Rate this Novel
Episode 12
ناول ”ہواٸیں رخ بدلتی ہیں“
از قلم زرش نور
قسط نمبر ١٢
وہ اسے لے کر سیدھا ہوٹل آیا تھا۔۔۔وہ کمرے میں داخل ہو کر بیڈ کے کنارے پر ٹک گٸی۔
زوہان سکندر اسے دیکھتا ہوا ایک ساٸیڈ پہ پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔
اس نے ایک سیگریٹ سلگایا اور فضا میں سیگریٹ کا دھواں چھوڑتے ہوۓ گہری نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
جس نے ابھی تک سر بھی اوپر نہیں اٹھایا تھا۔اس نے سیگریٹ ایش ٹرے میں مسلا اور آکر اس کے برابر بیٹھ گیا۔
اس کے بیٹھنے پر وہ کھسک کر اس سے فاصلہ بنا گٸی۔زوہان سکندر اس بات سے بے خبر نہیں تھا۔۔
اس کی نظریں سفید چادر سے نظر آتے اس کے مہند ی سے رچے ہاتھوں پر ٹھہر گٸی۔۔
جاٶ چینج کر کے سو جاٶ۔
اس کی بات پر اس نے سر اٹھا کر زوہان سکندر کی طرف دیکھا جس سے اس کا نقاب کھل گیا تھا۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی زوہان سکندر کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی۔۔۔
وہ بہت حسین تھی لیکن دلہن بن کر اس پر بہت ہی روپ آیا تھا۔۔۔ زوہان سکندر کی نظروں نے پلٹنے سے انکار کر دیا۔
اس کی نظروں سے گھبرا کر وہ جلدی سے اٹھی اور بیگ سے کپڑے نکالنے لگی۔اس کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ واضح تھی۔۔۔ کپڑے نکال کر وہ تیزی سے واش روم میں گھس گٸی۔۔
وہ واپس آٸی تو سفید رنگ کے کپڑوں میں ملبوس تھی۔منہ دھو کر بھی منہ پر میک اپ کے مٹے مٹے نشان تھے۔جو اسے اور خوبصورت دیکھا رہے تھے۔ وہ بیڈ کی دوسری ساٸیڈ پہ جا کر لحاف تان کر لیٹ گٸی۔۔
زوہان سکندر ۔۔۔! چپکے سے کمرے سےنکل آیا اور بےمقصد سڑکیں ناپنےلگا۔۔۔۔
ایسا حسن دیکھنےکے بعد کس کمبخت کو نیند آ سکتی ہے۔”یہ سوچ آتے ہی اس کے لب آپ ہی آپ مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔۔
تم کیا جانو دیدم کمال ۔۔۔زوہان سکندر نے تمہیں کتنا چاہا ہے۔جس دن اس چاہت کی آنچ تم تک پہنچ گٸی نہ تم خود کو بھی بھول جاٶ گی۔۔۔
نہ جانےوہ کون سی گھڑی تھی جب رب نے تمہاری محبت میرے دل میں ڈالی اور میں سب کچھ بھول گیا۔۔۔۔
اپنی سوچوں میں ڈوبے اس دورکہیں مٶذن کی آواز آٸی اور اس نے اللہ کا شکر ادا کرنےکے لٸے قدم مسجد کی طرف بڑھا دٸے۔
نماز پڑھ کر وہ کتنی ہی دیر بےمقصد ہاتھ گود میں رکھے بیٹھا رہا۔ ۔۔۔۔ اور پھر وہ سجدہ ریز ہو گیا۔۔اے میرے رب۔۔۔۔۔ایک عورت کی محبت مجھے تیرے در پر لے کر آٸی۔میں تیرا گناہگار بندہ تھا۔ جس نے مجھے اپنے پاس بلایا۔چاہے وجہ جو بھی ہو لیکن میں جانتا ہوں بلاوا تمہاری طرف سےہی آیا ہے۔
اے میرے رب۔۔۔۔۔۔!میر ےدل میں اس کے لٸے محبت جگانے والے ،مجھ اسے سے نوازنےوالے اس کے دل میں بھی میرے لٸے محبت ڈال دے۔ اس سے آگے اس کے منہ سے الفاظ نے نکلنے سے انکار کر دیا اور وہ آنسو سے تر چہرہ لیے وہاں سے نکل آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی آنکھ نماز کے وقت کھلی تھی۔پہلے پہل تو اسے سمجھ نہ آٸی کہ وہ کہاں ہے۔جب حواس بحال ہوۓ تو اس نے اپنی باٸیں ساٸیڈ نظر دوڑاٸی تو خالی جگہ دیکھ کر وہ اٹھ کر بیٹھ گٸی۔ایسا لگ رہا تھا وہاں رات کو کوٸی سویا ہی نہ ہو۔
وضو کر کے نماز پڑھ کر اس نے دعا کے لٸے ہاتھ اٹھاۓ تو ارسلان جمال کی مغفرت کے لٸے دعا کرتے کرتے اس کے آنسو اس کے گالوں پر بہنے لگے۔بہت سا رونے کے بعد اس نےاپنے آنسو صاف کیےاور تہیہ کر لیا تھا کہ وہ اب اسے نہیں سوچے گی۔کیونکہ وہ اپنے جملہ حقوق کسی اور کہ نام کر چکی ہے ۔اور اب وہ اس شخص کی وفادار رہنے کی کوشش کرے گی۔ تبھی دروازے سے وہ اندر داخل ہوا۔کوٹ کندھے پر ڈالے مضمحل سا لگ رہا تھا۔ وہ اسے دیکھتے ہوۓ اپنی جگہ سےکھڑی ہو گٸی ۔۔۔
وہ وارڈروب سے اپنے کپڑے لے کر واش روم میں گھس گیا۔چینج کر کے لوٹا تو بیڈ پر بیٹھ کر ایک نظر ایک طرف کھڑی دیدم پر ڈالی۔
شام پانچ بجے کی ہماری ترکی کے لٸے فلاٸٹ ہے۔۔میں تھوڑی دیر سونا چاہتا ہوں ۔ظہر تک مجھے اٹھا دینا۔
تم نے ناشتہ کرناہے تو انٹر کام پہ آرڈر کر لو۔
زوہان کی باتوں کے جواب میں اس نےسر اثبات میں ہلایا اور سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گٸی۔۔
بھوک تو اسے محسوس ہی نہیں ہوتی تھی۔۔ وہ آواز بند کر کے نیوز لگا کر بیٹھ گٸی۔اور پھر ٹی وی پر نظریں جماۓ نیند کی وادی میں گم ہو گٸی۔
دوبارہ اس کی آنکھ کھلی تو اس نے کسی کو اپنے اوپر جھکے پایا۔
وہ غاٸب دماغی سے اسے دیکھنے لگی۔
زوہان نے اسے کندھے سے ہلایا تو اسے یاد آیا کہ وہ تو نیوز سن رہی تھی۔ زوہان کی بات یاد کر کے وہ تیزی سے اٹھی اور شرمندگی سے سر جھکا لیا۔
زوہان شاور لے کر تیار تھا اور ڈریسنگ کےآگے کھڑا بال بنا رہا تھا۔۔ دیدم آہستہ سے چلتی ہوٸی اس کے قریب آ کر رکی اور دھیمی آواز میں بولی”اٸی ایم سوری“ ۔
اس کی بات پر زوہان نے رخ موڑ کر اسے دیکھا اور مسکرا دیا۔
ڈریسنگ کے ساتھ ٹیک لگا کر ایک گہری نظر اس کے چہرے پر ڈالی۔۔۔
”مسز زوہان ۔۔۔۔۔آپ کو تو سو خون بھی معاف ہیں ۔“ اور آپ اتنی چھوٹی سی بات کے لٸے سوری کہہ رہی ہیں۔
دیدم کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا ، اس کی بات پر کوٸی بھولی بسری یاد اس کے دماغ کے نہہ خانوں سے ٹکراٸی تھی۔۔
اور تھوڑی دیر کے بعد وہ دونوں جانے کے لٸے تیار تھے۔
دیدم نے اپنا بیگ اٹھانا چاہا تو زوہان سکندر نے موباٸل پر بات کرتے ہوۓ اس سے پہلے ہی اس کا بیگ لے کر باہر نکل گیا۔اور دیدم کمال اس کے پیچھے چل دی۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک بار پھر سے وہیں جا رہے تھے۔جہاں سے زوہان سکندر اور اس کا سفر شروع ہوا تھا۔
لیکن بہت کچھ بدل گیا تھا۔شوخ وچنچل دیدم کمال کی جگہ اب ایک ٹوٹی بکھری دیدم کمال اس کےساتھ جا رہی تھی۔۔۔اور زوہان سکندر اس کےسارے دکھ سمیٹنے کے عزم کے ساتھ اس سے قدم سے قدم ملا کر چل رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
