616.3K
7

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Joro Ka Gulam) Episode 4

“سبزی لے لو سبزی تازہ تازہ سبزی۔۔۔۔
“نوری سبزی والی نہ باسی سبزی۔۔۔۔۔
اوئے نوری ادھر آ کہاں رہ گئی تھی آج اتنی دیر سے کیوں آئی؟؟؟
پتہ بھی ہے کہ رانا جی کو وقت پر کھانا کھانے کی عادت ہے۔۔۔۔
کیہ دساں عجوہ باجی اوہ نہ ڈاکٹر صاحب دی بیگم نے روک لیاں سی آکھدی کپڑے چھت تے پا دے۔۔۔۔
اچھا چل یہ ٹینڈے کیسے لگائیں ہیں۔۔۔
سو روپے کلو ہے باجی۔۔۔
توبہ توبہ اتنے مہنگے نوری کچھ تو خیال کر تیری پرانی گاہک ہوں۔۔۔۔۔
نہ باجی ایس لئی تے میں آج تک اپنے پچھلے 5000 نہیں منگے تہاڈے کولوں۔۔۔۔۔
تیرا بیڑا غرق ہو نوری توں مجھے طعنے دے گی۔۔۔۔
آہو تے ہنوں سبزی تاں ملے گی جے میرا پچھلا حساب کروں گے۔۔۔۔
تے جے نہ کرو حساب تو؟؟؟
تے میں تہاڈے رانا جی کول چلی جاواں گی۔۔۔۔
روک جا دیتی ہوں تیرے پیسے کلموہی۔۔۔۔


“ارے واہ آج تو کھیر بنائی ہے۔۔۔۔
بنائی نہیں آئی ہے زید۔۔۔۔
اچھا تو پھر ضرور آنٹی نے بھیجی ہو گی میرے لیے۔۔۔
میری اماں اتنی فارغ نہیں ہے کہ آپ کے لیے کھیر بناتی رہیں۔۔۔۔
تو پھر کہا سے آئی ہے یہ کھیر؟؟؟
زید آپ چپ کر کے کھا نہیں سکتے۔۔۔۔
آم کھائے گھٹلیاں کیوں گننی ہے آپ کو؟؟؟
مسکان یار تم بتا دو نہ مجھے۔۔۔۔
جمیلہ نے بھیجی ہے۔۔۔۔۔۔
اب یہ جمیلہ کون ہے؟؟؟
ارے وہی جمیلہ۔۔۔۔۔ ہماری کالونی کی مشہور جمیلہ بوری والی۔۔۔۔
زید نے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا تھا۔۔۔
اب کیا ہوا ہے؟؟؟
یار مجھے سمجھ نہیں آتی یہ میرا گھر ہے یہ عجائب گھر۔۔۔۔
کبھی شازیہ ڈنڈے والی آتی ہے۔۔۔۔۔۔
کبھی وہ دونوں چڑیل رومی اور فاطمی۔۔۔۔۔
اور تو حد ہو گئی جمیلہ بوری والی۔۔۔
آپ ان سب کے بارے میں زیادہ نہ سوچے کھیر کھا لیں اور پھر برتن صاف کر دیجئے گا۔۔۔۔
اور ہاں وہ دودھ والا اے تو اس حماد بیچارے کا حساب کر کے پیسے کچھ زیادہ دے دیجئے گا۔۔۔۔۔۔۔
نہ وہ کس خوشی میں میری لوٹری نہیں لگی اور نہ ہی پیسے درختوں پر لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔
آپ کو پتہ ہے زید عید والے دن اس بیچارے نے شلوار اور کلر کی اور قمیص اور کلر کی پہنی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
مجھے تو اتنا ترس آیا اس بیچارے پر کہ میں نے نہ۔۔۔۔
کیا تم نے؟؟؟
میں نے آپ کا سفید والا جوڑا دودھ والے کو دے دیا جو آپ نے رمضان میں منہا جی کے گھر دعوت کے لیے سلائی کروایا تھا۔۔۔۔۔
کیا تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے مسکان تم نے میرا نیا جوڑا جو میں نے پہنا بھی نہیں اس دودھ والے کو دے دیا۔۔۔۔
اچھا اب بس بھی کر دے۔۔۔۔
کیوں بس کروں اگر اتنا ترس آ رہا تھا تو اپنا کوئی جوڑا دے دینا تھا نہ میرا ہی کیوں۔۔۔۔۔
میرا جوڑا کیسے پہن سکتا ہے وہ۔۔
اور ویسے بھی اسلام میں حکم ہے کہ ہمیں اپنی سب سے پیاری چیز کی قربانی دینی چاہیے تاکہ ہمارے اندر ایثار و قربانی کا جذبہ زندہ رہے۔۔۔۔
اور آپ کو پتہ ہے زید اتنی دعائیں دی اس نے ہمیں۔۔۔
اور ایک بہت ہی دلچسپ بات بتائی۔۔۔
کہتا ہے۔۔۔۔۔
خدا کی قسم باجی یہ عید والے دن نیا جوڑا پہن کر جو نیند آتی ہے ویسی نیند اور سکون سارا سال نہیں ملتا۔۔۔۔
واہ اپر والے کیا قسمت ہے میری میری بیوی کو سب پر ترس آتا ہے ایک مجھے چھوڑ کر۔۔۔۔۔ ہونہہ


“لو اس کی کمی تھی آ گیا یہ شیطان کا چچا۔۔۔۔
کہنے کو تو دوست ہے لیکن دشمن سے کم نہیں ہے۔۔۔۔
کہا بھی تھا اس پری کو کہ اس کو نہ آنے دے میرے روم میں۔۔۔۔۔۔
اس کی خاطر بعد میں کرتا ہوں۔۔۔۔
اسلام وعلیکم
کیسا ہے جانی۔۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔۔
دیکھ آمر کتنی بار بولا ہے تجھے کہ یہ جانی مانی مجھے نہ بولا کر مجھے اس بات پر توں بہت مشکوک لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔