54.6K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

ناول ”ہواٸیں رخ بدلتی ہیں“

از قلم زرش نور

قسط نمبر ١٤

”یہ فاطمہ ہے۔۔۔۔۔“زوہان جو ابھی ابھی اپنی نانو کے گھر سے فاطمہ کے ساتھ لوٹا تھا اس نے لاٶنج کے آرام دہ صوفے پر بیٹھی دیدم سے اس کا تعارف کروایا۔۔

”فاطمہ ۔۔۔یہ دیدم ہے۔“

دیدم نے زوہان کے تعارف کروانے پر اپنے موباٸل سے نظر اٹھا کر سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا تو نظر پلٹنا بھول گٸی۔سرخ رنگ کے فراک جس پر گرین کلر کی پتیاں بنی ہوٸی تھیں۔ گولڈن کلر کے سلکی بال پشت پر پھیلے ہوۓ تھے۔ریڈ ہاٸی ہیل میں مقید اس کے دودھیا سفید پاٶں توجہ کا مرکز تھے۔۔ دیدم بہت فرصت سے اس کا جاٸزہ لے رہی تھی۔جبکہ فاطمہ نے ایک نظر دیدم کو دیکھنے کے بعد دوبارہ نہیں دیکھا تھا۔۔ وہ واپس زوہان کی طرف مڑ گٸی تھی۔۔ جبکہ زوہان دیدم کو دیکھ رہا تھا ،جو ٹکٹکی باندھے فاطمہ کو دیکھ رہی تھی۔

فاطمہ نے زوہان کو متوجہ نہ پاکر ایک تیز نظر دیدم پر ڈالی۔
جس پر وہ گڑبڑا کر واپس اپنے موباٸل کی طرف متوجہ ہو چکی تھی۔۔۔

زوہان لگتا ہے تمہاری واٸف کو میرا آنا پسند نہیں آیا۔۔مہمان کے آنےپر اسے بیٹھنے کا ہی پوچھ لیتے ہیں۔۔

تم کوٸی پہلی بار تو یہاں نہیں آٸی ہو،ویسے بھی میری بیوی ابھی خود بھی مہمان ہی ہے ۔ابھی تو ہمارا ولیمہ بھی نہیں ہوا۔۔زوہان کو اس کی بات ناگوار گزری تھی۔تبھی وہ دیدم کی وکالت کرتے ہوۓ بولا تھا۔

”ہممم۔۔۔۔تو مس دیدم اپنے بارے میں کچھ بتاٸیے۔میرا مطلب ہے اپنی خوبیوں کے بارے میں بتاٸیے جن کی بنا ٕ پر زوہان سکندر نے آپ کو چنا ہے ،اور آپ نے زوہان سکندر کو۔“
”وہ عام سے لہجےمیں پوچھ رہی تھی لیکن دیدم کو اس کا انداز طنزیہ لگا۔“
اس نے جواب دینے کے لٸے منہ کھولاہی تھا۔۔جب کچن سے ہاتھ میں پانی کی بوتل اٹھاۓ زوہان ادھر چلا آیا تھا۔۔

فاطمہ اپنا جملہ درست کر لو۔اس نے مجھے نہیں پسند کیا ہے۔بلکے صرف میں نے اسے پسند کیا ہے۔
مطلب یہ تمہیں پسند نہیں کرتی؟
”یار بیوی میری ہے تو مجھے ہی پسند کرے گی۔“
دیدم کو اس لڑکی ک سوال جواب سے گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔
زوہان سکندر جانتا تھا،اسے ایسے سوال اس سےنہیں پوچھنا چاٸیے۔
دیدم پلیز کافی بنا لاٸیں ۔ زوہان سکندر نے اس کی اندرونی کیفیت کے پیش نظر اسے منظر سے ہٹنے کا بہانہ فراہم کیا۔اور وہ بھی تیزی سے اٹھ کر کچن کی طرف بڑھ گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”کیا ہوا ہےتمہیں۔۔۔تم ٹھیک تو ہو نہ ؟“ رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا ۔جب زوہان نے اسے جگا کر پوچھ رہا تھا۔اور وہ بھول چکی تھی کہ وہ خواب میں کیا دیکھ رہی تھی۔وہ خالی دماغ سے زوہان کو دیکھنے لگی۔
جو چہرے پر یشانی سموۓ اسے دیکھ رہا تھا۔
اس کی نظروں سے گھبرا کر اس نے نفی میں سر ہلایا۔

زوہان نے گلاس میں پانی ڈال کر اس کیطرف بڑھایا۔
اس نے دو چار گھونٹ پی کر گلاس واپس اس کو تھما دیا۔۔

وہ کروٹ لے کر لیٹ گٸی اور زوہان سکندر اس کی پشت کو گھورتے ہوۓ خواب میں اس کے بولے گٸے الفاظ پر اذیت کا شکار ہو رہا تھا۔۔
وہ ارسلان۔۔۔۔۔ارسلان پکار ہی تھی۔۔
کسی مرد کے لٸے اس سے زیادہ اذیت کا سامان کیا ہو گا کہ اس کی بیوی اس کے پاس ہوتے ہوۓ بھی کی دوسرے مرد کو دل میں بساۓ ہوۓ تھی۔۔

اس کی سوچ بدل رہی تھی۔وہ ایک محبوب کی جگہ ایک شوہر کھڑا ہو گیا تھا ۔او ر وہ اس کے دماغ سے ارسلان نام کے بھوت کو کھرچ ڈالناچاہتا تھا۔۔
وہ کل تک بہت خوش تھا۔کیونکہ وہ اسے اپنی بانہوں میں لے کر سویا تھا اور صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو دیدم نے بغیر کوٸی برا مناۓ نرمی سے اپنے اوپر سے اس کے بازٶں ہٹا کر اٹھ گٸی تھی۔زوہان سکندر کے لٸے اتنا بھی کافی تھا۔۔۔
اس پل نہ جانے وہ اتنا جزباتی کیوں ہو رہا تھا۔اسے اس لمحہ دل کا حال سنانے کے لٸے کسی سامع کی اشد ضرورت تھی۔۔۔

ولیمے کی تقریب میں دیدم کو سٹیج پر بٹھایا جا رہا تھا۔ویڈیو میکر اپنے کام میں مشغول تھا۔ موو اور گرین کلر کے لہنگے پر زیوات سے لدی بہترین میک اپ کیے وہ کمال لگ رہی تھی۔۔
تھری پیس سوٹ میں ملبوس زوہان سکندر کی چھپ ہی نرالی تھی۔ وہ یقین کرنےمیں متامل تھا کہ یہ سجی سنوری حسن کی مورت اس کے لٸے سجی ہے۔
تقدیر کے کھیلوں کو کون سمجھے۔دیدم کما ل ایک بار پہلے بھی سجی تھی ۔اپنے پورے دل سے لیکن اس کا دل اجڑ گیا تھا۔اب اسے سجنے سنورنے سے ڈر لگتا تھا۔اس کے دماغ میں لوگوں کی باتیں گونج رہی تھیں۔منحوس ہے یہ شوہر کو کھا گٸی ماں باپ کو کھا گٸی۔۔اس کی آنکھوں کے آگے رابعہ بیگم آ کر کھڑی ہو گٸیں تھیں ،ہاتھ بندھے مر گیا ہے میرا بیٹا اب تو اس کا پیچھا چھوڑ دو اور پھر اسے ایک دھکا دیا گیا تھا۔۔۔ اسکے جسم کو ایک جھٹکا لگا تھا ۔اس کا سارا جسم پسینے میں نہایا ہوا تھا۔۔۔ اس نے غیر ارادی طور پر زوہان سکندر کا ہاتھ تھام لیا تھا۔
مصطفی سکندر سے بات کرتے زوہان سکندر نے اجنبھا سے اپنے ہاتھ پر دیدم کی گرفت محسوس کی۔وہ اسے کچھ ٹھیک نہں لگ رہی تھی۔اس نے اسکےہاتھ کے نیچے سے اپناہاتھ نکالا اور اس کے ہاتھ کو گرفت میں لے لیا۔۔۔۔

شور کے باعث ہلکا سا جھک کر زوہان سکندر نے ہنستے ہوۓ بولا”قیامت لگ رہی ہو۔“ اس کی آواز کے بھاری پن پر اس پہلی بار اس کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔
اس نے جھکا سر مزید جھکا لیا۔۔

زوہان سکندر کی نانی بہت ہی نفیس خاتون تھی۔دیدم کو ان سے مل کر بہت آچھا لگا۔
کھنکتی ہنسی ،شریر لہجے،پانی کے جیسی شفاف مسکراہٹ وہ سب کے چہروں پر نظر دوڑا رہی تھی۔ہر بندہ خوش اور مطمٸن لگ رہا تھا۔ اور پھر اس نے اپنے اندر جھانکا تو ایک ڈر کہیں چھپ کربیٹھا ہوا تھا۔
اس نے زوہان سکندر کے ہاتھ میں مقید اپنے ہاتھ پر اک نظر ڈالی۔وہ بہت خوش لگ رہا تھا۔۔
دیدم پوری جان سے کانپ گٸی اگر اس بار پھر سے کچھ ایسا ہوا تو وہ مر جاۓ گی۔۔۔

زوہان سکندر نے اس کی طرف دیکھا ۔اس کے ہونٹ نیلے پڑ رہے تھے۔اس کے ہاتھ میں موجوداس کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔وہ اسے ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔۔ اس کی پریشانی سوا ہو گٸی ۔۔ اور پھر اس نے زمل کےہمراہ اسے گر بھیج دیا۔۔سب لوگ حیران تھے دلہن کہاں گٸی۔پھر زوہان نے مصطفی سکندر کو بتایا کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔مہمانوں کے جانے کے بعد وہ دونوں بھی گھر لوٹ آۓ۔۔رایان بھی ان کے ساتھ تھا۔۔۔ گاڑی کے ہارن کی آواز سن کر زمل نیچے آ گٸی اور انہیں بتایا کہ وہ سو رہی ہے۔۔۔

رایان اور زمل کے جانے کے بعد وہ کمرے میں آیا۔اندر آتے ہی پہلی نظر بستر پرگٸیجہاں وہ گھٹری بنی سو رہی تھی۔۔وہ اپنےکپڑے لے کر واش روم میں گھس گیا۔لاٸٹ آ ف کرکے بیڈ پر لیٹ کر دیدم کمال کی جانب کروٹ لے کی وہ نیند کی دواٸی کے زیر اثر سو رہی تھی۔۔۔
زوہان سکندر نے ہاتھ کھینچ کر اسے اپنے قریب کر لیا۔آج کا اس کا روپ بار باراس کی آنکھوں کے آگے لہرا رہا تھا۔اور آج دور رہنا تو ناممکن تھا۔۔اسے اپنے حصار میں لے کر اس نے آنکھیں موند لیں۔اس کے بالوں سے اٹھتی خوشبو پروہ مدہوش ہو رہا تھا۔لیکن اس کی صحت کے پیش نظر خود پربند باندھ کر پڑا رہا۔۔۔۔۔۔۔
دیدم کمال کے ہونٹ اس کے سینے کو چھو رہے تھے۔۔اور زوہان سکندر کے لٸے بس اتنا ہی کافی تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اتنا گہری نیند سویا کہ اسے دیدم کمال کا اپنے پاس سے اٹھ کر جانا بھی محسوس نہ ہوا۔۔وہ تیار ہو کر نیچے آیا تو وہ ڈاٸنگ پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی۔۔ زوہان اس کے برابر بیٹھا تو اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور پہلی بار زوہان سکند ر کو محسوس ہوا کہ وہ اس سے نظریں چرا رہی ہے۔۔ ۔۔ مصطفی سکندر کے کہنے پر اس نے زوہان کے کپ میں چاۓ انڈیلی تو اس کےہاتھوں کی کپکپاہٹ محسوس کی۔۔۔راٸل بلیو پاٸجامہ اور لانگ شرٹ پر اور ہم رنگ دوپٹہ سر پر جماۓ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
مصطفی سکندر ۔۔۔ان دونوں کو اکیلا چھوڑ کر اٹھ گٸے۔۔
زوہان سکندر نے ناشتہ ختم کر کے ایک نظر اس پر ڈالی۔
میں سمجھ سکتا ہوں دیدم!تم جتنا چاہو وقت لے لومیں انتظار کی لذت چکھنے کو تیار ہوں۔یہ میرے حصے میں آنی چاٸیے۔محبت کی آزماٸش سمجھ کر ۔اسنے ہنس کر دیدم کو ہلکا کرنا چاہا اور جھک کر اس کے قدموں سے ایک پھول اٹھا لیا۔۔۔۔۔۔شاید انتظار کا۔۔۔۔آزماٸش کا ۔۔محبت کا۔۔۔۔۔۔