Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khaak e Watan (Episode 07)

Khaak e Watan by Shagufta Kanwal

ابھی اس سارے واقعے کو ایک گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ دانین کو اسما کے والد کا فون آیا اور انہوں نے اطلاع دی کہ اسما کوپولیس پکڑ کر لے گئی ہے۔ ان کی بات سن کر وہ ششدر رہ ہی تو گئی تھی ۔ احمد صاحب کو بتا کر وہ گاڑی لے کر باہر نکلی ۔رخ تھانے کی طرف تھا۔ راستے میں وہ مسلسل سوچتی ہوئی جا رہی تھی کہ کیسے اسما کو وہاں سے نکلوائے کیوں کہ وہ لوگ اتنی آسانی سے تو نہیں چھوڑنے والےتھے۔ کچھ سوچ کر اس نے اشعر اور افشین کو فون کر کہ صورتحال بتائی اور انہیں الرٹ رہنے کی تاکید کرتے ہوئے تھانے پہنچی اور خود کو اسما کی رشتے دار ظاہر کرتے ہوئے اس سے ملنے کی خواہش کی ۔ ڈیوتی پر موجود سپاہی اسے ایس ایچ او کے کمرے میں لے آیا۔ اس نے اس سے اسما کو لانے کی وجہ وچھی تو اس نے واضح کہہ دیا کہ عدیل افتخار کے گھر والوں نے اس پر شبہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے اغوا اور مار پیٹ کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے

“آپ کا دماغ ٹھیک ہے ؟ وہ بیچاری غریب بچی جو خود مظلوم ہے وہ کسی کو کیا نقصان پہنچائے گی ۔” دانین اس کی اپنے اندر گڑتی نظروں پر سختی سے بولی

“لڑکی زرا تمیز سے ۔ یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے۔ تھانہ ہے اگر دوبارہ صاحب کے سامنے اونچی آوازمیں بات کرنے کی کوشش بھی کی نہ تو اٹھا کر تمہیں بھی ساتھ ہی حوالات میں ڈال دیں گے ۔” پاس کھڑی لیڈی کانسٹیبل نے وفاداری دکھاتے ہوئے اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا ۔ احمد صاحب نے چونکہ اس کو سختی سے منع کیا تھا کہ وہ کچھ نہیں کرے گی اس لیے بس وہ دانت یس کر رہ گئی

“ویسے ایک بات تو بتاؤ ۔ خوبصورتی تمہارے خاندان کو وراثت میں ملی ہے کیا؟ پہلے وہ لڑکی اسما تو آفت تھی ہی ۔تم بھی قیامت سے کم نہیں ہو۔” ایس ایچ او نے اس کے سراپے کا جائزہ لیتے ہوئے کمینگی سے قہقہ لگایا جس میں پاس کھڑی لیڈی کانسٹیبل نے بھی ساتھ دیا۔دانین نے سختی سے مٹھیاں بھینچ کر بمشکل خود کو اس کا حلیہ بگاڑنے سے باز رکھا

“سر پلیز ۔وہ بچی ہے ۔پہلے ہی اتنا ظلم سہہ چکی ہے ۔کچھ تو خیال کریں۔ عزت تو وہ پہلے ہی گنوا چکی ہے اب کیا اس بےچاری کی جان لینی ہے۔” دانین نے ملتجی لہجے میں کہا

ایک صورت میں کام ہوسکتا ہے ۔۔۔” اس نے معنی خیزی سے بات ادھوری چھوڑی تو مارے غصے کے دانین کا چہرہ سرخ ہوا

“سر پلیز ہم غریب لوگ ہیں۔”

“دیکھو لڑکی ! اگر اس کو یہاں سے لے جانا چاہتی ہو تو اگر مگر مت کرو ورنہ جا سکتی ہو ۔فالتو میں ہمارا وقت ضائع مت کرو ۔لیڈی کانسٹیبل نے کھردرے لہجے میں اسے کہا ۔اس نے ترچھی نظر سے اس کو دیکھا اور دل ہی دل میں اس کا اس وردی کا خمار اتارنے کا پختہ تہیہ کیا۔

“چل اٹھ بہت ہوگئی تیری ڈرامے بازی۔ لیڈی کانسٹیبل اس کو بازو سے پکڑ کر زبردستی اٹھایا

“دیکھیں میڈم آپ میری بات تو سنیں ۔اس سب میں اس لڑکی کا کوئی قصور نہیں ہے ۔وہ بےگناہ ہے ۔پلیز اس کو چھوڑ دیں۔یہاں رہنا اس کے لیے سیف نہیں ہے ۔دانین نے اپنے اندر اٹھتی غصے کی لہروں کو دباتے ہوئے تحمل سے کہا

چل بی بی چل بڑی دیکھی ہے تیرے جیسی ۔ہمیں سبق نہ پڑھا۔”ایس ایچ او نے اسے باہر کی جانب دھکیلا۔توازن بگڑنے کی وجہ سے وہ اوندھے منہ نیچے جا گری ۔ تھانے میں موجود عملہ شور کی آواز سن کے اٹھ کر وہاں آگیا تھا۔نیچے پڑی دانین نے سختی سے آنکھیں میچ کر کھولیں اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

“چلو بھئی شو ختم ہوگیا۔ واپس اپنے اپنے کام پر لگو۔”ایس ایچ او تالی بجاتا واپس اپنے کیبن کی طرف مڑا

“کہاں ایس ایچ او صاحب !شو تو اب شروع ہوگا جب تم اس لڑکی کو آزاد کرو گے اور یہ جو تم نے نیچ حرکت کر کے اپنے گھٹیا خاندان سے تعلق رکھنے کا ثبوت دیا ہے نہ اس کے لیے معافی بھی مانگو گے۔”دانین کی غراتی ہوئی آواز پر بے اختیار اس کے قدم تھمے۔اس نے مڑ کر دیکھا تو کھڑی شعلہ بار نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔وہ دانین سے ڈی اے کی روپ میں آ چکی تھی۔

“لڑکی جی دار معلوم ہوتی ہو اور یقین کرو مجھے جی دار لڑکیاں بہت پسند ہیں ۔”وہ خباثت سے مسکراتا ہوا اس کی طرف آیا ۔

“چل اب ایک آفر تجھے میں دیتی ہوں۔ اس دیوار کے پاس رکھی کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے ہوئے کہا۔ دانین ابراہیم واپس اپنی جون میں آ گئی تھی

تو اس پوزیشن میں ہے ؟” ایس ایچ او استہزایہ ہنسا

“بالکل سر ! میری پوزیشن کا تو آپ کو اندازہ ہی نہیں ہے اور دعا کرنا کہ ہو بھی نہ ۔”

“خیر ایک ڈیل کرتے ہیں آپ اس بچی کو چھوڑ دیں ۔بدلے میں ہم آپ کی بیٹی چھوڑ دیں گے ۔”اس نے پرسکون سی مسکراہٹ سے کہا۔ وہ کچھ دیر تک اس کے لفظوں پر غور کرتا رہا جب بات سمجھ میں آئی تو اس کے ہاتھ سے اس کی کیپ چھوٹ کر گری

“کیا بکواس کر رہی ہو لڑکی۔”وہ جارحانہ انداز میں اس کی طرف بڑھا

“آں ہاں ۔۔۔۔ اب ہاتھ اٹھانے کی غلطی مت کرنا ورنہ ساری زندگی بیٹی کی شکل نہیں دیکھ پاؤ گے ۔”دانین نے اپنی بیک سے گن نکالتے ہوئے اسے پیچھے ہونے کو کہا

“اب فیصلہ کر لو۔ اپنی بیٹی بچانی ہے یا پرایا بیٹا ۔”

بلکہ رکو میں تمہاری بات کرواتی ہوں تاکہ تمہیں تسلی ہوجائے۔اس نے کہتے ہوئے جیکٹ کی جیب سے موبائل نکال کر اشعر کا نمبر ڈائل کر کہ ساکت کھڑے ایس ایچ او کو تھمایا

“کر لیں بات۔وڈیو کال ہے ”دانین نے ہلکا سا ہنستے ہوئے کہا۔جیسے ہی کال پک ہوئی سامنے سکرین پر اس کی چھ سالہ بیٹی نظر آئی۔اس نے فورا کال کاٹ کر کے موبائل اس کی طرف اچھالا

“اب بول بچی کو چھوڑو گے یا نہیں؟”

“راشدہ لڑکی کو لے کر آو۔ جلدی؟” اس نے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتے ہوئے لیڈی کانسٹیبل کو آواز دی

“ارے نہیں بھئی ایسی بھی کوئی جلدی نہیں ۔ آرام سے لے آؤ ۔ ” دانین نے اس کی اڑتی ہوائیاں دیکھ کر کہا

“میڈم پلیز۔” وہ رو دینے کو ہوا

“اچھا اچھا ٹھیک ہے۔ جاؤ خود جا کر لے کر آو.” دانین نے تحکم بھرے لہجے میں کہا۔وہ بنا کچھ کہے تیز تیز قدم اٹھاتا حوالات کی طرف گیا اور اگلے ہی لمحے بڑی سی چادر اپنے گرد لپیٹے سہمی ہوئی اسما اس کے پیچھے آتی دکھائی دی

“”اس کے ساتھ تم نے جو بھی بکواس یا بدتمیزی کی ہے ۔اس کے لیے اس سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگو۔” دانین نے پستول گھماتے ہوئے اگلا حکم جاری کیا

“سوری بہن ۔ہم سے غلطی ہوگئی ۔معاف کر دو۔”اس نے باقاعدہ ہاتھ جوڑ دئیے

بدتمیزی تو تم نے مجھ سے بھی کی ہے تو کیا خیال ہے ؟” دانین نے کرسی پر ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔اس کے کہنے کہ دیر تھی کہ وہ ہاتھ جوڑتا اس کے سامنے ایا

‌ایم سوری میڈم ! آپ جو کہیں گی میں کرنے کے کیے تیار یوں ۔مگر میری بیٹی کو کچھ مت کہیے گا۔میری ایک ہی بیٹی ہے ۔مجھے بہت عزیز ہے۔اگر اسے کچھ ہوگیا تو میری بیوی بھی مر جائے گی ۔پلیز میڈم ۔” وہ جو کچھ دیر پہلے شیر کی طرح دھاڑ رہا تھا اب کسی بکری کی مانند گھگھیانے لگا

کیسی بیمار زہنیت کے مالک ہو تم ۔جب بات اپنی بیٹی پر آئی تو تڑپ اٹھے مگر کبھی سوچا ہے اسما بھی کسی کی بیٹی ہے ۔ اس پر جو گزری ہے اس کے باپ کی کیا حالت ہوگی ۔وہ کیسے سہہ رہا ہوگیا ۔مجھے حیرت ہورہی ہے کہ بیٹی کے باپ ہوکر ایسی گھٹیا سوچ ۔” دانین نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا

خیر میں اسے لے کر جا رہی ہوں ۔امید کرتی ہوں تم دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرو گے۔” وہ اسے خاموش کھڑا دیکھ کر اٹھی اور چلتی ہوئی لیڈی کانسٹیبل کے پاس آئی

اپنے لیے کسی نوکری کا بندوبست کر لینا ۔تم جیسی عورتیں عوامی سہولت کے لیے بنائی گئی جگہوں پر کام کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔ “اس کا گال تھپتھپاتی وہ اسما کا بازو تھامے اسے تھانے سے لیے باہر نکل گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہائے سویٹی! کیسی ہو؟” ارتضی نے فون اٹھاتے ہوئے پیار سے پوچھا.وہ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا تھا جب اسے علیزہ کی کال موصول ہوئی

“تم اپنی اس سو کالڈ منگیتر کو سنبھال کر رکھو۔ میرے منہ مت لگے ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔” جوابا علیزہ کی چیختی اواز سن کر وہ چونکا اور پلٹ کر دانین کو دیکھا جو رابیل اور فروا بھابھی کے ساتھ کچن میں کام کر رہی تھی۔

“کیا ہوا بے بی؟ غصہ کیوں کر رہی ہو؟ “

“کیا ہوا ہے؟ یہ تم مجھ سے پوچھنے کی بجائے اپنی فیانسی سے پوچھو۔ مجھے دھمکیاں دے کر گئی۔” ہے ۔” اس نے پھاڑ کھانے والے لہجے میں کہا

“کیا کہا ہے اس نے ؟” ارتضی نے میز پر پلیٹیں رکھتی دانین کو دیکھتے ہوئے پوچھا

“ہنہ ۔۔ کہہ رہی تھی تم اس کے منگیتر ہو۔اس لیے میں تم سے دور رہوں ورنہ میری جان لے لے گی اور۔۔۔ اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑی

“اور؟”

“اور بھی بہت سے گھٹیا الزام لگائے ہیں ۔میرے کردار پر انگلی اٹھائی کہ میں لڑکوں کو پھانستی ہوں اور ان سے پیسے بٹورتی ہوں ۔” اس کو غصے میں دیکھ کر اس نے مزید آگ لگائی۔

“میں تمہیں بعد میں کال کرتا ہوں۔”

وہ فون بند کر کے کچن میں آیا جہاں وہ نوشین بیگم کے پاس کھڑی کوئی بات کر رہی تھی

“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میری دوست سے ایسے بات کرنے کی ۔” وہ سیدھا اس کے پاس پہنچ کر بنا کوئی دوسری بات کیے بولا

“کون سی دوست؟” دانین نے بھولپن سے پوچھا

علیزہ کی بات کر رہا ہوں۔”اس نے چبا چبا کر کہا

“اوہ مگر وہ تمہاری دوست تو نہیں ہے۔” وہ سادہ سے لہجے میں کہتی پانی کا جگ اٹھانے لگی جب ارتضی نے اس کا بازو پکڑ کر اسے روکا

“ارتضی کیا بدتمیزی ہے یہ؟” نوشین بیگم نے ناگواری سے اسے ٹوکا

“میں بدتمیزی کر رہا ہوں؟اور جو یہ کر کے آئی ہے اس کا کیا؟”اس نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا

کیا کیا ہے میں نے؟”

“علیزہ سے کیا بکواس کی ہے؟”

“مائنڈ یور لینگوئج مسٹر ارتضی ۔ کسی بھی لڑکی سے بات کرنے کا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔” اس نے سرد لہجے میں کہا

” دوسری بات آج کے بعد مجھے اس انداز میں مخاطب کرنے کی کوشش بھی مت کرنا۔ اس کے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑواتے ہوئے اس نے زور سے جھٹکا

“اور تیسری بات ۔تمہاری اس ہوتی سوتی کو میں نے کچھ نہیں کہا۔ پتہ نہیں اس نے تمہیں کیا الٹی سیدھی پٹی پڑھائی ہے جو تم بات کرنے کی تمیز تک بھول گئے ہو۔”

کیا تم نے اسے یہ نہیں کہا کہ وہ مجھ سے دور رہے اور اس کے کردار پر انگلی نہیں اٹھائی۔”ارتضی اس کے تیوروں سے خائف ہوتا جلدی سے بولا مگر اس بار اس کا لہجہ خود بخود ہی دھیما پڑ گیا تھا

“کب؟” دانین نے اس کا جواب دینے کی بجائے الٹا سوال کیا

ابھی کچھ دیر پہلے ۔”

“کیا پاگل ہوگئے ہو؟ وہ تو آج صبح سے کہیں باہر ہی نہیں نکلی۔” نوشین بیگم نے اسے گھورتے ہوئے کہا

واٹ؟” اس نے حیرانگی سے پوچھا

“ہاں ارتضیٰ یہ تو ہمارے ساتھ ہی ہے ۔ ہم لوگ صبح سے اکھٹے ہی کام کر رہے ہیں ۔پہلے رابیل کے ساتھ لڈو کھیلتے رہے اور پھر کافی دیر سے کچن میں ہیں۔” فروا بھابھی نے خاصی سنجیدگی سے تفصیل بتائی

“تو کیا وہ جھوٹ بول رہی ہے ؟” ارتضی جھلا کر بولا

تو کیا ہم جھوٹ بول رہے ہیں؟” نوشین بیگم ہاتھ میں پکڑی چھری پھینکتے ہوئے غصے بولیں

“نہیں مام میرا وہ مطلب نہیں تھا۔” ان کو غصے میں دیکھ کر وہ جلدی سے بولا

“نہیں کہہ دو ہم تین لوگ جھوٹ بول رہے ہیں اور وہ سچ بول رہی ہے۔” نوشین بیگم کا پارہ ہائی ہوتا دیکھ کر اس نے خاموشی میں ہی عافیت جانی اور باہر کی جانب بڑھا جب دانین اس کے پیچھے آئی

“لسن مسٹر ارتضی !اتنی فارغ نہیں ہوں میں جو اس جیسی لڑکی کے منہ لگتی پھروں۔ ویسے بڑی ہی چالاک ہے۔ دو منٹ میں تمہیں تمہارے گھر والوں کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا۔”

“اس جیسی سے کیا مراد ہے تمہاری؟” وہ جو کچھ حد تک نارمل ہوا تھا اس کی بات پر پھر سے بھڑک اٹھا

“جیسی وہ ہے اور وہ کیسی ہے؟ یہ بات تمہیں بہت جلد پتہ چل جائے گی۔” اس نے استہزایہ لہجے میں کہا اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔

“ہے یو۔” وہ پیچھے سے چیخا مگر وہ جاچکی تھی ۔ وہ غصے سے مٹھیاں بھینچتا باہر نکل گیا۔ دانین اپنے کمرے میں جا کر افشین کا نمبر ملانے لگی تاکہ اس سے اس پھیلے ہوئے رائتے کے بارے میں جان سکے

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *