Itni Muhabat Kro Na 'Season 2' By Zeenia Sharjeel Readelle 50390 Itni Muhabat Kro Na 'Season 2' (Episode 24)
No Download Link
Rate this Novel
Itni Muhabat Kro Na 'Season 2' (Episode 24)
Itni Muhabat Kro Na ‘Season 2’ By Zeenia Sharjeel
“آپ نے مائینڈ تو نہیں کیا میں نے آپ کو اس طرح بلوایا ہے”
ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے ہادی نے صنم سے سوال کیا
“اگر مائینڈ کرتی تو آتی نہیں انکار کردیتی”
صنم نے جواب دیتے ہوئے اپنی نظریں جھکالی اور پوری ایمانداری سے اپنے دل کی بات بتائی
“اور آپ کو میرا ایسے بلانا کیوں برا نہیں لگا، انکار کیوں نہیں کیا آپ نے”
ہادی نے صنم کو دیکھتے ہوئے کہا
“اس کا جواب تو میں خود نہیں جانتی”صنم نے کنفیوز ہوتے ہوئے کہا
“مگر میں جانتا ہوں اس کا جواب”
ہادی اب بھی صنم کو کنفیوز ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا
“آپ مجھ سے پوچھیں گی نہیں اس کا جواب”
ہادی کی بات پر صنم نے نظریں اٹھا کر ہادی کو دیکھا۔۔۔وہ منتظر آنکھوں سے اس کو دیکھ رہی تھی جیسے اس کا جواب جاننا چاہ رہی ہوں
“مجھے آنکھوں کی زبان سمجھنے کا فن نہیں آتا مگر آپ کی جو آنکھیں بولتی ہیں وہ مجھے سمجھ آتا ہے”
ہادی کی بات سن کر صنم کی آنکھوں میں شرمندگی کا تاثر ابھرا اس نے فورا آنکھیں جھکا لی تاکہ مزید اس کی چوری نہ پکڑی جائے
“ایک اور راز کی بات آپ کو بتاؤں” ہادی کے کہنے پر صنم نے دوبارہ نظریں اٹھائیں اور بولے بغیر آنکھوں ہی آنکھوں میں اقرار کیا
“جو کچھ آپ کی آنکھیں بولتی ہیں وہ باتیں میرے دل کو بہت اچھی لگتی ہے”
ہادی کے اس طرح اظہار سے صنم کی آنکھیں ایک دم روشن ہوئی جسے دیکھ کر ہادی مسکرایا
“اب آپ ساری باتیں آنکھوں ہی آنکھوں میں کریں گے یا لفظوں کا سہارا بھی لے گیں”
وہ جیسے کچھ اس کے منہ سے سننے کا منتظر تھا
“ہماری پہلی ملاقات جس طرح ہوئی تو آپ میرے لئے ایک مسیحا بن کر میرے سامنے آئے اس وجہ سے آپ میرے لئے بہت اہم اور بہت خاص ہیں”
اس دفعہ صنم نے پلکیں جھکا کر ہادی کے سامنے لفظوں سے اظہار کیا
“اور اگر یہ مسیحا آپ کو اپنی زندگی میں عمر بھر کے لیے شامل کرنا چاہے تو” ہادی کے سوال پر صنم نے ایک بار پھر آنکھیں اٹھائیں۔۔۔۔۔ اس کی روشن آنکھیں اس کے اقرار کا ثبوت تھی
“نہیں ایسے کام نہیں چلے گا میں لفظوں میں سننا چاہتا ہوں”
ہادی نے اپنی خواہش کا اظہار کیا
“میں اپنی ساری زندگی اس مسیحا کے نام کرنے کے لئے تیار ہوں” صنم نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا اس بار دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دئیے
****
“کہاں جا رہی ہیں آپ”
ہادی جو فضا کے پاس روم میں آیا اس کو تیار ہوتا دیکھ کر پوچھنے لگا
“زین بھائی نے انوائٹ کیا ہے آج مجھے اور تمہارے بابا کو، حیا کو حور کا کزن پسند کرکے گیا ہے اپنے بیٹے معاویہ کے لئے وہ لوگ بات پکی کرنے آرہے ہیں، تو مجھے اور تمہارے بابا کو بھی بلایا ہے”
فضا میں تفصیل سے بتاتے ہوئے ہادی کا چہرہ دیکھا
“گڈ، ویری گڈ یہ تو ہونا ہی تھا”
ہادی نے ہنستے ہوئے فضا سے کہا
“ہادی یہ سب ٹھیک نہیں ہو رہا ہے”
فضا نے اداس ہوتے ہوئے ہادی سے کہا
ٹھیک نہیں ہو رہا ہے۔۔۔ ماما جو پہلے ہوا تھا وہ ٹھیک نہیں تھا اب جو ہو رہا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے”
ہادی نے فضا کو مطمئن کرتے ہوئے جواب دیا
“مطلب ہادی تمہیں بالکل دکھ نہیں ہو رہا،،،،، حیا کی کسی اور کے ساتھ۔۔۔” فضا نے اپنا جملہ مکمل کیے بغیر ہادی کو دیکھا
“آپ کیوں چاہتی ہیں کہ میں دکھی ہوں یا اس لڑکی کی دھوکے بازی کو ساری زندگی کا روگ بنا کر روتا رہو۔۔۔۔ یہ معاویہ وہی ہے مما حیا کی پسند جو آج اس کی زندگی میں شامل ہونے جارہا ہے”
ہادی نے زخمی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر فضا سے کہا
“یہ تم کیا کہہ رہے ہو ہادی ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ تو تم کو پسند کرتی تھی”
فضا نے ہادی کو سمجھانا چاہتا
“کوئی پسند نہیں کرتی تھی بیوقوف بنا رہی تھی اور پلیز مما اب آپ بار بار اس قصے کو نہیں چھیڑا کریں۔۔۔۔ وہ اپنی زندگی میں خوش ہے اپنے من پسند انسان کے ساتھ اور میں اپنی زندگی میں خوش ہوں اپنے مقصد کے ساتھ”
ہادی نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا
“مقصد کیسا مقصد” فضا نے نا سمجھنے والے انداز میں ہادی سے پوچھا
“کسی کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہے یہی میرا مقصد ہے”
ہادی نے پراسرار ہنسی ہنستے ہوئے کہا
“مجھے تمہاری بات بالکل سمجھ نہیں آ رہی ہے”
فضا کو واقعی اس کی بات سمجھ میں نہیں آئی
“وقت آنے پر آجائے گی سمجھ۔ ۔۔ خیر آپ جائیں آپ کو دیر ہو رہی ہوگی” فضا کو بولتا ہوئے خود اس کے روم سے نکل گیا
*****
“یہ ڈریس کیوں نکال دیا آپ نے۔۔۔ کیا ہم کہیں جا رہے ہیں”
حیا نے ایمبرائیڈری ہوئی شرٹ اور ٹراؤزر کو دیکھتے ہوئے کہا
“نہیں ہم کہیں نہیں جارہے ہیں بلکہ ہمارے گھر پر کچھ گیسٹ آ رہے ہیں ریڈی ہو جاو”
حور نے اس کی پھیلی ہوئی کتابیں اور نوٹسز سمیٹتے ہوئے کہا
“کون آرہا ہے”
حیا کا ایک دم ماتھا ٹھنکا
“خضر بھائی آرہے ہیں اپنی فیملی کے ساتھ، تمہارے بابا نے بلایا ہے بلال بھائی اور فضا بھی ہوں گے”
حور نے مکمل بات بتائے بغیر حیا کی بات کا جواب دیا
“مما پلیز یہاں میرے پیپر ہورہے ہیں، آپ اور بابا کو پارٹیز کا شوق چڑھا ہوا ہے”
حیا نے اکتائے ہوئے لہجے میں جواب دیا
“تھوڑی دیر کی بات ہے پلیز پریشان نہیں کرو حیا،، کچن میں بھی سارے ارینجمنٹس دیکھنے ہیں تم جلدی سے ریڈی ہو جاؤ”
حور کے بولنے پر وہ منہ بنا کر چینج کرنے چلے گی
****
“حیا ریڈی ہوگئی۔۔۔ سب لوگ آگئے ہیں بیٹا”
حور نے روم میں آتے ہوئے کہا
“میرا دل نہیں چاہ رہ مما وہاں جانے کا، کل پیپر ہے میرا” حیا نے بے دلی سے جواب دیا
“سب لوگ کافی دیر سے آئے ہوئے ہیں۔۔۔ ناعیمہ اور صنم پوچھ بھی رہی ہیں تمہارا۔۔۔۔ تھوڑی دیر کی بات ہے پھر اپنے روم میں آجانا”
حور نے اس کے کان میں ایئررنگز ڈالتے ہوئے کہا
حور کے ساتھ وہ ڈرائینگ روم میں آئی سب کی نظریں اس پر تھی حیا نے سب کو سلام کیا اور فضا کے ساتھ بیٹھنے لگی جب حور نے حیا کو کہا
“حیا یہاں آجاؤ” حور کے اشارے پر حیرت سے حیا نے ماں کو دیکھا پھر حور نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھاما اور اسے معاویہ کے ساتھ صوفے پر بیٹھا دیا
روم میں موجود سب لوگ ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے اور حیا حیرت میں ڈوبی ہوئی زین کو دیکھ رہی تھی معاویہ کے چہرے پر مسکراہٹ سے ہی اس کی خوشی کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔۔۔ صنم نے باقاعدہ اٹھ کر اپنے موبائل سے ان دونوں کی تصویریں کھینچنا شروع کردی۔۔۔۔ سب ہی نے باری باری ان کا منہ میٹھا کروا رہے تھے
“ینگ مین میں اپنے جگر کا ٹکڑا تم کو سونپ رہا ہوں اس شرط پر کہ تم ہمیشہ اس کا خیال رکھو گے”
زین نے مٹھائی کھلاتے ہوئے معاویہ سے کہا
“بالکل” معاویہ نے مسکرا کر مشکور بھری نظروں سے دیکھ کر زین کو کہا
جب فضا حیا کے پاس آئی تو حیا نہ خالی خالی نظروں سے فضا کی طرف دیکھا جس پر فضا نے پھیکی سی ہنسی ہنستے ہوئے مٹھائی کا ٹکڑا حیا کے منہ میں ڈالا
“سدا خوش رہو” فضا دعا دے کر اٹھی اور حیا کے چہرے پر زخمی مسکراہٹ آئی
“تو بابا مما نے مجھ سے میری مرضی پوچھنا تو دور مجھے بتانے کی بھی کوشش نہیں کی”
حیا نے قرب سے آنکھیں موند لی
“زین بتاو بھئی شادی کی ڈیٹ کیا رکھی جائے مجھے تو بہت جلدی ہے اپنی بیٹی کو اپنے گھر لے جانے کی” خضر نے خوش دلی سے مسکراتے ہوئے زین سے سوال کیا
“خضر ابھی تو حیا کی اسٹیڈیز بھی کمپلیٹ نہیں ہوئی ہے، چلو رسم تو ٹھیک ہے مگر شادی اتنی جلدی کم سے کم سال بھر تو” زین نے بولا
“سال بھر نے بھئی کیا بات کر رہے ہو بس حیا کے پیپرز تک کا ویٹ کرلیتے ہیں، اس کے بعد ہماری امانت ہمہیں سونپ دینا” خضر نے زین کو دیکھ کر کہا سب اس کی بات پر مسکرا دیے سوائے حیا کے
“ٹھیک ہے جیسا تم مناسب سمجھو” زین نے حور کو دیکھا اور خضر کو مسکرا کر جواب دیا،، حیا زین کو دیکھے گئی
“ایکسکیوز می” حیا اٹھ کر روم سے نکل گئی
کھانے کا دور چلا تو معاویہ نے حیا کے روم کا دروازہ ناک کیا اور اندر آ گیا
“وہاں سے اس طرح چلی کیوں آئی” معاویہ نے حیا کے روم میں آتے ہوئے پوچھا تو حیا کو چند دنوں پہلے والا منظر یاد آیا۔۔۔ جب ہادی نے بھی اسی طرح آکر حیا سے پوچھا تھا مگر جب میں اور اب میں کتنا فرق آ گیا تھا
“کیوکہ میں زیادہ دیر تک یہ ڈرامہ برداشت نہیں کر سکتی تھی جو وہاں پر چل رہا تھا”
حیا نے بیڈ سے اٹھ کر اس کے مدمقابل کھڑی ہو کر بولی
“قدرت نے بھی ہماری جوڑی چن کر بنائی ہے تم مجھے بالکل میری ٹکر کی ملی ہو یقین جانو آگے بہت مزا آنے والا ہے”
معاویہ نے اس کے خفا خفا سے روپ کو اپنے دل میں اتار کر شوخی سے کہا
“زمینی خداؤں نے بنائی ہے ہماری جوڑی اسے قدرت کا نام مت دو اور مزہ تو واقعی بہت جلد اچھی طرح چکنے والے ہو”
حیا نے سنجیدگی سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
پھر تو مجھے بے صبری سے انتظار رہے گا آج معاویہ کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھنے لائق کی جسے دیکھ کر آیا نے دل میں سوچا چھین لو گی تم سے یہ مسکراہٹ معاویہ مراد اچھا چھوڑو یہ لڑائی جھگڑا اب دوستی کر لیتے ہیں ویسے بھی ہم دونوں بہت جلدی ہونے والے ہیںمعاویہ نے آنکھوں میں ڈھیر سارے خواب سجائے ہوئے ہیں اک ہاتھ تھامتے ہوئے اس سے کہا اپنی خوش فہمی کو دل اور دماغ دونوں سے نکال دو اس طرح بلیک میل کے ذریعہ تم میرا منہ بن کر کے شادی کر سکتے ہومگر میرے دل تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے پلیز میرا کل پیپر ہے مجھے پڑھنا ہے حیا نے واپس بیڈ پر بیٹھ کر اپنی بکس کھولتے ہوئے کہا
جب تمہارا منہ بند کرسکتا ہوں تم سے شادی کرسکتا ہوں تو تمہارے دل تک رسائی حاصل کرنا میرے لیے مشکل نہیں ہے میں تمہیں مجبور کردوں گا خود سے محبت کرنے کے لئے معاویہ نے اس کے قریب آکر اس کی بک بند کرتے ہوئے کہا اور پلٹ کر واپس جانے لگا
سنو یہ لیتے جاؤ حیا نے اپنے گلے سے پینڈنٹ اتارتے ہوئے کہا جو کہ معاویہ نے اس کو برتھ ڈے والے دن پہنایا تھا
نہیں اسے تم اپنے پاس ہی رکھو اور اب اسے جب پہننا جب تمہیں لگے کہ معاویہ نے تمہارے دل تک رسائی حاصل کرلی ہے”
ایک نظر اس کے چہرے پر ڈال کر معاویہ وہاں سے چلا گیا
حیا نے ایک نظر دروازے پر دوسری نظر لاکٹ پر ڈالی اور اسے دور اچھال دیا
*****
“کیا کر رہی ہے میری پرینسس”
سب کے جانے کے بعد زین نے حیا کے روم میں آتے ہوئے کہا
“کوشش کر رہی تھی پڑھنے کی آپ آئے پلیز”
حیا نے نوٹس بن کرتے ہوئے کہا
“ڈسٹرب ہوگئں کیا” زین نے ایک نظر حیا کے چہرے پر ڈال کر پوچھا
“نہیں ویسے بھی سب تیاری کرلی تھی۔۔ ریوائس کر رہی تھی”
حیا نے سارے پیپر اٹھا کر ایک جگہ اکھٹے کی
“وہ بات نہیں کر رہا خضر لوگ کے آنے کی بات کررہا ہوں” زین نے حیا کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“کیا فرق پڑتا ہے بابا”
حیا نے نظریں چرا کر بک سائیڈ ٹیبل پر رکھی
“حیا یہاں دیکھو میری طرف۔۔۔۔ تم خوش ہونا بیٹا”
زین نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“اس سے بھی کیا فرق پڑتا ہے بابا” حیا کا دل بھر آیا وہ رونے لگی
“حیا کیا ہوا میری جان رو کیوں رہی ہو اور یہ کیا بات کر دی کیوں نہیں فرق پڑتا۔ ۔۔ میں اپنی بیٹی کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں اور کچھ معنی نہیں رکھتا میرے لئے” زین حیا کو گلے لگا کر اس سے باتیں کر رہا تھا
“اگر میری خوشی معنی رکھتی ہے تو آپ نے یا مما نے ایک دفعہ بھی مجھ سے پوچھنے کی ضرورت نہیں سمجھی”
زین کے سینے سے لگے ہوئے بلآخر حیا نے اپنا شکوہ اسکے سامنے رکھا
“یعنی تم خوش نہیں ہو اس رشتے سے”
زین نے حیا کا چہرہ تھام کر اپنی طرف کیا اور کنفیوز ہوتے ہوئے سوال کیا
“آپ خوش ہیں اس رشتے سے”
الٹا حیا نے زین سے سوال کیا
میں نے یہ رشتہ تمہاری خوشی کے لئے کیا ہے۔۔۔ حیا تم خوش ہو اس رشتے سے”
زین نے سنجیدگی سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا
“میں خوش ہوں” حیا نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے مسکرا کر کہا
“تو یہ سب کیا تھا اس طرح رو کیوں رہی ہو”
زین ابھی بھی اس کے رونے پر کنفیوز تھا
“ویسے ہی دل بھر آیا تھا اپنے اور ماں نے کوئی بات بھی نہیں کی بس یوں اچانک”
حیا نے زین کو پریشان دیکھ کر اس کو مطمئن کرتے ہوئے وضاحت دینے لگی
“کیا آپ کو معاویہ صحیح لگا میرے لیے۔ ۔۔ میرا مطلب ہے اچھا لگا”
حیا نے سوچا وہ معاویہ کے بارے میں بتائ مگر چاہ کر بھی ہمت نہ کر پائہ وہ تصویریں پھر ایک دفعہ اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گئی
“مانا کہ وہ میری جتنا ہینڈسم نہیں ہے مگر چلے گا”
زین اپنے جواب پر خود ہی مسکرایا تو حیا بھی زین کو دیکھ کر مسکرا دی
“مجھے اچھا لگا ہے معاویہ ہر لحاظ سے میری پرنسز کے لئے پرفیکٹ ہے، اس کی آنکھوں میں جو میں نے اپنی بیٹی کے لیے پسندیدگی دیکھی ہے اسے مجھے لگتا ہے وہ بہت اچھا ہسبنڈ ثابت ہوگا پیپر ہے نا صبح چلو جلدی سے سو جاؤ”
زین اس کے گال تھپتھپاتا ہوا اٹھا اور اپنے بیڈ روم کی طرف چلا گیا
