Itni Muhabat Kro Na 'Season 2' By Zeenia Sharjeel Readelle 50390 Itni Muhabat Kro Na 'Season 2' (Episode 30)
No Download Link
Rate this Novel
Itni Muhabat Kro Na 'Season 2' (Episode 30)
Itni Muhabat Kro Na ‘Season 2’ By Zeenia Sharjeel
معاویہ نے اپنے پیٹ کی طرف دیکھا اور بے ساختہ اسکی نظر حیا کے چہرے پر گئی وہ اب بھی سنجیدہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی معاویہ نے اپنے دونوں ہاتھ حیا کی کمر سے ہٹائے حیا نے دوسرا ہاتھ معاویہ کے سینے پر رکھ کر اسے دھکا دیا تو وہ چار قدم پیچھے ہوا
“یہ کیا فضول حرکت ہے بےبی،، اسی جہیز میں لانے کی کیا ضرورت تھی پسٹل نیچے کرو شاباش”
معاویہ نے ایک قدم اس کی طرف بڑھایا
“اپنے قدم آگے مت بڑھانا معاویہ تم نے مجھے toy سمجھا، اس کو مت سمجھنا یہ پسٹل لوڈڈ ہے اور اس کا استعمال میں اچھے سے جانتی ہوں”
حیا کر بولنے پر معاویہ نے اپنے بڑھتے قدم روکے اور داد دینے والے انداز میں تالی بجائی
“تمہیں کیا لگتا ہے میں تم سے خفا ہوں میں تم سے خفا نہیں ہوں معاویہ۔۔۔۔ میں تم سے نفرت کرتی ہوں سنا تم نے،، تمہیں لگتا ہے تم اس طرح زبردستی دھونس سے روعب جما کر مردانگی کے نام پر اپنی پاور دکھا کر مجھے حاصل کر لو گے۔۔۔ تم مجھے بلیک میل کر کے شادی کرسکتے ہوں مگر میں تمہیں اپنی ذات پر فتح کا جشن منانے کی ہرگز اجازت نہیں دوں گی سنا تم نے اور تم مداوا کرنے کی کیا بات کررہے تھے۔۔۔ تم مرکر دوبارہ زندہ ہوجاو تب بھی مداوا نہیں کر سکتے”
حیا نے غرا کر کہا
“ہوگئی تمھاری تقریر ختم لاو شاباش پسٹل مجھے دو،،، جانم تم مجھے اس پسٹل سے ڈرا رہی ہو اس پسٹل کا اور میرا دن رات کا ساتھ رہتا ہے”
معاویہ نے مسکراتے ہوئے مزید دو قدم اور آگے بڑھائے مگر اگلے ہی پل حیا نے پسٹل اپنی کنپٹی پر رکھی اور معاویہ کی مسکراہٹ اور قدم وہی تھم گئے
“یہ کیا پاگل پن ہے حیا پسٹل ہٹاؤ فورا”
معاویہ نے سنجیدگی سے کہا
“تمہیں کیا لگ رہا ہے اس پسٹل سے میں تمہیں مار کر اپنے ہاتھ خراب کروں گی۔۔۔۔ اگر تم نے میری طرف ایک قدم مزید آگے بڑھایا یا مجھے چھونے کی کوشش کی تو میں اپنے آپ کو شوٹ کر لو گی”
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
“اوکے نہ میں تمہارے پاس آ رہا ہوں نہ تمہیں کچھ کہہ رہا ہوں مگر یہ پسٹل اپنے اوپر سے ہٹاو پلیز”
معاویہ کی نظر پسٹل کے ٹریگر پر تھی جس پر حیا نے انگلی رکھی ہوئی تھی وہ اس کی جان کے لئے کوئی بھی رسک نہیں لینا چاہتا تھا
“یہ دن میرے لئے سیاہ دن ہے اور میں اسے تمہاری شکل دیکھ کر مزید سیاہ نہیں بنانا چاہتی تم ابھی کے ابھی باہر نکلو اس روم سے”
حیا نے غصے میں معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
“حیا باہر سارے گیسٹ ہیں،،، پلیز ٹرائے ٹو انڈر اسٹینڈ ائی سویر میں تمہیں کچھ نہیں کہہ رہا”
وہ اس کی ضدی فطرت کو بھی اچھی طرح جان گیا تھا اس لئے منت کرنے لگا۔۔۔ جو اس نے اج تک کسی کی بھی نہیں کی تھی
“تم یہ بتاؤ تم روم سے باہر جا رہے ہو یا نہیں”
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“اوکے میں جا رہا ہوں تم ریلیکس ہو جاؤ پلیز”
معاویہ نے ہار مان کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا کیونکہ پسٹل لوڈڈ تھی جو ابھی تک حیا نے اپنی کنپٹی پر رکھی ہوئی تھی مگر غصہ اس کو شدید آیا تھا حیا پر۔۔۔۔ کوئی اور وقت ہوتا تو اس کا جواب وہ اچھے سے دیتا مگر ابھی اسے روم سے باہر نکلنا پڑا
معاویہ کے روم سے نکلنے کے بعد ہی حیا نے پسٹل اپنے کلج میں رکھی اور بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی سارا دن دماغی تھکن کے باعث ہو تھوڑی دیر میں ہی بیٹھے بیٹھے سوگئی معاویہ جوکہ ناعیمہ کو ایمرجنسی کا بول کر باہر نکل گیا تھا،، دو گھنٹے بعد واپس آیا روم کا دروازہ آہستہ سے کھولا تو اس دشمن جان کو بیڈ پر بیٹھے بیٹھے سوتے پایا لمبا سانس خارج کرکے اندر آیا آہستہ آواز میں روم کا دروازہ بند کرکے اس کے قریب آیا۔۔۔۔ ایک گھوری سوتے ہوئے وجود پر ڈال کر بغیر آواز نکالے وارڈروب سے اپنے کپڑے لے کر ڈریسنگ روم کی طرف چلا گیا ڈریس چینج کر کے آیا، تو وہ ابھی بھی اسی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے سو رہی تھی بہت آہستہ سے اس کو سیدھا کرکے لیٹایا کمفرٹر کھل کر اس کو اڑایا۔ ۔۔ عادت کے مطابق اپنی شرٹ اتاری اور خود بھی لیٹ گیا،،، اس کا چہرہ دیکھنے لگا پہلے دل میں آیا ماتھے پر سجی ہوئی بندھیا اتار دے جو حیا سے زیادہ اس کو ڈسٹرب کر رہی تھی لیکن اگر اس شیرنی کی آنکھ کھل گئی تو۔۔۔۔۔ یہ سوچ آتے ہی اپنا ارادہ ترک کیا اور خود بھی سو گیا
****
جب سے ہادی نے اس کو ٹائم نہ دینے کا شکوہ کیا تھا تب سے وہ خیال رکھتی تھی اس کی کال ضرور رسیوو کرے مہندی اور برات والے دن بھی صنم کال کرتی رہی مگر ہادی نے کال ریسیو نہیں کی۔۔۔۔ اس ٹائم بھی وہ ہادی کو کال ملا رہی تھی اور فکرمندی سے سوچ رہی تھی
“پتہ نہیں ہادی کیوں نہیں اٹھا رہے میری کال”
اتنے میں کال ریسیو کر لی گئی تو صنم نے اطمینان کا سانس لیا
“شکر ہے ہادی آپ نے میری کال تو ریسیو کی،، اب تو یقین جانیے مجھے فکر ہونے لگی تھی” جیسے ہی ہادی نے کال ریسیو کری فورا صنم نے بولا
“او تو یہ کال تم نے شکوہ کرنے کے لئے کی ہے”
ہادی نے اس کے جواب میں چھوٹتے ہی بولا
“ارے نہیں شکوہ کیوں کروں گی آپ سے،،، مجھے تو فکر ہو رہی تھی سچی، اچھا بتائیں کیسے ہیں آپ”
صنم نے ہادی سے پوچھا
“میں جیسا بھی ہوں تمہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے تم خوش رہو انجوائے کرو اپنے بھائی کی شادی کے فنکشنز”
ہادی نے طنز کرتے ہوئے کہا
“آپ کیسی بات کررہے ہیں ہادی میں تو تین دن سے مسلسل کال کر رہی ہوں آپ ہی میری کال رسیوو نہیں کر رہے تھے۔۔۔ تین دن سے آپ کی آواز نہیں سنی تو شادی کے فنکشنز کیا خاک ہی انجوائے کرتی”
صنم نے ہادی کے طنز کو اگنور کر کے بولا
“تو تم نے اپنے بھائی کی شادی انجوائے نہیں کی اب اس کا گناہ بھی میرے سر آگیا ٹھیک ہے”
ہادی نے بولا
میرا وہ مطلب نہیں تھا ہادی۔۔۔ آپ کو کیا ہوگیا،، کیا کوئی بات بری لگی ہے میری”
صنم کو فیل ہوا جیسے وہ اس سے ناراض ہے
“تمہاری کوئی بھی بات بری نہیں لگی گی مجھے، اب فون رکھو سونا ہے مجھے”
ہادی نے فون رکھنا چاہا
“آپ مجھ سے ناراض ہوکر سوئیں گے ہادی۔۔۔ اوکے میں سوری کرتی ہوں اگر آپ میری وجہ سے ہارٹ ہوئے ہیں تو”
صنم نے اپنی غلطی معلوم نہ ہونے پر بھی سوری کی کیونکہ وہ ہادی کو ناراض بالکل نہیں دیکھ سکتی تھی
“تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے صنم انسان کو کسی دوسرے سے توقعات ہی وابستہ نہیں کرنی چاہیے خیر ہے تم اپنے مہمانوں کو ٹائم نئ بھابھی کو ٹائم دو”
ہادی کی بات پر صنم اپنا سا منہ لے کر رہ گئی
“ہادی میں تو آپ کو تین دن سے کال کر رہی تھی آپ ہی میری کال کا جواب نہیں دے رہے تھے نہ ہی میرے میسجز کا رپلائی کیا اپ نے۔۔۔ اب بھی میں نے کال کی تو آپ ایسی بات کر رہے ہیں”
صنم نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا
“شٹ اپ اپنی زبان سنبھال کر بات کرو،، مجھے زہر لگتے ہیں وہ لوگ جو غلطیاں کرنے کے بعد اپنی صفائیاں دیتے ہیں”
ہادی نے تیز لہجے میں کہا
“اوکے میں اپنی غلطی پر آپ سے ایکسکیوز کرتی ہوں آپ اپنا موڈ ٹھیک کریں”
صنم نے اس سے دوبارہ معافی مانگی تاکہ ہادی کا موڈ ٹھیک ہوجائے
“آوکے ٹھیک ہے اب تم بھی کال رکھو اور ریسٹ کرو”
ہادی نے گویا اس پر احسان کیا
“ہادی آئی لو یو”
صنم نے بولا
“ہہمم گڈ نائٹ”
ہادی نے جواب دیا اور کال ڈسکنیکٹ کی
صنم کو اطمینان ہوا کہ چلو ہادی کی ناراضگی ختم ہوئی
****
اس کی جیسی ہی آنکھ کھلی تو ایک پل انجام کمرے میں اپنے آپ کو پاکر اسے سمجھ میں نہیں آیا وہ کہاں پر ہے۔۔۔۔ پھر دماغ پر زور ڈالنے سے اسے سب یاد آیا۔۔۔ سر جھٹک کر اسکی جیسے ہی نگاہ اپنے برابر میں پڑی تو حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی حلق پھاڑ کر اس کی چیخ نکلی مگر آدھی چیخ پر ہی معاویہ نے اس کے نازک ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جس سے اس کی چیخ حلق میں ہی دم توڑ گئی
“اس طرح چیخ کر میرے گھر والوں پر کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہو۔۔۔ کون سے ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہوں میں تم پرصبح ہی صبح۔۔۔ جب کہ کل رات کو میرے ساتھ ہونے والا ظلم مجھے ابھی تک بھولا نہیں”
وہ ادھا حیا کے اوپر جھکا ہوا کل رات کا اس سے شکوہ کر رہا تھا۔۔۔ حیا ابھی بھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کو گھور رہی تھی معاویہ نے آہستہ سے اپنے ہاتھ اس کے ہونٹوں سے ہٹائے پھر اس کا حیرت زدہ چہرہ دیکھ کر ہلکی سی اسمائل دی
“گڈ مارننگ بےبی” معاویہ بولتا ہوا اپنے ہونٹ حیا کے ہونٹوں کے قریب لایا،، تبھی حیا نے پوری طاقت سے زوردار چٹکی اس کے بازو میں بھری” وہ ایک دم پیچھے ہوا
“پیچھے ہٹو بےہودہ انسان آئے بڑے گڈ مارننگ”
حیا اٹھ کر بیٹھی،، اب وہ بیٹھا ہوا حیا کو گھور رہا تھا حیا نے اس کو دیکھا اور فورا ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لیا
“چھی شرٹ پہنو اپنی، بے شرم کہیں کے”
حیا کے اس طرح ایکٹ پر معاویہ کو ہنسی آئی وہ بیڈ پر پڑی ہوئی شرٹ پہننے لگا حیا نے ہلکا سا ہاتھ نیچے کر کے معاویہ کو دیکھا تو وہ اس کی طرف ہی مسکراتا ہوا دیکھ کر اپنی شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا
“تم یہاں بیڈروم میں کیا کر رہے ہو” اب حیا نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا
“ٹی ٹوئینٹی کھیل رہا تھا”
نارمل انداز میں جواب دیتا ہوا وہ واش روم چلا گیا
حیا وارڈروب سے اپنا ڈریس نکالنے لگی ڈریس لے کر وہ واش روم کی طرف گئی
“نکلو بھئی کیا واش روم میں سو گئے ہو تم۔۔۔ دو ٹکے کے پولیس والے باتھ لینا ہے مجھے جلدی نکلو”
حیا نے واش روم کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے کہا
تھوڑی دیر میں وہ ٹریک سوٹ پہن کر باہر نکلا اور سنجیدگی سے حیا کو دیکھنے لگا اس کے اس طرح دیکھنے پر حیا نے اپنا ڈریس اپنے شولڈر پر رکھا اور دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھ کر ابرو اچکا کر اس سے پوچھا
“کیا ہے”
حیا کے پوچھنے پر وہ ایکدم قریب آیا حیا کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کے گلابی ہونٹوں پر اپنے پیار کی مہر لگا کر الگ ہوا
“گڈ مارننگ”
کہہ کر روم سے باہر نکل گیا حیا منہ اور آنکھیں کھول کر اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی
“یعنی میں اسے صحیح دو ٹکے کا پولیس والا کہتی ہوں”
