Itni Muhabat Kro Na ‘Season 2’ By Zeenia Sharjeel Readelle 50390

Last updated: 22 November 2025

Itni Muhabat Kro Na 'Season 2' By Zeenia Sharjeel 

کیا ہوا حیا بار بار پیچھے مڑ کر کیا دیکھ رہی ہو"

کار ڈرائیو کرتے ہوئے ہادی نے بار بار حیا کو مڑ کر دیکھنے کا نوٹس لیتے ہوئے پوچھا نہیں ویسے ہی کچھ خاص نہیں"

اس وقت تو حیا کو پتا نہیں چلا، اس دو ٹکے کے پولیس والے سے کیا کیا بول گئی مگر اب سوچ کر ٹینشن ہو رہی تھی،،، کہیں وہ سچی میں ہی آنا جائے اور زین بھی گھر پر نہیں یہ سوچ کر اس کا دل بری طرح دھڑکنے تھا لگا

“ کیا ہوا تم ٹھیک ہو "

ہادی نے اس کو کھوئے ہوئے دیکھ کر پوچھا

“ہاں بھلا مجھے کیا ہونا ہے" حیا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا

تو پھر اتنی چپ چپ کیوں ہو بات کرو نہ

کوئی"

ہادی نے ایک نظر اس کو دیکھ کر ڈرائیو کرتے ہوئے کہا

بادی اگر کسی سے کوئی غلطی آئی مین بے وقوفی میں کوئی غلطی ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے" حیا نے ان ڈائریکٹ میں اپنی کی ہوئی بیوقوفی کا حل تلاشنا چاہا

تو پھر اس غلطی کو آئی میں بیوقوفی میں کی

گئی غلطی کو فورا ہادی سے شیئر کر لینا چاہیے”

ہادی نے کٹ سے کار موڑتے ہوئے کہا کیا مطلب ہادی سے شئیر کرنا چاہیے۔۔۔ کوئی مجھ سے غلطی تھوڑی ہوئی ہے، تمھارا مطلب تم مجھے بہت بے وقوف سمجھ رہے ہو جو میں غلطی کروں گی"

وہ الٹا اس پر چڑھ دوڑی اتنے میں حیا کا گھر آیا ہادی نے اس کے گھر کے پاس گاڑی روکی “حیا اگر کچھ کارنامہ انجام دیا ہے تو فورا مجھے بتاؤ اس کے بعد روتی ہوئی میرے پاس مت آنا "

ہادی نے جانچتی ہوئی نظروں سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا میں نے،، تمہیں تو

شاید دنیا کی سب سے بڑی بے وقوف ہی میں لگتی ہوں جاؤ اب اپنے گھر واپس" حیا نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا اور گیٹ حیا کو جاتا ہوا سے اندر چلی گئی۔۔۔۔ ہادی حیا دیکھ کر تاسف سے سر ہلاتا ہوا رہ گیا اور کار اسٹارٹ کردی

“ شیر خان تمہیں یہاں سونے کے لیے پیسے

دیے جاتے ہیں ڈیوٹی کرنے کے لئے "

حیا نے اونگتے ہوئے چوکیدار کو کہا چھوٹی بی بی ابھی ہی آنکھ لگی تھی"

شیر خان نے صفائی دیتے ہوئے کہا اور یہ بل ڈوگ کی رسی کھول دو اور اب تمہاری بالکل آنکھ نہیں لگنی چاہیے صبح تک" شیر خان کو وان کرتی ہوئی وہ اندر چلی گئی گھر آکر اس نے ایک ایک روم کا جائزہ لیا تو دل کے اندر سے ڈر جاتا رہا جیسے ہی ریلیکس

ہوئی

"حیا"

اپنے نام پر بری طرح اچھل پڑی مگر سامنے حور کو دیکھ کر اس کی جان میں جان آگئی ماما آپ نے تو جان ہی نکال دی تھی

میری "

اس نے دوبارہ اپنے آپ کو اطمینان دلاتے ہوئے کہا

“ ایک تو اتنا لیٹ ای ہو اوپر سے گھر میں چہل قدمی شروع کردی ہے کیوں ہر وقت پریشان کرتی رہتی ہو "

شاید وہ نیند سے جاگی تھی

او کے بابا سوری آپ جا کر سو جائیں میں بھی اپنے روم میں جا رہی ہوں" اس نے حور کو اپنے روم میں بھیجتے ہوئے خود اپنے روم کا رخ کیا

کمرے میں پہنچی تو موبائل بجنے لگا موبائل نکالا تو ہادی کا میسج آیا تھا جسے دیکھ کر اس کے

چہرے پر مسکراہٹ آئی

“کیا تم ناراض ہو مجھ سے”

تو کیا نہیں ہونا چاہیے”

حیا نے ٹائپ کیا

بالکل نہیں ہونا چاہیے ورنہ میری ساری رات جاگتے جاگتے گزر جائے گی"

میسج پڑھ کر حیا کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اتنے اچھے نہیں ہو تم چپ کر کے سو جاؤ نیند آ رہی ہے مجھے بھی"

حیا نے میسج کرنے کے بعد اپنا موبائل of کر دیا

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!