Khaak e Watan by Shagufta Kanwal NovelR50594 Khaak e Watan (Episode 05)
Rate this Novel
Khaak e Watan (Episode 05)
Khaak e Watan by Shagufta Kanwal
“آپ۔۔۔۔۔ آپ دانین آپی ہیں نہ ؟’ اس کو خاموش دیکھ کر اس نے دوبارہ سوال کیا۔ فروا بھابھی خود ہکا بکا کھڑی تھیں سو ان کی طرف سے بات سنبھالنے کی امید چھوڑ کر دانین نے آنکھیں بند کر کے گہری سانس لی
“کون دانین؟ اور تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میرے کام میں انٹر فئیر کرنے کی ۔” اس نے آواز بدل کر سخت لہجے میں اس کی طرف دیکھا۔ اس کی شعلے اگلتی آنکھیں دیکھ کر رابیل کو اپنے جسم میں ایک سرد سی لہر دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی
“مم۔ میں تو ۔” اس کا انداز دیکھ کر الفاط رابیل کے گلے میں ہی اٹک کر رہ گئے
“شٹ اپ۔ سٹوپڈ لڑکی ۔” دانین ایک دم سے گرجی تو وہ سہم کر بے اختیار پیچھے ہٹی اور فروا بھابھی کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی
“خاموش کھڑی رہو ۔دیکھ نہیں رہی ان کا غصہ۔ ایسا نہ ہو تم بھی لپیٹ میں آجاؤ۔” فروا بھابھی نے اسے مزید ڈرایا
“پر بھابھی یہ رنگ تو دانین آپی کی ہے جو ماما نے پہنائی تھی ۔ رابیل کی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی تھی ۔ اگلے ہی لمحے وہ اچھل کر رہ گئی کیوں کہ دانین نے ایک زور دار تھپڑ نیچے پڑے آدمی کو دے مارا تھا ۔ وہ اس کے تیور دیکھتے ہوئے بھاگ کر گاڑی میں جا بیٹھی ۔ اس کا دھیان ہٹنے پر دانین نے اللہ کا شکر ادا کرتے اس آدمی کو اٹھایا اور فروا بھابھی سے گن لے کر اس کی کنپٹی پر رکھی
بول! کس کے کتے ہو تم ؟”
“چل بول نہ ۔” اس کو خاموش دیکھ کر اس نے گن کا دباؤ بڑھایا
“راجہ ،راجہ نام ہے ہمارے باس کا۔” اس نے جلدی سے نام لیا ۔ نام سن کر وہ دانت پیس کر رہ گئی
“دفع ہوجاؤ ۔ تمہارے راجہ کو تو میں دیکھ ہی لوں گی مگر آج کے بعد اگر تم مجھے ایسی کوئی حرکت کرتے مل گئے تو خود پہ خود ہی فاتحہ پڑ لینا، کیوں کے کسی اور کو تو تم ملو گے نہیں کہ تم پر چار قل ہی پڑھ سکے ۔ ” اس نے اس کو جیپ کے پاس پڑے دونوں ساتھیوں کی طرف دھکا دیا ۔ ارداہ تو اس کا مزید طبعیت صاف کرنے کا تھا مگر رابیل کی مشکوک نظریں وہ ابھی بھی خود پر محسوس کر رہی تھی اس لیے منظر سے غائب ہونا ہی مناسب سمجھا۔ اس نے فروا کو بھی اشارہ کیا تو وہ ارسل اور ایان کو لے کر گاڑی کی طرف آئی
“اوئے رکو ! کہاں جا رہے ہو؟ ان کو بھی لے کر جاؤ ۔” دانین نے اس کو اٹھ کر بھاگتے دیکھ کر آواز لگائی تو وہ جلدی سے مڑا اور ان کو اٹھا کر جیپ کی طرف لے جانا چاہا مگر ایک تو وہ جسامت میں بھی اس سے تھوڑے صحت مند تھے دوسرا وہ سب تو ایک ایک ہی وار سے چیں بول گئے تھے ۔ان کے بعد وہ اکیلا ہی اس کے عتاب کا شکار بنا رہا تھا اس لیے وہ اٹھانے کی بجائےگھسیٹ کر ان کو گاڑی کی طرف لے جانے لگا ۔
“ہمت اتنی سی ہے مگر ابھی کہیں سے کوئی لڑکی نظر آ جائے تو تمہارے انگ انگ میں بجلی بھر جانی ہے ۔” دانین سر جھٹکتی اس کی طرف آئی اور اس کو ان کے پاؤں سے پکڑنے کا کہہ کر خود سر سے پکڑنے کی بجائے ان کے بالوں سے پکڑا
آرام سے ۔”اس نے بال تو نیچے پڑے آدمی کے مٹھی میں جکڑ رکھے تھے مگر سامنے والے کو اپنے جڑ سے اکھڑتے محسوس ہوئے تو بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا
واٹ؟” دانین نے حیرت سے اس کو دیکھا
نہیں نہیں آپ کریں ۔ معافی چاہتا ہوں ۔” اس نے جھٹ سے ایک ہاتھ کھڑا کیا
دانین نے دونوں لڑکے اس کی جیپ میں منتقل کروائے اور اپنی جیکٹ اٹھا کر ان کو جانے کا اشارہ کیا ۔ فروا بھابھی کو بھی اس نے ہاتھ سے گاڑی آگے بڑھانے کو کہا ۔ دونوں گاڑیاں ایک دوسرے کے مخالف سمت چلی گئیں۔ وہ تب تک کھڑی وہاں دیکھتی رہی جب تک دونوں گاڑیاں ہی نظروں سے اوجھل نہ ہوگئی ۔ وہ گہری سانس لیتے ہوئے اپنی گاڑی تک آئی اور فون اٹھا کر افشین کو کال کرنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فروا بھابھی نے گاڑی گیراج میں روکی تو سب سے پہلے فروا باہر نکلی اور تیز تیز قدموں سے اندر کی طرف بڑھی۔اس کی جلدی کے پیچھے کا مقصد سمجھ کر وہ مسکرا دیں۔جیسے ہی وہ ہال سے گزر کر اوپر جانے لگی۔کچن سے آتی اوازیں سن کر رکی اور پلٹ کر کچن کی طرف آئی تو گرتے گرتے بچی۔سامنے ہی دانین ایپرن پہنے چولہے کے سامنے کھڑی فرائنگ پین میں چمچ ہلا رہی تھی۔پاس ہی نوشین بیگم بھی بیٹھی پیاز کاٹنے کے ساتھ ساتھ اس سے باتیں کر رہی تھیں۔ نوشین بیگم نے سر اٹھایا تو اس کو دیدے پھاڑے دروازے میں ایستادہ پایا
ارے ! تم لوگ آگئے؟”
“آپی آپ؟” اس نے نوشین بیگم کی بات جا جواب دینے کی بجائے دانین کو مخاطب کیا
“ہاں میں.” دانین نے اس کے چہرے پر ثبت حیرانگی اور بےیقینی پر لبوں پر امڈتی مسکراہٹ کو بمشکل روکا
اپ کب آئیں؟”
“کہاں ؟دنیا میں یا اس گھر میں؟” دانین نے الٹا سوال کیا
“باہر سے ۔”اس نے لفظ باہر پر خاصا زور دیا
“باہر سے؟ میں تو اج باہر گئی ہی نہیں۔ کچھ میری طبعیت بھی ٹھیک نہیں تھی اور پھر آنٹی نے کہا ملازمہ چھٹی پر ہے تو ان کی کچن میں ہیلپ کروا دوں ۔”اس نے مڑ کر چولہے کی آنچ ہلکی کرتے ہوئے جواب دیا
رئیلی آپی۔”
“ہاں بیٹا وہ تو صبح سے میرے ساتھ ہی ہے ۔ تم کیوں پوچھ رہی ہو؟” نوشین بیگم نے پوچھا
“اپ کی رنگ اور گھڑی کہاں ہے؟” رابیل اس کی موجودگی سے بھی مطمئن نہیں ہو پا رہی تھی
“کمرے میں ہے ۔” وہ قورمہ دم پر رکھ کر اس کی طرف آئی
“رابی کیا بات ہے ؟ کیوں اتنے سوالات کر رہی ہو؟”نوشین بیگم نے اس کو گھورا
“آپ کو پتہ ہے ماما آج کچھ لڑکوں نے ہمارا راستہ روکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اس نے دو منٹ میں ہی ساری تفصیل ان کے گوش گزار دی ۔
“پتہ نہیں کیوں ہر ایسے موقعے پر میں اس کے ساتھ کیوں نہیں ہوتی۔” دانین کے میک اپ میں چولے کے پاس کھڑی افشین بڑبڑائی
“آپ نے کچھ کہا کیا۔”رابیل نے اس کی بڑبڑاہٹ سن کر پوچھا
“نہیں۔اور تمہیں ایسے ہی غلط فہمی ہوئی ہوگی ۔میں اور مار دھاڑ۔بالکل بھی نہیں۔میری تو چھپکلی دیکھ کر ہی جان نکل جاتی ہے۔” اس نے دل ہی دل میں دانین کو ڈھیروں گالیوں سے نوازتے ہوئے کہا ۔اسے تقریبا آدھے گھنٹے پہلے ہی دانین کی کال آئی تھی کہ اس کی چھوٹی سے تکرار ہوئی ہے جس ہر وہاں موجود رابیل کو اس پر شک ہوگیا ہے اس لیے ان کے آنے سے پہلے اسے وہاں موجود ہونا چاہییے
“لو بتاو بھلا ۔جیسا تم بتا رہی ہو کہ بہت بے دردی سے مارا ہے ۔اپنی دانین خیر سے ایسا کچھ نہیں کر سکتی ۔اس کی صحت دیکھو اور تمہارا بتایا ہوا نقشہ سوچو تو سوچ کر ہی ہنسی آتی ہے ۔یہ دھان پان سے لڑکی ان تین غنڈوں کا کیا مقابلہ کرے گی اور ویسے بھی یہ صبح سے ہی میرے ساتھ ہے ۔”
” ویسے ہی تمہیں لگا ہوگا ۔اب جاؤ جا کر ریسٹ کرو۔ کچھ دیر سو جاؤ تاکہ تم ریلیکس ہو سکو۔”نوشین بیگم نے اس کو سمجھاتے ہوئے منظر سے ہٹانا چاہا۔
“جی ماما۔” وہ کچھ مشکوک سی افشین کی پشت دیکھتی کچن سے نکل گئی
“توبہ ہے آنٹی ۔اپ کی بیٹی میں جاسوس بننے کے سارے گن ہیں۔ مجھ سے لکھوا لیں یہ ابھی بھی مطمئن نہیں ہوئی ہے۔ سو بی کئیر فل ” افشین ایپرن اتار کر سلیب پر رکھتی نوشین بیگم کے پاس آ بیٹھی۔ انہوں نے بھی اس کی تائید میں سر ہلا دیا
جاری ہے
