Khaak e Watan by Shagufta Kanwal NovelR50594

Khaak e Watan by Shagufta Kanwal NovelR50594 Last updated: 28 March 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khaak e Watan by Shagufta Kanwal

موسم میں ہلکی خنکی اور ٹھنڈک سے بےنیاز وہ داخلی دروازے کے باہر بنی سیڑھیوں پر بیٹھا سردیوں کی نرم دھوپ سے لطف اٹھاتا اپنے موبائل میں مکمل غرق تھا۔ اس کی محویت میں خلل تب پڑا جب کسی نے اسے بری طرح سے جھنجھوڑ ڈالا۔ وہ جو موبائل پر کچھ دیکھ کر مسکرا رہا تھا اچانک سے ہوئے اس حملے پر اس کا موبائل نیچے زمین بوس ہوتے ہوتے بچا۔ اس نے ہڑبڑا کر نگاہیں اٹھائیں تو اپنے برابر میں براجمان وجود کو خود کو گھورتے پایا۔
"مسٹر ارسل! ایسا بھی کیا خاص ہے اس موبائل میں کہ آپ کو اپنے ارد گرد کی دنیا کا کچھ ہوش ہی نہیں ہے؟ اگر طبیعت پر گراں نہ گزرے تو مجھے بتانا پسند کریں گے آپ؟" رابیل اس کو طنزیہ نگاہوں سے دیکھتے گویا ہوئی۔
"ایسا کچھ خاص نہیں، تم بتاؤ کیا بات ہے جو تم اتنی بے چین ہو؟" وہ جانتا تھا کہ جب تک وہ اپنی بات اس کے گوش گزار نہیں کرے گی آسانی سے ٹلنے والی نہیں اسی لیے موبائل ایک سائیڈ پر رکھتا اس کی جانب متوجہ ہوا۔
"مجھے کچھ گڑبڑ لگتی ہے۔" اس نے گال پر انگلی رکھ کر پرسوچ انداز میں کہا۔
"محترمہ زیادہ علامہ اقبال بننے کی ضرورت نہیں ہے، جو بھی بات ہے سیدھی طرح کرو۔" اس کی ڈرامے بازی پر ارسل چڑ کر بولا۔
"یہ دانین آپی کچھ عجیب سی نہیں ہیں؟ ہر وقت ہی ان کا چہرہ بالکل سپاٹ تاثر پیش کرتا ہے۔ ان کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ شاید ہی وہ کبھی مسکرائی ہوں۔ تم نے ان کی آنکھوں کو غور سے دیکھا ہے کبھی؟ میں نے دیکھا ہے اور جانتے ہو میں نے آج تک اپنی زندگی میں کسی کی اتنی چمک دار آنکھیں نہیں دیکھیں لیکن پتہ ہے کیا، ان آنکھوں میں چمک کے ساتھ ہمیشہ سے ایک سرد و سپاٹ تاثر ہوتا ہے جس کو دیکھ کر مجھے ایک خوف سا محسوس ہوتا ہے۔" رابیل پاس رکھے گملے میں سے چنبیلی کے پھول توڑتی کسی ماہر تجزیہ کار کی طرح دانین پر اپنا تجزیہ پیش کرتی ہوئی بولی۔
" کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو ۔ مجھے بھی وہ کچھ مشکوک سی لگی ہیں۔ کہنے کو تو وہ یہاں چھٹیاں گزارنے آئی ہیں مگر ابھی تک ایسا کچھ دکھائی نہیں دیا کہ جس سے لگے کہ وہ گھومنے کے لیے آئی ہیں۔ وہ وقت بے وقت باہر آتی جاتی ہیں اور سوچنے والی بات یہ ہے کہ ڈیڈ کہہ رہے تھے کہ وہ پہلی بار یہاں آ رہی ہیں تو اصولاً انہیں ہم میں سے کسی کو ساتھ لے کر جانا چاہیئے مگر وہ بس ماما کو اطلاع دے کر چلی جاتی ہیں جیسے اس شہر کے چپے چپے کو جانتی ہوں۔" ارسل نے بھی برملا اس کی ہاں میں ہاں ملائی
" بالکل اور مجھے تو یہ تھوڑی مغرور بھی لگی ہیں ۔ ہر وقت ہی سنجیدہ سی اور اپنے آپ میں مگن رہتی ہیں۔ سوائے ماما اور بھابھی کے کسی سے زیادہ بات بھی نہیں کرتیں حالانکہ میں نے کئی بار کوشش کی ہے کہ ان سے بات کروں مگر پھر ان کا سرد رویہ دیکھ کر میری ہمت ہی نہیں پڑتی۔" رابیل نے کچھ دن پہلے کی بات یاد کرتے ہوئے کہا جب اس نے ٹی وی لاونج میں بیٹھی دانین سے بات کرنے کی کوشش کی تھی تو اس نے ہوں ہاں کر کے اسے ٹال دیا تھا۔
" خیر چھوڑو! جو بھی ہے ہمیں کیا لینا ہے۔ چلو آؤ اندر چلتے ہیں، کل میرا ٹیسٹ ہے تو تم میری تھوڑی ہیلپ کر دو۔" ارسل نے اپنا موبائل اٹھاتے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
" اوکے چلو۔" رابیل بھی ہاتھ جھاڑتے ہوئے اٹھی ۔ جیسے ہی وہ دونوں پلٹے تو ان کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا کیونکہ سامنے ہی دانین سینے پر بازو لپیٹے کھڑی سنجیدگی سے دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی۔ اس کے سپاٹ تاثرات سے وہ دونوں جان نہ پائے کہ آیا وہ سب سن چکی ہے یا نہیں۔ ان دونوں کی فق ہوتی رنگت کو دیکھ کر وہ مدہم سا مسکرائی۔
" وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ہم ۔۔۔۔ایسے۔" اس کو خود کو دیکھتا پا کر رابیل نے وضاحت دینا چاہی مگر اس کی سرد آنکھیں اور خطرناک قسم کی سنجیدگی دیکھ کر الفاظ گلے میں ہی اٹک کر رہ گئے۔
" تم لوگوں کی سٹڈیز کیسی جا رہی ہیں؟" اس نے عام سے انداز میں پوچھا۔
"ٹھ۔۔۔ ٹھیک جا رہی ہیں۔" ارسل نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر خود کو نارمل کرتے ہوئے جواب دیا۔ اس کی شخصیت ہی ایسی تھی کہ خواہ مخواہ اگلا بندہ گھبراہٹ کا شکار ہوجاتا۔
"ہوں۔ کالج میں کوئی پرابلم تو نہیں ہے؟" اس نے ہاتھ بڑھا کر رابیل کے بال کان کے پیچھے اڑستے ہوئے نرمی سے پوچھا۔ رابیل جو دانین کے اس طرح کرنے پر حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے ہی دیکھ رہی تھی فوراً سے بے اختیار نفی میں اپنا سر ہلا گئی۔
"اوکے، اب تم لوگ اندر جاؤ باہر کافی سردی ہے ۔ میں بھی ایک کال کر کے آتی ہوں ۔" وہ ان کو کہہ کر آگے بڑھ گئی ۔ دونوں نے حیرت سے پہلے اس کو اور پھر ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر کندھے اچکاتے اندر چلے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *