54.6K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

ناول ”ہواٸیں رخ بدلتی ہیں“

از قلم زرش نور

سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ

داناٶں کا قول ہے ”محبت محض ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کا نام نہیں،بلکہ ایک ہی سمت دیکھنے کا نام ہے۔جہاں دیکھابس اسے ہی دیکھا،جس سے محبت کی بس اسی سے محبت کی۔جسے چاہا،بس اسی کو سوچا۔راہیں بدلنے والے ،شہر بدلنے والے،ملکوں ملکوں پھرنے والےمحبت کی رمزوں کو سمجھ سکتے ہیں۔“

جرمن دستاٸیل کا قول ہے ”محبت عورت کی زندگی ہوتی ہے،اور مرد کی زندگی کا محض ایک واقعہ۔“

زمل۔۔۔۔۔ ذرا میرے دشمن کو بتا آٶ ۔میں دس ماہ پہلے جوڑے گٸے رشتے کو توڑ رہی ہوں۔۔

چولہے کے آگے کھڑی میرال پنجوں کے بل پلٹی تھی اور دیدم کے آگے ہاتھ جوڑ دٸے تھے۔

دیدم خدا کا واسطہ ہے تمہیں کچھ رحم کرو اس کے حال پر جو ایک ماہ سے ہر شام ایک امید سے اس گھر میں آتا ہے کہ شاید آج اسے معافی مل جاۓ ۔اور معافی بھی اس غلطی کی جو اس نے کی ہی نہیں۔۔

دیدم خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف جانے کے لٸے پلٹی تو سامنے ہی وہ کھڑا تھا۔

”تو تم مجھے چھوڑ رہی ہو،محض اس لٸے کہ میں نے اپنی کم فہمی میں تمہیں بہت بے ہودہ الفاظ سے نوازا ہے۔میں نے تمہاری ذات کو سب سے پہلے رکھا ہے۔۔میں تو صرف تمہارے ذہن سے ایک ناکارہ سوچ کو نکالنا چاہتا تھا۔

اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیسے اور کس طرح اس کے دل سے ساری بدگمانی دھو ڈالے۔

”اپنا اور میرا وقت فضول تکرار میں ضاٸع نہ کرو۔ویسے بھی تم تو امریکہ جارہے ہو نہ جا کر وہیں کسی میم سے شادی رچا لینا۔
دیدم نے بہت واضح طور پر زوہان کی آنکھوں کے گوشے بھیگتے دیکھے۔اور وہ پلٹ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دیدم کی باتوں سے مایوس ہو کر گھر پہنچا تو لاٶنج میں داخل ہوتے ہی اسے کسی انہونی کا احساس ہوا۔

مصطفی سکندر سامنے ہی فرش پر اوندھے منہ پڑے تھے۔ان کے ناک اور منہ سے خون بھل بھل کر نکل رہا تھا۔۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور انہیں اٹھا کر گاڑی میں ڈالا اور قریبی ہسپتال لے آیا۔۔اس نے رایان کو بھی اطلاع دے دی تھی۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ چلی آٸی حواس باختہ سی۔۔۔آنسو اس کے چہرے کو بھگو رہے تھے۔۔آتے ساتھ ہی زوہان کی طرف بڑھی۔

کیا ہوا ہے؟؟

آپ کہاں تھے جو ہ ایسے گر گٸے؟ ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟

ابھی تو کچھ نہیں بتایا لیکن تم حوصلہ رکھو وہ ٹھیک ہیں۔ شاید بی پی ہاٸی ہونے کی وجہ سے چکرا کر گر گٸے ہیں۔۔
اور پھرڈاکٹر نے بھی وہی کہا جو زوہان کہہ رہا تھا۔۔لیکن دیدم کی تسلی نہیں ہو رہی تھی۔

پھر وہ لوگ سکندر مصطفی کو لے کر گھر آگٸے۔اور حیران طور پر جسے وہ پچھلے ایک مہینے سے گھر آنے کی منتیں کر رہا تھا ۔وہ خاموشی سے ہاسپٹل سے گھر لوٹ آٸی تھی۔۔۔۔
وہ زوہان سے ناراض تھی لیکن مصطفی سکندر کو وہ بہت چاہتی تھی۔۔۔۔اور وہ بھی اسے زوہان سے بڑھ کر چاہتے تھے۔۔۔۔وہ انہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی اسی لٸے چلی آٸی۔۔۔۔

زوہان کو پچھلے ایک مہینے سے جو گھر کاٹ کھا نے کو دوڑ رہا تھا۔وہاں اب ہر طرف رونق ہی رونق لگ رہی تھی۔۔۔زوہان سے اس کی ناراضگی برقرار تھی۔لیکن وہ پھر بھی خوش تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت ایک معجزہ تھا جو رونما ہو چکاتھا۔جو مردہ دلوں کو زندگی کی حرارت بخشتا تھا۔محبت اگر ایک غیر منطقی شے ہے تو یہ دیدم کمال کو بھی ہو گٸی تھی۔

اس نے ایک بارپھر سے محبت کرنا کا فیصلہ کیا تھا۔۔وہ نادان نہیں جانتی تھی کہ یہ اس کا فیصلہ نہیں ہے یہ تو رب کا فیصلہ ہے۔وہ جب ہم سے ہماری کوٸی پیاری چیز لیتا ہے تو ہمیں اس سے بہتر سے نوازتا ہے۔اللہ نے بھی اسے نوازا تھا۔بے حساب بے شمار ایک ایسے شخص کو اسے سونپ کر جو اس کی قدر کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ اس کی چھوٹی سے چھوٹی تکلیف پر بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔جیسے اس سے زیادہ تکلیف اسے ہو رہی ہو۔۔۔۔

لیکن دیدم کمال کولگتا تھا اسے خوشیاں راس نہیں ہیں۔۔لیکن کیا ہے کہ جہاں سے محبت زیادہ ملتی ہے وہاں چھوٹی سی بھی بات اگر آپ کے برخلاف ہو وہ برداشت نہیں ہوتی۔۔
اس کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔۔۔

اس رات خوب جم کر بارش برسی تھی۔۔۔۔۔ وہ موباٸل ہاتھ میں لٸے چکر پہ چکر کاٹ رہی تھی،لیکن زوہان کا کوٸی پتا نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے۔اس نے اس کے آفس بھی کال کی لیکن وہ وہاں سے نکل چکا تھا۔۔۔جوں جوں رات گہری ہو رہی تھی وہ اور پریشان ہو رہی تھی۔۔۔اور آخر کار اس پریشانی نے ایک ہیجان کا روپ دھار لیا۔وہ ایک بار پھر اپنے وہموں میں گر گٸی۔۔۔۔۔اسے لگ رہا تھا کہ اس کی منحوسیت نے زوہان سکندر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہو۔

صبح سات بجے کے قریب اس کی گاڑی کے ہارن کی آواز سن کر وہ دوڑی چلی آٸی۔۔
زوہان کے ساتھ فاطمہ کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ پر جم گٸی۔۔۔ دیدم کو دیکھ کر اس نے ایک مسکراہٹ پاس کی اور اس کے پاس سے گزرتے ہوۓ اسے ناشتہ لگانےکو کہا اور خود اوپر کمرے کی طرف بڑھ گیا۔وہ الجھی سی کچن کی طرف بڑھ گٸی۔کک کو ناشتے کی کہہ کر وہ فاطمہ کے پاس آ کر بیٹھ گٸی۔جو کہ ہمیشہ کی طرح اپنے موباٸل میں بزی تھی۔

وہ دونوں ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے تو وہ اپنے روم میں چلی آٸی۔۔۔وہ منتظر رہی کہ وہ اسے روک کر ناشتے کی آفر کرے گا۔ لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔ اور ناشتے میں مصروف ہو گیا۔۔۔۔
کمرے میں آ کر وہ جلے پیر کی بلی بنی چکر کاٹتی رہی۔۔زوہان سکندر کا نظر انداز کرنا اسے بہت بری طرح سے کھلا تھا۔۔وہ آفس سے آ کر اس کی جانب کھیچا چلا آتا تھا لیکن آج تواسنے مڑکر بھی نہ دیکھا۔۔
تبھی گاڑی کی آواز پر اس نے پردہ سرکا کر دیکھا تو وہ فاطمہ کے ساتھ چلا گیا تھا۔۔۔دیدم کی آنکھ سے آنسو نکلے جنہیں اس نے بےدردی سے صاف کیا اورکمبل لپیٹ کر لیٹ گٸی۔۔۔۔۔

ساری رات جاگنے کی وجہ سے وہ جلدی ہی سو گٸی۔۔۔۔۔۔

دوبارہ اس کی آنکھ کھلی تو خود کو اس کی بانہوں کے حصار میں پایا۔۔۔ نرمی سے اپنے اوپر سے اس کا بازو ہٹاتے ہوۓوہ اٹھ کر واش روم میں گھس گٸی۔۔۔

وہ باہر آٸی تو وہ جاگ چکا تھا۔۔۔دیدم نے اسے نظر انداز کرتے ہوۓ ڈریسنگ کے آگے آ کر کھڑی ہو گٸی اور بال بنانے لگی۔تبھی وہ اٹھ کر اس کے قریب چلا آیا اور تھوڑی اس کے کندھے پر رکھتے ہوۓ اسے اپنے حصار میں لے کر آٸینے میں نظر آتے اس کے دلکش سراپے پر نظریں جماۓ بولا۔۔۔۔۔سوچ رہا تھا تھوڑی دیر سوٶں گالیکن جب تم پاس سے اٹھ جاتی ہو تو نیند بھی بے رحم ہو جاتی ہے۔۔۔۔بہت کوشش کے بعد بھی سونے نہیں ہوتا۔۔۔

دیدم نے اس کی پوری بات سننے کے بعد بدتمیزی سے اس کے ہاتھ جھٹکتے ہوۓ اس سے دور ہوٸی۔۔زوہان نے حیران اور تھوڑا غصے سے اسے دیکھا۔۔۔

جبکہ وہ وارڈروب کی طرف بڑھ گٸی۔ اور پھر تھوڑی دیر کے بعد روم سے بھی نکل گٸی۔۔۔۔

کہیں دن ایسے ہی چلتا رہا وہ کمرے میں آتا تو وہ واک آٶٹ کر جاتی۔۔ زوہان کو بھی غصہ آ گیا اور اسے منانے کی بجاۓ اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ وہ نہیں جانتا تھا اس کا یہ عمل جلتی پر تیل کا کام کرے گا۔۔۔

اور پھر ایک دن لنچ پر فاطمہ چلی آٸی اور دیدم کو خوب تاٶ آیا اور وہ اس کے جانے تک اپنے روم میں بند رہی۔اس کے جاتے ہی وہ باہر آ گٸی اور مصطفی سکندر کے پاس بیٹھ گٸی۔۔
زوہان کو آج اس پر بہت غصہ آیا تھا۔۔
دوسرے دن وہ آفس سے آیا تو وہ اسے دیکھ کر روم سے جانے لگی جب وہ اس کے سامنے آ گیا۔۔۔
دیدم کمال تمہاری جو بھی ناراضگی ہے وہ مجھ سے ہے۔۔۔اس گھر میں آنے والے مہمانوں کے ساتھ نہیں۔۔

مجھے جو لوگ پسند نہیں میں ان کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتی۔اپنی کہہ کر وہ جانے لگی جب زوہان نے اسے سختی سے بازو سے پکڑ کر سامنے کیا۔۔۔۔۔

تم چاہتی کیا ہو؟فاطمہ کے ساتھ تمہیں کیا مسٸلہ ہے؟ تم کیوں سکون سے نہ خود رہتی ہو اور نہ مجھے رہنے دے رہی ہو۔۔
میں تو سکون سے ہی رہ رہی ہوں ۔اور آپ کی بے سکونی کی وجہ میں نہیں جانتی۔۔۔۔

ہاں آپ اپنی بے سکون کی وجہ جانتے ہوں گے۔۔جس کے پاس آپکوسکون حاصل ہووہاں چلیں جاٸیں۔۔

دوسری شادی والی لڑکیوں کی زندگیوں میں محبت کی مدت اتنی ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ صرف آٹھ ماہ میں آپ کے سر سے بھی محبت کا بھوت اتر گیا ہے نہ تو اب کوٸی اور لے آٸیں۔۔وہ بد گمانی کی انتہا پر تھی۔۔

زوہان کا دل کیا وہ کھینچ کر اسے ایک لگاۓ اور اس کا دماغ درست کر دے۔۔۔۔ تمہارے دماغ میں جو یہ فتور بھرا ہے نہ اسے اپنے دماغ سے نکال دے۔
اس نے غصے میں اسے بس ایک دھکا دیا اس میں بھی کوشش کی وہ گرے نہ اور خود کمرے سے نکل گیا۔جبکہ دیدم کمال کی اس کا دھکا دینے سے ہی جان نکل گٸی ۔اور چکرا کر گری جس سے ٹیبل کا کونہ اس کے سر پر لگا۔۔۔۔

وہ تھوڑی وہاں بیٹھی اپنی زندگی پر ماتم کرتی رہی اور پھر ایک بیگ میں اپنے کپڑے ڈال کر نکل آٸی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچنے پر رایان اور زمل نے اس سے بہت پوچھا کہ کیا ہوا ہے ۔لیکن وہ بالکل خاموش رہی۔اس نے اپنے لب سی لٸے۔۔۔۔

اس نے زمل کو اتنا بتا دیا کہ وہ اب واپس نہیں جاۓ گی۔۔
اور اسی شام زوہان چلا آیا ،اسے لینے کے لٸے۔لیکن اس نےاسکے ساتھ جانے سے صاف انکار کر دیا۔۔۔۔

وہ بھی۔وقتی غصے سے وہاں سے نکل گیا۔لیکن تین دن کے بعد وہ پھر چوکھٹ پر کھڑا تھا۔اور پھر وہ روز ہی آجاتا لیکن دیدم کی ناں۔۔۔۔۔ہاں میں نہ بدل سکا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔