Rate this Novel
Episode 3
ناول ””ہواٸیں رخ بدلتی ہیں ““
ازقلم زرش نور
قسط نمبر ٣
گلابی رنگ کے نفیس سے کڑاہی والے ٹراٶزر شرٹ میں ملبوس سر پر دوپٹہ لیے،گلابی لپ اسٹک لگاۓ وہ کہیں جانے کے لٸے تیار کھڑی تھی۔
”خیریت۔۔۔۔۔۔۔۔!آج کہاں جانے کی تیاری ہے؟
مجھے جاب مل گٸی ہے۔
آچھا۔۔۔۔۔۔! زہرہ خاتون نے آچھا کولمبا کھینچا۔
جی پچھلے دنوں میں جو انٹرویو دیتی رہی ہوں ۔ایک جگہ سے آج کال آٸی ہے۔
کیا کام ہے؟
آفس ورک ہے۔
اور سیلری کتنی ہو گی۔
ابھی تو پتہ نہیں! جو بھی ہو میں نے یہ جاب کرنی ہی کرنی ہے ۔اب گھر بیٹھ کے کروں گی بھی کیا؟
زمل کو بھی جاب مل گٸی ہے۔اس نے ماں کو اطلاع ۔
آچھا۔۔۔۔ اس کی جاب کی نوعیت کیا ہے؟
یہ تو مجھے نہی پتہ۔
اوکے مجھے دیر ہو رہی ہے۔میں چلتی ہوں۔
فی امان اللہ!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دھوپ کی تمازت محسوس کر کے اچانک زوہان سکندر بیدار ہوا تھا،کمرے میں دادا جی کو پردے ساٸیڈ پر کرتے دیکھ کر کسمسا کر رہ گیا۔
اٹھ بھی جاٶ برخودار آٹھ بج گٸے ہیں”ان کی آواز کمرے میں گونجی تو اس نے مندی مندی نگاہوں سے سکندر مصطفی کو دیکھا اور پھر تکیہ منہ پر دھر کر اس کے اوپر اپنا بازو رکھ لیا۔
اف دادا جی سونے دیں نہ ۔
زوہان میں نے تمہیں کہا تھا نہ کہ میری ایک امپورٹنٹ میٹنگ ہے اور اس میں تم ساتھ چلو گے۔
آچھا ۔۔۔۔۔ وہ نا چاہتے ہوۓ بھی اٹھ کر بیٹھ گیا۔
وہ فریش ہو کر نیچے آیا تو وہ ناشتے کی ٹیبل پر اس کا انتظار کر رہےتھے۔
ناشتے کے دوران دونوں میں ہلکی پھلکی گفتگو چلتی رہی اور پھر دونوں جانے کے لٸے اٹھ کھڑے ہوۓ۔
آج صبح سے ہی موسم بہت خوشگوار ہو رہاتھا۔کالے بادلوں نے آسمان کو پوری طرح سے ڈھکا ہوا تھا۔ ہلکی پھوار نے موسم کو اور خوبصورت بنا دیا تھا۔
زوہان سکندر ،مصطفی سکندر کو ڈراپ کر کے گاڑی پارک کرنے چلا گیا۔
وہ واپس آیا تو مصطفی سکندر اندر جا چکے تھے۔وہ بھی اک گہری سانس فضا کے سپرد کرتا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا آگے بڑھ رہا تبھی راہدری کا موڑ مڑتے ہوۓ وہ آگے سے آتی دیدم کمال کو نہ دیکھ سکا، اور دونوں میں ایک زوردار ٹکر ہوٸی۔
دیدم کو محسوس ہورہا تھا ،جیسے کسی پتھر سے سر پھوڑ لیا ہو۔
”او ایم سوری میم۔“وہ جلدی سے بولا اور دیدم کمال کو دیکھ کر اس کا موڈ خوشگوار ہو گیا۔
جبکہ دیدم ”اٹس اوکے“کہہ کر آگے بڑھ گٸی۔
زوہان سکندرکی نگاہوں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔
وہ بالوں میں انگلیاں چلاتا ،گنگناتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
جبکہ گلاس وال سے دیکھتے مصطفی سکندر کچھ سوچ کر مسکرا دٸے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل سنڈے ہونے کی وجہ سے وہ آج خوشی خوشی گھر لوٹی تھی۔
وہ گھر میں داخل ہوٸی تو ڈراٸنگ روم سے آتی آوازوں پر ٹھٹھک کر رک گٸی اور آہستہ سے چلتی ہوٸی ڈراٸنگ روم کے دروازے سے جھانک کر دیکھا تو سامنے مصطفی سکندر کو دیکھ کر وہ خوشگوار احساس میں گری اندر آٸی۔
وہ سلام کرتی ہوٸی اندع داخل ہوٸی تو ، مصطفی سکندر خوشدلی سے کھڑے ہو گٸے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
ارے سر ۔۔۔! آپ یہاں کیسے؟
بیٹا آپ انہیں جانتی ہیں؟
جی ابا۔۔۔۔۔ہماری نہ پارک میں ملاقات ہوٸی تھی۔
اسکی بات پر کمال احسن نےاثبات میں سر ہلایا۔
انہو ں نے بغیر تمہید باندھے بات کا آغاز کیا۔دیکھٸے بیٹا مجھے آپ کی بیٹی بہت آچھی لگی ہے۔۔۔اور اسی لٸے میں اپنےپوتے کے لٸے آپ کی بیٹی کا ہاتھ مانگنے آیاہوں۔
ان کی بات پر کمال احسن خاموش ہو گٸے۔جبکہ دیدم نے بھی سر جھکا لیا۔
سریہ ہمارے لٸے بہت اعزاز کی بات ہے ۔لیکن دیدم کا نکاح میرے بھتیجےسے ہو چکاہے۔ وہ امریکہ میں ہےاور اس کی واپسی پر رخصتی ہوگی
کمال احسن کی بات سن کر وہ خاموش ہو گٸے اور پھر دیدم کو ڈھیروں دعاٸیں دیتے ہوۓ چلے گٸے۔
دیکھٸے کمال اب آپ بھاٸی جان سے بات کر لیں اور ان سے پوچھیں کہ ارسلان کب آۓ گا۔
اسے گٸے سات سا ل ہو گٸے ہیں۔اور ہم کب تک اس کا انتظار کرتے رہیں گے۔
اگر وہ نہیں آتا تو ہماری بیٹی کو آزاد کر دے،ہم کب تک اس کے نام پر اسے بٹھا کر رکھیں گے۔
ماں کی بات سن کر وہ اپنے کمرے میں چلی آٸی اور اپنےہاتھ کی تیسری انگلی میں پہنی رنگ کو گھمانے لگی۔
سات سال پہلے جب وہ سترہ سال کی تھی۔۔وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ چھٹیاں گزارنے پاکستان گٸی تھی۔ اور وہاں پہ ہی اس سے پورے دس سال بڑے ارسلان جمال سے اس کا نکاح کر دیا گیا۔
وہ بھی ارسلان جمال کی مرضی کے خلاف وہ اپنے ماموں کی بیٹی سامعہ سے شادی کرنا چاہتا تھا۔لیکن جمال تایا نے اسے اپنی قسم دے کر دیدم سے نکاح پر مجبور کر دیا۔
جبکہ دیدم کو اپنا وہ سوبر اور بے انتہا خوبصورت کزن بہت پسند تھا۔ اسے جب پتہ چلا کہ وہ ہمیشہ کے لٸے اس کا ہونے والا ہے تو اس کی خوشی کا کوٸی ٹھکانہ نہیں تھا۔
دیدم سے اس کےتایا اور تاٸی بہت محبت کرتے تھے۔لیکن دیدم اور ارسلان کے نکاح کے بعد اس کی تاٸی کا رویہ یکسر تبدیل ہو گیا۔وہ ارسلان کی شادی اپنی بھتیجی سے کرنا چا ہتی تھیں لیکن جمال صاحب کے سامنے ان کی ایک بھی نہ چلی۔
نکاح کے بعد ارسلان کا اس کے ساتھ رویہ پہلے جیسا ہی رہا۔
لیکن جانے سے ایک رات پہلے وہ دیدم کے کمرے میں آیا تو اس کا دل خوش فہم ہوا۔
وہ بہت سنجیدہ لگ رہا تھا۔
اور پھر وہ دیدم کو سمجھانے لگا ،جیسے کسی بچے کو سمجھاتے ہیں۔
دیکھو دیدم تم ابھی چھوٹی ہو جب تم بڑی ہو گی تو تمہیں پتہ چلے گا کہ تمہارا اور میرا کوٸی جوڑ نہیں۔ہم دونوں میں بہت ایج ڈیفرنس ہے۔میں سامعہ کو پسند کرتا ہوں اور اسی سے شادی کروں گا۔مجھے سمجھدار اور سنجیدہ لڑکیاں پسند ہیں۔جبکہ تم میں بہت بچپنا ہے۔تم ابھی بہت چھوٹی ہو۔مجھے ایسی لڑکی چاہیے ہے جو سوساٸٹی میں میرے ساتھ موو کر سکے۔جبکہ تمہیں چاچو نے حد سے زیادہ لاڈ کی وجہ سے تم کبھی آگے نہیں نکل سکو گی۔
تم جب کہو گی میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔
وہ چلاگیا اور دیدم کو ایک پنجرے میں قید کر گیا۔جسے لوگ محبت کہتے ہیں۔اور وہ اب اس سے آزاد بھی نہیں ہونا چاہتی۔
لیکن وہ اپنے ماں باپ کے سامنے ہنستی مسکراتی ہے۔وہ اپنا دکھ بھلا کر بس ان کے لٸے جی رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصطفی سکندر جس وقت گھر میں داخل ہوۓ ،زوہان سکندر ٹہلتا ہوا ان کا انتظار کر رہاتھا۔
انہیں دیکھ کر وہ بھاگتا ہوا ان کے قریب آیا۔
دادا جی !کیا کہا ان لوگوں نے؟
اور مصطفی سکندر نے زوہان کی آنکھوں میں امید کے دٸے جلتے دیکھے۔ اس کا ہر عضو کان بن گیا تھا۔
دادا جی بتاٸیں نہ ۔
بیٹا۔۔۔! اس کانکاح ہو چکا ہے۔
ان کے جواب پر اس کے چہرے پر ایک سایہ سا آ کر لہرا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
