“نہیں میں ٹھیک ہوں۔ کسی نے کچھ نہیں کہا۔ تم زرا اشعر کو لے کر اسماء کے گھر آجاؤ ۔” دانین گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز سن کر گہری سانس لے کر رہ گئی۔ مطلب وہ اس کو پریشان دیکھ کر اس سے ملنے کے لیے آ رہی تھی۔
“اسماء کے گھر ؟ تم کہاں ہو؟ مجھے اپنی لوکیشن بتاؤ میں دس منٹ میں تمہارے پاس پہنچ رہی ہوں۔”
“میں اسماء کے گھر ہوں تم دونوں یہاں آجاؤ اور خالی ہاتھ مت آجانا۔ اپنی گنز اور گولیاں وغیرہ چیک کر کے ساتھ لانا۔” وہ اسے تنبیہ کرنا نہ بھولی۔
“ڈی مسئلہ کیا ہے تم مجھے بتاؤ گی؟” اس کی گھما پھرا کر بات کرنے پر وہ جھنجھلائی البتہ گاڑی کا رخ وہ اسماء کے گھر کی جانب موڑتے ہوئے رفتار بھی تیز کر چکی تھی۔
“عدیل کا بھائی یہاں آیا تھا اور اسماء نے مجھے کال کر کے بتایا۔۔۔۔۔۔۔” اس نے مختصراً مگر محتاط لفظوں میں ساری بات بتا دی۔ جانتی تھی کہ ابھی اسے بہت سے لوگوں کے سامنے پیش ہونا ہے سو اس سے جس حد تک ہوسکتا تھا بات لپیٹنا چاہی مگر دوسری طرف بھی افشین تھی پل میں ساری بات سمجھ گئی۔ اس کی بات سن کر افیشن کا پاؤں خود بخود ہی بریک پر جا پڑا۔ ایک دم سے بریک لگنے پر گاڑی کے ٹائر پوری قوت سے چرچرائے جس کی آواز سے ارد گرد کے لوگ اچھل کر رہ گئے چونکہ وہ ابھی تک شہر کے مین روڈ پر ہی جا رہی تھی اس لیے اس کے اچانک بریک لگانے پر اس سے پیچھے آتی گاڑیوں کو بھی یکدم رکنا پڑا۔ نتیجتاً اس سے پیچھے آتی گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرائیں اور ہارن بجنے کا ایک نہ رکنے والا طوفان کھڑا ہوگیا مگر وہ ان سب سے بےنیاز فون میں مگن دانین پر چیخ رہی تھی۔
“اتنا سب کچھ ہوگیا اور تم نے بتانا بھی گوارہ نہیں کیا۔ تم ٹھیک ہو نہ؟ کوئی چوٹ تو نہیں لگی۔ ہم لوگ کیا مر گئے تھے جو ایک کال بھی نہیں کی۔” غصے کی شدید لہر نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
“ریلیکس افشین! مجھے کچھ نہیں ہوا۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔” دانین نے اس کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا۔
“اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی تم ابھی تک وہاں کھڑی ہو؟ تمہارے پاس دفاع کے لیے کچھ بھی نہیں ہے سوائے ایک گولی کے۔ اگر وہ دوبارہ آگیا تو کیا کرو گی؟” اس کا لاپرواہ انداز دیکھ کر وہ پہلے سے بھی زیادہ زور سے چیخی۔ اتنے میں ٹریفک پولیس کا ایک سپاہی اس کے پاس آیا اور تھوڑے سے کھلے ہوئے شیشے سے جھانک کر اس سے کرخت لہجے میں مخاطب ہوا۔
“میڈم یہ کوئی کال کرنے کی جگہ نہیں۔ پیچھے اتنی گاڑیاں آپ کی وجہ سے رکی ہوئی ہیں۔ سائیڈ پہ ہو کر کال کریں ورنہ بیچ سڑک بدنظمی پیدا کرنے پر آپ کا چلان بھی کیا جا سکتا ہے۔”
” اوہ جسٹ شٹ اپ! دیکھ نہیں رہے میں کتنی امپورٹینٹ بات کر رہی ہوں۔” افشین کا کہیں اور بس نہ چلا تو وہ اس سپاپی پر چڑھ دوڑی اور اس کو مزید بولنے کے لیے منہ کھولتا دیکھ کر جیکٹ کی اندرونی جیب سے کارڈ نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔ وہ کارڈ دیکھ کر سیلوٹ کرتا ہوا خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا۔
“افشی یار مجھے اندازہ نہیں تھا تم غصہ کیوں کر رہی ہو اور وہ بیچارہ ٹھیک ہی کہہ رہا ہے تم یوں روڈ بلاک کیوں کیے کھڑی ہو؟”
“شٹ اپ، جسٹ شٹ اپ! میری طرف سے جہنم میں جاؤ۔” وہ جھلاتے ہوئے بولی اور موبائل بند کر کے سائیڈ سیٹ پر پھینکا۔ آنکھیں بند کر کے اس نے گہری سانس لے کر خود کو کمپوز کیا اور سائیڈ مرر سے پیچھے کھڑی گاڑیاں دیکھ کر اس نے گاڑی سٹارٹ کر کے وہاں سے نکالی اور اشعر کو بھی فون کر کے وہاں پہنچنے کا کہہ دیا ۔
وہ دونوں پانچ پانچ منٹ کے وقفے سے وہاں پہنچے تو وہ لوگ پہلے سے تیار کھڑے تھے۔ دانین نے ایک چھوٹے سے بیگ میں ان کی قیمتی اشیاء ہی رکھوائی تھیں۔ دیگر ضرورت کا سامان اس نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہ خود ہی بندوبست کروا دے گی۔” اشعر ان لوگوں کو گاڑی میں بٹھا رہا تھا۔ افشین اسماء کی والدہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں بیٹھنے میں مدد دے رہی تھی جب دانین چلتی ہوئی اس کے پاس آئی۔
“اس بار کسی کو کچھ مت بتانا۔ اگلی بار ایسا کچھ نہیں کروں گی۔ پکا۔”
“اسماء تم دوسری سائیڈ سے آ کر بیٹھو۔ آنٹی کو تکلیف ہوگی۔” اس کو نظرانداز کرتے ہوئے اس نے اسماء سے کہا۔
“افشی سنو نہ ۔ اٹس اے ریکویسٹ۔” اس نے ملتجی لہجے میں کہا مگر وہ کوئی جواب دیے بنا اپنی گاڑی کی طرف آئی اور فرنٹ سیٹ تھوڑی سی ہٹا کر اس میں سے پسٹل نکالا۔ اس کی گولیاں چیک کرنے کے بعد وہ واپس دانین کی طرف آئی۔
“ریجیکٹڈ۔” اس نے کہتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا پسٹل اسے تھمایا۔
“فل ہے۔ اب جا کر اپنی گاڑی میں بیٹھو اور سیدھا آفس چلنا۔ میں بھی تمہارے پیچھے ہی ہوں۔”
“تم کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گی۔” دانین نے اس کے ہاتھ سے موبائل جھپٹتے ہوئے کہا۔
“رکھ لو لیکن کوئی فائدہ نہیں کیونکہ میں پہلے ہی باس کو بتا چکی ہوں اور وہ آفس میں بیٹھے شدت سے تمہارے منتظر ہیں۔” وہ موبائل اس کے پاس چھوڑے کسی مغرور حاکم کی طرح چلتی ہوئی اپنی گاڑی میں بیٹھی۔ اس کو وہیں کھڑا دیکھ کر افشین نے ہارن بجا کر اسے اپنی گاڑی کی طرف جانے کا اشارہ کیا تو وہ دانت پیستی ہوئی سڑک کی دوسری طرف چل دی جہاں اس کی گاڑی کھڑی تھی۔
